ہانگچو، چین میں سالانہ ڈریگن بوٹ ریس چیمپیئن شپ کے دلچسپ مقابلو ں کا آغاز
ہانگچو، چین، ( رپورٹ ؛اصغر علی مبارک سے ) .چین میں سالانہ ڈریگن بوٹ ریس کے دلچسپ مقابلے کا آغاز ہوگیا ہے، جس میں سیکڑوں افراد نے بھرپورشرکت کی اور کشتیاں چلاتے ہوئے خوب ریس لگائی۔ہانگچو، چین میں منعقد ہونے والے اس سالانہ ٹورنامنٹ میں 36ٹیموں نے حصہ لیا اور کشتیوں کی ریس لگائی۔ہر سال کی طرح اس سال بھی منعقد ہونے والے اس 2روزہ مقابلے کے پہلے روز کھلاڑیوں نے کشتیوں کی ریس لگاتے ہوئے نہ صرف 100،200 اور500 میٹر کا مقررہ فاصلہ طے کیا بلکہ اپنی ماہرانہ صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ بھی خوب کیا۔اس سنسنی خیز مقابلے کو دیکھنےکے لیے لوگوں بڑی تعدادموجود تھی جنہوں نے نہ صرف اس ایونٹ کو انجوائے کیا بلکہ کھلاڑیوں کی مہارت کی خوب داد دی۔.ڈریگن بوٹ چیمپیئن شپ سے بین الاقوامی نگاہیں چین کی سرفہرست جامعہ کی طرف مرکوز ہوگئی ھیں دنیا کے مؤقر ترین اعلیٰ تعلیمی اداروں سے تعلق رکھے والے طلبہ اوّلین بین الاقوامی ایلیٹ یونیورسٹی ڈریگن بوٹ چیمپیئن شپس کے لیے چین کے جنوب مشرقی چیجیانگ صوبے کے شہر ہانگچو میں آئےھووے ھیں ۔ڈریگن بوٹ چیمپیئن شپ سے مقابلے چیجیانگ یونیورسٹی کے زیر انتظام تھے جس میں 15 ٹیموں نے حصہ لیا – ڈریگن بوٹ چیمپیئن شپ میں آکسفرڈ، ہارورڈ، اسٹینفرڈ اور میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی ٹیموں نے ہانگچو کی جنشا جھیل پر روایتی چینی کشتی رانی کے مقابلوں میں حصہ لیا ،ڈائریکٹر بین الاقوامی تعلقات لی من نے بتایا کہ “ڈریگن بوٹ چیمپیئن شپس ظاہری اعتبار سے ہمارے لیے بہت بڑا ا عزازھے اور بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے ہم کھیلوں کے ذریعے ایک دوسرے کو بہتر انداز میں جان اور رابطے کر سکتے ہیں۔” لی من نے بتایا کہ،جامعہ دنیا بھر میں 180 شراکت داروں کے ساتھ ہر سال 3,000 طلبہ کو بیرون ملک پڑھنے کے لیے بھیجتی ہیں اور 6،000 بین الاقوامی طلبہ کا ایک دستہ موجود ہے۔ لی من نے بتایا کہ مختلف منصوبوں کے ذریعے جامعہ، چین کی بہترین جامعات میں جگہ رکھتی ہے، امید کرتی ہے کہ بین الاقوامی ساکھ کو مزید بہتر بنائے گی۔سابق ییل میڈیکل اسکول پروفیسر اینا وانگ رو نے کہا کہ باہمی تعاون کا جذبہ تھا جس نے انہیں 1897ء میں بننے والی اس جامعہ میں انسٹیٹیوٹ آف نیوروسائنس اینڈ ٹیکنالوجی قائم کرنے پر قائل کیا۔پروفیسر اینا وانگ رو نے کہا کہ”میں نے چین میں مختلف جامعات دیکھیں لیکن چیجیانگ سے مجھے محبت ہوگئی کیونکہ انجینیئرنگ اور طب میں یہ مضبوط ہے، مستحکم ملحقہ ہسپتال رکھتی ہے اور یہاں طلبہ کا معیار بہت اچھا ہے۔” رو نے کہا۔
جامعہ امید کرتی ہے کہ اس قسم کی انقلابی تحقیق، بین الاقوامی شراکت داریوں کی کثرت اور جدید تنصیبات غیر ملکیوں کو اس کے نئے بین الاقوامی کیمپس کی جانب کھینچیں گی۔ “مشرق و مغرب کے تعلیمی فلسفوں کا ملاپ” کہا جانے والا یہ کیمپس پہلی بار 2016ء میں کھولا گیا تھا تاکہ طلبہ کی موجودہ آبادی میں 4,000 کا ممکنہ اضافہ کیا جا سکے۔” ہی لیانچین، ڈین ہائنانگ انٹرنیشنل کیمپس نے کہا۔پیش کردہ کورسز میں سے دو مشترکہ انڈر گریجویٹ ڈگریاں ہیں، جن میں سے ایک اسکاٹ لینڈ کی یونیورسٹی آف ایڈنبرا میں بایومیڈیکل سائنسز کے ساتھ ہے اور دوسری امریکا کی یو آئی یو سی کے ساتھ انجینیئرنگ کے ساتھ دونوں جامعات کے اساتذہ کی زیر تربیت چار سال کی تعلیم کے بعد طلبہ کو دوہری سند ملے گی۔جنشا جھیل کے کنارے پر 20 سالہ ایم آئی ٹی کے کیمسٹری طالب علم ڈارنیل گرین بیری کہتے ہیں کہ وہ شہر اور جامعہ دونوں سے متاثر ہوئے ہیں۔ اس سوال پر کہ اگر وہ بوسٹن میں تعلیم حاصل نہ کریں تو کیا چیجیانگ کو ترجیح دیں گے، انہوں نے کہا کہ “اگر وہ ایسا کر سکے تو ضرور کریں گے۔”
……………………