گال ٹیسٹ: عبداللہ شفیق کی شاندار سنچری کی بدولت پاکستان کو جیت کیلئے 120 رنز کی ضرورت…..(.رپورٹ؛ اصغر علی مبارک)پاکستان کے نوجوان اوپنر عبداللہ شفیق کی ذمہ درانہ بلے بازی اور شاندار سنچری کی بدولت پاکستان کی سری لنکاکے خلاف پوزیشن خاصی مضبوط ہوچکی ھے پاکستان ٹیسٹ میچ کے آخری روز پہلے دو سیشن کو انتہائی محتاط ھوکر کھیلنا ہوگا پاکستان کو دوٹیسٹ میچز میں برتری حاصل کرنے کیلئے آخری روز مزید 120 رنز درکار ہونگے آخری روز وکٹ پر رنز کرنا بلےبازوں کیلئے آسان نہ ہوگا کیونکہ وکٹ سلو ہونا شروع ہوگئی ھے جبکہ سری لنکا کےخلاف ٹاپ کوالٹی کے اسپنرز موجود ہیں۔پاکستان نےسری لنکا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں 342 رنز کے ہدف کے تعاقب میں 3 وکٹوں پر 222 رنز بنا کر اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے ۔گال میں کھیلے جا رہے سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ کے چوتھے دن سری لنکا نے 329 رنز 9 کھلاڑی آؤٹ سے اپنی دوسری نامکمل اننگز دوبارہ شروع کی تو انہیں مجموعی طور پر 333 رنز کی برتری حاصل تھی۔تجربہ کار دنیش چندیمل نے سنچری کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے اسکور آگے بڑھانا شروع کیا تاہم ابھی انہوں نے 8 رنز جوڑے ہی تھے کہ نسیم شاہ نے دوسرے اینڈ سے پراباتھ جے سوریا کی وکٹیں بکھیر کر ان کا سنچری کا خواب چکنا چور کردیا۔سری لنکا کی پوری ٹیم دوسری اننگز میں 337 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی اور پاکستان کو میچ میں فتح کے لیے 342 رنز کا ہدف دیا،چندیمل نے آؤٹ ہوئے بغیر 94 رنز کی اننگز کھیلی۔پاکستان کی جانب سے محمد نواز نے 5 اور یاسر شاہ نے 3 وکٹیں حاصل کیں۔ایک بڑے ہدف کے تعاقب میں پاکستانی اوپنرز نے پراعتماد انداز میں اننگز کا آغاز کرتے ہوئے ٹیم کو 87 رنز کا اچھا آغاز فراہم کیا جبکہ اس دوران بلے بازوں کو مشکل مراحل کا بھی سامنا کرنا پڑا۔اننگز کے پانچویں اوور میں امام الحق کو امپائر نے ایل بی ڈبلیو قرار دیا لیکن انہوں نے فوری طور پر ریویو لیا اور ان کا یہ فیصلہ درست ثابت ہوا کیونکہ گیند وکٹ کے اوپر سے گزر رہی تھی اور اس طرح امام کا وکٹ پر قیام جاری رہا۔ایک اوور بعد ہی امام کو ایک اور بڑا موقع اس وقت ملا جب انہوں نے کور میں شاٹ کھیلا لیکن چندیمل ایک مشکل کیچ لینے میں ناکام رہے اور کھانے کے وقفے تک دونوں کھلاڑیوں نے کوئی وکٹ گرنے نہیں دی۔عبداللہ شفیق نے دوسرے اینڈ سے ذمہ دارانہ کھیل پیش کرتے ہوئے اپنی نصف سنچری مکمل کی لیکن 87 کے مجموعی اسکور پر امام الحق کی 35 رنز کی اننگز اختتام کو پہنچی جو اسٹمپ ہو کر پویلین واپسی پر مجبور ہوئے۔تجربہ کار اظہر علی ایک مرتبہ پھر ناکامی سے دوچار ہوئے اور صرف 6 رنز بنانے کے بعد جے سوریا کو وکٹ دے بیٹھے۔103 رنز پر دو وکتیں گرنے کے بعد عبداللہ شفیق کا ساتھ دینے کپتان بابراعظم آئے اور دونوں نے سنبھل کر بیٹنگ کرتے ہوئے اسکور کو آگے بڑھانا شرع کیا۔دونوں کھلاڑیوں نے بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے تیسری وکٹ کے لیے 100رنز سے زائد کی ساجھے داری قائم کی، اس دوران نوجوان عبداللہ شفیق نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی دوسری سنچری مکمل کی جبکہ دوسرے اینڈ پر موجود کپتان بابر نے بھی نصف سنچری داغ دی۔کپتان بابراعظم 55 رنز بنا کر چوتھے روز آؤٹ ہونے والے آخری بلے باز تھے اور اس وقت پاکستان کا اسکور 205 رنز تھا اور جیت کے لیے 173 رنز درکار تھے۔ چوتھے روز کا کھیل ختم ہوا تو پاکستان نے 3 وکٹوں پر 222 رنز بنالیے اور جیت کے لیے مزید 120 رنز کا سنگ میل عبور کرنا ہے۔عبداللہ شفیق 112 اور محمد رضوان 7 رنز بنا کر کھیل رہےہیں۔خیال رہے کہ سری لنکا نے پہلی اننگز میں 222 رنز بنائے تھے، جس کے جواب میں پاکستان کی ٹیم 218 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی۔قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم 119 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے کپتان بابراعظم نے شان دار سنچری کی بدولت قومی کرکٹ ٹیم کو گال ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں سری لنکا کے 222 رنز کے جواب میں ایک مشکل صورت حال سے نکال کر 218 رنز تک پہنچادیا جبکہ میزبان ٹیم نے دوسرے روز کھیل کے اختتام پر 40 رنز کی برتری حاصل کی کپتان بابر اعظم نے شان دار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سنچری بنائی اور 119 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تاہم ٹیم کو پہلی اننگز میں 4 رنز کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ٹیسٹ کے دوسرے روز پاکستان نے جب اپنی پہلی نامکمل اننگز کا آغاز 24 رنز 2 کھلاڑی آؤٹ سے کیا تو تجربہ کار بلے باز اظہر علی اور بابر اعظم وکٹ پر موجود تھے۔کھیل کے آغاز سے ہی سری لنکن باؤلرز نے نپی تلی باؤلنگ کی اور پاکستانی بلے بازوں کو دباؤ میں رکھا، قومی ٹیم کے کھلاڑی بڑی شراکت قائم نہ کر سکے اور مسلسل آؤٹ ہوتے رہے۔دوسرے روز پاکستان کے پہلے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی اظہر علی تھے جو انفرادی اسکور میں اضافہ کیے بغیر 3 رنز پر ہی آؤٹ ہوگئےجبکہ محمد رضوان 19 رنز بنا کر پویلین لوٹے۔ پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والی سلمان علی آغا صرف 5 رنز بنا سکے، محمد نواز کی اننگز بھی 5 رنز تک ہی محدود رہی، شاہین شاہ آفریدی بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے جبکہ لیگ اسپنر یاسر شاہ نے 18 اور حسن علی 17 رنز بنا کر ٹیم کو بڑے خسارے سے بچانے کے لیے کپتان کا حتی الامکان ساتھ دیا۔بابراعظم نے مردبحران کا کردار ادا کرتے ہوئے ٹیم کو مکمل تباہی سے نہ صرف بچایا بلکہ ٹیم کا مجموعہ 218 رنز تک پہنچا کر خسارہ 4 رنز تک محدود کردیا قومی ٹیم کے کپتان نے 11 چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے 119 رنز بنائے اور تھیکشانا کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے۔سری لنکا کی جانب سے پراباتھ جے سوریا نے بہترین باؤلنگ کی اور 5 وکٹیں حاصل کیں، دیگر باؤلرز میں مہیش تھیکشانا اور رامیش مینڈس نے 2،2، کاسن راجیتھا نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔سری لنکا نے دوسری اننگز کا آغاز کیا تو محمد نواز نے 33 کے مجموعے پر کپتان کرونارتنے کو آؤٹ کرکے پاکستان کو پہلی کامیابی دلائی۔دوسرے روز جب کھیل کا اختتام ہوا تو سری لنکا نے ایک وکٹ پر 36 رنز بنا لیے تھے اور 40 رنز کی مجموعی برتری حاصل ہوگئی تھی۔پاکستان نے گال ٹیسٹ کے پہلے روز سری لنکا کی پوری ٹیم کو 222 رنز پر آؤٹ کرنے کے بعد اپنی پہلی اننگز میں 2 وکٹوں پر 24 رنز بنائے تھے۔گزشتہ روز امام الحق صرف 2 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے تھے، دن کے اختتام پر اظہر علی 3 اور کپتان بابر اعظم ایک رن بنا کر کھیل رہے تھے۔ اس سے قبل گال میں کھیلے جارہے سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں سری لنکا نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازوں کو آزمانے کا فیصلہ کیا تھا اور پوری ٹیم 222 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی۔تجربہ کار بلے باز اظہر علی اور عبداللہ شفیق بھی بڑی شراکت داری میں ناکام رہے اور 21 کے مجموعے پر دوسری وکٹ گر گئی تھی، عبداللہ شفیق 13 رنز بنا کر جے سوریا کی گیند پر آؤٹ ہوگئے تھے۔پاکستان کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی نے 4، حسن علی اور یاسر شاہ نے 2، 2 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ ٹیسٹ کے چوتھے دن کےکھیل کے اختتام پر سری لنکا کے 342 رنز کے تعاقب میں پاکستان نے 3 وکٹ پر 222 رنز بنالیے ہیں۔پاکستان کوگال ٹیسٹ جیتنےکے لیے مزید 120 رنز درکار ہیں جب کہ میزبان سری لنکا کو سیریز کا پہلا ٹیسٹ جیتنے کے لیے7 وکٹیں حاصل کرنا ہیں اوپنر عبداللہ شفیق ٹیسٹ کیریئرکی دوسری سنچری اسکورکرکے 112 رنز پر وکٹ پر موجود ہیں جب کہ محمد رضوان 7 رنز پر ان کا ساتھ دینے کے لیے موجود ہیں۔










