…… میری کوشش رہی آئین کی بالادستی پرسمجھوتہ نہ کروں، میاں رضاربانی
..اسلام آباد(اصغر علی مبارک سے )

سبکدوش ہونے والے چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی نے اپنے الوداعی خطاب میں قائد ایوان اور حزب اختلاف سمیت تمام سینیٹرز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میری کوشش رہی کہ آخری 3 سال میں اصولوں اور آئین کی بالادستی پرسمجھوتہ نہ کروں۔رضاربانی نے اپنے الوداعی خطاب میں کہا کہ بھٹو کی لیگیسی تھی کہ اپنی گردن کٹا دو لیکن اصولوں پر سودے بازی نہ کرو۔سبکدوش ہونے والے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ یہ میری خواہش رہی کہ وہ اسپیکرز جنھوں نے بادشاہ کے سامنے سر کٹوادیا لیکن پارلیمان کی بالادستی پر سمجھوتا نہ کیا ان کی فہرست میں میرا بھی نام شامل ہو جائے۔انھوں نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کے لیے کئی قواعد میں ترمیم کی کیونکہ منصب آنے جانےوالی چیز ہوتی ہے لیکن آخر میں کردار اور اصول رہ جاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اپنے زیادہ تر اختیارات ہاؤس کے سپرد کیے، ہاؤس بزنس کمیٹیوں کو بااختیار بنایا اور سینیٹ کی جو بھی ساکھ ہے وہ اس ایوان کی اجتماعی کاوش ہے۔رضاربانی نے کہا کہ قوانین کی بالادستی نہ کرتے توبڑی جنگ جیتنا ممکن نہیں ہوتا، پہلےہاؤس اوسطاً دوسے ڈھائی گھنٹے چلتا تھا لیکن اب 4 سے 5 گھنٹےچلتا ہے۔یاد رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو میں رضا ربانی کے طریقہ کار پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ رضاربانی نے نواز شریف کی جانب سے کی گئی کئی غیر آئینی اقدامات پر کچھ نہیں کیاواضح رھے کہ نواز شریف نے رضا ربانی کو چیئرمین سینٹ کے لیے او کے کر دیا تھا تاہم سابق صدر آصف زرداری نے رضاربانی کو دوبارہ چیئرمین سینیٹ بنانے کے تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘میں اپنے چیئرمین کی برائی نہیں کرنا چاہتا لیکن رضا ربانی نے تین برسوں تک نواز شریف کی آئین کو متاثر کرنے کی کوششوں کو نظرانداز کیا’۔سابق صدر کا کہنا تھا کہ رضا ربانی نے 18 ویں ترمیم میں بھی ہمارے تحفظات کو دور نہیں کیا تھا یہی وجہ ہے کہ نواز شریف کی رضا ربانی کے ساتھ زیادہ قربت ہے۔رضاربانی نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ درست ہے کہ پارلیمان کی بالادستی ہونی چاہئے کیونکہ پارلیمان ہی بالادست ہے تاہم ہر ادارے کو اپنے آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ اداروں کے اختیارات پر سینیٹ میں بحث کرائی گئی، میری محفوظ کی ہوئی رولنگ 17 صفحات پر مشتمل ہے۔ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان میں اداروں میں ٹکراو کی بات ہو رہی ہے اس لیے بین الادارتی مباحث کی اشد ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ شاید تصادم سے بچنے کا راستہ ہمارے سامنے آئے جب چیف جسٹس نے بلایا تو ملاقات کی، کمیٹی آف ہول میں اس وقت کے چیف جسٹس نے شرکت کی تھی۔رضاربانی نے کہا کہ موجودہ چیف جسٹس نے اپنے اصلاحات کی بات کی اور چیف جسٹس سے ملاقت میں مثبت پیش رفت ہوئی جبکہ آرمی چیف کو بھی ہول کمیٹی میں شرکت کی دعوت دی گئی جس پر آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے شرکت کی۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ اگر اداروں کی بات کریں تو آرمی ایک اداراہ ہے لیکن وہ ادارہ انتظامیہ کے ماتحت ہے۔منتخب نمائندوں کو مخاطب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا ہم میں کوتاہی ہے اور کیا ہم نے کوئی غلطی کی ہے کیونکہ پارلیمان نے خود اپنی جگہ دی اور جب اپنی جگہ دوسروں کو دیں گے تو قدرتی عمل ہے کوئی اور وہ جگہ لے گا۔انھوں نے کہا کہ پارلیمان کو معطل کیا گیا اسے قبول کرلیا لیکن جب پارلیمان کو بحال کیا گیا تو اسکول کے اچھے بچوں کی طرح واپس آکر بیٹھ گئے۔رضاربانی نے کہا جتنے بھی قوانین آپ چاہتے ہیں ہم مانتے ہیں اور ٹھپہ لگا دیتے ہیں، فقط اٹھارویں ترمیم میں مشرف کے کسی قانون کو قبول نہیں کیا۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ اس پارلیمان کا سلام کرتا ہوں اور میں آج سمجھتا ہوں کہ پارلیمنٹ کی بالادستی کے آرٹیکل 89 کو ختم کردیا۔انھوں ںے کہا کہ پارلیمنٹ کی بالا دستی کے لیے لازم ہے کہ ایگزیکٹو کا آرڈینس جاری کرنے کا اختیار ختم کیا جائے۔
سینیٹ کے حالیہ انتخابات پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہاں سینیٹ کے الیکشن پر بات ہو رہی ہے لیکن سیاسی جماعتوں کو یاد کرانا چاہتا ہوں کہ سینیٹ نے 20 مئی 2016 کو ایک رپورٹ منظور کی تھی جو انتخابی اصلاحات سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کو بھیجی گئی تھی لیکن پارلیمانی کمیٹی نے اس رپورٹ کو مسترد کردیا تھا۔انھوں نے تجویز دی کہ جو رکن قومی یا صوبائی اسمبلی ووٹ کے لیے جائے تو اس کا نام بیلٹ پیپر پر لکھ دیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر پارلیمانی لیڈر کو اس بات کا شق ہو کہ کسی نے پارٹی کے مینڈیٹ کے مطابق ووٹ نہیں کیا تو ووٹ دکھانے کے لیے الیکشن کمیشن کو کہا جا سکے۔
رضاربانی نے کہا کہ یقین ہے کہ پارلیمان کی ہر مدت جج کی جاتی ہے اس لیے میں مورخ کے قلم سے مرنے کے بجائے بندوق کی گولی سے تباہ ہوجاؤں۔
اداروں کے درمیان رولنگ کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ مناسب سمجھا کہ رولنگ نہ دوں لیکن وہ رولنگ اس ایوان کی امانت ہے اوراگر 12 مارچ کو حلف لیا تو یقینی طور پر وہ رولنگ سینیٹ کے سامنے رکھوں گا۔ان کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ میرا پیش رو اس رولنگ پر عمل درآمد کروائیں گے اور ان تین بنیادی رولنگز کو عملی جامعہ پہنایا جائے۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ منرل آئل اور گیس کے برابر حقوق سے متعلق رولنگ کو عملی جامہ پہنانا اگلی سینیٹ کی ذمہ داری ہے۔رضاربانی نے اپنے الوداعی خطاب میں قائد ایوان راجا ظفرالحق کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہر قدم پرتعاون کرنے پر قائد ایوان راجا ظفرالحق کا شکرگزار ہوں۔انھوں نے کہا کہ چیئرمین کی کرسی پربیٹھ کر کئی مرتبہ تلخی یا سختی سے بھی بات کی، سختی اس لیے کی کہ ایوان صحیح طریقے سے چل سکے، میں درویش آدمی ہوں، میں نے اپنی خودی کو مارنے کی کوشش کی۔چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ تلخی سے بات اس لیے نہیں کی کہ میرے دماغ میں چیئرمین شپ گھسی ہوئی تھی بلکہ ہم آئین اور پارلیمان کی بالادستی کی بات کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم اور کابینہ ارکان کا تعاون رکھنے پر شکرگزار ہوں اور اسپیکر نے تعاون رکھا ان کابھی شکر گزار ہوں۔قبل ازیں ایو ان بالا کے سٹاف کے اعزاز میں دیئے گئے ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے کی چیئرمین سینٹ میاں رضاربانی نے کہا کہ عوام کے حقوق کا تحفظ کرنا بنیادی فرض ،ملازمین کسی بھی ادارے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، چیئرمین سینٹ میاں رضاربانی نے کہا ہے کہ ملازمین کسی بھی ادارے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ملازمین کی فلاح و بہبود اور حقوق کا تحفظ کرنا ادارے کا بنیادی فرض ہوتا ہے۔ ایوان بالاء واحد ادارہ ہے جس نے ملازمین کی فلاح و بہبود ،حقوق کی فراہمی اور قانونی تحفظ کے حوالے سے قانون سازی کی اور قواعد مرتب کرکے ان کا نفاذ عمل میں لایاگیا۔چیئرمین سینٹ میاں رضاربانینے کہا کہ جب سے چیئرمین کا منصب سنبھالا تو ملازمین کو خاص طور پر نچلے درجے کے ملازمین جو مختلف مسائل کا شکار تھے پرخصوصی توجہ دی گئی اور ان تین سالوں کے دوران کافی حد تک ان کی مشکلات کو نہ صرف دو رکیا بلکہ ان کی فلاح وبہبود کی راہ میں حائل رکاوٹیں بھی ختم کی گئیں اور اس حوالے سے ہر ممکن اقدام اٹھایا گیا۔ بیسمنٹ میں کام کرنے والے سینٹ کے کچھ ملازمین کو تو سی بلاک منتقل کردیا گیا ہے جبکہ اگلے تین ماہ میں باقی سٹاف بھی وہاں سے منتقل ہوجائے گا۔ انہوں نے سیکرٹری سینٹ اور سینٹ سٹاف کا سینٹ کی کاروائی کو زیادہ سے زیاد ہ موثر بنانے کے حوالے سے بھرپور تعاون پر شکریہ اداکیا۔انہوں نے کہا کہ بے شمار حقدار سٹاف کو اگلے گریڈوں میں پروموشن دے دی گئی ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ نئے آنے والے چیئرمین سینٹ و ڈپٹی چیئرمین سینٹ بھی سٹاف کی فلاح وبہبود و قانونی تحفظ کا خیال رکھیں گے۔ اس موقع پر سیکرٹری سینٹ امجد پرویز ملک نے چیئرمین سینٹ میاں رضاربانی کا ملازمین کی فلاح وبہبود اور سٹاف کیساتھ تعلقات کو فروغ دینے اور عام ملازمین کو چیئرمین تک رسائی دینے پر شکریہ ادا کیا ۔انہوں نے کہا کہ میاں رضاربانی کے دور میں سٹاف کی فلاح وبہبودکے حوالے سے جو اقدامات اٹھائے گئے وہ قابل تعریف ہیں۔گریڈ 1تا 16کے ریٹائرڈ ہونے ملازمین کے بچوں کو نوکری دینا ،رمضان میں چھوٹے ملازمین کو رمضان پیکج فراہم کرنا ،عید ملن پارٹی ودیگر کئی اہم نئی روایات قائم کی گئیں۔ جس سے سٹاف کے اعتماد میں اضافہ ہوا۔ ظہرانے میں ڈپٹی چیئرمین سینٹ مولانا عبد الغفور حیدری، سینیٹرز کامل علی آغا ، بیرسٹر مرتضیٰ وہاب، ستارہ ایاز ، فرحت اللہ بابر ، محمد جاوید عباسی ، میر کبیر احمد محمد شاہی ، حاصل خان بزنجو ، ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی ، مفتی عبدالستار ، الیاس احمد بلور ، تنویر الحق تھانوی ، نسرین جلیل اور نجمہ حمید کے علاوہ دیگر پارلیمنٹریرین اور ایوان بالاء کے جملہ ملازمین نے شرکت کی۔