کشمیر ، یومِ سیاہ اور اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا بیانیہ
(اصغر علی مبارک)
کشمیر صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں ہے، کشمیر قائد اعظم محمد علی جناح کے فرمان کے مطابق پاکستان کی شہ رگ ہے اور جب تک شہ رگ دشمن کے چنگل میں ہو، پاکستان کا وجود مکمل نہیں ہو سکتا۔ ہمارا کشمیریوں سے رشتہ صرف زمین کا نہیں، کلمہِ طیبہ کا رشتہ ہے، خون کا رشتہ ہے۔ ہم کل بھی ان کے ساتھ تھے، ہم آج بھی ان کے ساتھ ہیں اور ہم تب تک ان کا مقدمہ لڑتے رہیں گے جب تک سرینگر کے چوک پر آزادی کا پرچم نہیں لہراتا!27 اکتوبر برصغیر کی تاریخ کا ایک ایسا ہی سیاہ ترین باب ہے، جسے پاکستان، آزاد کشمیر اور دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری “یومِ سیاہ” کے طور پر مناتے ہیں۔ یہ دن مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی جارحیت، غاصبانہ قبضے اور کشمیریوں کی نسل کشی کی یاد دلاتا ہے۔
ہر سال 27 اکتوبر کو دنیا بھر میں مقیم کشمیری اور پاکستانی غاصب بھارت کے خلاف “یومِ سیاہ کشمیر” مناتے ہیں۔ 27 اکتوبر کا یومِ سیاہ جہاں تاریخی جبر کی یاد دلاتا ہے، وہاں اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا یہ حالیہ سخت موقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کشمیر اب محض ایک علاقائی سرحدی تنازعہ نہیں رہا۔
یہ وہ تاریک دن ہے جب 1947ء میں ہندو ڈوگرا مہاراجہ کی ملی بھگت سے ہندوستانی افواج نے بین الاقوامی قوانین کو پیروں تلے روندتے ہوئے سری نگر کے ہوائی اڈے پر یلغار کی تھی۔ پچھلی آٹھ دہائیوں سے جاری اس غیر قانونی قبضے نے وادی کو ایک خونی قید خانے میں تبدیل کر رکھا ہے، جس کا جابرانہ عروج 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 اور 35-A کی منسوخی کی صورت میں سامنے آیا۔
اقوامِ متحدہ کے ریکارڈز گواہ ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ 1948ء سے سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے۔ سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 47 واضح طور پر غیر جانبدارانہ رائے شماری کا حکم دیتی ہے۔ تاہم، عالمی طاقتوں کی مصلحت پسندی اور خاموشی نے بھارت کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ کونسل کے سامنے پاکستان نے مطالبہ کیا کہ انسانی حقوق کے نفاذ کے لیے دہرا معیار ختم کیا جانا چاہیے۔

اس طویل اور دردناک پس منظر میں، نیویارک میں منعقدہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں سالانہ اجلاس (UNGA) کے دوران وزیرِ اعظم پاکستان کا خطاب محض ایک روایتی تقریر نہیں، بلکہ جنوبی ایشیا کے امن اور کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کے لیے ایک اسٹریٹجک سفارتی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔
اقوامِ متحدہ میں وزیرِ اعظم پاکستان کا خطاب: اقوامِ متحدہ کے آفیشل ریکارڈز کے مطابق، پاکستانی وزیرِ اعظم نے جنرل اسمبلی کے سامنے کشمیر کے دیرینہ تنازعے کو عالمی سلامتی کے لیے ایک سنگین ایٹمی فلیش پوائنٹ کے طور پر پیش کیا اور تین بنیادی ستونوں پر مشتمل بیانیہ واضح کیا:
سفارتی فورم پر گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے دوٹوک انداز میں کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) کی قراردادوں کے تحت اپنے آزادانہ رائے شماری کے حق کے منتظر ہیں۔ انہوں نے وادی میں ماورائے عدالت قتل، سرچ آپریشنز اور ڈومیسائل قوانین کے ذریعے مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی بھارتی فسطائیت کو عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ سفارتی حلقوں میں اس وقت تشویش کی لہر دوڑ گئی جب وزیرِ اعظم نے سرحدوں پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 (حقِ خود دفاع) کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کا دفاع کرنا اچھے سے جانتا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ماضی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بروقت سفارتی مداخلت نے دونوں ایٹمی ممالک کو ایک بڑے اور تباہ کن تصادم سے بچایا تھا۔ سب سے حساس پہلو بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر نقصان پہنچانے کی کوششیں ہیں۔ وزیرِ اعظم پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے ماہرین اور عالمی ثالثی عدالت کے فیصلوں کی روشنی میں واضح کیا کہ پانی کے بہاؤ کو روکنے یا پاکستان کا حصہ غصب کرنے کی کسی بھی بھارتی مہم جوئی کو “اعلانِ جنگ” تصور کیا جائے گا۔ پانی کی قلت اور جغرافیائی تبدیلیوں نے اسے ایک تزویراتی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
تاریخِ انسانی گواہ ہے کہ آزادی کسی بھی قوم کا بنیادی اور فطری حق ہے، لیکن جب یہ حق طاقت کے بل بوتے پر چھین لیا جائے تو وہ دن تاریخ کا سیاہ ترین دن بن جاتا ہے۔
کشمیر کا یہ تنازعہ تقسیمِ ہند کے ادھورے ایجنڈے کا نتیجہ ہے۔ 1947ء میں اصولوں کے مطابق مسلم اکثریتی ریاست ہونے کے ناطے کشمیر کو پاکستان کا حصہ بننا تھا، اور کشمیری عوام کا دل بھی پاکستان کے ساتھ دھڑکتا تھا۔ لیکن کشمیریوں کی امنگوں کے برعکس، 27 اکتوبر 1947ء کو بھارتی افواج نے راتوں رات سری نگر کے ہوائی اڈے پر اتر کر وادی پر غیر قانونی اور غاصبانہ قبضہ کر لیا۔ اس دن برصغیر کی جنت نظیر وادی کو ایک خونی قید خانے میں تبدیل کرنے کی بنیاد رکھی گئی، جس کے خلاف کشمیری عوام آج تک برسرِ پیکار ہیں۔بھارت خود اس مسئلے کو اقوامِ متحدہ میں لے کر گیا، جہاں قراردادیں پاس ہوئیں کہ کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دیا جائے گا اور وہاں آزادانہ رائے شماری کرائی جائے گی۔ لیکن گزشتہ کئی دہائیوں سے بھارت ان قراردادوں سے مکر چکا ہے اور عالمی برادری کی خاموشی کی آڑ میں کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔ 5 اگست 2019ء کو مودی سرکار نے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35-A کو منسوخ کر کے مقبوضہ کشمیر کی نیم خودمختار حیثیت کو ختم کر دیا۔ اس سیاہ قانون کا مقصد کشمیر کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنا اور وہاں کی جغرافیائی حیثیت کو مسخ کرنا ہے۔ اس اقدام کے بعد سے وادی میں فوجی محاصرے، انٹرنیٹ کی بندش اور نوجوانوں کی ماورائے عدالت گرفتاریوں میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے، جس نے 27 اکتوبر کے یومِ سیاہ کی اہمیت کو مزید دوچند کر دیا ہے۔یومِ سیاہ منانے کا مقصد صرف ریلیاں نکالنا یا تعطیل کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے چند اہم مقاصد کارفرما ہیں:

  • عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنا: دنیا کو یہ یاد دلانا کہ کشمیر کی چوتھی نسل زنجیروں میں جکڑی پیدا ہو رہی ہے اور دنیا کا سب سے بڑا فوجی محاصرہ وہاں قائم ہے۔
  • کشمیری بھائیوں سے یکجہتی: مظلوم کشمیریوں کو یہ پیغام دینا کہ پاکستانی قوم اپنے خون کے آخری قطرے تک ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
  • سفارتی عزم کا اعادہ: پاکستان ہر فورم پر کشمیر کا مقدمہ لڑتا رہے گا جب تک کہ انہیں آزادی نصیب نہیں ہو جاتی۔ ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ کشمیر کی وادی نے لاکھوں شہداء کا خون دیکھا ہے، اور یہ خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا۔ 27 اکتوبر کا دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ جب تک جموں و کشمیر کا مسئلہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق حل نہیں ہوتا، برصغیر میں امن کا خواب ادھورا رہے گا۔
    یہ دن عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور دنیا کے نام نہاد انسانی حقوق کے ٹھیکیداروں کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے! جو دنیا میں پرندوں کے حقوق پر تو بلبلاتے ہیں، لیکن جب کشمیر کے مسلمانوں کا خون بہایا جاتا ہے تو ان کی زبانوں پر قفل لگ جاتے ہیں، ان کی آنکھیں اندھی ہو جاتی ہیں اور ان کے کان بہرے ہو جاتے ہیں۔ ہم ان سے کوئی بھیک نہیں مانگ رہے، ہم اقوامِ متحدہ کی ان قراردادوں کا نفاذ مانگ رہے ہیں جن پر خود بھارت کے پہلے وزیراعظم نے دستخط کیے تھے۔ پچھلی 8 دہائیوں سے زائد عرصے سے مقبوضہ وادیِ کشمیر میں ظلم و بربریت کا وہ بازار گرم ہے جسے دیکھ کر انسانیت کا سر بھی شرم سے جھک جاتا ہے۔ وہاں ماؤں کی گودیں اجاڑ دی گئیں، بہنوں کی ردا چھین لی گئی، جوانوں کو ماورائے عدالت قتل کر کے گمنام قبروں میں سلا دیا گیا، اور معصوم بچوں کی آنکھوں کو پیلٹ گنوں سے اندھا کر دیا گیا۔
    5 اگست 2019ء کو مودی سرکار نے آرٹیکل 370 اور 35-A کو منسوخ کر کے کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی فوجی جیل میں تبدیل کر دیا۔ آج کشمیری اپنی ہی سرزمیں پر قیدی بنا دیے گئے ہیں، لیکن میں آج اس معزز ایوان کے توسط سے دنیا کے غاصبوں کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ سنو! تم کشمیریوں کے جسموں کو تو قید کر سکتے ہو، ان کے جذبوں کو قید نہیں کر سکتے! تم بندوق کی گولی سے دلوں کو نہیں جیت سکتے! 27 اکتوبر برصغیر کی تاریخ کا وہ سیاہ ترین دن ہے جسے رہتی دنیا تک “یومِ سیاہ کشمیر” کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ یہ وہ دن ہے جب امن کے دعویداروں نے، جمہوریت کا راگ الاپنے والوں نے، انسانیت کا لبادہ اوڑھنے والے غاصب بھارت نے رات کے اندھیرے میں معصوم کشمیریوں کی آزادی پر شب خون مارا! تاریخ گواہ ہے کہ 27 اکتوبر 1947ء کی اس منحوس صبح جب بھارتی افواج سری نگر کے ہوائی اڈے پر اتریں، تو انہوں نے صرف زمین کے ایک ٹکڑے پر قبضہ نہیں کیا تھا، بلکہ انہوں نے لاکھوں کشمیریوں کی امنگوں، ان کے خوابوں اور ان کے بنیادی حقِ خودارادیت کا گلا گھونٹا تھا۔سلامتی کونسل کے متعلقہ قوانین و قراردادوں کی حتمی تصدیق درج ذیل ہے: یومِ سیاہ کشمیر کی تاریخ 27 اکتوبر 1947ء وہ تاریخی دن ہے جب بھارتی افواج نے پہلی مرتبہ قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سری نگر کے ہوائی اڈے پر یلغار کی تھی اور غیر قانونی تسلط کا آغاز کیا تھا۔ کشمیری عوام پچھلی آٹھ دہائیوں سے اس دن کو اپنی محکومی کے آغاز کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ بھارتی آئینی تبدیلی کی تاریخ (5 اگست 2019ء) مودی سرکار نے اپنے صدارتی صوابدیدی آرڈیننس کے ذریعے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35-A کو مستقل طور پر منسوخ کیا۔
    اس اقدام کے تحت مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی خودمختار ریاستی حیثیت یکطرفہ طور پر ختم کر دی گئی اور ڈومیسائل قوانین کے ذریعے وادی میں ڈیموگرافک انجینئرنگ (مسلم اکثریت کو اقلیت بنانے) کی بنیاد رکھی گئی۔ اقوامِ متحدہ (UN) کی سلامتی کونسل کی بنیادی قراردادیں درج ذیل ہے :
  • قرارداد نمبر 47 (UNSC Resolution 47): یہ قرارداد 21 اپریل 1948ء کو منظور کی گئی، جس کا بنیادی مقصد مقبوضہ علاقے میں امن کا قیام اور کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت (Right to Self-Determination) دینے کے لیے ایک غیر جانبدارانہ اور آزادانہ رائے شماری (Plebiscite) کا انعقاد کروانا ہے۔ • اقوامِ متحدہ کا چارٹر (آرٹیکل 51): وزیرِ اعظم پاکستان نے اپنی تقریر میں واضح کیا کہ گزشتہ سال مئی 2025ء میں ہونے والی بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا قانونی اور مروجہ حق استعمال کیا تھا وزیرِ اعظم شہباز شریف نے 25 ستمبر 2026ء کو نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں سیشن سے خطاب کیا اس تقریر میں انہوں نے 5 اگست 2019ء کے بھارتی فیصلوں کی منسوخی، سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں پانی کی جارحیت کو “اعلانِ جنگ” قرار دینے، اور مئی 2025ء کے تنازعے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بروقت سفارتی مداخلت کا تذکرہ کیا ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ کشمیر کی وادی نے لاکھوں شہداء کا خون دیکھا ہے، اور یہ خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا۔ 27 اکتوبر کا دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ جب تک جموں و کشمیر کا مسئلہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق حل نہیں ہوتا، برصغیر میں امن کا خواب ادھورا رہے گا۔ کشمیریوں کی آزادی کی شمع ان کے جذبوں سے روشن ہے، اور وہ دن دور نہیں جب ظلم کی یہ سیاہ رات ختم ہوگی اور کشمیر آزادی کے سورج کا استقبال کرے گا۔ پاکستان کشمیر کا وکیل اور اس کے حقِ خودارادیت کا سب سے بڑا حامی ہے۔ پاکستان کا ہمیشہ سے یہ واضح اور اصولی موقف رہا ہے کہ کشمیریوں کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا حقِ رائے شماری دیا جائے۔ کشمیر پاکستان کی “شہ رگ” ہے اور کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھنا ہماری قومی و ایمانی ذمہ داری ہے۔کشمیر کا تنازعہ تقسیمِ ہند کے ادھورے ایجنڈے کا تسلسل ہے۔ جون 1947ء کے منصوبہ تقسیم کے تحت مسلم اکثریتی ریاستوں کو جغرافیائی مطابقت کے لحاظ سے پاکستان کا حصہ بننا تھا۔ کشمیر کی 80 فیصد سے زائد آبادی مسلمان تھی اور وہ دل و جان سے پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے تھے، جس کا اظہار 19 جولائی 1947ء کو آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کی “قراردادِ الحاقِ پاکستان” کے ذریعے بھی کیا گیا۔تاہم، کشمیر کے ظالم ہندو ڈوگرا مہاراجہ ہری سنگھ نے عوامی امنگوں کے خلاف سازش رچی۔ 27 اکتوبر 1947ء کی صبح بھارتی افواج نے بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے سری نگر کے ہوائی اڈے پر یلغار کر دی اور وادی پر ناجائز قبضہ جما لیا۔ مہاراجہ نے بھارت کے ساتھ ایک نام نہاد اور جعلی “معاہدہ الحاق” کا ڈرامہ رچایا، جسے کشمیریوں اور پاکستان نے پہلے دن سے ہی مسترد کر دیا۔
    یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر ہماری نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا، قلم اور جدید سفارت کاری کے ذریعے بھارتی پراپیگنڈے کو بے نقاب کریں اور دنیا کے سامنے کشمیر کا اصل مقدمہ پیش کریں۔ سیاسی مفادات اور مصلحتوں کی وجہ سے عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ کا دہرا معیار کشمیر میں جاری انسانی المیے پر خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ تحریکِ آزادی کو بندوق کی گولیوں، کرفیو اور جبر کے ہتھکنڈوں سے کبھی دبایا نہیں جا سکتا۔ 27 اکتوبر کا یومِ سیاہ جہاں بھارتی جمہوریت کے ماتھے پر ایک کلنک کا ٹیکہ ہے، وہاں یہ کشمیریوں کے لازوال عزم اور قربانیوں کی یادگار بھی ہے۔ ظلم کی رات جتنی بھی طویل ہو جائے، صبحِ آزادی کا سورج ضرور طلوع ہوگا اور کشمیری عوام زنجیریں توڑ کر اپنی آزادی کا جشن منائیں گےآزادی کائنات کا حسن اور ہر ذی روح کا بنیادی حق ہے، جبکہ غلامی انسان کے لیے سب سے بڑی سزا اور کرب ہے۔ برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں 27 اکتوبر ایک ایسا سیاہ ترین اور دردناک دن ہے جو جنت نظیر وادی کشمیر پر بھارتی غاصبانہ قبضے، انسانیت سوز مظالم اور کشمیری عوام کی محکومی کی شروعات کی یاد دلاتا ہےیہی وجہ ہے کہ ہر سال 27 اکتوبر کو پاکستان، آزاد جموں و کشمیر اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری انتہائی غم و غصے کے ساتھ “یومِ سیاہ کشمیر” کے طور پر مناتے ہیں، تاکہ عالمی برادری کے سوئے ہوئے ضمیر کو جھنجھوڑا جا سکے۔کشمیر کا تنازعہ تقسیمِ ہند کے ادھورے ایجنڈے کا تسلسل ہے۔ جون 1947ء کے منصوبہ تقسیم کے تحت مسلم اکثریتی ریاستوں کو جغرافیائی مطابقت کے لحاظ سے پاکستان کا حصہ بننا تھا۔ کشمیر کی 80 فیصد سے زائد آبادی مسلمان تھی اور وہ دل و جان سے پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے تھے، جس کا اظہار 19 جولائی 1947ء کو آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کی “قراردادِ الحاقِ پاکستان” کے ذریعے بھی کیا گیا۔ کشمیر کے ظالم ہندو ڈوگرا مہاراجہ ہری سنگھ نے عوامی امنگوں کے خلاف سازش رچی۔ 27 اکتوبر 1947ء کی صبح بھارتی افواج نے بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے وادی پر ناجائز قبضہ جما لیا۔اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ سیشن کے دوران بھی پاکستانی وزیرِ اعظم نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ جب تک بھارت 5 اگست 2019ء کے یکطرفہ اقدامات کو واپس نہیں لیتا، تب تک مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہے، کیونکہ متنازعہ علاقے کی جغرافیائی حقیقت کو طاقت کے بل پر تبدیل نہیں کیا جا سکتا یہ واضح ہو چکا ہے کہ مودی سرکار کی پانی کی جارحیت اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی کوششیں خطے کو ایک ہولناک ایٹمی تصادم کی طرف دھکیل سکتی ہیں بھارت نے 5 اگست 2019ء کو جو بویا تھا، وہ آج خود اس کے لیے گلے کا پھندا بن چکا ہے طاقت اور بندوق کے سائے میں اسکولوں اور بازاروں کو کھلا رکھنا کبھی “امن اور معمول کے حالات” کی علامت نہیں ہو سکتا۔ کشمیر کی چوتھی نسل اپنے اسلاف کے خون کا حساب مانگ رہی ہے۔ 5 اگست کا یہ جابرانہ اقدام کشمیریوں کے جذبہِ حریت کو کچلنے میں مکمل ناکام رہا ہے۔ عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ کو اپنی دوہری پالیسی ترک کرنی ہوگی، کیونکہ کشمیر کے پرامن حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا خواب ہمیشہ ادھورا رہے گا。 کشمیر بنے گا پاکستان، انشاء اللہ!