…..پاک فوج کی کارروائی; پاکستان کو بليک لسٹ کرانے کی بھارتی سازش ناکام………. (اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک)…………پاک فوج نے فیٹف میں پاکستان کو بلیک لسٹ کرانے کی سازش ناکام بنادی۔ ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ دو عسکری راہنماؤں ( ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی ایم او) کو قومی ایگزیکٹو کمیٹی میں عہدہ دار ی دیے جانے کے بعد پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اسپیشل سیل تشکیل دیا جس کا بنیادی مقصد ہی FATF کے تحفظات کی دوری اور مجوزہ نکات کا نفاذ ہے۔ اس سیل کی دن رات کی انتھک محنت کی بدولت 30 سے زیادہ اداروں کے مابین رابطے، بروقت قانون سازی اور بھرپور نفاذی کاروائیوں کی بدولت پاکستان FATF کے ستائیس میں سے چھبیس نکات پر عملدرآمد مکمل کر چکا ہے اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قوانین کی بدولت نہ صرف پاکستان کی ترسیلات بحال ہوئی ہیں بلکہ اسی مد میں تقریباً اٹھاون ارب روپے بھی بازیاب کروائے گئے ہیں- دو سال سے پاکستان کو لافیئر کا سامنا رہا، بھارتی لابی نے مشکلات پیدا کیں ،گرے لسٹ میں ڈالا گیا بھارت کی کوشش تھی کہ پاکستان کو بلیک لسٹ کر دیا جائے مگرپاک فوج نے سازش ناکام بنا دی فیٹف کے 27 میں سے 26 پوائنٹ پ عمل یقینی بناتے ہوئے وائٹ لسٹ کی طرف گامزن کیا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے احکامات پر جی ایچ کیو میں میجر جنرل کی سربراہی میں اسپیشل سیل قائم کیا گیا سیل نے مختلف محکموں، وزارتوں اور ایجنسیزکے درمیان کوآرڈی نیشن میکنزم بنایا سیل نے ہر پوائنٹ پر مکمل ایکشن پلان بنایا اورمحکموں، وزارتوں اور ایجنسیزسے عمل کروایا، سیل نے منی لانڈرنگ، ٹیرر فنانسنگ ، بھتہ خوری، اغوا برائےتاوان اورٹارگٹ کلنگ پ مؤثرلائحہ عمل سے قابو پایا ، دہشتگردوں کی مالی معاونت سے متعلق تحقیقات اور تمام متعلقہ تنظیموں کے خلاف قانونی کارروائی ہوئی آرمی چیف کے احکامات پر میجر جنرل کی سربراہی میں اسپیشل سیل قائم کیا گیا۔ مختلف محکموں، وزارتوں اورایجنسیز کے درمیان کوآرڈی نیشن میکنزم بنایا گیا اس ضمن میں FATFکے ایکشن پلان میں کافی پیش رفت ہوئی اور درج ذیل نکات پر عمل درآمد کیا گیا دہشتگردوں کی مالی معاونت .اس ضمن میں 27میں سے26 پوائنٹ پر عمل درآمد مکمل ہو چکا ہے۔ منی لانڈرنگ کے سدِ باب کیلئے 7میں سے 4پوائنٹس پر عمل درآمد ہوا جو کہ ایف اے ٹی ایف کی تاریخ میں بے مثال پیش رفت ہے۔ دہشتگردی کی روک تھا م کے لئے دہشتگردوں کے سہولت کاروں کی مالی معاونت، تحقیقات اور تمام متعلقہ تنظیموں کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی، پاکستان کی ترقی کو پائیدار اور مستحکم بنانے کیلء درج ذیل قوانین کے نفاذ کے ذریعے مختلف قانونی، مالی اور دہشتگردی سے متعلق پہلوؤ ں کو حل کرنے کے لئے مندرجہ ذیل قوانین بنائے گئے۔ اینٹی منی لاندرنگ ایکٹ میں ترامیم; پاکستان کے نظام کو مضبوط بنانے کیلئے اینٹی منی لانڈرنگ(AML) اور کاؤنٹرفائننسنگ آف ٹیرا رزم(CFT) کی حوصلہ شکنی کی گئی فارن ایکسچینج ریگولیٹری ایکٹ میں ترامیم;حوالہٰ اور ہنڈی نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر اور فوری کارروائی عمل میں لائی گئی . باہمی قانونی معاونت کا ایکٹ;اینٹی منی لانڈرنگ(AML) اور کاؤنٹر فائننسنگ آف ٹیرا رزم(CFT)کےخلاف بین الاقوامی سطح پر باہمی حمایت کی گئی بھارتی لابی نے پاکستان کیلئے مشکلات پیدا کیں۔ پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالا گیا، بھارت نے بلیک لسٹ کرانے کی کوشش کی۔ پاک فوج نے اس بھارتی سازش کو بھی ناکام بنادیا۔ برلن میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کا اجلاس میں ایک بار پھر پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے موجودہ صورت حال میں پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ آیا ایف اے ٹی ایف کوئی تکنیکی فورم ہے۔۔۔ یا اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہےپاکستان جون 2018سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ پر ہے اور ہر آئندہ اجلاس میں پاکستان کو مانیٹرنگ لسٹ میں برقراررکھنے کا فیصلہ سنا دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ پاکستان گرے لسٹ میں رہے گا ، اس سارے عمل سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ پاکستان کے دشمن ممالک فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کررہے ہیںکیونکہ وہ اپنے مذموم مقاصد کے لیے پاکستان کو دبائو میں رکھنا چاہتے ہیں پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے90فی صد سے زائد پوائنٹس مکمل کر لیے یعنی ان نکات پر عمل درآمد کر لیا ہے جبکہ پاکستان کے مقابلے میں دیگر ممالک کی عدم تعمیل کا تناسب زیادہ ہے لیکن ان کو ہر قسم کا استشنیٰ دے دیا گیا ہے ، امریکا نے 22.5فیصد عدم تعمیل یا عدم تکمیل کی ہے یعنی ان کے ساڑھے بائیس فیصد نکات پر عملدرآمد کرنا ابھی باقی رہتا ہے امریکا کی عدم تعمیل ہم سے زیاد ہ ہے اسی طرح جارجیا کی عدم تکمیل 32.5فیصد ہے ، روس کی عدم تکمیل 12.5فیصد ، جاپان کی 27.5، جنوبی کوریاکی 20فیصد تکمیل باقی رہتی ہے۔ سری لنکا کی 22.5 ،فرانس کا 25 فیصد، اسرائیل کا 12.5فیصد اور ہندوستان کا 22.5فیصد تکمیل کا کام رہتا ہے یعنی ہنددستان نے 22.5فیصد نکات پر عمل نہیں کیا ہےاور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی طرف سے دیئے گئے اہداف کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے، پھر بھی اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ پاکستان کو یہ جاننے کا حق ہے کہ یہ امتیازی سلوک اس کے خلاف کیوں ہےجب کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی زیادہ حکم عدولی کرنے والے اور اہداف پورانہ کرنے والے جن کی عدم تعمیل کا تناسب ہم سے بھی زیادہ ہے ان کو گرے لسٹ پر نہیں رکھا گیا اور ہمیں گرے لسٹ پر رکھ کر نشانہ بنایا جارہا ہے۔مزید یہ کہ امریکہ جیسے ملک کو شکایت کنندہ کے طور پر کیسے قبول کیا جا سکتا ہے جو خود ایف اے ٹی ایف کی تعمیل نہیں کرتا؟وزارت خارجہ ایف اے ٹی ایف کے امتیازی سلوک کے خلاف بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں شکایت دائر کرے کیونکہ پاکستان کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ہمیں اس وقت تک گرلے لسٹ اور مانیٹرنگ لسٹ میں رکھے گا جب تک کہ ہم انصاف کے لیے عالمی عدالت کا درووازہ نہیں کھٹکھٹاتے اور ایف اے ٹی ایف کے اس متعصبانہ رویہ کو بے نقاب نہیں کرتے ، ہمیں عالمی عدالت انصاف ، اقوام متحدہ اور عالمی برادری کے علم میں یہ معاملہ لانا چاہیے کہ پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے 90فیصد سے زائد اہداف مکمل کر لیے ہیں مگر اس کےباوجود ہمیں گرے لسٹ سے نہیں نکالا جارہا ہماری عدم تکمیل بارہ فیصدسے بھی کم ہے مگر ہم سے زائد عدم تعمیل کا تناسب رکھنے والے گرے لسٹ سے باہر ہیں اور استثنیٰ سے لطف اندوز ہورہے ہیں ،پاکستان کو ’گرے لسٹ‘ میں رکھنے کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے جس کی امریکہ نے شکایت کی تھی۔ایف اے ٹی ایف کچھ ممالک کے سیاسی دباؤ اور اثر و رسوخ کو قبول کر رہا ہے جسکی وجہ سے پاکستان کو گرے لسٹ سے نہیں نکالے گا۔پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں مسلسل رکھنے کا یہ راز بھارتی وزیر خارجہ کے اعترافی بیان سے فاش ہوا ہے جس میںدعویٰ کیا تھا کہ نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں رکھا جائے۔بھارتی وزیر خارجہ کے مذکورہ اعتراف نے ایف اے ٹی ایف کی دیانتداری اور شفافیت پر بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ کا پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں رکھنے کا دعویٰ بھارت کے ملوث ہونے کی تصدیق کرتا ہے۔لیکن بدقسمتی سے نہ تو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے اس تشویشناک بیان کا نوٹس لیتے ہوئے کوئی کارروائی کی.دہشت گردوںکی مالی معاونت، منی لانڈرنگ اور ایٹمی پھیلاؤ کے گھناؤنے جرائم میں ملوث ہونے کے واضح ثبوتوں کے باوجود، بھارت کونوازا جا رہا ہے اور ایف اے ٹی ایف کی جانب سے اس کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہ کر کے رعایت دی جارہی ہےدہشت گردوںکی مالی معاونت، منی لانڈرنگ اور ایٹمی پھیلاؤ کے گھناؤنے جرائم میں ملوث ہونے کے واضح ثبوتوں کے باوجود، بھارت کونوازا جا رہا ہے اور ایف اے ٹی ایف کی جانب سے اس کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہ کر کے رعایت دی جارہی ہےایف اے ٹی ایف بھارتی وزیر خارجہ کے اعترافی بیان کی تحقیقات کرے اور اس مقصد کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے تاکہ مزید وقت ضائع کیے بغیر سچائی کو بے نقاب کیا جاسکے اور پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے پر غور کیا جا سکے۔ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو دو مرحلوں میں 34 نکات پر عمل درآمد کے لیے کہا تھا، پاکستان نے اس بار تمام 34 شرائط پر عمل درآمد کیاہے۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا اجلاس جرمنی میں ہوا ۔وزیر مملکت خارجہ امور حنا ربانی کھر نے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر مملکت ایف اے ٹی ایف کے لائحہ عمل پر عمل درآمد سے متعلق پاکستانی اقدامات سےآ گاہ کیا۔اس اجلاس میں فیٹف کے عالمی تعاون کیلیے جائزہ گروپ کی سفارشات پر بھی غور ہوا۔عالمی مالیاتی نظام کی حفاظت کے لیے ترقی یافتہ معیشتوں کے جی 7 گروپ کی جانب سے قائم کردہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس; ایف اے ٹی ایف) ایک عالمی نگران ادارہ ہے، جو ابتدا میں منی لانڈرنگ سے نمٹنے کے لیے قائم کیا گیا تھا لیکن 9/11 کے دہشت گرد حملوں کے بعد اس کا کردار نمایاں ہو گیا ہے۔ ان حملوں کے بعد ایف اے ٹی ایف نے اپنی کارروائیوں کو بڑھایا اور اس کے دائرہ کار میں دہشت گردی کی مالی معاونت پر تحقیقات بھی شامل ہےسنہ 2003 میں ایف اے ٹی ایف نے ہدایات کا ایک نیا مجموعہ سامنے جاری کیا، جہاں اس نے ملکوں سے غیر قانونی لین دین کی آمدنی ضبط کرنے، مشکوک ٹرانزیکشن رپورٹس وصول کرنے اور ان کی تحقیقات کے لیے مالیاتی انٹیلی جنس یونٹ بنانے پر زور دیا۔ اس کی سفارشات کو ‘ہم مرتبہ جائزے’ یا ‘باہمی تشخیص’ کے ذریعے مانیٹر کیا جاتا ہے۔ایف اے ٹی ایف دو فہرستیں رکھتا ہے۔ ایک بلیک لسٹ اور دوسرا گرے لسٹ۔ اس کی بلیک لسٹ میں شامل ممالک وہ ہیں جن پر واچ ڈاگ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کا الزام ہوتا ہے ، وہ ممالک اس کو روکنے کے لیے عالمی کوششوں میں تعاون نہیں کرتے ہیں۔دوسری جانب گرے لسٹ کو سرکاری طور پر ‘بڑھتی ہوئی مانیٹرنگ کے تحت دائرہ اختیار کہا جاتا ہے، وہ قومیں تشکیل دیتی ہیں جو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے اہم خطرات پیش کرتی ہیں لیکن جو ایف اے ٹی ایف کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عزم رکھتی ہیں۔ اس کے بعد ایک ایکشن پلان تیار کیا جاتا ہے ، جو اس کمی کو دور کرتا ہےایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ ایسے ممالک کو تشکیل دیتی ہے جنہیں دہشت گردی کی فنڈنگ ​​اور منی لانڈرنگ کے لیے محفوظ پناہ گاہ سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ فہرست میں شمولیت بلیک لسٹ ہونے کی طرح شدید نہیں ہے۔ یہ ملک کے لیے مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک انتباہ ہےخیال رہے کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی 34 میں سے 33 شرائط پر عملدرآمد کے شواہد فراہم کر دیے ہیں جبکہ ایف اے ٹی ایف کے حالیہ اجلاس میں پاکستان کے گرے لسٹ سے نکل جانے کے قوی امکانات موجودتھے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس آن منی لانڈرنگ ایک عالمی ادارہ ہے جو جی-سیون ممالک (امریکا، برطانیہ کینیڈا،فرانس، اٹلی، جرمنی اور جاپان) کی ایما پر بنایا گیا ہے، اس ادارے کا مقصد ان ممالک پر نظر رکھنا اور اقتصادی پابندیاں عائد کرنا ہے جو دہشت گردی کے خلاف عالمی کوششوں میں تعاون نہیں کرتے اور عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیے گئے دہشت گردوں کے ساتھ مالی تعاون کرتے ہیں-رپورٹس کے مطابق اس کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ایف اے ٹی ایف کے رواں برس اکتوبر میں ہونے والے پلینری اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ ہوگا ایف اے ٹی ایف کا جوائنٹ اسسمنٹ گروپ جولائی یا اگست میں پاکستان کا دورہ کرے گا اور ایکشن پلان کے نکات پر عملدرآمد کا جائزہ لے گا۔ذرائع کے مطابق پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے 34 نکات پر مکمل عملدرآمد کرلیا ہے اور پاکستان نے کامیابی کیلئے سفارتی کوششیں تیز کردی ہیں