پاک فوج نے بھارت کا فالس فلیگ آپریشن بے نقاب کردیا
(اصغر علی مبارک)
پاک فوج نے بھارت کے ‘فالس فلیگ آپریشن’ (جعلی کارروائی) کو بے نقاب کر دیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے اس پروپیگنڈے کو فوری اور شواہد کے ساتھ بے نقاب کرنا تزویراتی لحاظ سے ایک بڑی کامیابی ہے۔ پاک فوج نے واضح کیا ہے کہ وہ وطنِ عزیز کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہمہ وقت تیار ہے اور کسی بھی جارحیت یا مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ عالمی برادری پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وہ خطے میں امن کو سبوتاژ کرنے کی بھارتی کوششوں کا نوٹس لے، کیونکہ ایسے سستے اور خطرناک ہتھکنڈے دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کو انتہائی حساس نہج پر لے جا سکتے ہیں۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR) نے بھارت کی جانب سے پاکستان کو بدنام کرنے اور عالمی توجہ ہٹانے کے لیے رچائے جانے والے ایک اور خطرناک فالس فلیگ آپریشن کا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا ہے۔ عسکری ذرائع کے مطابق، بھارتی خفیہ اداروں کی جانب سے سرحد پار ایک من گھڑت ڈرامہ رچانے کی کوشش کی جا رہی تھی، جسے پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور ٹھوس انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر بے نقاب کر کے خاک میں ملا دیا ہے۔
سینئر تجزیہ کار اصغر علی مبارک کے مطابق بھارت جب بھی اندرونی سیاسی، معاشی یا سماجی بحران کا شکار ہوتا ہے، یا مقبوضہ جموں و کشمیر میں اس کے مظالم پر عالمی دباؤ بڑھتا ہے، تو وہ روایتی طور پر فالس فلیگ آپریشنز کا سہارا لیتا ہے۔ اس حالیہ سازش کا مقصد بھی بین الاقوامی برادری کے سامنے پاکستان کے خلاف من گھڑت اور جھوٹا بیانیہ تشکیل دینا تھا، تاہم پاک فوج کی اعلیٰ پیشہ ورانہ تیاری اور چوکسی نے دشمن کے ناپاک عزائم کو وقت سے پہلے ہی دنیا کے سامنے عیاں کر دیا۔پاکستان طویل عرصے سے بین الاقوامی برادری کے سامنے یہ مؤقف پیش کرتا آیا ہے کہ بھارت اپنی اندرونی ناکامیوں اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری مظالم سے عالمی توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کو بطور ریاستی پالیسی استعمال کر رہا ہے۔
حالیہ عرصے میں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنسز اور بیانات میں بھارتی فوج اور انٹیلیجنس ایجنسی ‘را’ (RAW) کے پاکستان میں دہشت گردی کے نیٹ ورکس چلانے اور فنڈنگ کرنے کے ناقابلِ تردید شواہد اور انٹیلیجنس حقائق دنیا کے سامنے رکھے ہیں, بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور اس کی اقتصادی ترقی (خصوصاً سی پیک اور بلوچستان کے منصوبوں) کو روکنے کے لیے مختلف دہشت گرد تنظیموں کی مالی، نظریاتی اور مادی مدد کر رہا ہے۔
پاکستان نے اقوامِ متحدہ اور عالمی فورمز پر مسلسل یہ ثبوت پیش کیے ہیں کہ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (جسے اب سرکاری طور پر ‘فتنہ الخوارج’ کہا جاتا ہے) اور بلوچستان کی علیحدگی پسند تنظیمیں افغان سرزمین اور دیگر ذرائع سے بھارتی فنڈنگ اور جدید اسلحہ حاصل کرتی ہیں۔حال ہی میں سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان اور دیگر علاقوں میں متحرک بھارتی پراکسی گروپ “فتنہ الہندوستان” کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی ہیں، جو براہِ راست بھارتی ہینڈلرز کے اشاروں پر تخریب کاری میں ملوث پایا گیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، سرحد پار حملوں کے لیے دہشت گردوں کو بھارتی ہینڈلرز کی جانب سے دیسی ساختہ دھماکا خیز مواد (IEDs)، جدید ترین ہتھیار اور ڈرونز فراہم کیے جانے کے ثبوت بھی ملے ہیں۔پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے غیر ملکی اسپانسرڈ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے انٹیلیجنس پر مبنی آپریشنز تیز کر دیے ہیں:
سیکیورٹی فورسز نے کوئٹہ، زیارت اور مستونگ کے اضلاع میں بھارتی و افغان سرپرستی میں چلنے والے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف ایک بڑا آپریشن شروع کیا۔ اس آپریشن کے دوران 71 سے زائد بھارتی و افغان اسپانسرڈ دہشت گرد ہلاک کیے گئے اور ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں بارود اور اسلحہ برآمد کیا گیا۔ جولائی اور ستمبر کے مہینوں میں شمالی وزیرستان (حسن خیل) اور دیگر سرحدی علاقوں میں دراندازی کی بڑی کوششیں ناکام بنائی گئیں، جہاں بھارتی نیٹ ورک سے وابستہ درجنوں خوارج مارے گئے۔ پاکستان نے بھارتی دہشت گردی کو عالمی سطح پر بے نقاب کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں پاکستان نے اقوامِ متحدہ (UN)، سلامتی کونسل اور اہم عالمی طاقتوں کو دستاویزی ثبوت، بینک ٹرانزیکشنز، کالز کے انٹرسیپٹس اور بھارتی فوجی افسران کے ملوث ہونے کے ناقابلِ تردید ثبوت فراہم کیے ہیں۔ پاکستان میں گرفتار بھارتی بحریہ کے حاضر سروس کمانڈر کلبھوشن یادیو کا اعترافی بیان اور حال ہی میں کینیڈا، امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں بھارتی ایجنٹوں کی جانب سے کی جانے والی ٹارگٹ کلنگز (جیسے نکھل گپتا کیس) اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بھارت ماورائے عدالت قتل اور بین الاقوامی دہشت گردی کو ریاستی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔بھارت کا مقصد پاکستان کو مستقل طور پر دہشت گردی کی دلدل میں الجھائے رکھنا ہے تاکہ ملک اپنی اصل صلاحیتوں کے مطابق ترقی نہ کر سکے۔ تاہم، پاکستان کی عسکری قیادت نے واضح کیا ہے کہ عزمِ استحکام اور مربوط انٹیلیجنس نیٹ ورک کے ذریعے دشمن کی ہر بیرونی پراکسی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس کے دوران مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کے فالس فلیگ آپریشن سے متعلق تفصیلات بیان کیں۔ ان کے مطابق 29 ستمبر کی رات بھارتی فوج کی ایک کور نے سوشل میڈیا پر مقبوضہ کشمیر میں جوائنٹ سرچ آپریشن سے متعلق دعویٰ کیا اور ایک دہشت گرد کی ہلاکت کی اطلاع دی۔ترجمان پاک فوج نے بھارتی دعوے میں ’شہید‘ قرار دیے گئے ایس ایس جی کے سابق حوالدار محمد آصف کو میڈیا کے سامنے پیش کیا۔ ان کے مطابق بھارت نے محمد آصف کو لشکر طیبہ کا کمانڈر اور مقبوضہ کشمیر میں مارا گیا دہشت گرد قرار دیا تھا، تاہم محمد آصف نے میڈیا کے سامنے آکر بتایا کہ وہ زندہ ہیں اور پاکستان میں موجود ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کوئی ڈراما کرنا چاہتا ہے تو کر کے دیکھ لے، پاکستان دشمن کے ہر اقدام کے لیے مکمل تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کچھ کرنا چاہتا ہے تو آجائے، پاکستان کا ردعمل سخت ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ پاکستان کا پالا گھٹیا دشمن سے پڑا ہے۔پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کیے گئے ایک اور فالس فلیگ آپریشن کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں فالس فلیگ آپریشن کے دوران ایس ایس جی کے سابق اہلکار محمد آصف کو شہید کرنے کا دعویٰ کیا اور شہید کو لشکر طیبہ کا کمانڈر بتایا، جس پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے محمد آصف کو میڈیا کے سامنے پیش کرکے بھارت کا جھوٹ بے نقاب کردیا۔ جمعرات کو ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس کے دوران مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کے فالس فلیگ آپریشن سے متعلق تفصیلات بیان کیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ 29 ستمبر کی رات بھارتی کور نے مقبوضہ کشمیر میں جوائنٹ سرچ آپریشن سے متعلق ٹویٹ کیا اور آپریشن کے دوران ایک شخص کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔ تقریباً ساڑھے 7 گھنٹے بعد 30 ستمبر کو بھارتی ملٹری کی جانب سے ایک اور اپڈیٹ جاری کی گئی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ لشکر طیبہ سے تعلق رکھنے والے ایک دہشت گرد کی لاش ملی ہے۔ بھارتی فوج نے ہلاک کیے گئے شخص کی شناخت محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ کے نام سے ظاہر کی اور دعویٰ کیا کہ اس کا تعلق پاکستان سے ہے۔ بھارتی نیوز ایجنسی نے بھی مبینہ دہشت گرد کی تفصیلات سروس نمبر کے ساتھ جاری کیں اور دعویٰ کیا کہ محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ ایس ایس جی کا حوالدار ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بھارتی فوج کے بعد بھارتی حکومت کی جانب سے بھی اس واقعے سے متعلق تفصیلات سامنے آئیں تاہم دونوں کے بیانات میں تضاد پایا گیا۔ بھارتی حکومت نے محمد آصف کو لشکر طیبہ کا کمانڈر قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ 4 سال سے مقبوضہ کشمیر میں سرگرم تھا اور وہاں متعدد کارروائیوں میں ملوث رہا۔مزید کہا کہ بھارت نے محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ کو ایک بڑے دہشت گرد کے طور پر پیش کیا اور بھارتی میڈیا نے بھی اس دعوے کو بھرپور انداز میں نشر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی خبروں سے اڑی اور پہلگام کے واقعات سے متعلق بھارتی دعوؤں کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارتی فوج نے محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ کا شناختی کارڈ بھی دکھایا اور اس واقعے کو اپنی کارروائی کی کامیابی کے طور پر پیش کیا۔ ان کے مطابق ’آپریشن شیرووالی‘ مئی میں شروع کیا گیا تھا اور بھارتی فوج تقریباً 6 ماہ بعد اس میں کامیابی کا دعویٰ کر رہی ہے۔ انہوں نے بھارتی فوج کے دعوے پر طنزیہ انداز میں کہا کہ بھارتی فوج کی نام نہاد کامیابی پر انہیں مبارکباد دیں اور تالیاں بجائیں جب کہ بھارتی حکومت کی جانب سے بھی محمد آصف کو فوجی قرار دے کر اس کے مبینہ کارناموں کو بڑا بنا کر پیش کیا گیا۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بھارتی فوج اور میڈیا کے دعوے کے بعد پاکستان نے محمد آصف کو تلاش کیا اور انہیں میڈیا کے سامنے پیش کردیا۔ میڈیا کے سامنے موجود محمد آصف نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے علاقے پنڈی گھیب کے رہائشی ہیں اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ راولپنڈی میں رہتے ہیں۔ محمد آصف کے مطابق دوستوں نے انہیں بتایا کہ سوشل میڈیا پر ان کے بارے میں خبر چل رہی ہے کہ انہیں بھارتی فوج نے کشمیر میں شہید کردیا ہے۔ انہوں نے دوستوں سے کہا کہ وہ ان کے سامنے زندہ موجود ہیں، انہیں کس طرح شہید کیا جاسکتا ہے۔ مزید کہنا تھا کہ اس خبر کے بعد انہیں بھارتی نمبروں سے فون کالز بھی آنا شروع ہوگئیں۔ بھارتی میڈیا کی جانب سے ان کا ڈیٹا استعمال کیے جانے کا علم ہوا تو انہیں حیرت ہوئی کہ وہ گھر میں موجود ہیں اور بھارت نے انہیں شہید قرار دے دیا ہے۔ محمد آصف نے بتایا کہ انہوں نے اپنے یونٹ اور آئی ایس پی آر کو تمام تفصیلات سے آگاہ کردیا تاکہ ریکارڈ واضح رہے۔ ان کے مطابق وہ 2000 میں پاک فوج میں بھرتی ہوئے، 2005 میں ایس ایس جی جوائن کی اور 18 سال ملازمت کے بعد 2023 میں ریٹائر ہوئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے 3 سال ایک نجی سیکیورٹی کمپنی میں ڈیوٹی کی اور اس وقت اپنے ذاتی گھر میں موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی فوج نے انہیں دہشت گرد ظاہر کرکے ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا حالاں کہ وہ زندہ سلامت سب کے سامنے موجود ہیں۔ انہوں نے بھارتی دعوے کو جھوٹا اور گھناؤنا قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بھارت نے اپنی دہشت گردی کو دیگر ممالک تک بڑھا دیا ہے، بھارت دہشت گردی بھی کرتا ہے اور اس پر فخر بھی کرتا ہے۔ ان کے مطابق بھارت مختلف تنظیموں کو فنڈنگ کرتا ہے، جن میں مکتی باہنی، بی ایل اے اور ٹی ٹی پی شامل ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ بھارت خود اپنے ملک میں مسلمانوں کو دہشت گردی کا نشانہ بناتا ہے جب کہ سکھ اور مسیحی برادری کو بھی دہشت گردی کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق بھارت اور افغان طالبان رجیم کا گٹھ جوڑ بھی سب کے سامنے ہے۔ ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا ہے، جہاں تقریباً 10 لاکھ بھارتی فوجی تعینات ہیں۔ کشمیریوں کو ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں جانے کے لیے بھی اجازت لینا پڑتی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارتی فوج کشمیریوں کے گھروں کو دھماکوں سے اڑا دیتی ہے اور کشمیری عوام پر ظلم و ستم کی انتہا کردی گئی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارت خود ظلم کر رہا ہے اور اس کا الزام دوسروں پر لگانا چاہتا ہے۔ مزید کہا کہ بھارت اپنے ظلم کا الزام پنڈی گھیب کے محمد آصف پر نہیں لگا سکتا، بھارت کو کوئی مشورہ دے کہ وہ پاکستان کی ریاستی عمل داری سے باہر نکلے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے پہلگام واقعے پر تحقیقات کی پیشکش بھی کی تھی جب کہ دنیا بھارت کے دوہرے چہرے کو اچھی طرح پہچان چکی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارتی میڈیا پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے دوران بھارتی میڈیا نے تو کراچی پر قبضہ کرنے کے دعوے بھی کیے تھے۔ پریس کانفرنس کے دوران مختلف ٹی وی چینلز کے صحافیوں نے سیاسی صورتِ حال، خیبر پختونخوا میں بعض سیاسی رہنماؤں کے افغان طالبان سے متعلق مؤقف اور دہشت گردی کے خلاف قومی ردعمل سے متعلق سوالات کیے، جن کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے سیاسی جماعتوں کے کردار اور دہشت گردی سے نمٹنے کے حوالے سے ریاست کا مؤقف بیان کیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے اور اس کا سامنا کرنے کے طریقے کے بارے میں مختلف لوگوں کی مختلف سوچ ہو سکتی ہے، اس پر کوئی مسئلہ نہیں، تاہم پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ بحث و مباحثے کے نتیجے میں نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا اور اسی کے نتیجے میں وژن عزمِ استحکام سامنے آیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر سیاسی رہنماؤں نے متفقہ دستاویز تیار کی ہے تو اس پر عمل ہونا چاہیے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف ریاست کے ردعمل کے بیانیے میں ابہام پیدا کرنا اور اس حوالے سے صلاحیت سازی نہ کرنا عدم اہلیت اور عدم سمجھ بوجھ کا رویہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے سوالات سامنے آئیں تو سب سے اہم بات ریاست ہے، ریاست ہے تو سیاست ہے اور ریاست ہے تو جمہوریت ہے۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاکستان کو بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردی کا سامنا ہے۔سیاسی جماعتوں کے کردار کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سیاسی جماعتیں حکومتیں بناتی ہیں اور سیاست کرنا سیاسی جماعتوں کا کام ہے، پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ صوبوں سے بات کرنا وفاقی حکومت کا کام ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ وہ بار بار کہہ چکے ہیں کہ سیاست سے متعلق کسی بھی چیز کا جواب نہیں دیں گے۔ مزید کہا کہ ملکی سلامتی کے لیے جو کرنا پڑا کریں گے اور قومی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان حق پر کھڑا ہے اور حق کا مسافر ہے۔مکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان اس پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے۔ حرمین شریفین کا دفاع اور سعودی عرب کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے میڈیا پر بات نہیں کی جا سکتی