( اصغر علی مبارک )
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا حالیہ اجلاس جہاں دنیا بھر کی جغرافیائی و تزویراتی تبدیلیوں کا مرکز بنا ہوا ہے، وہاں پاکستان کی خارجہ پالیسی نے بین الاقوامی محاذ پر ایک بار پھر اپنی تاریخی، غیر جانبدارانہ اور مخلصانہ ساکھ کا لوہا منوایا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے مہیب بادلوں، بارود کی بو اور ایران امریکہ کے مابین بڑھتی ہوئی سنگین کشیدگی کے اس نازک ترین تاریخی موڑ پر وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے دنیا کے سب سے بڑے سفارتی فورم پر 24 کروڑ پاکستانیوں اور عالمی امن کے علمبرداروں کی سچی اور جرات مندانہ ترجمانی کی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اس وقت مشرقِ وسطیٰ کو ایک ہولناک تباہی سے بچانے کے لیے ایران اور امریکہ کے درمیان ایک “مخلص اور دیانتدار ثالث” کا تاریخی کردار ادا کر رہا ہے اور اسلام آباد نے خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا ہے۔وفاقی دارالحکومت کے سفارتی حلقوں کے مطابق، پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے مسلم ممالک کے مابین اتحاد اور عالمی طاقتوں کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کی داعی رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ:
“ہم نے امید نہیں چھوڑی، ایران اور امریکہ کے مابین کشیدگی میں کمی اور مثبت پیش رفت کے لیے پاکستان مکمل طور پر پُرعزم ہے۔ یہ ایک مسلسل عمل (Continuous Process) ہے، اور دنیا کے تمام دوست ممالک امن کے حصول کی ان مخلصانہ کوششوں میں اپنا اپنا مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان کی اس وقت مکمل توجہ ایران جنگ کے ممکنہ خطرات کے خاتمے اور ثالثی پر مرکوز ہے۔” سفارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ جب دنیا کی بڑی طاقتیں بلاک سیاست اور جنگی مہم جوئی میں مصروف ہیں، ایسے وقت میں پاکستان کا دونوں فریقین کے لیے قابلِ قبول ثالث بن کر ابھرنا اسلام آباد کی تزویراتی اہمیت اور بے داغ سفارتی ماضی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پاکستان خطے میں کسی بھی ایسی جنگ کا حصہ بننے کے حق میں نہیں ہے جو مسلم امہ اور عالمی معیشت کو اپاہج بنا دے، بلکہ پاکستان کا ہدف صرف اور صرف بارود کے دھویں کو مذاکرات کی میز پر امن کے معاہدوں میں تبدیل کرنا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے انٹرویو کے دوران ایک تاریخی دستاویزی حقیقت سے پردہ اٹھایا جس نے عالمی برادری کو چونکا کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں خطے کو جنگ کی آگ سے بچانے کے لیے ایک جامع سیکیورٹی فریم ورک تیار کیا گیا تھا جسے “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” کا نام دیا گیا تھا۔ اس تاریخی امن دستاویز کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ: “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر بذاتِ خود مجھ سمیت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر نے باضابطہ طور پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد دونوں طاقتوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا اور غلط فہمیوں کا خاتمہ کرنا تھا۔ تاہم، بدقسمتی سے اس معاہدے کے بعد بین الاقوامی محاذ پر ہونے والے کچھ واقعات بالکل غیر متوقع اور سفارتی مصلحتوں کے برعکس تھے، جس کی وجہ سے اس عمل کو دھچکا لگا۔” اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر پاکستان کی سرزمیں پر امریکی اور ایرانی قیادت کا متفق ہونا اس بات کی گواہی ہے کہ پاکستان کی خفیہ اور اعلانیہ سفارت کاری (Secret Diplomacy) کس قدر طاقتور ہے۔ اگرچہ بعد میں صیہونی مہم جوئی اور مشرقِ وسطیٰ میں اچانک بھڑکنے والی چنگاریوں نے اس معاہدے کے ثمرات کو عارضی طور پر پسِ پشت ڈال دیا، لیکن پاکستان آج بھی اسی یادداشت کو امن کی بحالی کے لیے بنیاد تصور کرتا ہے۔
وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اور امریکہ کے مابین پائی جانے والی تزویراتی خلیج کو پاٹنا محض پاکستان کے بس کی بات نہیں، بلکہ یہ ایک کثیر الجہتی سفارتی مہم ہے جس میں چین، سعودی عرب، ترکیہ اور دیگر یورپی طاقتیں بھی پسِ پردہ اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ پاکستان ان تمام دوست ممالک کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو خطے کو تیسری عالمی جنگ کے دہانے سے واپس لانے کے لیے کوشاں ہیں۔
شہباز شریف نے واضح کیا کہ اگر ایران اور امریکہ کے مابین براہِ راست جنگ چھڑتی ہے تو اس کا اثر صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ اس کی تپش خلیج فارس سے ہوتی ہوئی پوری دنیا کی توانائی سپلائی چین کو جلا کر راکھ کر دے گی۔ اس لیے پاکستان کا سفارتی مشن کسی ایک بلاک کی حمایت کرنا نہیں بلکہ انسانیت اور عالمی استحکام کا تحفظ کرنا ہے خصوصی رپورٹ کے تناظر میں یہ بات بلاخوفِ تردید کہی جا سکتی ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کا اقوام متحدہ کے فورم پر ایران امریکہ کشیدگی کم کرنے کا عزم پاکستان کی دوراندیش خارجہ پالیسی کا عکاس ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ دنیا میں جنگوں کو بھڑکانے والا نہیں بلکہ بجھانے والا ملک ہے اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا احیاء ہی خطے کے پرامن مستقبل کی واحد ضمانت ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان 2026ء کی جنگ کے خاتمے، کشیدگی میں کمی اور مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے طے پانے والا ایک تاریخی، 14 نکاتی عبوری سفارتی فریم ورک ہے۔ اس معاہدے کی طویل سفارتی و تزویراتی بنیادیں اپریل 2026ء میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والے 21 گھنٹے طویل سفارتی مذاکرات (Islamabad Talks) کے دوران رکھی گئیں، جس کی ثالثی میں پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف، آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور قطر و سعودی عرب جیسے دوست ممالک نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔یہ معاہدہ باقاعدہ طور پر 17 جون 2026ء کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے مابین الیکٹرانک طریقے سے سائن ہوا، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے بطورِ مرکزی ثالث اس پر دستخط اور توثیق کی تھی۔ اس کے اہم ترین مروجہ نکات درج ذیل ہیں:

- بحری ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز کا خاتمہ: معاہدے کے فوری نفاذ کے تحت امریکہ کو ایران پر قائم اپنی ہولناک بحری ناکہ بندی (Naval Blockade) ختم کرنی تھی، جبکہ ایران کو فوری طور پر تجارتی جہاز رانی کے لیے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو بغیر کسی ٹیکس کے 60 دنوں کے لیے کھولنا تھا۔• مستقل جنگ بندی کی توسیع: تمام فرنٹ (بشمول لبنان) پر عسکری کارروائیوں کا فوری خاتمہ اور حتمی امن معاہدے کے لیے دونوں طاقتوں کو 60 دن کا وقت فراہم کیا گیا۔
- معاشی پیکج اور پابندیوں کا خاتمہ: امریکہ نے ایران کی تعمیرِ نو اور معاشی ترقی کے لیے علاقائی پارٹنرز کے ساتھ مل کر کم از کم 300 ارب امریکی ڈالر کا فنڈ تیار کرنے اور مرحلہ وار اقوامِ متحدہ و یکطرفہ امریکی پابندیاں ختم کرنے کا وعدہ کیا۔
- ایران کا ایٹمی پروگرام توازن: ایران نے ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کے عزم کا اعادہ کیا اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کی نگرانی میں افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو کم کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
اگرچہ یہ معاہدہ 18 جون 2026ء کو باقاعدہ نافذ العمل ہوا تھا، لیکن بدقسمتی سے محض چند ہفتوں بعد ہی 8 جولائی 2026ء کو یہ اس وقت شدید ترین تعطل کا شکار ہو گیا جب آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں پر دوبارہ حملوں کے بعد امریکہ نے جوابی فوجی کارروائی کی اور دونوں ممالک نے اپنی یقین دہانیوں کو معطل کر دیا۔ حال ہی میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ان ناکام اقدامات کا ذمہ دار ایرانی قیادت پر عائد کیا ہے۔
موجودہ دنوں (ستمبر 2026ء) میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران یہ سفارتی دستاویز ایک بار پھر پبلک مباحثوں اور کالموں کا مرکز بن چکی ہے حالیہ رپورٹ کے مطابق، یہ یادداشت اس وقت دنیا کا واحد اسٹرکچرڈ فریم ورک ہے جسے دونوں فریقین نے کشیدگی کم کرنے کے لیے باضابطہ طور پر تسلیم کر رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف تاحال نیویارک کے پلیٹ فارم سے اسی یادداشت کے خطوط پر ایران-امریکہ جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے مخلص ثالث کا کردار ادا کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ایوانِ صدر سے جاری کردہ اپنے خصوصی تائیدی بیان میں وزیراعظم شہباز شریف کے اقوامِ متحدہ میں دیے گئے سفارتی موقف کی بھرپور تائید کی ہے۔ صدرِ مملکت نے “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” کو خطے کی سلامتی کا ضامن قرار دیتے ہوئے درج ذیل اہم نکات پر زور دیا ہے:
- پاکستان کا امن دوست کردار: صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ علاقائی اور عالمی سطح پر تصادم کے بجائے گفت و شنید اور ثالثی کی پالیسی کو فروغ دیا ہے۔ اسلام آباد مفاہمت نامہ پاکستان کی اسی مخلصانہ سوچ کا عکاس ہے۔
- مشرقِ وسطیٰ کا استحکام: انہوں نے واضح کیا کہ ایران اور امریکہ کے مابین کسی بھی قسم کا ممکنہ فوجی ٹکراؤ پوری مسلم امہ اور عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔ صدر زرداری نے دونوں ممالک کی قیادت پر زور دیا کہ وہ اسلام آباد میں طے پانے والے اس 14 نکاتی فریم ورک کا احترام کریں اور خطے کو جنگ کے مہیب بادلوں سے نجات دلائیں۔ پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے اپنی حالیہ پریس بریفنگ کے دوران نیویارک میں جاری اعلیٰ سطح کے سفارتی رابطوں کا احاطہ کرتے ہوئے اسلام آباد مفاہمت نامے کے حوالے سے پاکستان کی بیک چینل ڈپلومیسی کی تفصیلات جاری کی ہیں:
وزارتِ خارجہ کے مطابق، پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اقوامِ متحدہ کے جنرل اسمبلی سیشن کے حاشیہ پر قطری، سعودی اور یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ سے تفصیلی ملاقاتیں کی ہیں، تاکہ اسلام آباد مفاہمت نامے کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے ایک مشترکہ بین الاقوامی حکمتِ عملی مرتب کی جا سکے۔
دفترِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اس وقت دنیا کا واحد ملک ہے جس پر امریکہ اور ایران دونوں کی قیادت برابر کا اعتماد کرتی ہے۔ پاکستان کی سفارتی کوششوں کا بنیادی ہدف اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت ایران پر عائد یکطرفہ معاشی پابندیوں کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کا مستقل تحفظ یقینی بنانا ہے۔اکیسویں صدی کی تیسری دہائی میں جب کرہ ارض جغرافیائی اور سیاسی محاذوں پر شدید ترین تبدیلیاں دیکھ رہا ہے، اور مشرقِ وسطیٰ سے لے کر جنوبی ایشیا تک بارود کی بو، بلاک سیاست اور تزویراتی خلیج نے عالمی امن کو داؤ پر لگا دیا ہے، وہاں اسلامی جمہوریہ پاکستان کا کردار دنیا کے نقشے پر ایک “جنگجو ریاست” کے بجائے ایک “عالمی وکیلِ امن” (Global Peace Advocate) کے طور پر ابھرا ہے۔ بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کے زریں اصول “سب کے ساتھ امن، کسی کے خلاف بغض نہیں” (Peace with all, malice toward none) کی مشعل ہاتھ میں لیے پاکستان نے ہر بین الاقوامی فورم، بالخصوص اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے حالیہ سیشنز میں امتِ مسلمہ اور مظلوم طبقے کی بے باک ترجمانی کر کے ثابت کیا ہے کہ پاکستان عالمی سلامتی کا ایک ناگزیر ستون ہے۔پاکستان نے ہمیشہ مسلم ممالک کے مابین اتحاد اور عالمی طاقتوں کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کی مخلصانہ وکالت کی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کو ایک ہولناک تیسری عالمی جنگ کے دہانے سے واپس لانے کے لیے پاکستان نے جو بیک چینل ڈپلومیسی (Back-Channel Diplomacy) کی، اس کا منہ بولتا ثبوت “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” (Islamabad MoU) ہے۔ اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف نے دنیا کو جھنجھوڑتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کسی بھی تصادم کا حصہ بننے کے بجائے ایران اور امریکہ کے مابین ایک مخلص، بے داغ اور دیانتدار ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو اسلام آباد کے چودہ نکاتی فریم ورک پر متفق کرنا پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی قد کا عکاس ہے۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری کے حالیہ تاریخی تائیدی بیان اور وزارتِ خارجہ (FO) کی مسلسل بریفنگز نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان کا پورا ریاستی ڈھانچہ مشرقِ وسطیٰ میں آبنائے ہرمز کے تحفظ، بحری ناکہ بندیوں کے خاتمے اور پرامن مصالحت کے لیے یکسانیت کے ساتھ پُرعزم ہےپاکستان نے قائدِ اعظم کے اصولوں کی روشنی میں آج تک صیہونی توسیع پسندی کو تسلیم نہیں کیا اور فلسطین کے معاملے پر پاکستان کا مؤقف ہمیشہ سے دوٹوک رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے پوڈیم سے وزیراعظم پاکستان نے معصوم فلسطینی بچوں ہند رجب اور وفا عقیلہ کا تذکرہ کر کے دنیا کے نام نہاد انسانی حقوق کے علمبرداروں کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ میں متعین ریاستِ فلسطین کے آفیشل مشن نے پاکستان کی اس سچی اور مدلل ترجمانی کو اپنے باضابطہ سفارتی ریکارڈ کا حصہ بنا کر سراہا ہے۔ پاکستان کا یہ اصولی مؤقف ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کا واحد راستہ 1967ء سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق ایک ایسی آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ہے جس کا مستقل دارالحکومت القدس الشریف ہو۔عالمی امن کے قیام کے لیے پاکستان کا کردار صرف بیرونی ممالک تک محدود نہیں، بلکہ پاکستان نے اپنے جغرافیائی حقوق کے تحفظ کے لیے بھی ہمیشہ بندوق کے بجائے بین الاقوامی مروجہ قوانین کا راستہ چنا ہے۔ بھارت کی جانب سے کشن گنگا اور رتلے جیسے متنازع ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کی تعمیر اور 1960ء کے تاریخی سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی صیہونی طرز کی کوششوں کے خلاف پاکستان نے دی ہیگ کی مستقل ثالثی عدالت (Court of Arbitration) میں مضبوط قانونی جنگ لڑی۔ دی ہیگ کی عدالت کی جانب سے پاکستان کے حق میں دیا جانے والا تاریخی فیصلہ عالمی قوانین پر پاکستان کے پختہ یقین کی گواہی دیتا ہے۔ پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ ۲۴ کروڑ عوام کے حصے کا پانی روکنے کی کسی بھی بھارتی مہم جوئی کو “اعلانِ جنگ” (Act of War) سمجھا جائے گا، کیونکہ پانی کا بحران اب خطے کی تزویراتی بقا اور سیکیورٹی کا سب سے حساس نقطہ بن چکا ہےجب بات عملی طور پر عالمی امن کی حفاظت کی آتی ہے، تو پاکستان کی افواج کا نام دنیا بھر میں سرِفہرست ہے۔ پاکستان اقوامِ متحدہ کے پیس کیپنگ مشنز میں سب سے زیادہ جانی اور مالی قربانیاں دینے والے ممالک میں شامل ہے۔ کانگو، صومالیہ، روانڈا اور بلقان کی پٹی سے لے کر دنیا کے درجنوں جنگ زدہ خطوں میں پاکستانی جوانوں نے اپنے خون کا نذرانہ دے کر لاکھوں معصوم انسانوں کی جانیں بچائی ہیں اور دنیا بھر میں امن کے نیلے ہیلمٹ کے سائے میں پاکستان کا پرچم فخر سے بلند کیا ہے۔




