۔واقعہ کربلا تاریخ کے آئینے میں…(اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک)………سانحۂ کربلا یا واقعہ کربلا یا کربلا کی جنگ 10 محرم سال 61 ھجر ی بمطابق 9 یا 10 اکتوبر، 680ء کو کربلا میں حسین ابن علی علیہ السلام کو شہید کیا گيا۔ واقعہ کربلا موجودہ عراق میں کربلا کے مقام پر پیش آیا اسلام کا دامن شہداء سے بھرا ہوا ہے لیکن معرکہ حق وباطل میں امام حسین علیہ السلام کامرتبہ و مقام کئی اعتبار سے ممتاز اور نمایاں ترین ہے۔ کربلا ایک ایسی درس گاہ ہے جس میں قربانی، سچائی اور آزادی جیسے بہت سے معنی سامنے آتے ہیں یوم عاشور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ وہ کیا عظیم مقاصد تھے، جن کے لیے 6 ماہ کے بیٹے کی شہادت کے بعد بھی حوصلے پست نہیں ہوئے، وہ کیا ایسا راستہ تھا جس پر چلتے چلتے حضرت امام حسین علیہ السلام کو حج کو عمرے میں تبدیل کرنا پڑا، وہ کیا عظیم مشن تھا جس کے لیے انسانیت کا درس آخری وقت تک دیا گیا۔درس کربلا کا پیروکار کبھی بھی ظلم کے سامنے نہیں جھکتے اور عظیم شہادت سے طاقت لیتے ہوئے حسینی پیروکار اس عظیم قربانی سے طاقت حاصل کرکے ظلم کے آگے ڈھال بن کر نظر آئیں گے۔ اسوہ حضرت امام حسین علیہ السلام کے پیروکارحق کے ساتھ کھڑے نظر آئیں گے ہر سال محرم ہمیں یہ یاد دلانے آتا ہے کہ اہلِ ایمان کا فرض ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی ملوکیت، شہنشاہیت اور آمریت کو قبول نہ کریں اور زمین پر عدل اور اللہ کی حاکمیت کے نظام کو قائم کرنے کے لیے ’’سر دھڑ‘‘ کی بازی بھی لگانا پڑے تو دریغ نہ کریں ماضی میں تمام مسالک کے لوگ بلا تفریق مجالس میں شرکت کرتے تھے لیکن آج یہ سلسلہ ختم ہو چکا ہے ۔ ہم میں برداشت کا مادہ بھی عنقا ہو چکا ہے ،اس لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ماضی کی طرح ایک بار پھر بھائی بھائی بن کر اس معاشرے کو امن وامان کا گہوارہ بنائیں ۔جب ہم مل جل کر رہیں گے تو ہی معاشرہ ترقی کرے گا ۔ یوم عاشور عظیم قربانی کو یاد دلانے اور اپنی اپنی سطح پر منانے کا دن ہے، یوم عاشور حضرت امام حسین علیہ السلام کے حق کے نظریے کے ساتھ یکجہتی کا دن ہے۔حضرت امام حسین علیہ السلام کے ماننے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسوہ حسینی پر عمل کر کے اس دنیا کو گل و گلزار بنائیں ۔ آنسو بہانے والے ماتم داروں، غم گساروں اور نام لیواوں کی ذمہ داری ہے کہ اپنے اندر روح کربلا جذب کریں اور وہ زندگی گزاریں جس کی حضرت امام حسین علیہ السلام نے دعوت دی ہے۔سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے حسن اور حسین علیہ السلام سے محبت کی، اس نے درحقیقت مجھ ہی سے محبت کی اور جس نے حسن اور حسین علیہ السلام سے بغض رکھا اس نے مجھ ہی سے بغض رکھا۔ خانوادہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دیکھا کہ اسلام کی اصلی فکر ، سماجی واخلاقی قدریں اور دینی اقدار پامال ہو رہی ہیں اور اسلام کی حقیقی تصویر کو مسخ کیا جا رہا ہے تو انھوں نے خاندان سمیت اسلامی اقدار کے خلاف اٹھنے والی یلغار کو روکنے کا فیصلہ کیا ۔نہتے ،تعداد میں کم ،سامان جنگ کی بھی کمی،بھوک وپیاس کی شدت کے باوجود برپا ہونے والے اس واقعہ سے ہمیں صبر، برداشت اور ایثار کی عظیم مثال ملتی ہے۔

واقعہ کربلا یا واقعہ عاشورا سنہ 61 ہجری کو کربلا میں پیش آنے والے اس واقعے کو کہا جاتا ہے جس میں یزیدی فوج کے ہاتھوں امام حسینؑ اور آپؑ کے اصحاب شہید ہوگئے۔ واقعہ کربلا مسلمانوں خاص طور پر شیعوں کے نزدیک تاریخ اسلام کا دلخراش ترین اور سیاہ ترین واقعہ ہے۔ شیعہ حضرات اس دن وسیع پیمانے پر عزاداری کا اہتمام کرتے ہیں۔

امام حسینؑ نے چار ماہ کے قریب مکہ میں قیام فرمایا۔ اس دوران کوفیوں کی طرف سے آپ کو کوفہ آنے کے دعوت نامے ارسال کیے گئے اور دوسری طرف سے یزید کے کارندے آپؑ کو حج کے دوران مکہ میں شہید کرنے کا منصوبہ بنا چکے تھے اس بناء پر آپؑ نے یزیدی سپاہیوں کے ہاتھوں قتل کے اندیشے اور اہل کوفہ کے دعوت ناموں کے پیش نظر 8 ذی‌ الحجہ کو کوفہ کی جانب سفر اختیار کیا۔ کوفہ پہنچنے سے پہلے ہی آپؑ کوفیوں کی عہد شکنی اور مسلم کی شہادت سے آگاہ ہو گئے کہ جنہیں آپ نے کوفہ کے حالات کا جائزہ لینے کیلئے کوفہ روانہ کیا تھا۔ تاہم آپؑ نے اپنا سفر جاری رکھا یہاں تک کہ حر بن یزید نے آپ کا راستہ روکا تو آپ کربلا کی طرف چلے گئے جہاں کوفہ کے گورنر عبیدالله بن زیاد کی فوج سے آمنا سامنا ہوا۔ اس فوج کی قیادت عمر بن سعد کے ہاتھ میں تھی۔
10 محرم، روز عاشورا کو دونوں فوجوں کے درمیان جنگ ہوئی جس میں امام حسینؑ، ان کے بھائی عباس بن علی اور شیرخوار علی اصغر سمیت بنی ہاشم کے 17 افراد اور 50 سے زیادہ اصحاب شہید ہوئے۔ بعض مقتل نگار شمر بن ذی الجوشن کو امام حسینؑ کا قاتل قرار دیتے ہیں۔ عمر بن سعد کے لشکر نے اپنے گھوڑوں کے سموں تلے شہیدوں کے اجساد کو پامال کیا۔ روز عاشور عصر کے وقت سپاه یزید نے امام حسینؑ کے خیموں پر حملہ کر کے انہیں نذر آتش کیا۔ شیعہ حضرات اس رات کو شام غریباں کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ امام سجادؑ نے بیماری کی وجہ سے جنگ میں حصہ نہیں لیا لہذا آپؑ اس جنگ میں زندہ بچ گئے اور حضرت زینبؑ، اہل بیت کی خواتین اور بچوں کے ساتھ دشمن کے ہاتھوں اسیر ہوئے۔ عمر بن سعد کے سپاہیوں نے شہدا کے سروں کو نیزوں پر بلند کیا اور اسیروں کو عبید اللہ بن زیاد کے دربار میں پیش کیا اور وہاں سے انہیں یزید کے پاس شام بھیجا گیا۔15 رجب سنہ 60 ہجری کو معاویہ کی موت کے بعد، لوگوں سے یزید کی بیعت لی گئی یزید نے بر سر اقتدار آنے کے بعد ان چیدہ چیدہ افراد سے بیعت لینے کا فیصلہ کیا جنہوں نے معاویہ کے زمانے میں یزید کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اسی بنا پر اس نے مدینہ کے گورنر ولید بن عتبہ بن ابی سفیان کے نام ایک خط ارسال کر کے معاویہ کی موت کی خبر دی اور ساتھ ہی ایک مختصر تحریر میں ولید کو “حسین بن علی، عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن زبیر سے زبردستی بیعت لینے اور نہ ماننے کی صورت میں ان کا سر قلم کرنے کی ہدایت کی”۔اس کے بعد یزید کی طرف سے ایک اور خط لکھا گیا کہ جس میں حامیوں اور مخالفین کے نام اور حسین بن علیؑ کا سر بھی اس خط کے جواب کے ساتھ بھجوانے کی تاکید کی گئی تھی۔امامؑ اپنے 30 عزیز و اقارب کے ہمراہ دارالامارہ پہنچےولید نے ابتداء میں معاویہ کی موت کی خبر سنائی اور پھر یزید کا خط پڑھ کر سنایا جس میں اس نے “حسینؑ سے اپنے لئے بیعت لینے کی تاکید کی تھی”۔ اس موقع پر امام حسینؑ نے ولید سے کہا: “کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ میں رات کی تاریکی میں یزید کی بیعت کروں؟ میرا خیال ہے کہ تمہارا مقصد یہ ہے کہ میں لوگوں کے سامنے یزید کی بیعت کروں”۔ ولید نے کہا: “میری رائے بھی یہی ہے”امامؑ، نے فرمایا: “پس، کل تک مجھے مہلت دو تا کہ میں اپنی رائے کا اعلان کروں”حاکم مدینہ نے دوسرے روز عصر کے وقت اپنے افراد کو امامؑ کے یہاں بھجوایا تاکہ آپؑ سے جواب وصول کرے؛۔ تاہم امامؑ ایک اور رات کی مہلت مانگی گئی جسے ولید نے قبول کیا اور امامؑ کو مہلت دے دی۔امام عالی مقام نے دیکھا کہ مدینہ مزید پر امن نہ رہا، چنانچہ امام حسینؐ نے مدینہ چھوڑنے کا فیصلہ کیاحالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے امام حسینؑ اتوار کی رات 28 رجب اور بعض دوسرے اقوال کی بنا پر 3 شعبان سنہ60ہجری قمری کو اپنے اہل بیت اور اصحاب کے 84 افراد کے ساتھ مدینہ سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ آپؑ نے رات بھر اپنی مادر گرامی حضرت فاطمہ(س) اور اپنے بھائی امام حسنؑ کی قبر مبارک پر حاضری دی وہاں نماز پڑھی اور وداع کیا اور صبح سویرے گھر لوٹ آئےاس سفر میں سوائے محمد بن حنفیہ کے اکثر عزیز و اقارب منجملہ آپؑ کے فرزندان، بھائی بہنیں، بھتیجے اور بھانجے آپؑ کے ساتھ تھے۔ بنی ہاشم کے علاوہ آپ کے اصحاب میں سے 21 افراد بھی اس سفر میں آپ کے ہمراہ تھےاس موقع پر امامؑ نے بھائی کے نام تحریری وصیتنامہ لکھا جس میں درج ذیل جملے بھی مذکور ہیں:ترجمہ:میں خود خواہی یا سیر و تفریح کے لئے مدینہ سے نہیں نکلا اور نہ ہی میرے سفر کا مقصد فساد اور ظلم ہے بلکہ میں صرف اپنی جد کی امت کی اصلاح کیلئے نکلا ہوں، میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ارادہ رکھتا ہوں، میں اپنے جد اور باپ کی سیرت پر چلوں گا….۔امام حسینؑ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مدینہ سے خارج ہوئے اور اپنے عزیز و اقارب کے مرضی کے برخلاف مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔امام حسینؑ 5 دن بعد یعنی 3 شعبان سنہ 60 ہجری قمری کو مکہ پہنچ گئےامام حسینؑ 3 شعبان سے 8 ذوالحجہ تک یعنی چار مہینے سے زیادہ مکہ میں قیام پذیر رہے۔ مکہ میں آپؑ کی تشریف آوری کی خبر سن کر مکہ کے باسی نہایت خوشحال ہوئے اور صبح و شام آپؑ کے وجود مبارک سے فیضاب ہوتے تھے جو عبداللہ بن زبیر پر نہایت سخت گذرا کیونکہ وہ اس امید میں تھے کہ مکہ والے اس کی بیعت کریں گے اور اسے یہ معلوم تھا کہ جب تک امام حسینؑ مکہ میں ہیں کوئی اس کی بیعت نہیں کریں گے۔امام حسینؑ کے مکہ میں پہنچ کر کوئی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ عراق کے شیعہ معاویہ کی موت اور امام حسینؑ اور ابن زبیر کا یزید کی بیعت نہ کرنے سے با خبر ہوتے ہیں۔ اس بنا پر وہ سلیمان بن صُرَد خُزاعی کے گھر میں جمع ہو گئے اور امام حسینؑ کو ایک خط لکھا جس میں آپ کو کوفہ آنے کی دعوت دی گئی۔اس خط کے بھیجے ہوئے ابھی دو دن بھی نہیں گزرے تھے کہ کوفہ والوں نے 150 خط آپ کے نام لکھے جس میں سے ہر ایک پر کم از کم ایک سے چار افراد کے دستخط ہوا کرتا تھے۔اس کے دو دن بعد اور خط امام حسینؑ کے نام بھیجے گئے۔ ان تمام خطوط میں امام حسینؑ کو کوفہ آنے کی دعوت دی گئی تھی۔امام حسینؑ نے ان خطوں کے جواب دینے میں تاخیر کی یہاں تک کہ ان خطوں کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی اس موقع پر آپ نے ایک خط تحریر فرمایا۔جس کا مضمون یہ تھا:

…میں اپنے خاندان میں سے سب سے زیادہ با اعتماد چچازاد بھائی کو آپ کی طرف بھیج رہا ہوں تاکہ وہ مجھے آپ لوگوں کی حالات سے آگاہ کرے۔ اگر اس نے مجھے یہ خبر دی کہ آپ لوگ وہی ہو جنھوں نے مجھے خطوط میں لکھے ہیں تو میں آپ کے یہاں آؤنگا … امام صرف وہ ہے جو کتاب خدا پر عمل پیرا ہو، عدالت قائم کرے، دین حق پر یقین رکھتا ہو اور اپنے آپ کو خدا کیلئے وقف کرےامامؑ نے کوفیوں کے نام ایک خط دے کر اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل کو عراق روانہ کیا؛ تا کہ وہاں کے حالات کا جائزہ لے اور آپ کو حالات سے آگاہ کرے۔ مسلم 15 رمضان کو خفیہ طور پر مکہ سے نکلے اور 5 شوال المکرم کو کوفہ پہنچ کر مختار بن ابی عبیدہ ثقفی کے گھر قیام پذیر ہوئےمسلم بن عقیل کی کوفہ پہنچنے کی اطلاع ملتے ہی شیعیان کوفہ ان کے پاس آنے لگے۔ مسلم انہیں امامؑ کی تحریر سے آگاہ کرتے اور ان سے امام حسینؑ کیلئے بیعت لینا شروع کیا18000 لوگوں نے مسلم کے ہاتھ پر امام حسینؑ کی بیعت کی اور آپؑ کا ساتھ دینے کا وعدہ دیا۔ اس موقع پر مسلم نے امام حسینؑ کو ایک خط لکھا جس میں بیعت کرنے والوں کی کثرت کا ذکر کرتے ہوئے امامؑ کو کوفہ آنے کا مشورہ دیا۔تاریخی اسناد سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ عبید الله ابن زیاد کے کارندوں کے پروپیگنڈوں سے ڈر کر مسلم بن عقیل سے دور ہونے لگے یہاں تک کہ رات کے وقت تک مسلم بن عقبل تنہا رہ گئے اور چھپنے کیلئے کوئی جگہ بھی میسر نہ تھی۔اور آخر کار ابن زیاد کی فوج سے لڑنے کی بعد محمد بن اشعث کی طرف سے امان دینے کے وعدہ سے ہتھیار ڈال دئے اور انہیں پکڑ کر مہل لایا گیا؛ لیکن ابن زیاد نے محمد بن اشعث کے امان نامے کی پرواہ کئے بغیر مسلم کو شہید کرنے کا حکم دیا۔مسلم بن عقیل امام حسینؑ کیلئے فکرمند تھے اس وجہ سے آپ نے عمر بن سعد کو اس سلسلے میں وصیت کی، اس کا تعلق قریش سے تھا۔ مسلم کی پہلی وصیت یہ تھی کہ کسی کو امام حسینؑ کے پاس بھیج دیا جائے اور آنحضرت کو کوفہ آنے سے روکا جائے۔امام حسینؑ مکہ میں چار مہینے پانچ دن اقامت کے بعد بروز پیر 8 ذوالحجہ (جس دن مسلم بن عقیل نے کوفہ میں قیام کیا) 82 افراد کے ساتھ (جن میں سے 60 افراد کوفہ کے شیعیان میں سے تھے )، مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوا۔مکہ میں قیام کے آخری مہینے میں جب امام حسینؑ کا کوفہ کی طرف جانے کا احتمال شدت اختیار کرنے لگا تو بہت سارے افراد نے اس سفر کی مخالفت کی منجملہ ان افراد میں عبداللّہ بن عبّاس اور محمّد بن حنفیہ امام کی خدمت میں آئے تاکہ آپؑ کو کوفہ کی طرف سفر کرنے سے منع کریں لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئے۔جب امام حسینؑ اور آپ کے ساتھی مکہ سے باہر نکلے تو مکہ کے گورنر عمرو بن سعید بن عاص کی فوج نے یحیی بن سعید کی سرکردگی میں امام حسینؑ کا راستہ روکا لیکن آپ نے کوئی اہمیت نہیں دی اور اپنا سفر جاری رکھا۔حر اور اس کے سپاہی ظہر کے وقت امام حسینؑ اور آپ کے اصحاب کے آمنے سامنے آگئے؛ امامؑ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ حر اور اس کے سپاہیوں حتی ان کے گھوڑوں کو پانی پلائیں۔ چنانچہ انھوں نے نہ صرف دشمن کے لشکر کو سیراب کیا بلکہ ان کے گھوڑوں کی پیاس بھی بجھا دی!

نماز ظہر کا وقت ہوا تو امام حسینؑ نے اپنے مؤذن حَجّاج بن مسروق جعفی- کو اذان دینے کی ہدایت کی اور چنانچہ انھوں نے اذان دی اور نماز کا وقت ہوا تو امام حسینؑ نے اللہ کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا:ترجمہ: یہ ایک عذر ہے اللہ کی بارگاہ میں اور تمہارے ہاں؛ “لوگو! میں تمہارے پاس نہیں آیا حتی کہ تمہارے خط ملے اور تمہارے قاصد اور ایلچی میرے پاس آئے اور مجھ سے درخواست کی کہ میں تمہاری طرف آجاؤں اور تم نے کہا کہ “ہمارا امام نہیں ہے؛ شاید اللہ تمہیں میرے وسیلے سے راہ راست پر گامزن کردے، پس اگر تم اپنے عہد و پیمان پر استوار ہو تو میں تمہارے شہر میں آتا ہوں اور اگر نہیں ہو تو میں واپس چلا جاتا ہوں”۔

حر اور اس کے سپاہیوں نے خاموشی اختیار کی اور کسی نے کچھ نہ کہا۔ پس امام حسینؑ نے نماز ظہر کے لئے اقامہ پڑھنے کا حکم دیا [اور نماز ادا کی] اور حر اور اس کے سپاہیوں نے بھی امام حسینؑ کی امامت میں نماز پڑھی۔اسی دن عصر کے وقت امام حسینؑ نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ روانگی کی تیاری کریں۔ اور پھر نماز عصر کے وقت امام علیہ السلام پھر بھی اپنے خیمے سے باہر آئے اور مؤذن کو اذان عصر دینے کو کہا اور نماز عصر ادا کرنے کے بعد لوگوں سے مخاطب ہوئے اور حمد و ثنائے پروردگار کے بعد فرمایا:”ترجمہ: “اے لوگو! خدا سے ڈرو اور حق کو اہل حق کے لئے قرار دوگے تو خداوند متعال کی خوشنودی کا سبب فراہم کرو گے؛ ہم اہل بیتِ محمدؐ منصب خلافت اور تمہاری ولایت و امامت امامت کے کہیں زیادہ حقدار ہیں ان غیر حقی دعویداروں کی نسبت، جن سے اس منصب کا کوئی تعلق ہی نہیں ہے اور تمہارے ساتھ ان کا رویہ غیر منصفانہ ہے اور وہ تمہاری نسبت ظلم و جفا روا رکھتے ہیں۔ [اس کے باوجود] اگر تم ہمارا حق تسلیم نہیں کرتے ہو اور ہماری اطاعت کی طرف مائل نہیں ہو اور تمہاری رائے تمہارے خطوں میں لکھے ہوئے مضمون سے ہمآہنگ نہیں ہے تو میں یہیں سے واپس چلا جاتا ہوں”۔حر نے کہا: “مجھے ان خطوط و مراسلات کا کوئی علم نہيں ہے جن کی طرف آپ نے اشارہ کیا؛ اور مزید کہا: ہم ان خطوط کے لکھنے والوں میں سے نہیں تھے۔ ہمیں حکم ہے کہ آپ کا سامنا کرتے ہی آپ کو ابن زياد کے پاس لے جائیں”امامؑ نے اپنے قافلے سے مخاطب ہوکر فرمایا: “واپس لوٹو!”، جب وہ واپس جانے لگے تو حر اور اس کے ساتھ سدّ راہ بن گئے اور حر نے کہا: “مجھے آپ کو ابن زیاد کے پاس لے جانا ہے!”۔

امامؑ نے فرمایا: “امامؑ نے فرمایا: “خدا کی قسم! تمہارے پیچھے نہیں آؤں گا”۔

حر نے کہا: “میں آپ کے ساتھ جنگ و جدل پر مامور نہیں ہوں؛ لیکن مجھے حکم ہے کہ آپ سے جدا نہ ہوں حتی کہ آپ کو کوفہ لے جاؤں؛ پس اگر آپ میرے ساتھ آنے سے اجتناب کرتے ہيں تو ایسے رستے پر چلیں جو کوفہ کی طرف جارہا ہو نہ ہی مدینہ کی طرف؛ تا کہ میں ایک خط عبید اللہ بن زیاد کے لئے روانہ کروں؛ آپ بھی اگر چاہيں تو ایک خط یزید کے لئے لکھیں! تا کہ شاید یہ امر عافیت اور امن و آشتی پر ختم ہوجائے؛ میرے نزدیک یہ عمل اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ میں آپ کے ساتھ جنگ و جدل میں آلودہ ہوجاؤں”صبح ہوتے ہی امام حسینؑ نے البیضہ نامی منزل پر توقف فرمایا اور نماز صبح ادا کی اور پھر اپنے اصحاب اور اہل خاندان کے ساتھ روانہ ہوئے حتی کہ ظہر کے وقت سرزمین نینوا میں پہنچےابن زياد کے قاصد نے ایک خط حر کے حوالے کیا جس میں ابن زیاد نے لکھا تھا: “میرا خط موصول ہوتے ہی حسین کے ساتھ سختی سے پیش آو اور انہیں کسی بےآب و گیاہ زمین پر رکنے پر مجبور کرو! میں نے اپنے ایلچی کو حکم دیا ہے کہ وہ تم سے جدا نہ ہو یہاں تک کہ وہ تمہاری طرف سے میرے فرمان پر عملدرآمد کی خبر مجھے پہنچا دے۔حر نے ابن زياد کا خط امام حسینؑ کو پڑھ کر سنایا، امامؑ نے فرمایا: “ہمیں “نینویٰ” یا “غاضریہ” جانے دو”۔ حر نے کہا: “یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ عبید اللہ نے اپنا قاصد مجھ پر جاسوس قرار دیا ہے! امامؑ نے اپنا سفر جاری رکھا یہاں تک کہ “کربلا” پہنچ گئے۔ حر اور اس کے ساتھی امام حسینؑ کے سامنے آکر کھڑے ہوئے اور انہیں سفر جاری رکھنے سے باز رکھا امام حسینؑ اور آپ کے اصحاب 2 محرم سنہ 61 ہجری کو کربلا کی سر زمین پر پہنچے ہیں جب حر نے امامؑ سے کہا: “یہیں اتریں کیونکہ فرات قریب ہے”۔

امامؑ نے فرمایا: “اس جگہ کا نام کیا ہے؟”۔

سب نے کہا: كربلا۔

فرمایا: یہ كَرْب (رنج) اور بَلا کا مقام ہے۔ میرے والد صفین کی طرف جاتے ہوئے یہیں اترے اور میں آپ کے ساتھ تھا۔ رک گئے اور اس کا نام پوچھا۔ تو لوگوں نے اس کا نام بتا دیا اس وقت آپ نے فرمایا: “یہاں ان کی سواریاں اترنے کا مقام ہے، اور یہاں ان کا خون بہنے کا مقام ہے”، لوگوں نے حقیقت حال کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: “خاندان محمدؐ کا ایک قافلہ یہاں اترے گا”امام حسینؑ نے فرمایا: یہ ہماری سواریاں اور ساز و سامان اتارنے کی جگہ ہے اور [یہاں] ہمارا خون بہنے کا مقام ہے۔ اور اس کے بعد حکم دیا کہ سازوسامان یہیں اتار دیا جائے اور ایسا ہی کیا گیا اور وہ پنج شنبہ (جمعرات) دو محرم کا دن تھامنقول ہے کہ کربلا میں پڑاؤ ڈالنے کے بعد، امام حسینؑ نے اپنے فرزندوں، بھائیوں اور اہل خاندان کو اکٹھا کیا اور ان سب پر ایک نگاہ ڈالی اور روئے؛ اور فرمایا:ترجمہ: خداوندا! ہم تیرے نبیؐ کی عترت اور خاندان ہیں جنہیں اپنے [شہر و دیار سے] نکال باہر کیا گیا ہے اور حیران و پریشان اپنے نانا رسول اللہؐ کے حرم سے نکالا گیا ہے؛ اور [بار خدایا!] بنو امیہ نے ہمارے خلاف جارحیت کی؛ خداوندا! پس ان سے ہمارا حق لے لے اور ظالموں کے خلاف ہماری نصرت فرما”۔

اس کے بعد آپ نے اصحاب کی طرف رخ کیا اور فرمایا: ترجمہ: لوگ دنیا کے غلام ہیں اور دین صرف ان کی زبانوں تک محدود ہے اس وقت تک دین کی حمایت و پشت پناہی کرتے ہیں جب تک ان کی زندگی فلاح و رفاہ میں ہو اور جب بھی بلاء اور آزمائش کی گھڑی ہو تو دیندار بہت قلیل ہیں,اس کے بعد امامؑ نے سرزمین کربلا کو ـ جس کا رقبہ 4×4 میل تھا ـ نینوی’ اور غاضریہ کے باشندوں سے 60000 درہم کے عوض خرید لیا۔ اور ان پر شرط رکھی کہ آپ کی قبر کی طرف لوگوں کی راہنمائی کریں گے اور تین تک ان کی پذیرائی اور ضیافت کا اہتمام کریں گےعمر ابن سعد نے کربلا پہنچتے ہی امام حسینؑ کے ہاں ایک قاصد روانہ کرنا چاہا تا کہ آپؑ سے پوچھ لے کہ “۔۔۔اس سرزمین میں کس لئے آئے ہیں اور چاہتے کیا ہیں؟”۔ اس نے یہ کام عزرہ (عروہ) بن قیس احمسی اور امامؑ کو دعوت نامے بھجوانے والے عمائدین کو انجام دینے کی تجویز دی؛ مگر ان سب نے یہ کام انجام دینے سے اجتناب کیاکربلا میں امام حسینؑ کے آنے کے بعد ابن زیاد نے کوفیوں کو مسجد میں جمع کیا اور ان کے بزرگوں کے درمیان یزید کے بھیجے گئے تحفے تقسیم کئے جو 4000 دینار اور دو لاکھ درہم تک تھے؛ اور انہیں دعوت دی کہ کربلا جاکر امام حسینؑ کے خلاف جنگ میں عمر سعد کی مدد کریں۔کربلا میں دشمن کا لشکر اکٹھا ہونے کے بعد حبیب بن مظاہر اسدی امام(ع( کے مختصر سے لشکر کے پیش نظر، امامؑ کی اجازت سے، بھیس بدل کر قبیلہ بنی اسد پہنچے اور ان سے بنت رسولؐ کے لئے مدد کی دوخواست کی۔

بنی اسد رات کے وقت خیام امامؑ کی جانب رواں دواں تھے کہ عمر بن سعد نے ازرق بن حرب صیداوی کی سرکردگی میں 400 یا 500 سواروں کا ایک دستہ بھیج کر فرات کے کنارے، ان کا راستہ روکا؛ بات جھڑپ شروع ہونے تک پہنچی اور بنی اسد جہاں سے آئے تھے وہیں لوٹ کر چلے گئے؛ چنانچہ حبیب بن مظاہر اکیلے واپس آگئے۔سات محرم کو ابن زیاد نے عمر بن سعد کو حکم دیا کہ “حسینؑ اور آپ کے اصحاب اور پانی کے درمیان حائل ہوجائے اور اور انہیں پانی کا ایک قطرہ بھی نہ پینے دے۔

خط ملتے ہی ابن سعد نے عمرو بن حجاج زبیدی کو 500 سوار دے کر فرات کے کنارے پر تعینات کیا اور حکم دیا کہ امام حسینؑ اور اصحاب حسین کو پانی تک نہ پہنچنے دے۔بعض مصادر میں مروی ہے کہ “پانی کے بندش اور پیاس کے شدت اختیار کرنے کے بعد، امام حسینؑ نے بھائی عباس کو بلوایا اور انہیں 30 سواروں اور 20 پیادوں کی سرکردگی میں پانی لانے کے لئے فرات کی طرف روانہ کیا۔ وہ رات کے وقت فرات کی طرف روانہ ہوئے جبکہ نافع بن ہلال جملی پرچم لے کر اس دستے کے آگے آگے جارہے تھے؛ یہ افراد عباسؑ کی قیادت میں شریعۂ فرات تک پہنچ گئے۔ عمرو بن حجاج زبیدی، ـ جو فرات کی حفاظت پر مامور تھا ـ اصحاب حسینؑ کے ساتھ لڑ پڑا۔ اصحاب حسینؑ کے ایک گروہ نے مشکوں میں پانی بھر دیا اور علمدار حسینؑ اور نافع بن ہلال سمیت باقی افراد نے دشمن سے لڑ کر ان کی حفاظت کی تا کہ وہ سلامتی کے ساتھ پانی کو خیام تک پہنچا دیں۔ اور یوں حسینؑ کے اصحاب پانی خیام تک پہنچانے میں کامیاب ہو گئےعمر بن سعد کی لشکرگاہ میں پےدرپے لشکروں کی آمد کے بعد امام حسینؑ عمرو بن قرظہ انصارى کو عمر بن سعد کے پاس روانہ کیا اور اس کو کہلا بھیجا کہ “میں آج دو لشکرگاہوں کے درمیانی نقطے پر تم سے ملنے، آؤں گا”، امام حسینؑ اور عمر بن سعد دونوں بیس بیس سواروں کے ہمراہ مقررہ مقام پر حاضر ہوئے۔ امام حسینؑ نے بھائی ابوالفضل العباس اور بیٹے علی اکبرؑ کے سوا باقی اصحاب کو حکم دیا کہ کچھ فاصلے پر جاکر کھڑے ہوجائیں۔ ابن سعد نے بھی بیٹے حفص اور اپنے غلام کو قریب رکھا اور باقی افراد کو پیچھے ہٹا دیا۔ اس ملاقات میں امامؑ نے عمر بن سعد سے فرمایا: “۔۔۔ اس غلط خیال اور غیر صواب خیالات اور منصوبوں کو نظر انداز کرو اور ایسی راہ اختیار کرو جس میں تمہاری دنیا اور آخرت کی خیر و صلاح ہو۔۔۔”۔عمر نہ مانا۔ امامؑ جب یہ حالت دیکھی تو اپنے خیام کی طرف واپسی اختیار کی جبکہ فرما رہے تھے: “خدا تمہیں ہلاک کردے اور قیامت کے دن تمہیں نہ بخشے؛ مجھے امید ہے کہ اللہ کے فضل سے، تم عراق کی گندم نہ کھا سکوگے”امامؑ اور ابن سعد کے درمیان مذاکرات کا یہ سلسلہ تین یا چار مرتبہ دہرایا گیاامامؑ نے اللہ کے ساتھ راز و نیاز کی حالت میں اپنے قیام کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:ترجمہ: “خدایا تو جانتا ہے کہ جو کچھ ہماری طرف سے انجام پایا ہے (منجملہ اموی حکمرانوں کے خلاف خطبات اور اقدامات)؛ فرمانروائی کے لئے مسابقت اور دنیا کی ناچیز متاع کے حصول میں سبقت لینے کی خاطر نہیں ہے بلکہ اس لئے ہے کہ تیرے دین کی نشانیاں لوگوں کو دکھا دیں اور بپا کریں اور تیری سرزمینوں میں اصلاح کے آشکار کردیں۔ ہم چاہتے ہيں کہ تیرے مظلوم بندے امان میں ہوں اور تیرے واجبات اور سنتوں پر عمل کیا جاتا رہے”امامؐ نے اپنی تحریک کے آغاز میں فرمایا: میں اپنا وطن کسی شر و فساد پھیلانے اور ظلم و ستم کرنے کی خاطر نہیں چھوڑ رہا ہوں بلکہ مدینہ سے میری روانگی کا مقصد یہ ہے کہ اپنے نانا حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ کی امت کی اصلاح کروں؛ اور امر بالمعروف کروں اور نہیں عن المنکر کروں (نیکی کا حکم دوں اور برائیوں سے روکوں) اور اپنے نانا رسول اللہؐ اور بابا علی بن ابی طالبؑ کی سیرت پر عمل پیرا ہونا چاہتا ہوں۔”یزید کی سیرت وہی فرعون کی سیرت تھی بلکہ فرعون اپنی رعیت میں یزید سے زیادہ عادل اور اپنے خاص و عام کے درمیان زيادہ منصف تھا”۔ “اس نے اپنی حکومت کے پہلے سال میں امام حسینؑ اور اہل بیت رسولؐ کو قتل کیا؛ اور دوسرے سال اس نے حرم رسول خداؐ (مدینہ) کی حرمت شکنی کی اور اس کو تین دن تک اپنے لشکریوں کے لئے حلال قرار دیا۔ اور تیسرے برس اس نے کعبہ کو جارحیت اور لوٹ مار کا نشانہ بنایا اور اس کو نذر آتش کیا”۔ یزیدی حکومت کے ان رویوں سے بھی واضح ہے کہ امام حسینؑ کی طرف سے یزید کے پاس جانے اور اس کے ہاتھ کے ہاتھ میں ہاتھ رکھنے کی حکایت ایک افسانہ ہے۔9 محرم سنہ 61 ہجری کی شام کو شمر ابن زیاد کا حکم لے کر عمر سعد کے پاس کربلا پہنچا اور حکم نامہ عمر سعد کے حوالے کیا۔ عمر بن سعد نے کہا: میں خود اپنی ذمہ داری نبھا لوں گا۔امام حسینؑ نے رات کے ابتدائی حصے میں اپنے اصحاب کو جمع کیا اور خدا کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا:

میرے خیال میں یہ آخری رات ہے جو دشمن کی طرف سے ہمیں مہلت دی گئی ہے۔ آگاہ ہو جاؤ کہ میں نے تمہیں جانے کی اجازت دے دی ہے۔ پس سب کے سب مطمئن ہو کر یہاں سے چلے جائیں کیونکہ میں نے تمہاری گردن سے میری بیعت اٹھا لی ہے۔ اب جبکہ رات کی تاریکی چھا گئی ہے اس سے فائدہ اٹھا کر سب چلے جائیں۔
اس موقع پر سب سے پہلے آپ کے اہل بیت پھر آپ کے اصحاب نے پرجوش انداز میں امام کے ساتھ وفاداری کا اعلان کیا اور اپنی جانوں کو آپ پر قربان کرنے اور آپ سے دفاع کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ تاریخی مصادر میں اس گفتگو کے بعض حصوں کو ذکر کیا گیا ہے۔آدھی رات کو ابو عبداللہ الحسینؑ اطراف میں واقع پہاڑیوں اور دروں کا معائنہ کرنے کے لئے باہر نکلے تو نافع بن ہلال جملی کو معلوم ہوا اور امامؑ کے پیچھے پیچھے روانہ ہوئے۔

خیام کے اطراف کا معائنہ کرنے کے بعد امام حسینؑ بہن زینب کبری(س) کے خیمے میں داخل ہوئے۔ نافع بن ہلال خیمے کے باہر منتظر بیٹھے تھے اور سن رہے تھے کہ زینب(س) نے بھائی سے عرض کیا:

کیا آپ نے اپنے اصحاب کو آزمایا ہے؟ مجھے ڈر ہے کہ کہیں یہ لوگ بھی ہم سے منہ پھیر لیں اور جنگ کے دوران آپ کو دشمن کے حوالے کر دیں”۔

امام حسین ؑ نے فرمایا: “خدا کی قسم! میں نے انہیں آزما لیا ہے اور انہیں سینہ سپر ہو کر جنگ کیلئے اس طرح آمادہ پایا ہے کہ گویا یہ لوگ میری رکاب میں جنگ کرنے کو شیرخوار بچے کی اپنی ماں کے ساتھ رکھنے والی انسیت کی طرح انس رکھتے ہیں۔

نافع نے جب محسوس کیا کہ اہل بیتِ امام حسینؑ آپ کے اصحاب کی وفاداری کے سلسلے میں فکرمند ہیں چنانچہ وہ حبیب بن مظاہر اسدی سے مشورہ کرنے گئے اور دونوں نے آپس کے مشورے سے فیصلہ کیا کہ دوسرے اصحاب کے ساتھ مل کر امامؑ کے اہل بیتِ کو یقین دلائیں کہ اپنے خون کے آخری قطرے تک امام حسینؑ کا دفاع کریں گے۔

حبیب بن مظاہر نے اصحاب امام حسین ؑ کو بلایا، بنی ہاشم کو خیموں میں واپس بھیج دیا پھر اصحاب سے مخاطب ہو کر جو کچھ نافع نے امام حسینؑ اور حضرت زینب سے سنا تھا، کو دھرایا۔

تمام اصحاب نے کہا: “اس خدا کی قسم جس نے ہمارے اوپر احسان کرکے ہمیں اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے، اگر امام حسینؑ کے حکم کی انتظار میں نہ ہوتا تو ابھی ان (دشمنوں) پر حملہ کرتے اور اپنے جانوں کو امام پر قربان کرنے کے ذریعے پاک اور اپنی آنکھوں کو بہشت کی دیدار سے منور کرتے۔”

حبیب ابن مظاہر دوسرے اصحاب کے ہمراہ ننگی تلواروں کے ساتھ حرم اہل بیت کے قریب گئے اور بلند آواز سے کہا: “اے حریم رسول خداؐ یہ آپ کے جوانوں اور جوانمردوں کی شمشیریں ہیں جو کبھی بھی نیام میں واپس نہ جائيں یہاں تک کہ آپ کے بدخواہوں کی گردنوں پر اتر آئیں؛ یہ آپ کے فرزندوں کے نیزے ہیں اور انھوں نے قسم اٹھا رکھی ہیں انہیں صرف اور صرف ان لوگوں کے سینوں میں گھونپ دیں جنہوں نے آپ کی دعوت سے روگردانی کی ہیں عاشورا کی صبح کو امام حسین ؑ نے اپنے اصحاب کے ساتھ نماز ادا کی۔ نماز کے بعد آپ نے اپنی مختصر فوج(32 سوار اور 40 پیادہ) کے صفوں کو منظم فرمایا۔ آپ نے لشکر کے دائیں بازو کو زہیر بن قین اور بائیں بازو کو حبیب بن مظاہر کے سپرد کیا اور پرچم بھائی ابوالفضل العباسؑ کے حوالے کیا۔ روز عاشورا کے اہم واقعات میں سے ایک حر بن یزید ریاحی کا لشکر عمر بن سعد سے نکل کر امام حسینؑ کے لشکر میں شامل ہونا ہے میدان کے دوسری جانب عمر سعد نے اپنے لشکر کے ـ جو ایک قول کے مطابق 4000 افراد پر مشتمل تھاـ صفوں کو منظم کیا، عمرو بن حجاج زبیدی کو میمنہ، شمر بن ذی الجوشن کو میسرہ، عزرة بن قیس احمسی کو سوار دستے اور شبث بن ربعی کو پیادہ دستے کی کمانڈ دے دی۔امام حسینؑ نے اتمام حجت کی خاطر اپنے کچھ ساتھیوں سمیت دشمن کی طرف تشریف لے گئے اور ان کو وعظ و نصیحت فرمائی۔شروع میں دونوں لشکر گروہی شکل میں ایک دوسرے پر حملے کرتے رہے۔ بعض تاریخی مصادر کے مطابق پہلے ہی حملے میں امام حسینؑ کے 50 اصحاب شہید ہو گئے۔ اس کے بعد انفرادی طور پر تن بہ تن لڑائی شروع ہوئی۔ امامؑ کے با وفا اصحاب دشمن کو امام حسینؑ کے نزدیک ہونے نہیں دیتے تھےغیر ہاشمی اصحاب اور ساتھیوں کی شہادت کے بعد بنی ہاشم کے جوان یکے بعد دیگرے میدان میں جانے لگے اور بنی ہاشم میں سے سب سے پہلے میدان میں جانے والا جوان حضرت علی اکبر تھا ان کے بعد ایک ایک کر کے امام بنی ہاشم کے جوانوں نے اپنی اپنی قربانی پیش کیں۔ ابوالفضل العباسؑ جو لشکر کے علمدار اور خیموں کے محافظ تھے، نہر فرات سے خیمہ گاہ حسینی میں پانی لاتے ہوئے دشمن کے ہاتھوں شہید ہوئےبنی‌ہاشم کے جوانوں کی شہادت کے بعد امام حسینؑ خود جنگ کیلئے تیار ہوئے لیکن دشمن کے لشکر سے آپ کے ساتھ مقابلہ کرنے کیلئے کوئی میدان میں آنے کیلئے تیار نہ تھے۔ جنگ کے دوران باوجود اینکہ آپؑ تنہا تھے اور آپ کا بدن زخموں سے چور چور تھا، آپ نہایت بہادری کے ساتھ تلوار چلاتے تھےآپ کی شہادت کے بعد دشمن کی فوج نے آپ کے جسم مبارک پر موجود ہر چیز لوٹ کر لے گئے؛ قیس بن اشعث اور بحر بن کعب نے آپ کی قمیص اسود بن خالد اودی نے آپ کے نعلین‌، جمیع بن خلق اودی نے آپ کی تلوار شمشیر، اخنس بن مرثد نے آپ کا عمامہ، بجدل بن سلیم نے آپ کی انگوٹھی اور عمر بن سعد نے آپ کا زرہ..اس کے بعد دشمن نے خیموں پر حملہ کیا اور ان میں موجود تمام سامان لوٹ لیا اور اس کام میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے تھے۔ شمر امام سجادؑ کو قتل کرنے کی خاطر دشمن کے ایک گروہ کے ساتھ خیموں میں داخل ہوئے لیکن حضرت زینب(س) اس کام میں رکاوٹ بنیں۔ بعض مورخین کے مطابق دشمن کے بعض سپاہیوں نے شمر کے اس کام پر اعتراض کیا اور اسے اس کام سے باز رکھا۔ابن سعد نے اہل حرم کو ایک خیمے میں جمع کرنے کا حکم دیا پھر ان پر بعض سپاہیوں کی پہرے لگا دیا گیا۔ ابن زیاد کے حکم پر عمر سعد نے اپنی فوج کے دس سپاہیوں کے ذریعے امام حسینؑ اور ان کے با وفا اصحاب کے جنازوں پر گھوڑے دوڑائے گئے جس سے شہداء کے جنازے پایمال ہو گئےعمر بن سعد نے اسی دن امام حسینؑ کے سر مبارک کو خولی اور حمید ابن مسلم کے ساتھ کوفہ عبیداللہ بن زیاد کے پاس بھیج دیا۔ اسی طرح اس نے اپنی سپاہیوں کو دیگر شہداء کے سروں کو بھی ان کے جسم سے جدا کرنے کا حکم دیا اور اس سب کو جن کی تعداد 72 تھیں، شمر بن ذی الجوشن، قیس بن اشعث، عمرو بن حجاج اور عزره بن قیس کے ساتھ کوفہ روانہ کیاواقعہ عاشورا کے دن امام زین العابدینؑ سخت بیمار تھے۔ اسی وجہ سے آپ جنگ میں شرکت نہ کر سکے یوں مردوں میں سے صرف آپ زندہ بچ گئے اور حضرت زینب(س) سمیت اہل حرم کے دوسرے افراد کے ساتھ دشمن کے ہاتھوں اسیر ہوئے۔ عمر بن سعد اور اسکے سپاہی اسرا کو کوفہ میں ابن زیاد کے پاس لے گئے پھر وہاں سے انہیں یزید بن معاویہ کے پاس شام میں لے جایا گیا۔مؤرخین کے مطابق عمر بن سعد کے کربلا سے چلے جانے کے بعد شہداء کو 11 محرم الحرام کے دن دفن کیا گیا؛ جبکہ بعض مورخین کے مطابق 13 محرم شہداء کی تدفین کا دن ہے۔ سنی مؤرخین کا اتفاق ہے کہ امام حسینؑ اور آپ کے اصحاب کو 11 محرم سنہ 61 ہجری کے دن سپرد خاک کیا گیا ہے