نواز شریف کی احتساب عدالت اسلام آباد میں پیشی ،9 اکتوبر پھر طلب، حسن ، حسین ، صفدر ،مریم نواز کےوارنٹ جاری، داخلے کی اجازت نہ ملنے پر وزیر داخلہ احسن اقبال ناراض، فہرست میں نام شامل نہیں تھا. رینجرز حکام ،رینجرز کو طلب نہیں کیا، جج محمد بشیر
اسلام آباد( رپورٹ …اصغر علی مبارک سے
)وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سابق وزیراعظم نواز شریف قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے اپنے خلاف دائر ریفرنسز کے سلسلے میں احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمّد بشیر کے سامنے دوسری مرتبہ پیش ہوئے 26 ستمبر کو سابق وزیراعظم نواز شریف اپنے خلاف دائر ہونے والے تین نیب ریفرنسز کا سامنا کرنے کے لیے پہلی مرتبہ اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ سپریم کورٹ نے رواں برس 28 جولائی کو پاناما پیپرز کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو بطور وزیراعظم نااہل قرار دے دیا تھا جبکہ نیب کو شریف خاندان اور وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف ریفرنسز دائر کرنے کا حکم دیا تھا ، تاہم ان پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی۔ریفرنس کے باقی ملزم اگر پیش نہ ہووے تونواز شریف کا کیس الگ کر کے عدالتی کاروائی شروع ھو جائے گی عدالت میں پیش نہ ہونے پر نواز شریف کے بیٹوں حسن نواز اور حسین نواز، کیپٹن محمد صفدر کے ناقابلِ ضمانت جبکہ بیٹی مریم نواز کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئےھیں ،کیپٹن محمد صفدر مریم نوازکی جانب سے 9 اکتوبرکو پیش ہونے کی یقین دہانی کرائی گئی ،سماعت کے دوران سابق وزیر اعظم نواز شریف کے وکیل خوجہ حارث دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل اور بچوں کو فردِ جرم عائد ہونے سے قبل عدالت میں پیش ہونا ہے۔نواز شریف، ان کے صاحبزادے حسن نواز اور حسین نواز، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر رواں ماہ 9 اکتوبر کو عدالت کے سامنے پیش ہوں گے، جہاں ان پر فرد جرم عائد کی جاسکتی ہے۔ادوسری جانب نواز شریف کے وکیل کی جانب سے انہیں عدالتی کارروائی سے استثنیٰ دینے کے لیے ایک درخواست بھی احتساب عدالت میں دائر کی گئی، جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ نواز شریف اپنی اہلیہ کی علالت کے باعث لندن جانا چاہتے ہیں لہٰذا انہیں عدالت میں پیش ہونے سے مستثنیٰ قرار دیا جائے تاہم اس درخواست پر کوئی فیصلہ نہ ہو سکا۔س سے قبل سابق وزیراعظم قافلے کی صورت میں ’پنجاب ہاؤس اسلام آباد‘ سے احتساب عدالت پہنچے تھے، جہاں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔نواز شریف کے ہمراہ مسلم لیگ (ن) کے وزراء اور پارٹی رہنما کو عدالت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔احتساب عدالت میں داخلے کی اجازت نہ ملنے پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ انہیں رینجرز کی جانب سے عدالت میں داخل ہونے سے روک دیا گیا جس کی اعلیٰ سطح پر انکوائری کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ چیف کمشنر اسلام آباد کی موجودگی میں عدالتی کارروائی کے دوران تمام انتظامی معاملات طے پا گئے تھے تاہم چیف کمشنر نے انہیں بتایا کہ ’اچانک رینجرز نمودار ہوئے ہیں اور انہوں نے عدالت کی سیکیورٹی اپنے ہاتھ میں لے لی ہے‘۔عدالت میں داخلے کی اجازت نہ دینے پر وزیر داخلہ احسن اقبال نے شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے رینجرز کمانڈر کو طلب کیا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’رینجرز وزارت داخلہ کے ماتحت ہے لیکن انہیں احکامات کہیں اور سے آرہے ہیں‘۔احسن اقبال نے اعلان کیا کہ وفاقی وزراء کو کمرہ عدالت میں داخل ہونے سے روکنے کے معاملے کی تحقیقات کی جائیں گی اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔خیال رہے کہ اس سے قبل آج صبح وزیر داخلہ احسن اقبال اور دیگر وفاقی وزراء کو احتساب عدالت میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا ۔ جس پر وزیر داخلہ احسن اقبال برہم ہو گئے اور انہوں نے رینجرز کے انچارج بریگیڈئیر کو بھی طلب کیااحتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی پیشی کے موقع پر وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال سمیت وفاقی کابینہ کے دیگر ارکان کو کمرہ عدالت میں داخل ہونے کی اجازت نہ ملنے پر وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ اگر اس صورت حال کا جواب نہ دیا گیا تو وہ مستعفی ہوجائیں گے کیوں کہ وہ کٹھ پتلی وزیر داخلہ نہیں بن سکتا ہیں۔احتساب عدالت کے باہر میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ انہیں رینجرز کی جانب سے عدالت میں داخل ہونے سے روک دیا گیا جس کی اعلیٰ سطح پر انکوائری کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ چیف کمشنر اسلام آباد کی موجودگی میں عدالتی کارروائی کے دوران تمام معاملات طے پا گئے تھے اور رینجرز چیف کمشنر اسلام آباد کے ما تحت ہیں۔عدالت میں داخلے کی اجازت نہ دینے پر وزیر داخلہ نے شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے رینجرز کمانڈر کو طلب کیا ، تاہم رینجرز کمانڈر نے بات سننے سے انکار کردیا۔ احسن اقبال نے کہا کہ میں وزیر داخلہ ہوں لیکن میرے ماتحت فورس کسی اور سے احکامات لے کر اپنی کارروائی کررہی ہے۔وفاقی وزراء کو کمرہ عدالت میں داخل ہونے سے روکنے کے معاملے کی تحقیقات کی جائے گی اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ان کاکہنا تھا کہ یہاں ایک قانون ہوگا، ایک حکومت ہوگی اور ایک ریاست میں دو ریاستیں نہیں چل سکتیںدریں اثناوزیر داخلہ احسن اقبال کو احتساب عدالت میں داخلے سے روکے جانے پر رینجرز نے اپنی رپورٹ پیش کردی جس کے مطابق وزیر داخلہ احسن اقبال کا نام عدالت آنے والوں کی فہرست میں شامل نہیں تھا اس لیے انکو عدالت میں داخلے سے روکا گیا۔رینجرز حکام نے اس واقعہ پر رپورٹ تیار کروا کے وزیر داخلہ کو بھجوا دی ۔رپورٹ کے مطابق وزیر داخلہ کا نام عدالت آنے والوں میں شامل نہیں تھا ۔صرف ان لوگوں کو عدالت جانے دیا گیا جن کے نام فہرست میں شامل تھے ۔نوجوانوں نے ہدایات کی پابندی کی ،کسی کو غیر ضروری طور پر نہیں روکا گیا ۔ادھر احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے رینجرز کو آج طلب نہیں کیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ میں نے کسی کو بھی احتساب عدالت میں آنے سے منع نہیں کیا ۔ آئندہ سماعت سے متعلق دریافت کرنے پر جج محمد بشیر نے کہا کہ آئندہ سماعت پر میڈیا کو خود گیٹ پر لینے آؤں گا۔




