…….. میں نہ مانوں کی گردان .متنازعہ جے آئی ٹی کی متنازعہ رپورٹ ‘ متنازعہ مخالفین کے متنازعہ الزامات اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا ؟کالم .
.اندر کی بات ..اصغر علی مبارک کا کالم .
..
…….متنازعہ جے آئی ٹی کی متنازعہ رپورٹ ‘ متنازعہ مخالفین کے متنازعہ الزامات اونٹ کس کروٹ بیٹھے گاھنگامہ ھے کہ تھمنے کا نام نہی لیتا .ایک طرف وزیراعظم محمد نواز شریف کو مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ”ڈٹے رھنے’ کا مشورہ ملا تو دوسری جا نب اپوزیشن نے میاں صاحب کو گھر بھیجنے کے لئے انتخابات سے قبل ھی اتحاد بنا لیا ھے ،وزیراعظم محمد نواز شریف کو باز خیر خواوں کا مشورہ مفت میں ملا کہ کچھ عرصے کے لئے اپنی فیملی کے کسی فرد کو وزیر ا عظم نامزد کر دیں تاکہ معملات ٹھنڈے ہو سکیں مگر چند مشیروں نے تسلی دی ھے کہ سپریم کورٹ آپکو بھی جسٹس افتخار چودھری کیس کی آپکے بچوں سے الگ کر آپکو بے گناہ قرار دے دی گی کیوں کہ متنازعہ جے آئی ٹی کی متنازعہ رپورٹسپریم کورٹ نہی مانے گی اور وھی اصول آپ پر بھی لاگو ھو گا جو اب سپریم کورٹ کی نظیر بن کے ریکارڈ کی زینت ھے اور یہ کیس بھی بلکل اسی تناظر میں دیکھا جاۓ گا اس یقین کے بعد .وزیراعظم محمد نواز شریف کو مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں آے تو ”ڈٹے رھنے”کھل کر کھیلنے ”دفاعی حکمت عملی کے بجایے ”مناسب حکمت عملی اپنانے ”ناراض دوستوں کو منانے اور قانونی جنگ موثر انداز میں لڑنے کا مشورہ قریبی ساتھیوں اورمشران خاص نےخوب دیا ، جنوں نے اپوزیشن اکٹھ کو ایک غیر فطر ی اتحاد قرار دے کر نواز شریف سے استفے کو دیوانے کی” بھڑ”قرار دیا ھےپارلیمانی پارٹی کے اجلاس ” دیکھو دیکھو کون آیا شیر آیا .شیر آیا” ”نواز شریف قدم بڑا ھو قوم تمہارے ساتھ ھے ” پرجوش نعروں میں استقبال سے کیا گیا۔ ناراض ارکان بھی اس بار مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے مہمانان خصوصی تھے جن قیادت بین الصوبائی رابطوں کے وزیر ریاض پیرزادہ نے کی جو بذات خود چند دنوں پہلے پاکستان سپورٹس بورڈ کے ڈی جی اختر نواز گھنجیرا کو کرپشن الزامات پر عہدے سے ھٹا ے جانے پر نوں لیگی قیادت پر خوب گرجے برسے تھے اور اس غصے کی وجہ سے وفاقی وزیر کے عہدے سے استعفیٰ بھی دے دیا تھا انہوں وزیراعظم سے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں بھی ان کے خلاف کوئی کرپشن کا الزام نہیں اس لیے استعفی مطلبہ درست نہی ھے ، مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں وزیراعظم کی آمد پر شرکاءنے زور دار تالیوں کے ساتھ ڈیسک بجا کر ان کا پرجوش استقبال کیا اور اپنی نشستوں سے اٹھ کر قریب قریب پانچ منٹ تک خوب نعرے بازی کی جسکا نواز شریف نے ہاتھ ھلا کر شکریہ ادا کیا . وزیراعظم محمد نواز شریف نے مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کہا کہ قوم دیکھ رہی ہے کہ میرا ضمیر صاف ہے، استعفیٰ نہیں دوں گا، کیا ان لوگوں کے کہنے پر استعفیٰ دے دوں جنہیں عوام نے ایک بار نہیں بار بار ٹھکرایا؟ 2013ءکے انتخابات کے بعد سے ہی ایک بلا جواز مہم کا آغاز کر دیا گیا، چار سالوں کے دوران کیا کچھ ہوتا رہا، اس وقت بیان نہیں کر سکتا، اب یہ تیسرا حملہ ہو رہا ہے، ملک کو ایک بار پھر پیچھے کی طرف دھکیلنے کی کوشش ہو رہی ہے، متنازعہ جے آئی ٹی کی متنازعہ رپورٹ مخالفین کے بے بنیاد الزامات کا مجموعہ ہے، چار ہزار صفحات میں کرپشن و بدعنوانی کا کوئی الزام تک نہیں لگایا جا سکا، ہمارے خاندان کے 62 سالہ کاروباری معاملات کو مفروضوں، سورس رپورٹوں، بہتانوں اور الزام تراشیوں کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔ ہمارے سینکڑوں ترقیاتی منصوبوں میں ایک پیسے کی بدعنوانی، کمیشن یا کک بیکس کا کوئی داغ نہیں۔ توانائی کے درجنوں منصوبے ہمارے دور میں لگے اور مسلسل لگ رہے ہیں۔ فوج کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کی کمر توڑ دی، کراچی میں امن قائم کیا، بلوچستان میں پاکستان کے ترانے گونج رہے ہیں، معیشت شاندار ترقی کر رہی ہے، تخریبی سیاسی عناصر کی سازشوں کا سلسلہ نہ ہو تو ہم 7 سے بھی زیادہ شرح نمو حاصل کر سکتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ متنازعہ جے آئی ٹی کی متنازعہ رپورٹ ہمارے مخالفین کے بے بنیاد الزاما ت کا مجموعہ ہے، اس رپورٹ میں ہمارے موقف اور ثبوتوں کو جھٹلانے کے لئے کوئی ٹھوس دستاویز پیش نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ صرف ہمارے خاندان کے 62 سالہ کاروباری معاملات کو مفروضوں، سورس رپورٹوں، بہتانوں اور الزام تراشیوں کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ صورتحال پاکستان کی 70 سالہ تاریخ ہی کا ایک عکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ میں کوئی ایک جملہ ایسا نہیں جس سے اشارہ بھی ملے کہ نواز شریف کرپشن کا مرتکب ہوا ہے۔قبل ازیں وزیراعظم محمد نواز شریف نے مستعفی نہ ہونے کا دوٹوک اعلان کیا ہے جس کا کابینہ ارکان نے زبردست خیرمقدم کرتے ہوئے ان کے اس فیصلے کی توثیق کی ہے۔ وفاقی کابینہ کا اجلاس جمعرات کو وزیراعظم محمد نواز شریف کی زیر صدارت یہاں وزیراعظم آفس میں منعقد ہوا۔ وزیراعظم نے کہا کہ جمہوریت فروش سازشی ٹولے کے کہنے پر استعفیٰ دے دوں؟ اﷲ کے فضل و کرم سے میرے ضمیر پر کوئی بوجھ نہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے استعفے کا مطالبہ کرنے والوں کے مجموعی ووٹوں سے زیادہ ووٹ لئے ہیں۔ وفاقی کابینہ ارکان نے وزیراعظم کے مستعفی نہ ہونے کے دو ٹوک اعلان کا زبردست خیرمقدم کیا، ارکان نے ڈیسک بجا کر فیصلے کی توثیق کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ ہمارے ذاتی کاروبار کے بارے میں مفروضوں، الزامات اور بہتانوں کا مجموعہ ہے۔ ہمارے خاندان نے سیاست سے کمایا کچھ نہیں البتہ کھویا بہت کچھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں اربوں کے منصوبے لگ رہے ہیں لیکن کوئی بدعنوانی ثابت نہیں ہوئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ چار سال میں ہم نے تعمیر و ترقی کا اتنا کام کیا جتنا دو دہائیوں میں نہیں ہواواضح رھے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر شریف خاندان کے اثاثوں اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی جانب سے عدالت میں پیش کی گئی حتمی رپورٹ کے بعد اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کے استعفے کے لیے مطالبہ وزیراعظم نے دو ٹوک الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ہاتھ صاف ہیں، جے آئی ٹی رپورٹ میں بھی ان کے خلاف کوئی کرپشن کا الزام نہیں اس لیے استعفی نہیں دوں گا۔اسلام آباد میں وزیراعظم کی زیر صدارت مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی ارکان کا اجلاس ہوا، جس میں پارٹی کے ارکان اسمبلی اور سینیٹرز بھی شریک تھے۔اس اجلاس میں وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ عدلیہ آزادی کے لیے لانگ مارچ ایک مشکل مشن تھا، جس میں اللہ نے کامیابی عطا کی، جان ہتھیلی پر رکھ کر عدلیہ بحالی کے لیے لانگ مارچ کیا لیکن مشرف کی آمریت کے سامنے سر نہیں جھکایا۔انھوں نےکہنا تھا کہ جے آئی ٹی کی متنازع رپورٹ ہمارے مخالفین کے بے بنیاد الزاما ت کا مجموعہ ہے، اس رپورٹ میں ہمارے موقف اور ثبوتوں کو جھٹلانے کے لیے کوئی ٹھوس دستاویز پیش نہیں کی گئیں، صرف ہمارے خاندان کے 62 سالہ کاروباری معاملات کو مفروضوں، ذرائع سے حاصل رپورٹوںس، بہتان اور الزام تراشیوں کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا، ’جے آئی ٹی رپورٹ میں کوئی ایک جملہ ایسا نہیں جس سے اشارہ بھی ملے کہ نواز شریف کرپشن کا مرتکب ہوا ہے‘۔ان کایہ بھی کہنا تھا کہ میرے اقتدار کے پانچوں ادوار اور شہباز کے ادوار میں اگر ہمارے خلاف رتی بھر کرپشن کا بھی کوئی کیس ہے تو بتایا جائے، اسکینڈل تو دور کی بات رپورٹ کے چار ہزار صفحات میں کرپشن، بدعنوانی کا کوئی الزام تک نہیں لگایا جاسکا، انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی میرے راستے میں مشکلات کھڑی کی گئی لیکن میں اپنے نظریہ اور موقف پر جما رہا.وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 2013 کے انتخابات کے بعد ہی سے ان کے خلاف ایک بلا جواز مہم کا آغاز کیا گیا، دُکھ ہوتا ہے کہ سیاسی عدم استحکام اور بے یقینی پیدا کرنے والے عناصر ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں، اسٹاک مارکیٹ 54 ہزار کی ریکارڈ حد تک پہنچ کر اس ماحول کی وجہ سے نیچے آگیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ توانائی کے درجنوں منصوبے ان کے دور میں لگے اور مسلسل لگ رہے ہیں، پاکستان کی تاریخ میں کبھی توانائی کے اتنے منصوبے نہیں لگے، ملک کو اندھیروں میں غرق کرنے والوں کا احتساب کون کرے گا؟ ہم نے فوج کے ساتھ بیٹھ کر دہشت گردی کے خاتمے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان کی معیشیت شاندار ترقی کررہی ہے، تخریبی سیاسی عناصر کی سازشوں کا سلسلہ نہ ہو تو ہم بہت جلد 6 اور 7 بلکہ اِس سے بھی آگے کی شرحِ نمو حاصل کرسکتے ہیں اس اجلاس میں وزیر اعظم نواز شریف نے اعلان کیا تھا کہ وہ کسی کے کہنے پر مستعفی نہیں ہوں گے جس کے بعد کابینہ نے ان کے مستعفی نہ ہونے کے اعلان کی توثیق کرتے ہوئے قانونی جنگ لڑنے کا مشورہ دیا.واضح رہے کہ اس ہنگامی اجلاس کو طلب کرنے کا فیصلہ وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے ایک ‘غیررسمی اجلاس’ میں کیا گیا، جس میں وزیراعظم نواز شریف کی کابینہ کے قریبی وزراء اور اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی سمیت قانونی ٹیم موجود تھی.گذشتہ چند دنوں میں ہونے والے اس اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز بھی موجود تھیں.دوسری طرف قومی اسمبلی کی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے پاناما کیس میں مشترکہ تحقیقات ٹیم (جے آئی ٹی) کی سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی حتمی رپورٹ کے بعد وزیراعظم نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا ھے،اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن کے چیمبر میں ہوا، جس کی صدارت قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کی۔اجلاس میں پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، پاکستان تحریک انصاف، متحدہ قومی موومنٹ، قومی وطن پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی سمیت دیگر کے سربراہان اور نمائندوں نے شرکت کی۔تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس کے بعد قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ، شاہ محمود قریشی اور جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے بریفنگمیں کہا کہ تمام اپوزیشن جماعتوں نے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کے لیے ریکوزیشن قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ کے پاس جمع کرا دی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ جب بھی مناسب سمجھیں گے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرا دیں گے۔ادھر قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ اور عوامی نیشنل پارٹی نے اجلاس میں تجویز دی ہے کہ تمام اپوزیشن جماعتوں کو سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے اور فی الوقت ان ہاؤس تبدیلی یا نئے الیکشن کے مطالبے کی طرف نہیں جانا چاہیے۔جبکہ تحریک انصاف نے بھی پیپلز پارٹی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ان ہاؤس تبدیلی پر اتفاق کیا ہے۔ آئی ٹی کی حتمی رپورٹ کے بعد اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کے استعفے کے لیے بڑھتے ہوئے مطالبے کو وزیراعظم نواز شریف نے دو ٹوک الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ استعفی نہیں دوں گا۔ ’جے آئی ٹی رپورٹ میں کوئی ایک جملہ ایسا نہیں جس سے اشارہ بھی ملے کہ نواز شریف کرپشن کا مرتکب ہوا ہے‘۔متنازعہ جے آئی ٹی کی متنازعہ رپورٹ ‘ متنازعہ مخالفین کے متنازعہ الزامات اونٹ کس کروٹ بیٹھے گایہ آنے والا وقت ہی بتاے گا ضرورت اس امر کی هے کہ سیستدان ھوش کے ناخن لیں ورنہ جمھوریت کا راگ الاپنے والا بھی کوئی نہی بچے گا ،سب ہی سوچ رہے ھیں کہ ”میں نہ مانوں کی گردان .متنازعہ جے آئی ٹی کی متنازعہ رپورٹ ‘ متنازعہ مخالفین کے متنازعہ الزامات کے بعد نہ جانے سیاست کا اونٹ نہ جانے کس کروٹ بیٹھے گا ،،
میں نہ مانوں کی گردان .متنازعہ جے آئی ٹی کی متنازعہ رپورٹ ‘ متنازعہ مخالفین کے متنازعہ الزامات اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا ؟کالم . .اندر کی بات ..اصغر علی مبارک کا کالم …




