مکہ معاہدہ: پاک فوج کی سعودی عرب میں موجود گی کی تصدیق
(اصغر علی مبارک)
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاک فوج کے دستے پہلے ہی سعودی عرب میں موجود ہیں۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این (CNN) کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ مکہ اتحاد کے تحت دستوں کی موجودگی کوئی نئی پیش رفت نہیں ہے، بلکہ پاکستانی فوجی اہلکار کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں مختلف شعبوں اور صلاحیتوں (ڈومینز) کے تحت خدمات انجام دے رہے ہیں,
مکہ دفاعی معاہدے اور حالیہ پیش رفت کے اہم نکات:

  • معاہدے کی نوعیت: پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان 7 اگست 2026 کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ طے پایا تھا۔ اس سہ فریقی معاہدے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر بھی مسلح حملہ، سب پر حملہ تصور کیا جائے گا (جسے نیٹو کے آرٹیکل 5 کی طرز پر ڈیزائن کیا گیا ہے)۔
  • حالیہ ہنگامی اجلاس: یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کی تنصیبات اور شہروں پر حالیہ حملوں کے بعد 5 اکتوبر 2026 کو ریاض میں مکہ اتحاد کی اسٹریٹجک، پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی (SPDC) کا ہنگامی اجلاس ہوا۔
  • اجتماعی دفاع کا فعال ہونا: اس اجلاس میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب نے حوثی ملیشیا کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے “اجتماعی دفاعی اقدامات” کو فوری فعال کرنے اور ضرورت کے مطابق متفقہ فوجی دستوں اور عسکری صلاحیتوں کو تیزی سے سعودی عرب میں تعینات کرنے پر اتفاق کیا۔
  • پاکستانی قیادت کا کردار: اس ہنگامی اجلاس میں پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر دفاع خواجہ آصف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے شرکت کی۔ اسی اجلاس میں مکہ دفاعی اتحاد کے پہلے سیکرٹری جنرل کے طور پر پاکستان کے لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نعمان محمود کی نامزدگی کی توثیق بھی کی گئی۔
    ترجمان پاک فوج کے مطابق، سعودی عرب کی سکیورٹی اور حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے پاکستان کا عزم غیر مشروط ہے اور یہ دفاعی اتحاد کسی اچانک یا خلا سے پیدا ہونے والی چیز نہیں، بلکہ تینوں برادر ممالک کے دیرینہ تاریخی، سیاسی اور فوجی تعلقات کا ایک منظم تسلسل ہے۔
    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو انٹرویو میں تصدیق کی ہے کہ مکہ معاہدے کے تحت پاکستانی فوجی دستے سعودی عرب میں موجود ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر سے جب مکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستانی فوج کی سعودی عرب میں تعیناتی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ مکہ دفاعی اتحاد کوئی اچانک وجود میں آنے والا انتظام نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان سفارتی، سیاسی، فوجی اور عوامی سطح کے تعلقات کا نتیجہ ہے۔ پاک فوج کے دستے کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں تعینات ہیں اور مختلف شعبوں میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 5 اکتوبر کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں مکہ دفاعی اتحاد کی اسٹریٹجک، پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی (ایس پی ڈی سی) کا ہنگامی اجلاس ہوا تھا۔اس اجلاس میں سعودی عرب کے دفاع کے لیے متفقہ فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی فوری تعیناتی کے اقدامات پر اتفاق کیا گیا تھا جب کہ پاکستان کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کو تین سال کے لیے مکہ دفاعی اتحاد کا پہلا سیکریٹری جنرل بھی مقرر کیا گیا تھا۔اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کی تھی۔ریاض میں ہونے والے اجلاس کے بعد ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ مکہ دفاعی اتحاد نے سعودی عرب کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ یمن کے تنازع کے پُرامن حل کے لیے سفارتی راستوں پر بھی تفصیلی غور کیا ہے۔اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اس اجلاس سے متعلق بتایا تھا کہ یہ ہنگامی اجلاس بالخصوص سعودی عرب کے حوالے سے موجودہ صورت حال اور زمینی حقائق کا جائزہ لینے اور اس حوالے سے تینوں رکن ممالک کا متفقہ لائحہ عمل طے کرنے کے لیے طلب کیا گیا ہے۔پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے رواں سال 7 اگست کو ’معاہدہ مکہ‘ پر دستخط کیے تھے، جسے بعد ازاں ’مکہ دفاعی اتحاد‘ کا نام دیا گیا تھا۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے اس اصول پر اتفاق کیا تھا کہ کسی ایک ملک کے خلاف ہونے والے حملے کو تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ریاض میں مکہ دفاعی معاہدے کی اسٹریٹجک کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔ اس اتحاد کے تحت تینوں ممالک (سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ) دفاعی مدافعت اور خطے کی مجموعی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے مشترکہ سیکیورٹی فریم ورک پر کام کر رہے ہیں، جسے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے بھی عرب خطے میں پائیدار استحکام کا ذریعہ قرار دیا ہے۔
    پاکستان آرمی کے اعلیٰ ترین کمانڈروں نے کور کمانڈرز اجلاس میں جمعہ کے روز پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ماہ اگست میں ہونے والے سہ فریقی دفاعی معاہدے کی بھرپور تائید کی ہے۔ کور کمانڈر اجلاس جو کہ پاکستان آرمی کا پالیسی اور فیصلہ ساز فورم ہے، اس کی صدارت آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کرتے ہیں۔ کور کمانڈرز اجلاس نے یمنی حوثیوں کی طرف سے سعودی عرب پر کیے گئے حالیہ حملوں کی بھی مذمت کی اور حرمین شریفین کی حفاظت کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پاک آرمی کے کور کمانڈرز کا یہ 277واں اجلاس تھا۔ اجلاس جی ایچ کیو راولپنڈی میں منعقد کیا گیا۔ اس اجلاس سے ایک روز قبل پاک آرمی نے سعودی عرب پر حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کے حلاف سعودی عرب کی مکمل حمایت کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ یہ حمایت مقدس شہروں پر حوثیوں کے مبینہ حملوں کے بعد سامنے آئی ہے۔ کور کمانڈرز نے مکہ دفاعی معاہدے کا خیر مقدم کیا اور معاہدے کو پائیدار تذویراتی اجتماعی معاہدوں کے سلسلے میں کردار ادا کرنے کا موقع قرار دیا۔ بعد ازاں ‘آئی ایس پی آر’ نے ایک باضابطہ بیان بھی جاری کیا ہے۔ سعودی عرب پر کیے گئے حوثی حملوں کی مذمت کی گئی اور مملکت کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کرتے ہوئے پاکستان کی طرف سے حرمین شریفین کے تحفظ و تقدس کے لیے اپنی کمٹمنٹ کا اظہار کیا۔ جمعرات کے روز پاکستان کی مسلح افواج کے میڈیا ونگ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف اپنی پریس کانفرنس میں بھی مکہ اتحاد کے تناظر میں سعودی عرب کی سلامتی و استحکام کے لیے اپنی بھرپور حمایت کا اظہار کیا تھا۔ تاہم انہوں نے اس دفاعی معاہدے پر عمل سے متعلق شقوں کو منظر عام پر لانے سے گریز کیا تھا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس کے دوران مکہ دفاعی معاہدے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ میڈیا پر ڈسکس کرنے کیلیے نہیں پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پرعملدرآمد کیلئے مکمل پرعزم ہے جبکہ حرمین شریفین کا دفاع اور مملکت سعودی عرب کی سلامتی یقینی بنانے کیلئے تیار ہیں۔ کور کمانڈرز کے اس اجلاس سے محض چند روز قبل فیلڈ مارشل عاصم منیر ریاض میں اپنے سعودی اور ترک ہم منصبوں کے ساتھ اہم اجلاس سے واپس آئے تھے۔ نیز پاکستان نے سہ فریقی دفاعی معاہدے کے لیے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نعمان محمود کو تعینات کیا ہے، جو اس اتحاد کی عسکری قیادت کریں گے۔ اسی تناظر میں ‘ آئی ایس پی آر’ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ کسی احتجاج کے نام پر ایک بار پھر 9 مئی والی صورت حال پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ قانون کی عمل داری کے لیے فیصلہ کن طاقت استعمال کی جائے گی اور بلا امتیاز کی جائے گی۔ تاہم بیان میں پی ٹی آئی یا کسی اور جماعت کا نام نہیں لیا گیا ہے۔یاد رہے کہ سنہ 2015 میں یمن جنگ کے دوران سعودی عرب نے پاکستان سے فوجی مدد طلب کی تھی تاہم پاکستانی پارلیمان نے اس کی منظوری نہیں دی تھی۔سعودی عرب میں پاکستانی افواج کی موجودگی بڑے پیمانے پر ایک ’علامتی اقدام‘ ہے جو سعودی عرب کے دفاع کے لیے پاکستان کے عزم کو ظاہر کرتا ہے اور اسلام آباد کی اپنے اتحادیوں سے وفاداری کا پیغام بھی دیتا ہے۔سعودی عرب اپنے دفاعی نظام میں مختلف ممالک کے ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی پر انحصار کرتا ہے تاہم امریکی سسٹمز ’تھاڈ‘ اور ’پیٹریاٹ‘ اس دفاعی نظام کا بنیادی حصہ ہیں۔ دفاعی رپورٹس کے مطابق سعودی عرب جنوبی کوریا، روس، چین، ترکی اور یوکرین سے بھی مختلف دفاعی سسٹمز حاصل کرتا ہے، جو خطرات کی نوعیت اور خاص طور پر ڈرون حملوں کے مطابق استعمال کیے جاتے ہیں۔ پاکستان بڑے پیمانے پر چین سے حاصل کردہ ٹیکنالوجی پر انحصار کرتا ہے، خصوصاً طیاروں، ٹینکوں اور میزائلوں کے شعبوں میں۔ پاکستانی فوجی ٹیکنالوجی امریکہ اور فرانس پر بھی کسی حد تک منحصر ہے، جس میں ایف 15 طیارے، امریکی ایم 113 بکتر بند گاڑیاں اور فرانسیسی ‘میراج’ لڑاکا طیارے شامل ہیں۔پاکستان کی جانب سے زیادہ تر چینی ٹیکنالوجی کا استعمال، سعودی عرب میں موجود امریکی دفاعی نظاموں کے ساتھ تضاد پیدا کر سکتا ہے تاہم اُن کے مطابق اسے بہتر ہم آہنگی کے ذریعے کثیر سطحی دفاعی نظام میں تبدیل کر کے فائدہ بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔سعودی عرب خود بھی بعض چینی ہتھیار استعمال کرتا ہے جن میں ’ونگ لونگ‘ ڈرونز اور بیلسٹک میزائل شامل ہیں جبکہ پاکستان بھی چینی اور امریکی ہتھیاروں کو ایک ساتھ استعمال کرنے کا عادی ہے۔ ہ پاکستانی ’جے ایف-17 لڑاکا طیاروں کو سعودی فضائی دفاعی نظام، خصوصاً مغربی ساختہ طیاروں اور ’پیٹریاٹ‘ دفاعی نظام کے ساتھ ہم آہنگی میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔‘‘سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے کے تحت طے پانے والا یہ سہ فریقی تعاون مسلم امہ کے دفاع اور علاقائی استحکام کی تاریخ میں ایک انتہائی اہم تزویراتی (Strategic) موڑ ثابت ہو رہا ہے۔سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں پانچ اکتوبر کو مکہ دفاعی معاہدے کے تحت منعقدہ ہنگامی اجلاس میں ترکی، پاکستان اور سعودی عرب نے اس معاہدے کو جلد از جلد فعال کرنے کا اعلان کیا ہے
    اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد اس اتحاد کو باضابطہ طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔
    تاریخی سہ فریقی تعاون اور مشترکہ اعلامیے کی اہم ترین تفصیلات درج ذیل ہیں:
    “ایک پر حملہ، سب پر حملہ” کا نیٹو (NATO) طرز کا اصول
    یہ دفاعی معاہدہ، جس پر تینوں ممالک نے 7 اگست 2026 کو دستخط کیے تھے، نیٹو کے آرٹیکل 5 کی طرز پر بنایا گیا ہے۔ اس کے تحت طے پایا ہے کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر بھی مسلح حملہ، تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا اور اس کا مشترکہ جواب دیا جائے گا۔خیال رہے کہ پیر کو ہونے والے اجلاس کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق تینوں ممالک نے سعودی عرب میں تیزی سے فوجی دستے تعینات کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ سات اگست 2026 کو طے پانے والا وہ دفاعی معاہدہ پہلی بار فعال ہونے جا رہا ہے جس کے مطابق تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اگرچہ مشترکہ اعلامیے میں یمن یا حوثیوں کا نام نہیں لیا گیا تاہم مکہ اور مدینہ پر حملوں کی مذمت کی گئی جبکہ سعودی عرب کے وزیر دفاع خالد بن سلمان نے اجلاس کے بعد ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ ’مکہ دفاعی اتحاد کی سٹریٹجک سیاسی اور دفاعی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس نے حملوں سے نمٹنے کے لیے یکجہتی اور مشترکہ موقف کی تصدیق کی اور ان حملوں کے خلاف اجتماعی جوابی صلاحیتوں کو فعال کرنے کی تصدیق کی۔‘ یہ واضح نہیں ہے کہ سعودی عرب میں پاکستانی اور ترک فوجیوں کی تعیناتی کب ہو گی اور اس کا جنگ پر کیا سٹریٹجک اثر پڑے گا ریاض کے ہنگامی اجلاس کا سب سے بڑا اور عملی فیصلہ یہ تھا کہ خطے کو درپیش حالیہ سیکیورٹی چیلنجز اور حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کی تنصیبات اور مقدس شہروں (مکہ اور مدینہ) کو نشانہ بنانے کی کوششوں کے بعد، پاکستان اور ترکیہ اپنے عسکری دستے اور دفاعی صلاحیتیں فوری طور پر سعودی عرب بھیجیں گے۔ مشترکہ اعلامیے کے مطابق یہ تعیناتی فریقین کے قومی قوانین کے فریم ورک کے تحت کی جا رہی ہے۔
    مکہ الائنس فار ڈیفنس کے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کیلئے ریاض میں اس کے سیکرٹریٹ کے قیام کی منظوری دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کو تین سال کی مدت کیلئے اس دفاعی اتحاد کا پہلا سیکرٹری جنرل نامزد کیا گیا ہے۔
    اس تزویراتی تعاون کے تحت تینوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان درج ذیل امور پر تیز رفتاری سے کام شروع ہو چکا ہے:
  • دفاعی صلاحیتوں کا انضمام: عسکری ہم آہنگی اور مشترکہ جنگی حکمتِ عملی کو بہتر بنانا۔
    خطے میں ابھرتے ہوئے فضائی اور زمینی خطرات سے نمٹنے کیلئے بروقت معلومات کا تبادلہ۔
  • اجتماعی مدافعت (Collective Deterrence): کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف مشترکہ اور مضبوط دفاعی حصار قائم کرنا۔
    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور تینوں ممالک کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت (بشمول پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر) کا ماننا ہے کہ یہ اتحاد نہ صرف سعودی عرب کی سلامتی کا ضامن ہے، بلکہ خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے اور مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کیلئے ناگزیر بن چکا ہے۔ ترکی کے سرکاری نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ حقان فیدان نے باہمی دفاع کی شق کے نفاذ کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ فیدان نے سعودی عرب کے ’انتہائی تعمیری رویے‘ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے ان تمام پہلوؤں پر بات چیت کی کہ یمن کے معاملے میں سعودی عرب کو کس قسم کی حمایت فراہم کی جا سکتی ہے اور مسئلے کے پرامن حل کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔‘ مزید کہا کہ دونوں ممالک نے مکہ معاہدے کو ’ادارہ جاتی شکل دینے‘ کے اقدامات اور اتحاد کے لیے ایک روڈ میپ پر بھی بات کی، چند روز قبل پاکستانی لڑاکا طیارے اور فوجی دستے سعودی عرب پہنچے ہیں اور سعودی وزرات دفاع کے مطابق یہ اقدام ستمبر 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے دفاعی سٹریٹجک معاہدے کے تحت عمل میں لایا گیا ہے۔بیان کے مطابق ’پاکستانی دستہ پاک فضائیہ کے لڑاکا اور معاون طیاروں پر مشتمل ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان مشترکہ عسکری ہم آہنگی کو مضبوط بنانا، عملی تیاری کے معیار کو بلند کرنا اور علاقائی و بین الاقوامی سطح پر امن و استحکام کے فروغ میں تعاون فراہم کرنا ہے۔ یہ تعیناتی مشترکہ دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے کی جا رہی ہے یہ تعیناتی ’کسی پر حملہ کرنے کے لیے نہیں‘ یہ اقدام اپنے وقت اور اُس کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے، جیسا کہ خلیجی خطے میں امریکی سکیورٹی ضمانتوں کے مستقبل سے اس کا تعلق، پاکستانی فوجی ٹیکنالوجی اور اس کے امریکی دفاعی نظاموں کے درمیان مطابقت جیسے مسائل شامل ہیں۔ پاکستانی دستے کی سعودی عرب میں تعیناتی کیا پاکستان کے اُس کردار پر بھی ممکنہ اثرات مرتب کر سکتی، جس کے تحت اسے ایک ایسے ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے