لانگ مارچ شروع,حکومت اور اپوزیشن نے مذاکرات کی ناکامی,
(اصغر علی مبارک)وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور وفاقی حکومت کے درمیان مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا ہے۔ پی ٹی آئی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کے اسلام آباد کی جانب مجوزہ لانگ مارچ کو روکنے کی کوشش میں جمعہ اور ہفتے کو مذاکرات کے دو ادوار کیے، تاہم اہم امور پر اختلافات برقرار رہنے کے باعث مذاکرات کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئے۔ اختلافی معاملات میں جیل میں قید پی ٹی آئی کے بانی عمران خان تک رسائی اور دہشت گردی سے متاثرہ خیبر پختونخوا کے علاقوں میں فوجی آپریشنز کا معاملہ شامل تھا۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ مجوزہ معاہدے کے 99 فیصد نکات مذاکرات کے دوران طے ہوچکے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ معاہدے کا مسودہ تیار کرلیا گیا تھا اور وہ اس کی ایک کاپی صدر آصف علی زرداری کو دکھانے کے لیے لے کر گئے تھے۔ وزیر داخلہ کے مطابق صدر کو مسودہ دکھانے کے بعد واپس آئے تو معلوم ہوا کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ نے مسودے میں متعدد ترامیم کردی ہیں۔ محسن نقوی نے الزام عائد کیا کہ بدقسمتی سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ ہفتے کے مذاکرات کے دوران معاہدے کے چار مسودے تیار اور ان میں ترامیم کی گئیں، جبکہ بیشتر نکات پر اتفاق رائے ہوگیا تھا۔ ان کے بقول حکومت نے اپوزیشن وفد پر واضح کیا تھا کہ زیر بحث معاملہ سیاسی نہیں بلکہ دہشت گردی سے متعلق ہے۔ محسن نقوی کا بیان وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے ایکس پر مذاکراتی کمیٹی کو پیش کیے گئے سات نکاتی مطالبات کا مسودہ شیئر کیے جانے کے بعد سامنے آیا۔ محسن نقوی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت تحریری معاہدے پر دستخط کرنے اور 72 گھنٹوں کے اندر عملدرآمد کا منصوبہ جمع کرانے پر رضامند ہوگئی تھی، تاہم گزشتہ رات ہونے والے مذاکرات کے دوران حکومت نے ان یقین دہانیوں سے دستبرداری اختیار کرلی۔ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کے پہلے مرحلے کا باقاعدہ آغاز کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان چار اکتوبر سے شروع ہونے والے لانگ مارچ سے چند گھنٹے قبل ہونے والا مذاکرات کا دوسرا دور کئی گھنٹوں کی مسلسل بات چیت کے باوجود کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہو گیا ہے اور دونوں فریقین کے درمیان ڈیڈلاک برقرار ہے۔ ہفتے کی شام پارلیمنٹ ہاؤس میں قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کی زیرِ صدارت شروع ہونے والی یہ اہم نشست ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب دو بجے کے بعد تک جاری رہی، مگر تمام تر کاوشوں کے باوجود فریقین کسی مشترکہ نقطے پر نہ پہنچ سکے۔ اس سے قبل ایسی خبریں بھی سامنے آئی تھیں کہ دونوں فریقین نے معاہدے کے ابتدائی ڈرافٹ کو حتمی شکل دے کر دستخط بھی کر دیے ہیں۔
دوسری جانب وفاقی حکومت کے رہنما رانا ثنا اللہ نے حکومتی مؤقف کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو کسی صورت اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ” گنڈی چوک لکی مروت سے ہم لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ شروع کریں گے۔“ مارچ کا روڈ میپ بتاتے ہوئے لکھا کہ ”چار اکتوبر دوپہر ایک بجے گنڈی چوک لکی مروت سے ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، ساؤتھ وزیرستان، نارتھ وزیرستان، بنوں اور لکی مروت کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے غیور پاکستانی اس مارچ کا حصہ بنیں گے، جبکہ یہ قافلہ رات کو کرک کے قریب پہنچ کر اپنا پڑاؤ ڈالے گا۔“وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے بتایا کہ پانچ اکتوبر دن بارہ بجے کرک کے عوام ان کے ساتھ شامل ہوں گے اور ساڑھے بارہ بجے روانگی کے بعد رات کوہاٹ کے قریب گزاری جائے گی۔ چھ اکتوبر کو کوہاٹ، ہنگو، کُرم اور اورکزئی کے اضلاع سے لوگ شامل ہوں گے اور یہ قافلہ پشاور متنی کے قریب قیام کرے گا۔ سہیل آفریدی کے مطابق، سات اکتوبر کو بڈھ بیر کے مقام سے ضلع خیبر اور پشاور کے مختلف حلقوں کے عوام موٹروے ٹول پلازا اور کوہاٹ روڈ پل پر ان کا استقبال کریں گے اور رات چارسدہ انٹرچینج پر گزاریں گے۔ جبکہ آٹھ اکتوبر کو پورے خیبرپختونخوا کے لوگ خیر آباد کے مقام پر اکٹھے ہوں گے اور وہیں رات گزار کر آئندہ کا حتمی لائحہ عمل دیا جائے گا۔ اس سیاسی پیش رفت پر ردِعمل دیتے ہوئے پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ تحریکِ انصاف کا لانگ مارچ اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق آگے بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کی آڑ میں ایسے اقدامات نہیں کیے جانے چاہئیں جن سے خیبرپختونخوا کے عوام میں نفرت، تقسیم یا تناؤ پیدا ہو، یا صوبے کے مینڈیٹ، خودمختاری اور اختیارات متاثر ہوں۔ دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں ایک اچھا معاہدہ تقریباً طے پا گیا تھا اور فریقین 99 فیصد نکات پر متفق ہو چکے تھے، تاہم وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے آخری مرحلے میں مذاکرات کو سبوتاژ کیا۔ ان کے مطابق مذاکرات میں بنیادی مسئلہ سیاسی نہیں بلکہ دہشت گردی اور اس کے خلاف صوبائی حکومت کے کردار سے متعلق تھا۔ مذاکرات کے بعد تحریری معاہدے کا مسودہ چار مرتبہ تیار کیا گیا اور ہر مرتبہ اس میں تبدیلی کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک مرحلے ایسا بھی آیا کہ تمام لوگ معاہدے پر 99 فیصد متفق ہو گئے اور ایک اچھا معاہدہ تیار ہو چکا تھا۔ مجوزہ معاہدے میں سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر پولیس ایکٹ 2026 پر نظرثانی، دہشت گردوں کو صوبے میں آزادانہ کارروائیاں کرنے یا محفوظ ٹھکانے حاصل کرنے سے روکنے اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، تحریک طالبان افغانستان (ٹی اے اے) سمیت دیگر دہشت گرد گروہوں کی غیرمبہم مذمت کی شقیں شامل تھیں۔ معاہدے میں افغان مہاجرین سے متعلق قومی پالیسی کی حمایت بھی شامل تھی، جس کے تحت ان کی واپسی اور خیبر پختونخوا میں افغان کیمپوں کا خاتمہ، عبوری افغان حکومت سے کسی قسم کے رابطے سے گریز، انسداد دہشت گردی کارروائیوں اور پولیس کے لیے خاطر خواہ فنڈز کی فراہمی اور انسداد دہشت گردی اقدامات کی مکمل صوبائی ذمہ داری کی بات کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ صوبائی حکومت اور مسلح افواج کے درمیان تعاون مضبوط بنانے، سابق فاٹا اور ضم شدہ اضلاع میں انسداد دہشت گردی سے متعلق صوبائی فیصلوں اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد پر بھی زور دیا گیا تھا۔ محسن نقوی نے کہا کہ جب صوبہ جنگ کی صورتحال سے دوچار ہو تو سیکیورٹی کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے۔ ان کا بیان حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے ایک روز بعد سامنے آیا، جو کسی نتیجے کے بغیر ختم ہوگیا تھا۔ اپوزیشن نے 4 اکتوبر کا لانگ مارچ واپس لینے سے انکار کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ پہلے اس کے نمائندوں کو جیل میں قید سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کے چیمبر میں ہونے والے مذاکرات آٹھ گھنٹے سے زائد جاری رہے، تاہم کوئی معاہدہ نہ ہوسکا۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ اپوزیشن پہلے احتجاج ختم کرے جبکہ اپوزیشن نے عمران خان سے ملاقات کا مطالبہ کیا، جس میں اپوزیشن رہنماؤں اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی شرکت بھی ہو۔ دریں اثنا مارچ کا پہلا مرحلہ لکی مروت سے شروع ہوا اور جنوبی اضلاع سے ہوتا ہوا پشاور پہنچے گا۔ یہ احتجاج خیبر پختونخوا میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات کے پس منظر میں کیا جارہا ہے، جہاں سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما سلمان اکرم راجا نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کو خیبر پختونخوا میں انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات کے مجوزہ فریم ورک پر اختلاف سے منسوب کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت چاہتی تھی کہ مرکز کی جانب سے یکطرفہ طور پر شروع کیے گئے اقدامات کی ذمہ داری صوبائی حکومت قبول کرے۔ مذاکرات کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں سلمان اکرم راجا نے کہا کہ پی ٹی آئی-ٹی ٹی اے پی مذاکراتی ٹیم نے مؤقف اختیار کیا کہ خیبر پختونخوا میں انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان باہمی اتفاقِ رائے کی بنیاد پر ہونے چاہئیں، جبکہ صوبائی اسمبلی میں نمائندگی رکھنے والی سیاسی جماعتوں سے مشاورت اور ان کی حمایت بھی حاصل کی جانی چاہیے۔ سلمان اکرم راجا کے مطابق حکومت کی مذاکراتی ٹیم کو یہ مؤقف قابلِ قبول نہیں تھا۔ ان کے بقول حکومتی ٹیم کا اصرار تھا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے یکطرفہ طور پر شروع کیے جانے والے اقدامات کی ذمہ داری صوبائی حکومت کو قبول کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی-ٹی ٹی اے پی ٹیم دہشت گردی کے حوالے سے زیرو ٹالرنس کی پالیسی رکھتی ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہے، تاہم وہ ایسے اقدامات کی مخالفت کرتی ہے جن کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتوں اور لوگوں کی اندرونِ ملک نقل مکانی سمیت جانی و سماجی نقصانات ہوں۔ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ انسدادِ دہشت گردی کی پالیسیوں کو مقامی آبادی کی حمایت حاصل ہونی چاہیے اور انہیں زمینی معلومات اور انٹیلی جنس کی بنیاد پر مرتب کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں منعقدہ جرگے کی سفارشات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ اس جرگے میں صوبے بھر بشمول ضم شدہ اضلاع سے سیاسی اور قبائلی رہنماؤں نے شرکت کی تھی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور بھی کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوگیا۔ مذاکرات ایک روز قبل قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کے چیمبر میں آٹھ گھنٹے سے زائد جاری رہے۔ ان مذاکرات کا مقصد پی ٹی آئی کی 4 اکتوبر کی لانگ مارچ اور دیگر سیاسی و سکیورٹی سے متعلق امور پر اختلافات کو حل کرنا تھا۔ حکومت اور اپوزیشن نے مذاکرات کی ناکامی کی وجوہات کے بارے میں الگ الگ مؤقف اختیار کیے۔ جیل میں قید پی ٹی آئی کے بانی عمران خان تک رسائی کا معاملہ بھی حل طلب امور میں شامل تھا۔ اپوزیشن رہنماؤں نے عمران خان سے ملاقات کا مطالبہ کیا، جبکہ حکومت مجوزہ لانگ مارچ کے حوالے سے اپنے مؤقف پر قائم رہی۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے سلمان اکرم راجا کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پہلے ہی خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ مشترکہ طریقہ کار اختیار کرنے کی تجویز دے چکی ہے۔ ایکس پر سلمان اکرم راجا کے بیان کے جواب میں عطا اللہ تارڑ نے دہشت گردی سے متعلق وفاقی اور صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاسوں میں خیبر پختونخوا حکومت کی شرکت اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے افغان طالبان کی حکومت اور سرحد پار حملوں کے حوالے سے صوبائی حکومت کے مؤقف پر بھی سوال کیا۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے حوالے سے مبینہ عدم تعاون پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ وفاقی حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صوبائی حکومت کے ساتھ تعاون اور مشترکہ اقدامات کے لیے تیار ہے، تاہم اس مقصد کے لیے صوبائی حکومت کو بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی۔انہوں نے افغان طالبان کی حکومت اور سرحد پار حملوں کے حوالے سے صوبائی حکومت کے مؤقف پر بھی سوال اٹھایا اور دہشت گردی کے خلاف صوبے میں لڑنے والی سکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں کے لیے مبینہ طور پر ناکافی حمایت پر تنقید کی۔ عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی سیاسی دباؤ کا سامنا ہونے پر مشاورت کا معاملہ اٹھا رہی ہے اور انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت کیے جانے والے اقدامات پر عملدرآمد میں ناکام رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ مذاکرات اس وقت ناکام ہوگئے جب خیبر پختونخوا حکومت نے وفاقی حکومت کے ساتھ انسدادِ دہشت گردی کے تعاون سے متعلق مسودہ معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کردیا۔ مسودہ معاہدے کے چار مختلف مسودے تیار کیے گئے تھے تاکہ پی ٹی آئی کی جانب سے تجویز کردہ تبدیلیوں کو شامل کیا جا سکے، جبکہ اس کا مقصد خیبر پختونخوا حکومت کو انسدادِ دہشت گردی سے متعلق فیصلوں میں شامل کرنا تھا۔ شیری رحمان نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کے نمائندے بار بار درخواستوں کے باوجود مذاکرات میں شریک نہیں ہوئے اور انہوں نے صوبائی حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے مذاکرات کے آخری مرحلے میں نئی شرائط پیش کیں۔ مذاکرات وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان سیاسی اعتماد اور تعاون قائم کرنے کا ایک موقع تھے۔
خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان شفیع جان نے حکومت کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مذاکراتی کمیٹی کو سیاسی معاملات حل کرنے کا مکمل اختیار دیا گیا تھا، تاہم صوبائی حکومت کا اختیار وزیراعلیٰ کے پاس ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت کی پالیسی پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے مؤقف کے خلاف نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کے بجائے پی ٹی آئی کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ شفیع جان نے انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی میں تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ مزید شہری ہلاکتوں اور نقل مکانی کو قبول نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو متاثر کرنے والے فیصلے صوبے سے مشاورت کے بغیر نہیں کیے جانے چاہئیں۔ مذاکرات میں تعطل ایسے وقت میں آیا جب پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کو لانگ مارچ کرنے کے منصوبے کو برقرار رکھا ہوا تھا۔ پارٹی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کے لیے اپنا احتجاج 27 ستمبر سے مؤخر کرکے 4 اکتوبر کردیا تھا۔
دریں اثنا وزیراعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف نے اتوار کو لاہور میں ملاقات کی ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران بین الاقوامی اہمیت کے معاملات بھی زیرِ بحث آئے۔اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز بھی موجود تھیں۔ دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی سہولت کاری کرتی رہی ہے، جس کے نتیجے میں صوبے میں سکیورٹی کے چیلنجز میں اضافہ ہوا ہے۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا صوبے میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے نتیجے میں متعدد شہریوں اور فوجی اہلکاروں کی شہادت پر قوم خیبر پختونخوا حکومت کو جوابدہ ٹھہرائے گی۔ وزیر دفاع نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی نے خیبر پختونخوا میں ان عناصر کی آبادکاری کی حمایت کی جو دہشت گردی کے حامی تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قومی اسمبلی میں عمران خان کی تقاریر اور میڈیا کا ریکارڈ اس حقیقت کے گواہ ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ مرکز میں اقتدار سے محروم ہونے کے بعد پی ٹی آئی کے ہر وزیراعلیٰ نے وفاق پر حملہ کیا۔ انہوں نے اسلام آباد کو وفاق کی وحدت کی علامت اور 25 کروڑ پاکستانیوں کی شناخت قرار دیا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ شہداء نے اپنے وطن کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور گزشتہ سال ہونے والے فوجی آپریشن کا حوالہ دیا جس نے دشمن کا غرور خاک میں ملا دیا تھا۔ پاکستانی قوم اور بہادر مسلح افواج کسی بھی اندرونی یا بیرونی دشمن کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔






