..ضمنی الیکشن ;’اسٹیبلشمنٹ اور الیکشن کمیشن غیر جانبدار………….کالم نگار۔۔۔اصغرعلی مبارک۔۔۔۔۔کالم۔۔اندر کی بات۔۔………. .ترجمان دفتر خارجہ نے ’میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے اس دعوے کو سراسر بے بنیاد قرار دیا کہ واشنگٹن میں سفارتخانے سے موصول ہونے والے سائفر کو وزیر خارجہ یا وزیر اعظم سے چھپایا گیا تھا۔‘.اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ایسا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دفتر خارجہ پیشہ ورانہ بنیادوں پر کام کرتا ہے اور اس کے کام پر شکوک و شبہات کا اظہار کرنا نقصان دہ ہوگا۔‘خیال رہے کہ 4 جولائی کو ایک پریس کانفرنس کے دوران عمران خان کے چیف آف سکیورٹی سٹاف شہباز گل نے کہا تھا کہ ’سازش کا آغاز یہاں سے ہوا جب شاہ محمود قریشی اور وزیر اعظم عمران خان سے سائفر چھپایا گیا۔‘اس حوالے سے اتحادیوں کے اجلاس میں بھی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اداروں پر تنقید کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔عمران خان کے سازش کے بیانیے کو ایک بار پھر رد کرتے ہوئے رہنماوں کا کہناتھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سب واضع ہوچکاھے عوام عمران خان کے بیانیے کو جھوٹ کا پلندہ قرار دے چکے ہیں شرکا نے کہا کہ انتخابات عمران خان کے دباو پر نہیں اتحادیوں کے فیصلے پر ہوں گے، سیاست میں اداروں کو گھسیٹنا غیر جمہوری عمل ہے، پی ڈی ایم نے الیکشن کمیشن سےفوری طور پر فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنانے کا مطالبہ کیا۔ اجلاس میں آئی ایم ایف کا پیسہ پاکستان آنے کے بعد عوام کو ریلیف پیکج دئیے جانے پر اتفاق کیا گیا۔عمران خان ملک میں انتشار کی سیاست کو فروغ دے رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اور اتحادی جماعتیں عمران خان کے بیانیے کا جواب دیں گی۔ جھوٹ، فتنوں اور سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے،حکومت اپنی مدت پوری کرے گی، عمران خان سازش کے ذریعے اقتدار تک پہنچا، ان کی وجہ سے پاکستان معاشی بحران کا شکار ہوا۔ عمران خان ایک گمراہ آدمی ہے، ہماری قیادت نے ملک کی خاطر قربانیاں دیں ،جیلیں کاٹیں،شام تک دھاندلی کا شور مچاتے رہے،رزلٹ آنا شروع ہوگیا تو خاموش ہوگئے۔عمران خان نے ملک کو نقصان پہنچایا ہے، وہ اداروں کی تذلیل کررہے ہیں،پاکستان کی معیشت کو انہوں نے تباہ وبرباد کیا۔ عمران خان نے ملک کی معیشت کو تباہ وبرباد کر دیا،پنجاب میں صاف شفاف الیکشن کے نتائج سے جمہوریت مضبوط ہوئی ہے۔مزید برآں شریک چیئرمین پیپلز پارٹی آصف زرداری نے حمزہ شہباز کو اپنے پاس بلا کر استعفیٰ نہ دینے کا مشورہ دیا۔ضمنی انتخابات کے نتائج کے تناظر میں عوامی رابطہ مہم تیز کی جائے گی اور عوام کو ریلیف دینے کےلیے مزید اقدامات کیے جائیں گے خیال رہے کہ.پنجاب کے ضمنی انتخابات کے دوران پاک فوج کے مثالی کردار نے شفاف ۔پرامن انتخاب کو یقینی بنایا جس پر اتحادی جماعتوں نے اپنے اجلاس میں زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ھے کہ ضمنی الیکشن کے دوران ’اسٹیبلشمنٹ اور الیکشن کمیشن غیر جانبدار تھے ..ضمنی الیکشن میں شکست کی وجوہات جاننے اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں اتحادی جماعتوں کا اجلاس ہوا ۔وزیر اعظم شہباز شریف کی دعوت پر حکومت کی اتحادی جماعتوں اور پی ڈی ایم کے قائدین کا اجلاس میں نئے الیکشن وقت پر کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے فیصلہ کیا گیا ہے کہ قبل از وقت انتخابات بہتر آپشن نہیں جبکہ پنجاب میں بھی وزارت اعلیٰ کو بچانے کے لیے تمام اتحادی جماعتیں کوشش کریں گی۔اس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اتحادی جماعتوں نے اسمبلیوں کی مقررہ مدت پوری کرنے کا متفقہ فیصلہ کیا ہے۔خیال رہے کہ 17 جولائی کو پنجاب کی 20 نشستوں پر ہونے والے ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کو 15 اور ن لیگ کو 4 نشستوں پر کامیابی ملی تھی جبکہ ایک آزاد امیدوار کامیاب ہوا تھا۔ اتحادی جماعتوں نے فیصلہ کیا کہ قبل از وقت انتخابات بہتر آپشن نہیں جبکہ پنجاب میں بھی وزارت اعلیٰ کو بچانے کے لیے تمام اتحادی جماعتیں کوشش کریں گی۔پی ڈی ایم اجلاس کے بعد وفاقی وزیر ریلوے سعد رفیق نے اعلان کیا ہے کہ ’وفاقی حکومت اپنی مدت پوری کرے گی اور ملکی بہتری کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں گےانھوں نے کہا کہ ’تمام صوبائی حکومتوں کا حق ہے کہ اپنی مدت پوری کریں۔‘’پنجاب کے ضمنی الیکشن میں ’یہ 20 نشستیں وہ ہیں جو مسلم لیگ ن نے 2018 کے انتخابات میں نہیں جیتی تھیں، عمران خان کے لیے یہ سازش تیار کی گئی تھی۔ پانچ سیٹیں مسلم لیگ ن اور اتحادیوں نے حاصل کی ہیں۔۔۔ ہمارے ووٹوں میں 39 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔‘ان کا کہنا ہے کہ ’حکومتی مدت سے متعلق شوشے چھوڑنے سے گریز کریں۔۔۔ ہم نے مشکل حالات میں حکومت قبول کی، ہمیں معلوم تھا آگے خطرات ہیں۔ اپنے ملک کو چھوڑ کر بھاگا نہیں جاسکتا۔‘’نظریہ ضرورت کے تحت فیصلے نہیں ہونے چاہییں، کسی کی بھی حکومت ہو۔‘سعد رفیق نے یہ بھی کہا کہ صوبے میں ضمنی الیکشن کے دوران ’اسٹیبلشمنٹ اور الیکشن کمیشن غیر جانبدار تھے۔ اسے تسلیم کیا جانا چاہیے۔ سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی موجودہ صورتحال میں اتحادیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ’پارلیمنٹ اپنا وقت پورا کرے گی‘ نثار کھوڑو کہتے ہیں کہ ’عمران خان اگر قبل از وقت انتخابات کے خواہشمند ہیں تو کے پی اسمبلی تحلیل کردیں اور یہ نہیں ہوسکتا کے صرف قومی اسمبلی توڑ دی جائے اور پنجاب کی 15 نشستیں جیتنے کے بنیاد پر ملک کی تمام جنرل نشستوں کی قسمت کا فیصلہ پی ٹی آئی کی مرضی سے ہو۔‘ ’عمران خان الیکشن کمیشن اور اداروں کو اس لیے نشانہ بنا رہے ہیں تاکے پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ کیس کے محفوظ فیصلے کو دباؤ ڈال کر روکا جا سکے۔ پہلا لیڈر عمران خان ہے جو چیف الیکشن کمشنر سے ای وی ایم مشین کے بغیر بھی شفاف انتخابات کروانے پر استعفی مانگ رہا ہے۔۔۔ ضمنی انتخابات میں 15 نشستیں جیتنے کے بعد الیکشن کمیشن حکومت اوراسٹیبلشمنٹ سے معافی مانگے۔‘ ’پی ٹی آئی پنجاب میں اپنی 20 نشستوں میں سے 15 نشستیں جیت کر پانچ نشستیں ہارنے کے بعد کس خوشی میں جشن منا رہی ہے۔ پنجاب میں یہ 20 نشستیں تو پی ٹی آئی کی تھی جس میں سے پی ٹی آئی نے 5 نشستیں ہاری ہیں۔‘ ‘مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کہتی ہیں کہ عمران خان الیکشن کمیشن سے فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کی وجہ سے خوفزدہ ہیں,نائب صدر مسلم لیگ ن مریم نواز کا کہنا ہے کہ پنجاب کے ضمنی الیکشن سے ان کی جماعت کو بڑا فائدہ ہوا ہے ٹوئٹر پر وہ کہتی ہیں کہ ’2018 میں مسلم لیگ ن کے پاس (یہاں) کوئی امیدوار نہیں تھا۔ امیدوار نہ ڈھونڈ پانے سے لے اب کڑا مقابلہ کرنا، ایک بڑی بہتری ہے۔ گذشتہ برسوں کے دوران مسلم لیگ ن نے اپنی کوئی سیٹ نہیں ہاری۔ بلکہ اس نے پی ٹی آئی کی سیٹیں چھینی ہیں۔‘سابق وزیر اعظم عمران خان نے پنجاب کے ضمنی الیکشن میں فتح کے باوجود چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’تحریک انصاف کو ہرانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا گیا‘خیال رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے ضمنی الیکشن میں فتح کے بعد نئے شفاف انتخابات کا مطالبہ کیا تھا۔سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ قوم ان سب کا احتساب کرے گی جو ’حکومت کی تبدیلی کی سازش اور پاکستان کو اس افسوسناک صورتحال تک پہنچانے میں ملوث تھے۔‘سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ قوم ان سب کا احتساب کرے گی جو ’حکومت کی تبدیلی کی سازش اور پاکستان کو اس افسوسناک صورتحال تک پہنچانے میں ملوث تھے۔‘پرویز الہی، جو کہ پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے وزارت اعلیٰ کے امیدوار ہیں، کا کہنا ہے کہ ایک طرف مریم نواز نے تسلیم کیا کہ وہ الیکشن ہار گئے ہیں مگر دوسری طرف وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ اور وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر انٹیلیجنس بیورو (آئی بی) کے ذریعے ایم پی ایز کی لوکیشن ٹریک کی جا رہی ہے سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے الیکشن میں کوئی بےضابطگی نہیں ہونی چاہیے۔’پنجاب میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کا مینڈیٹ تسلیم کیا جائے اور 22 جولائی کو فری اینڈ فیئر الیکشن ہو۔ اگر کچھ کیا گیا تو حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں‘خیال رہے کہ گذشتہ روز وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے الیکشن کے روز ’پانچ رکن غیر حاضر ہوگئے تو پرویز الہی وزارت اعلیٰ ڈھونڈتے پھریں گے۔‘پنجاب کے ضمنی انتخابات میں اتحادیوں کو تحریک انصاف کے ہاتھوں شکست کیا ہوئی کہ پنجاب کی حکومت بچانے کے لیے ایک بار پھر جوڑ توڑ کا عمل شروع کرنا پڑ گیا۔ سابق صدر آصف زرداری مسلم لیگ ق کے صدر چودھری شجاعت حسین سے ملنے ان کی رہائش گاہ پہنچے ،دونوں رہنماوں کی ڈیڑھ گھنٹہ ملاقات جاری رہی، جس میں پنجاب کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ آصف علی زرداری نے جاتے ہوئے وکٹری کا نشان بھی بنایا۔پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ق کے 10 ارکان ہیں اور مرکز میں چودھری شجاعت حسین حکومتی اتحاد کا حصہ بھی ہیں۔خیال رہے کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے 22 جولائی کو دوبارہ انتخاب ہونا ہے، حمزہ شہباز اور پرویز الہیٰ میں مقابلہ ہو گا۔ضمنی انتخابات میں کامیابی کے بعد تحریک انصاف کے ارکان کی تعداد 178 ہوگئی ہے جبکہ اس کے اتحادی مسلم لیگ ق کے پاس 10 ارکان ہیں ، دونوں جماعتوں کے مجموعی طور پر 188 ارکان ہیں۔دوسری جانب چار نشستیں جیتنے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے ارکان کی تعداد 168 ہوگئی اور اس کے اتحایوں میں پیپلز پارٹی کے 7 ارکان، ایک رکن راہِ حق پارٹی اور تین آزاد ارکان شامل ہیں ، یوں حمزہ شہباز کو 179 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔17 جولائی کو ہونے والے ضمنی الیکشن میں ایک آزاد امیدوار بھی کامیاب ہوا ہے جب کہ رکن پنجاب اسمبلی چوہدری نثار غیر فعال ہیں۔پنجاب اسمبلی کے 371 کے ایوان میں (ن) لیگ کے 2 ارکان کے استعفوں کے بعد اس وقت بھی 2 نشستیں خالی ہیں حکومتی اتحاد نے فیصلہ کیا ہے کہ قومی اسمبلی اپنی مدت پوری کرے گی جب کہ پنجاب میں وزیر اعلیٰ کو بچانے کیلئے بھرپور کوشش کی جائے گی۔حکمران اتحاد کے اجلاس کے بعد دیگر جماعتوں کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا ھے کہ پاکستان کی وفاقی حکومت، پنجاب حکومت، سندھ حکومت، بلوچستان اور خیبرپختونخوا (کےپی) حکومت کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مدت پوری کرے گی۔ پنجاب کے ضمنی انتخابات کسی جماعت کی مقبولیت یا عدم مقبولیت کا پیمانہ نہیں ہے کیونکہ یہ 20 نشستیں ایسی ہیں جو 2018 میں مسلم لیگ (ن) میں ایک بھی نہیں ملی تھی، یہ پی ٹی آئی یا آزاد تھے، جنہیں توڑ کر سازش کے تحت آزاد لڑوایا گیا تھا اور یہ سازش عمران خان کے لیے تیار کی گئی تھیں۔5 نشستیں مسلم لیگ (ن) اور اتحادیوں نے مل کر جیتی ہیں اور یہ ہمیں فتح حاصل ہوئی ہے، عمومی طور پر ہمارے ووٹ بینک میں 2018 کے مقابلے میں 39 فیصد اضافہ ہوا ہے تو کس بات کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں اور کون سا طوفان ہے جو تھم نہیں رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ جو طوفان آیا ہے یہ بھی تھمے گا اور اس کے آگے بند بھی باندھا جائے گا، اس جھوٹ، فتنے اور سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا، ہمارے اراکین توڑوں تو وہ حاجی بن جاتے ہیں اور تمہارے اپنے سیاسی حق کی بنیاد پر ڈنکے کی چوٹ پر تمہیں چھوڑ دیں تو ان کو برا کہتے ہو جو فعل عمران خان کے حق میں ہو وہ ٹھیک ہے اور جو تمہاری مرضی کے خلاف ہو وہ غلط ہوتی ہے تو کیا تم دودھ کے دھلے ہوئے ہو۔یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک جھوٹا جو سازش کرکے اور بچہ جمورا بن کر اقتدار میں آیا تھا وہ آج ووٹ کو عزت دینے کی بات کرے، ہماری جماعتوں اور قیادتوں نے اس ملک میں آئین اور جمہوریت کی سربلندی کے لیے جانیں دی ہیں، جیلیں کاٹی ہیں، جلاوطنی کاٹی ہیں اور جانی مالی قربانیاں دی ہیں، اس آوارہ گرد کا کیا لگا ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ تو صرف آوارہ گردی کرتا رہا ہے اور سب سے پہلے پرویز مشرف کے گھٹنوں پر جھکا تھا اس کے بوٹ پالش کرنے کے لیے، دوسروں کو چیری بلاسم کہتا ہے اور خود سر سے پاؤں تک خوشامد ہے، ہمیشہ امپائر کے ساتھ مل کر کھیلا ہے’۔انہوں نے کہا کہ ‘ہم نے پہلے بھی کہا ہے ہمارے لیے پیچھے ہٹنا اپنی سیاست بچانا خوب آتا تھا لیکن ہم نے یہ نہیں کیا بلکہ پاکستان کے وسیع تر مفاد میں حکومت کا کانٹوں کا ہار اپنے گلے میں ڈال دیا ہے، یہ پھولوں کی سیج نہیں ہے اور یہ ہمیں اس وقت بھی معلوم تھا’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں معلوم تھا کہ آگے سرنگیں ہیں اور خطرات ہیں لیکن کیا کرتے، ہم اپنے ملک کو چھوڑ کر بھاگ جاتے لیکن اپنے ملک کو چھوڑ کر بھاگا نہیں جاتا’۔رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ ‘عمران خان کی حکومت میں صحافت کو زنجیریں پہنائی گئیں، صحافیوں کو آف ایئر کیا گیا، سیاسی کارکنان کو اختلاف رائے کی بنیاد پر جیلوں میں ٹھونسا گیا لیکن معذرت کے ساتھ اس وقت نظام عدل سویا ہوا تھا، اس وقت عدالتیں سوئی ہوئی تھیں اور ہمارے مقدمات نہیں سنے جاتے تھے’۔انہوں نے کہا کہ ‘جب ریٹائر ہوجاتے ہیں تو پھر نجی مجلسوں میں آکر معذرت کر رہے ہوتے ہیں، کسی کا نام نہیں لوں گا لیکن سوال اٹھایا گیا تو پھر نام بھی لوں گا، تو پھر آپ اسی وقت گندے کام اور گندا دھندا نہ کریں، جمہوریت کو آلودہ نہ کریں، آئین پر شب خون نہ ماریں اور آئین سے کھلواڑ نہ کریں ‘کسی کی بھی حکومت ہو نظریہ ضرورت کے تحت فیصلے نہیں ہونے چاہیئں لیکن ماضی میں ایسا نہیں ہوا اور آخر کار طویل قیدیں کاٹنے کے بعد ایک،ایک کرکے پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں سے لوگ آئے، ان فیصلوں کو پڑھا جائے، وہ فیصلے منہ بولتے ہیں’۔نیب کے حوالے سے عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘نیب کے ڈریکونین دور اور قانون کے منہ پر طمانچہ ہیں، اس لیے آج اگر کوئی نیب کے پرانے قانون کی حمایت کرے، وہ کوئی بھی اور اس کا تعلق کسی بھی جگہ سے ہو وہ آئین اور جمہوریت کا دوست نہیں ہوسکتا، وہ انصاف کی بات نہیں بلکہ انصاف کا خون ہی ہوگا’۔ نیب کے مقدمات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ‘لوگوں کو بدنام اور رسوا کیا گیا اور کیونکہ پونے چار سال میں کسی کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں آسکا، ثبوت اور شواہد ہی کوئی نہیں تھا’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘اس وقت اخبار کی خبروں پر نیب کارروائی کرتی تھی، اب کارروائی کیوں نہیں ہورہی ہے، نیب تو ایک آزاد ادارہ ہے’۔خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ‘جب توشہ خانہ کی بات ہوتی ہے تو اب کارروائی کرنے والے کدھر ہیں، جب بلین ٹری سونامی کی بات ہوتی ہے، جب ان کے اہل خانہ کے کرپشن کی بات ہوتی ہے، اس کا بھی نوٹس لیا جانا چاہیے’۔حکومتی اتحادیوں کے اجلاس کے بارے میں بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘آج کے اجلاس میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا اور ہمیں کہا گیا ہے کہ اس کو میڈیا کے ذریعے قوم اور اداروں تک پہنچائیں کہ آخر کیا وجہ ہے الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ کیوں نہیں کرتا’۔‘ہم پوری آواز کے ساتھ مطالبہ کرتے ہیں کہ برسوں سے زیر التوا فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ ہونا چاہیے’۔ان کا کہنا تھا کہ ’20 حلقوں میں سے 15 سیٹیں پی ٹی آئی جیتے، شام تک یہ کہیں عدالتیں کھولو دھاندلی ہو رہی ہے لیکن جب نتائج اپنی مرضی کے آنے شروع ہوئے تو رونا بند کردیا’۔پنجاب کے ضمنی انتخابات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘جب نتائج آگئے تو کہا کہ الیکشن کمشنر استعفیٰ دے وہ جانب دار ہے، یہ ان سب کے لیے پیغام ہے جو بھی یہ سمجھتا ہے کہ غیرجانب داری میں آوازیں نہیں کسی جائیں گی تو آوازیں کسی جائیں گی کیونکہ پی ٹی آئی کی روایت ہی ایسی ہے’۔پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘انہیں مرضی کا چیف جسٹس چاہیے، مرضی کا چیف آف آرمی اسٹاف چاہیے، ایک کٹھ پتلی صدر اور مرضی کا میڈیا چاہیے، اگر یہ دے سکتے ہیں تو نام نہاد امیرالمومنین کے سینے میں ٹھنڈ پڑے گی’۔انہوں نے کہا کہ ‘اگر آپ اپنی ضمیر کے مطابق اپنی آواز بلند کریں گے تو وہ سر قلم کریں گے، آپ کو جیل میں ڈالیں گے، اور کچھ نہیں تو آپ کو غدار قرار دیں گے، چور بنانے کی کوشش کریں گے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘عمران خان سوشل میڈیا پر کروڑوں خرچ کر رہے ہیں یہ کدھر سے آ رہے ہیں، اس کا بھی سراغ لگایا جائے گا کہ یہ پیسہ کہاں سے اور کن مقاصد کے لیے آرہا ہے’۔‘ضمنی انتخابات مقبولیت کا پیمانہ نہیں ہیں، ہم نے آپ کی 5 سیٹیں جیتی ہیں، ہمارے ووٹ بڑھے ہیں اور ہمارا ووٹ بینک محفوظ ہے کوئی غلط فہمی میں نہ رہے’۔سابق وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ‘جب اس کی مرضی کا فیصلہ نہیں آتا ہے تو یہ کہتا ہے ملک کے ٹکڑے ہوجائیں گے، خاکم بدہن، پاکستان پر ایٹم بم برسانے کی باتیں کرتا ہے’۔ ‘اس کو کچھ نظر نہیں آتا ہے اگر کچھ ملتا نظر آتا ہے تو اس کو کچھ سکون ملتا ہے، یہ سازشی بھی ہے، بڑے سازشی دیکھے لیکن عمران خان اور اس کے ٹولے جیسے سازشی نہیں دیکھے’۔ ‘پارلیمنٹ کے فیصلوں کی بات ہوتی ہے تو ہم پارلیمانی نمائندہ قوتیں اور سب جمہوری قوتیں باآواز بلند یہ گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ پارلیمان کے فیصلوں کا احترام کیا جائے’۔’قانون سازی ہمارا اختیار اور حق ہے، اس اختیار اور حق پر بالکل کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور اس پر خاموش بھی نہیں رہا جائے گا’۔’یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ پاکستان کے وسیع مفاد کے اندر پارلیمان کوئی کام کرے تو اس کو معطل کردیا جائے، یہ افسوس ناک ہے، اس کی پاکستان کے وفاقی پارلیمانی نظام اور 1973 کے آئین میں گنجائش نہیں ہے’۔’پی ڈی ایم، پاکستان پیلزپارٹی (پی پی پی)، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) اور جو ہم سب اکٹھےہیں، ہم بڑے ادب کے ساتھ یہ گزارش بھی کرنا چاہتے ہیں کہ 63 اے کی تشریح پر عدالتی فیصلے پر ہمارے اعتراضات ہیں اور سمجھتےہیں یہ فیصلہ آئین کی روح سے متصادم ہے’۔اس حوالے سے سپریم کورٹ بار کی نظرثانی درخواست کئی دنوں سے سپریم کورٹ میں پڑی ہوئی ہے، ہماری استدعااور اپیل ہے کہ اس نظرثانی کو فل کورٹ سنے اور اس پر جلد از جلد فیصلہ دیا جائے’۔خواجہ سعد رفیق ہم پھر کہنا چاہتے ہیں کہ آئین میں اختیارات کی تقسیم واضح ہے، قانون سازی پارلیمان کا حق ہے، ہم سمجھتے ہیں اس میں مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔ہم سمجھتے ہیں کہ عمران خان اور اس کا ٹولہ چاہتا ہے کہ عدالتوں کے کندھوں پر چڑھ کر آئین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کروائے، یہ اداروں کو متنازع بنانے کی سازش کر رہا ہے۔عمران خان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھی کہتے ہیں ان کےمنہ کو خون لگا ہوا ہے اور جب فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق آتا ہے تو یہ نشانہ بناتے ہیں، ہم نے ایسا نہیں اور نہ کریں گے۔ ‘لیکن عمران خان کی کسی شیطانی قدم کے جواب میں فیصلہ ہوا تو خاموش نہیں رہا جائے گا اور ٹکا کے برابر جواب دیا جائے گاانہوں نے کہا کہ یہ جو انتخابات ہوئے ہیں اس سے ثابت ہوا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور الیکشن کمیشن غیرجانب دار تھے، اس کو تسلیم کیا جانا چاہیے، اس کی تحسین کی جانی چاہیے لیکن ہمیں 5 سیٹیں ملی ہیں ہم تسلیم کر رہے اور جن کو 15 سیٹیں ملی ہیں وہ رو رہا ہے۔ایدھرسپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) ترامیم کے خلاف چیئرمین تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی درخواست پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کر لیا ھے۔چیف جسٹس آف پاکستان، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ان کی ذاتی رائے ہے کہ معاملہ واپس پارلیمنٹ کو جائے گا، نیب قانون پرحکم امتناع جاری نہیں کرسکتے۔چیف جسٹس نے شاہ محمود قریشی کو مخاطب کر کے سوال کیا کہ نیب قانون سازی کے وقت آپ کیوں موجود نہیں تھے ؟ ہمارے سوالات میں ایک تجویز چھپی ہوئی ہے، اس پر عوام کی خاطر غورکریں، تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی، پارلیمان کا کوئی متبادل فورم نہیں،پارلیمنٹ کام کرے گی تو ملک چلے گا۔جسٹس اعجازالاحسن نے شاہ محمود قریشی کو مخاطب کر کے کہا کہ عوام کے منتخب نمائندوں کی حیثیت سے نیب ترامیم کامعاملہ پارلیمنٹ میں اٹھائیں،نیب ترامیم کےخلاف آپ نے پارلیمنٹ میں 40 فیصد عوام کی نمائندگی کیوں نہیں کی؟جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ نیب ترامیم کی سنجیدگی سے آگاہ ہونے کے باوجودآپ نے اسمبلی سے واک آؤٹ کیا، کیا اس صورتحال میں درخواست گزارکا حق دعویٰ بنتا ہے؟