.سی پیک فوجی منصوبہ نہیں بلکہ اقتصادی خوشحالی کا منصوبہ…….. (اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک)………………. سی پیک کوئی فوجی منصوبہ نہیں بلکہ اقتصادی خوشحالی کا منصوبہ ہے سپاہ سالار کے دورہ چین سے معیشیت پر مثبت اثرات مرتب ہونگے سی پیک پاکستان اور چین ہی نہی بلکہ پورے خطہ کے لئے گیم چیلنجر ہے , اس کے ذریعہ پسماندہ علاقوں میں ترقی اور ملک کی معیشت صنعتی انقلاب سے ہمکنار ہو گی , خیال رہے کہ سی پیک منصوبوں پر عملدرآمد میں سابق حکومت کی عدم دلچسپی اور سست روی پر چین کے تحفظات دور کرنے میں کافی حد تک آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورے نے کلیدی کردار ادا کیا ہے , ایک بار پھر سی پیک منصوبوں پر زور شور سے کام شروع کرنے کی ہدایات بھی جاری کر دی گئیں ہیں جس سے امید ہے کہ اس سال کے آخر مزید منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچ جائیں گے اس میں کوئی شک نہیں کہ سی پیک کی راہ میں بچھائے گئے کانٹے پاک فوج کو ایک ایک کرکے اٹھانے پڑ رہےہیں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا حالیہ دورہ چین بھی اس سلسلے کی کڑی تھا,پاکستان کی تینوں مسلح افواج کے اعلیٰ سطحی وفد کا 9سے 12جون تک غیر اعلانیہ دورہ چین، چینی آرمی اور سینئر حکام سے وسیع پیمانے پر بات چیت، خاص طور پر ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا چینی سنٹرل ملٹری کمیشن کے وائس چیئر مین جنرل ژانگ یوشیا سے باہمی، علاقائی اور بین الاقوامی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال اور اس کے نتیجے میں پاک چین مشترکہ مفادات کے تحفظ کیلئے فوجی تعاون بڑھانے، تزویراتی شراکت داری اور رابطوں میں تسلسل سمیت تربیت، ٹیکنالوجی اور دہشت گردی کے انسداد میں ایک دوسرے کی مدد کرنے پر اتفاق دونوں ملکوں کی لازوال دوستی کی روشن علامت ہے۔پاک چین سٹرٹیجک پارٹنر شپ پہاڑوں سے اونچی ، سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی ہے اور ملٹری ڈپلومیسی اور ملٹری ٹو ملٹری تعاون ہمیشہ بلندیوں کو چھوتا رہا ہے۔ فوجی سطح پر ہونے والے مذاکرات میں پاکستان اور چین نے مشکل دور میں اپنی تزویراتی شراکت داری کا اعادہ کیا۔ خاص بات یہ ہے کہ جنرل باجوہ واحد فوجی رہنما ہیں جنہوں نے چینی صدر کی دعوت پر بیجنگ کا دورہ کیا۔ یہ دورہ دونوں ملکوں کی جوائنٹ ملٹری کوآپریشن کمیٹی کا حصہ ہے جو فوجی تعاون کا اعلیٰ ترین ادارہ ہے پاکستان کی مسلح افواج کے دورے کے ثمرات دونوں ملکوں کے مفادات اور فوجی سلامتی کے حوالے سے انتہائی اہم ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایک اور بڑی پیش رفت یہ ہے کہ چین نے اس موقع پر پاکستان کو کم شرح پر دو ارب ڈالرز قرضے کی پیشکش کی ہے اور یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ مشکل وقت میں پہلے سے زیادہ عزم اور سرگرمی کے ساتھ پاکستان کا ساتھ دے گاچین میں پاکستانی سفیر کے توسط سےبتایا گیا ہے کہ چین پاکستان کے ساتھ اپنے معاشی اور سٹرٹیجک تعلقات کو وسیع اور مضبوط بنانا چاہتا ہے ۔ چینی قیادت نےیقین دلایا ہے کہ چین نہ صرف پاکستان کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے بلکہ پہلے سے زیادہ سرگرمی کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہےچین پاکستان کو جس شرح پر دو ارب ڈالر دے رہا ہے وہ اس سے بھی کم ہے جس پر وہ دوسرے دوست ملکوں کو دے رہا ہے۔چین کے علاوہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی آئی ایم ایف کے دائرے میں رہ کر پاکستان کی مالی امداد میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔ اس لئے توقع ہے کہ چین اور دوسرے دوست ممالک کی اعانت سے پاکستان اپنے معاشی معاملات پر قابو پالے گا۔ اس حوالے سے سی پیک کی رفتار بڑھانا بھی بہت ضروری ہے جس سے پاکستان میں اقتصادی انقلاب کی راہ ہموار ہو گی۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ امریکہ ، بھارت اور بعض چین مخالف مغربی ممالک شروع ہی سے سی پیک پر عمل درآمد میں رکاوٹیں ڈالتے رہے ہیں اور وہ اب بھی چین دشمنی میں اس عظیم منصوبے کو روکنا چاہتے ہیں لیکن بھارت کے سوا تقریباً تمام ہمسایہ ایشیائی ملکوں کے علاوہ کئی یورپی ممالک بھی اس منصوبے کا حصہ بن چکے ہیں ۔ دشمن نے ہمیشہ امن پر وار کیا لیکن پاکستان نے ہمیشہ دوستی کا پیغام دیا یادرہے کہ بھارت کے دشمن رویے کے باوجود 20 دسمبر 2016 ء کواس وقت پاکستان کے سدرن کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے کوئٹہ میں ایک تقریب سےخطاب میں بھارت کو پیشکش کی تھی کہ وہ ایران اورافغانستان اورخطے کے دیگرممالک کی طرح سی پیک میں شامل ہواوردشمنی ختم کرے لیکن بھارت نے اپنی ازلی دشمنی کامظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان اورچین کی اس فراخدلانہ پیشکش کاجواب بھی یہ کہہ کرٹھکرادیاکہ سی پیک میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی شمولیت پر بھارت کواعتراض ہے اوریہ دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات میں شامل ہے۔ جبکہ چین جوہری سپلائر گروپ ، این ایس جی میںبھارت کی شمولیت اور اقوامِ متحدہ کی جانب سے جیشِ محمد کے سربراہ مسعود اظہر پر پابندی کی راہ میں حائل ہے سی پیک چائنابیلٹ اورشاہراوں کے منصوبوں کی جانب ایک کھلی پیش قدمی ہے،یہ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں ہے بلکہ مستقبل کی ترقی کیلئے مواقع فراہم کرنے کاایک بہترین منصوبہ ہے ۔.پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ گوادرسے کاشغرتک ون بیلٹ ون روڈکے چینی ویژن کاحصہ ہے۔اس کے تحت چین پاکستان میں 60/ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کررہاہے۔چین نے یہ سرمایہ کاری ایسے حالات میں شروع کرنے کااعلان کیاجب کوئی دس روپے بھی لگانے کوتیارنہیں تھا.موجودہ حالات میں جب امریکاسمیت چندمغربی ممالک نہ صرف سی پیک منصوبے بلکہ پاک چین تعلقات کے خلاف ہرزہ سرائی میں مصروف ہیں ایسے میں سپہ سالار کے دورہ چین میں سی پیک تعاون کومزیدشعبوں تک توسیع دینے پراتفاق ہوا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دور میں فوجی سفارتکاری کا تصور سامنے آیا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ملک کے لیے ہر مشکل وقت میں مرد بحران ثابت ہوئے ہیں۔ امن کا زمانہ ہو یا جنگ کا ہمیشہ آگے بڑھ کر قائدانہ کردار ادا کیا۔ ان کےدور میں پاکستان نے کئی اہم سنگ میل عبور کیے ۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے 29 نومبر 2016 کو پاک فوج کے 16ویں سربراہ کی ذمہ داری سنبھالی، جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، دنیا باجوہ ڈاکٹرائن کی قائل ہوتی چلی گئی۔ بطور سپہ سالار قمر جاوید باجوہ نے امن کی مکمل بحالی کو مشن بنایا، ناقابل تسخیر ملکی دفاع کا بیڑہ بھی اٹھایا۔ چیلنج بہت بڑے تھے لیکن آرمی چیف نے انتہائی خندہ پیشانی سے قبول کئے، متاثر کن اقدامات سے اپنی الگ پہچان بنائی،بحالی امن کے حوالے سے سپہ سالار کے وژن کو ملکی سطح پر تو سراہا ہی گیا دیگر اقوام بھی اس کی گرویدہ ہیں، پاک فوج کے سربراہ نے جب چین کا دورہ کیا تو وہاں بھی انہیں گارڈ آف آنر دیا گیا،سلامتی کے ساتھ معاشی صورتحال بہتر بنانے کیلئے بھی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی خدمات تاریخ کا حصہ ہیں۔ معاشی حالت کی بہتری کیلئے انہیں قومی ترقیاتی کونسل کا حصہ بنایا گیا۔ پاکستان کی تینوں مسلح افواج کے ایک اعلی سطحی وفد نے 10جون سے12 جون تک چین کا تین روزہ دورہ کیا۔ وفد نے چینی فوج اور دیگر سرکاری محکموں کے اعلی حکام سے وسیع پیمانے پر بات چیت کی۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق 12 جون کو اپیکس میٹنگ ہوئی جس میں پاکستان کی جانب سے وفد کی سربراہی بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کی جبکہ چین کی جانب سے وفد کی قیادت چین کے سینٹرل ملٹری کمیشن کے وائس چیئرمین جنرل ژانگ یوشیا نے کی۔ دونوں اطراف نے بین الاقوامی اور علاقائی سلامتی کی صورتحال پر اپنے اپنے نقطہ نظر پر تبادلہ خیال کیا اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔ پاکستان اور چین نے مشکل وقت میں اپنی تزویراتی شراکت داری کا اعادہ کیا اور باہمی دلچسپی کے امور پر نقطہ نظر کا باقاعدہ تبادلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ دونوں فریقوں نے تین خدمات کی سطح پر اپنی تربیت، ٹیکنالوجی اور انسداد دہشت گردی تعاون کو بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔جہاں تک اس منصوبے کے مثبت اثرات کاتعق ہے تویہ نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے علاوہ ساری دنیاکے ممالک کیلئے ہی اقتصادی ترقی کادروازہ کھولنے کاسبب بنے گا، یہی وجہ ہے کہ افغانستان ایران اوردیگرممالک نے بھی اس میں شامل ہونے کی خواہش کااظہارکیاہے۔نئی منتخب حکومت کو چاہئے کہ چین کے ساتھ مربوط تعلقات قائم رکھنے اورحکومتی سطح پرمتعلقہ وزراء اوردیگرسیاسی وثقافتی وفودکوچین کادورۂ کراتی رہے۔اس قسم کے سفارتی دورے باہمی تعلقات مضبوط بنانے اوردشمن کی منفی سرگرمیاں خاک میں ملانے کے ناگزیراہمیت کے حامل ہوں گےہمارے لیے پاک چین اقتصادی راہداری باہمی تعلقات کے فریم ورک کی بنیاد ہے جومختلف شعبوں میں دوطرفہ طورپرطویل المدتی تعاون اور ترقی پرمرکوزہے۔ اس منصوبے سے نہ صرف دونوں ملکوں میں معاشی اورسماجی ترقی ہوگی بلکہ اس کاعلاقائی تعلقات،امن،استحکام اورخوشحالی میں بھی کردارہوگاپاکستان اقتصادی امداد اور تعاون کے لیے چین پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ چین اقتصادی راہداری کے منصوباں کے تحت پہلے ہی اربوں ڈالر پاکستان میں لگا چکا ہےمسلح افواج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے اقتصادی راہداری کے منصوبہ کو پاکستان کا معاشی مستقبل قرار دیتے ہوئے اس امر کا اعلان کہ اس کی سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اطمینان کا باعث ہےمسلح افواج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے سی پیک کی سکیورٹی کے حوالے سے بیان پاکستان کی اس کمٹمنٹ کا اظہار ہے جو چین اور پاکستان کے درمیان سی پیک کے تحت جاری منصوبوں پر کی گئی ہےچین نے سی پیک کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ سی پیک کے تحت منصوبوں کی رفتار اور بڑھائی جائے جبکہ چین کا کہنا ہے کہ سی پیک کو پاکستان کی ترقی اور ضروریات کے مطابق آگے لیکر چلیں گے ۔ حکومت پاکستان کی جانب سے مختلف فورمز بشمول پارلیمنٹ کو بارہا سی پیک کی مالی خدوخال بتائی جا چکی ہیں، سی پیک کے تحت بجلی کے تمام منصوبے آئی پی پی موڈ میں ہیں یعنی یہ قرض یا گرانٹ نہیں بلکہ سرمایہ کاری ہے، اس کے علاوہ گوادر کے اکثر منصوبے گرانٹ یا بغیر سود قرض کے تحت مکمل کئے جارہے ہیں جبکہ شاہراہوں و ریل کے منصوبے آسان شرائط و 2 سے 2.5فیصد کی شرح پر حاصل کئے جانے والے قرض سے مکمل کئے جارہے ہیں ۔جن کی ادائیگی 20تا25سال میں کرنی ہوگی، یہ آسان ترین شرائط ہیں۔ایک دفعہ پھر واضح کیا جاتا ہے کہ سی پیک قومی نوعیت کا انتہائی شفاف منصوبہ ہے جس کی تمام تر معلومات سٹیک ہولڈرز اور عوام کیساتھ شئیر کئے جاتے ہیں، اس منصوبےپر سیاسی وابستگیوں سے ہٹ کر تمام تر صوبائی حکومتیں نہ صرف متحد ہیں بلکہ منصوبوں کی بروقت تکمیل کیلئے کوشاں ہیں تاکہ پاکستان اس بے مثال منصوبے سے پوری طرح استفادہ کرسکیں۔ پاکستانی سرزمین پر شہروں، کاروباری مراکز اور شاہراہوں کی حفاظت کی ذمہ داری صرف اور صرف پاکستانی اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ یہ حقیقت اس بات سے عیاں ہوتی ہے کہ سی پیک منصوبوں کی حفاظت کیلئے حکومت پاکستان نے فوج کے زیر نگرانی پہلے ہی ایک باقاعدہ فورس یعنی سپشل سیکیورٹی ڈویژن تشکیل دی ہے سی پیک کے تحت توانائی، شاہراہوں اور گوادر کے شعبے میں متعدد منصوبوں پر اس وقت کام جاری ہے، اگر ان منصوبوں میں ملازمتوں کی شرح کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوگا کہ یہاں 70سے 80 فیصد پاکستانی اور 20فیصد کے قریب چینی اہلکار کام کررہے ہیں، یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ موجودہ کے علاوہ مستقبل کے منصوبوں میں چین کی لیبر یہاں منتقل کی جائے گی۔ یہ امر انتہائی غیر منطقی ہوگا کہ لیبر مہنگی ہونے کی وجہ سے یہاں منتقل کی جانے والی انڈسٹری میں چینی اہلکاروں کو ملازمتیں دی جائیں۔پاکستانی حکومت صوبوں کیساتھ مل کر تکنیکی تربیت کے مختلف منصوبوں پر کام کررہی ہے۔تاکہ مقامی نوجوان ملازمتوں کے ان مواقعوں سے استفادہ کرسکیں۔ اس وقت سی پیک کے حوالے سے قومی اسمبلی اور سینیٹ کی پانچ قائمہ کیمیٹیاں کام کررہی ہیں اور وزارت منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات کی جانب سے ہر ہفتے ان کمیٹیوں کو سی پیک کے کسی نا کسی موضوع پر تفصیلات/بریفنگ دی جاتی ہیں، اب تک سی پیک کے ہر گوشے پر انہی کمیٹیوں کو آگاہ کیا جاتا رہا ہے، اس کے علاوہ سینٹ اور قومی اسمبلی کے وقفہ سوالات میں ہر روٹہ ڈے پر کوئی 30 سے 40فیصد سوالات سی پیک کے حوالے سے ہی زیر بحث لائے جاتے ہیں، سی پیک کی اپنی سرکاری ویب سائٹ پر ہر منصوبے کے حوالے سے تٖفصیلی معلومات درج ہیں، مزید براں تمام صوبائی حکومتوں کے سربراہ یعنی وزراء اعلیٰ و دیگر افسران سی پیک کے تمام فورمز (پراگریس ریویو، جائنٹ ورکنگ گروپس اور جائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی) کے اجلاسوں میں باقاعدہ شرکت کرتے ہیں جہاں ہر منصوبے کی زیر و زبر کے حوالے سے تفصیلات زیر بحث لانے کیساتھ ساتھ فیصلے کیے جاتے ہیں، چین پاکستان اقتصادی راہداری دوطرفہ اقتصادی منصوبہ ہے ، اس کا کوئی فوجی مقصد نہیں۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری سے پاکستان کو اپنی معیشت خصوصا توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں کو بہتر بنانے میں مدد ملی ہےواضح رہے امریکی میڈیا کی رپورٹ میں الزام لگایا گیاہے کہ سی پیک نہ صرف معیشت اور تجارت کا منصوبہ ہے بلکہ اس کے فوجی مقاصد بھی ہیں سی پیک پاکستان اور چین ہی نہی بلکہ پورے خطہ کے لئے گیم چیلنجر ہے – سی پیک کے ذریعہ پسماندہ علاقوں کو ترقی کے عمل سے جوڑا جائیگا اور ملک کی معیشت صنعتی انقلاب سے ہمکنار ہو گی -پاکستان کی معاشی خرابی کی اصل ذمہ دار ہماری بری طرزِ حکمرانی اور مغرب کے معاشی پالیسی ساز ادارے ہیں۔ اس ملک کی معیشت کو ہمیشہ چین نے سہارا دیا اور مغرب نے ہمیشہ امریکہ کی قیادت میں ہماری معیشت کو دھچکا پہنچانے کی کوشش کی۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ چین جیسے ہمسایہ ملک سے معاشی تعاون کسی نعمتِ خداوندی سے کم نہیں۔