سیاسی انتشار کا خاتمہ ،چوہدری نثار .وزیر اعظم بنتے ھیں یا پھر مسلم لیگ نثار ، ،ان ہاؤس تبدیلی شریف فیملی کی امید .

..اصغر علی مبارک کا کالم ‘اندر کی بات”

اسلام آباد …اصغر علی مبارک کا کالم ‘اندر کی بات” چودھری نثار پی ایم ایل نون کے متفقہ وزیر اعظم کے امید وار کی حثیت سے سامنے آ چکے ھیں کیونکہ ،سیاسی انتشار کا خاتمہ کرنے کے لئے مسلم لیگ نثار ،ان ہاؤس تبدیلی کی خاطر ، شریف فیملی کی امید کی کرن چودھری نثاروزیر اعظم کی حیثیت سے سب کو قابل قبول ھیں یہ ہی وجہ تھی کہ وزیرا عظم نواز شریف کی ہدایت پر وفاقی وزراء چوہدری نثار کو منانے کے لئے پنجاب ہائوس گئے ، رہنمائوں کے درمیان 3 گھنٹے سے زائد ملاقات جاری رہی،وفاقی وزراء نے چوہدری نثار کو اختلاف دور کرنے پارٹی اجلاسوں میں شمولیت کیلئے درخواست کی جس پر وزیر داخلہ نے کہا کہ میری کسی سے ناراضگی نہیں میرا موقف اصولی ہے جس پر قائم ہوں ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ میں پاناما کیس کے فیصلہ محفوظ کے بعد وفاقی وزراء خواجہ سعد رفیق اور رانا تنویر حسین وزیر اعظم ہائوس سے پنجاب ہائوس پہنچے جہاں انہوں نے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے طویل ملاقات کی ،تینوں رہنمائوں کے درمیان وزیر اعظم کے امید وار کی حثیت سے امیدوار اور پاناما کیس سمیت ملک کی مجموعی سیاسی صورت حال پر تبادلہ کیا گیا ،رہنماؤں نے کہا کہ اس وقت پارٹی پر مشکل وقت ہے آپ اپنے اختلافات بھلا کر اپنافیصلہ کن کردار ادا کریں ، اس وقتپی ایم ایل نون کو متحد ہونے کی ضرورت ہے ،انہوں نے چوہدری نثار سے درخواست کی کہ وہآیندہ اجلاس میںضرور شرکت کریں تاکہ تحفظات ضرور دور کئے جائیں گے۔اس پر وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نےرہنماؤں کہا ہے کہ میرے کسی سے کوئی اختلافات نہیں ہیں میں کسی سے ناراض نہیں ہوں ،پارٹی میرا اثاثہ ہے،میری تمام تر خدمات بھی پارٹی ہی کے لئے ہیں ،انہوں نے کہا کہ کچھ ایشوز پر میرا موقف اصولی ہے جس پر کسی صورت پیچھے نہیں ہٹوں گا ۔ وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ پریس کانفرنس کروں گا تاہم کسی غیر ذمہ دارانہ رویے کی توقع نہ کی جائے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت نے چوہدری نثار کو پریس کانفرنس کرنے سے روکنے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری ںثار اتوار اہم پریس کانفرنس کرنے کی تیاری کر رکھی ھے ۔ ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ پریس کانفرنس میں وزارت داخلہ سے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کرنا چاھتے ھیں ۔ تاہم ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے چوہدری نثار کو پریس کانفرنس کرنے سے روکنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔اس سلسلے میں و فاقی وزراء خاصے متحرک ہیں۔ وزیر داخلہ وزیراعظم کیساتھ اختلافات کے باعث کئی روز سے خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ جبکہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیر داخلہ نے شرکت کرتے ہوئے وزیراعظم کے سامنے اپنے تحفظات کا کھل کر اظہار کیا تھاوزیر داخلہ چوہدری نثار کی جانب سے ان کے استعفی کے حوالے سے میڈیا پر چل رہی افواہوں کی تردید کی گئی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ وضاحت کی جائے کہ وہ قریبی ذرائع کون ہیں جو وزیر داخلہ کے استعفے کی خبریں دے رہے ہیں۔ میڈیا پر افواہیں زیر گردش ہیں کہ وزیر داخلہ نے وزیراعظم سے 35 سالہ رفاقت ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔وزیر اعظم اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے درمیان اصولی اختلافات پانامہ کیس کے دوران پیدا ہوئیں . اصولی اختلافات کی وجہ سے اجلاسوں میں بھی شرکت نہیں کی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پانامہ کیس میں شریف خاندان کے الزامات سے دور رہنے کا فیصلہ کیا وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے بھی چوہدری نثار کو قائل کرنے کے لئے ان سے رابطہ کیا ہے لیکن نثار نےاصولی موقف پر ڈٹے رھنےکی پالیسی اپنائی اور موجودہ سیاسی بحران کو نااهل مشیروں کا کارنامہ قرار دیا ھے جس سے پارٹی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ذرائع نے دعوئ کیاھیکہ چوہدری نثار پارٹی نہیں چھوڑیں گے.قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ آئین کے آرٹیکل 62 (1) (f) کے تحت نااہل سے بچنے کے لئے وزیراعظم کا ما ملہ آسان نہیں ھے .نواز شریف سیاسی غلطیوں کے بعد بند گلی میں داخل ھو چکے ھیں جس سے انھے کوئی اور نہیں صرف چودھری نثار علی خان ہی با عزت نکال سکتے ھیں اور حقیقت میں وہ آخری امید کی کرن اور نجات دہندہ بھی قرار دییے جا رھے ہیں ، پانامہ کیس جرمن اخبار رپورٹ میں شائع ہونے کے بعد چودھری نثار علی خان نے ہی پانامہ قسط ٹو کو روکوایا تھا ، جس کے بعد پانامہ کیس میں میاں نواز شریف کا براۓ راست نام شامل نہ ھوا ،چودھری نثار علی خان ایک دبنگ لیڈر ھیں جنوں نے برے ترین وقت میں بھی میاں نواز شریف کا ساتھ نہ چھوڑا تاھم اصولوں پرمیاں نواز شریفکے سامنے کئی بار ڈٹ گے جو انکے راجپوت ہونے اور خاندانی وقار و عزت کی پہچان رہا ھے یقینن ھے کے جے آئی ٹی معاملے پر چوہدری نثار علی خان سے بہتر کوئی مشورہ نہی دے سکتا تھا تاہم وزیر اعظم ہاؤس کے چند سیاسی ناعاقبت اندیش مشیروں کی سب اچھا کی گردان اور” قصیدہ سرائی کرنے والے چمچوں ” کی وجہ سے میاں نواز شریف فیملی ایسے مقام پر پہنچ گئی کہ قربانی کی عید سے پہلے قربانی لازمی دینا پڑے گی جس کے لیے نون لیگی فوجوں میں صف بندی کر لی گئی ھے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو یہ اعزار حاصل ہے کہ وہ مسلسل 8 مرتبہ مسلسل قومی اسمبلی کے ممبر بن چکے ہیں،وزیر داخلہ چوہدری نثار نے ہمیشہ اصولوں بنیاد پر سیاست کی ،انکی دبنگ شخصیت سے حکمران جماعت کے اہم وزیربھی ان سے نالاں نظر آتے ھیں ۔ وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے گزشتہ دنوں وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کو نا مناسب الفاظ پر ایک بھرپور جواب بھیجا جنہوں نے ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل پر اپنے وزیر داخلہ چوہدری نثار کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ چوہدری نثار نے 35سال سے (ن) لیگ کے ساتھ وابستہ ہیں اور اس سے وفاداری پر فخر کرتے ہیں۔‘اپوزیشن کا کہنا ھے کہ نواز شریف کے کیریئر کا 2017ءمیں ”دی اینڈ“ ہو جائے گا‘وزیراعظم ”ڈس کوالی فکیشن“ سے نہیں بچ سکیں گے‘ یہ معاملے کو جتنا چاہیں کھینچ لیں مگر آخری فیصلہ بہرحال ان کے خلاف ہو گا۔ دوسرا آپشن ھے کہ ‘ میاں نواز شریف جمہوریت‘ سسٹم اور ملک کے وسیع تر مفاد میں آل پارٹیز کانفرنس بلائیں‘ اپنے زیرتکمیل منصوبے کانفرنس کے شرکاءکے سامنے رکھیں‘ سیاسی جماعتوں سے مہلت لیں‘ یہ منصوبے مکمل کریں‘ چوتھی مرتبہ وزیراعظم نہ بننے کا اعلان کریں‘ اسمبلیاں توڑیں اور نئے الیکشنوں کا اعلان کر دیں‘دسمبر میں الیکشن ہو جائیں‘ پاکستان مسلم لیگ ن اکثریت حاصل کر لے تو چودھری نثار علی خانجیسے پڑھے لکھے اور تجربہ کار سیاستدان کو وزیراعظم منتخب کرا لیں اور یہ خود رائے ونڈ میں بیٹھ کر پارٹی چلائیں‘ یہ بھی بچ جائیں گے‘ فیملی بھی بچ جائے گی‘ پارٹی بھی بچ جائے گی‘ جمہوریت بھی بچ جائے گی اور ملک بھی بچ جائے گا‘ یہ آپشن پہلے آپشن سے ہزار گنا بہتر ہے‘ اسی لیے .وزیر اعظم چودھری نثار،سیاسی انتشار کا خاتمہ ،ان ہاؤس تبدیلی ، شریف فیملی کی امید کی کرن .قرار دئیے جا رھے ھیں ،،، ادھر چوہدری نثار کےآبائی حلقے میں لگنے والے بینرز نے خاصی کھلبلی مچا دی ہے۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار ممکنہ طور پر وزارت داخلہ کے عہدے سے استعفیٰ دینے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے یہ افواہیں بھی زیر گردش ہیں کہ وزیر داخلہ مسلم لیگ ن کو بھی خیر آباد کہے والے ہیں۔ اس تمام صورتحال میں اب وزیر داخلہ کے آبائی حلقے میں لگنے والے بینرز نے بھی کھلبلی سی مچا دی ہے۔
وزیر داخلہ کے آبائی حلقے میں لگنے والے بینرز پر پاکستان مسلم لیگ (نثار) تحریر ہے۔ ان بینرز کے بعد سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا چوہدری نثار مسلم لیگ ن کو خیر آباد کہہ کر نئی سیاسی جماعت بنانے جا رہے ہیں؟ اس سوال کا جواب تو آنے والا وقت ہی دے گا۔کہ چوہدری نثار .وزیر اعظم بنتے ھیں یا پھر مسلم لیگ نثار بنے گی ……