سیاست کے چوہدری اور چوہدریوں کی سیاست۔۔سیاسی بھونچال۔.اتحادی حکومت کا سپریم کورٹ پرعدم اعتماد۔.پرویز الہٰی وزیراعلیٰ………….(اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک)……………………. سپریم کورٹ کے فاضل ججز کے ریمارکس کے بعد واضع ہوگیاھے کہ آج جب سپریم کورٹ کا فیصلہ آئے گا تو پرویز الہٰی ہی آئینی اور قانونی وزیراعلیٰ بن جائیں گے۔ لیکن پاکستان کی سیاست میں بھونچال آجائے جس کے مضر اثرات سے کوئی نہیں بچ پائےگا جس کا واضع اشارہ اتحادی جماعتوں کا پریس کانفرنس کے زریعے ذمہ داروں پیغام دیاگیا ھے وفاقی حکومت میں شامل تمام جماعتوں نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے لیے فل کورٹ تشکیل دینے کی درخواستیں مسترد ہونے پر چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کی کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ھے اسلام آباد میں حکمران اتحاد کے اجلاس کے بعد رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اور جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ اتحادی جماعتیں واضح مؤقف دینا چاہتی ہیں کہ اگر فل کورٹ مسترد کیا جاتا ہے تو ہم بھی عدلیہ کے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں اور ہم اب اس کیس کے حوالے سے اس بینچ کے سامنے پیش نہیں ہوں گے، مقدمے کا بائیکاٹ کریں گے اور اس مقدمے کا حصہ نہیں بنیں گے۔ مطالبہ کیا گیا کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے معاملے میں جو کیس اس وقت سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، اس سے تین ججوں کا بینچ نہ سنے بلکہ تمام ججوں پر مشتمل کورٹ سنے۔ چونکہ تین ججوں کے ماضی میں کیے گئے فیصلوں کی وجہ سے ان کے ذہنی میلان کا اندازہ لگ رہا تھا کہ اس بینچ کا دیا جانے والا فیصلہ جانبدارانہ فیصلہ تصور کیا جائے گا لہٰذا فیصلے پر دونوں فریق کے اعتماد اور قوم کے اعتماد کو بحال اور برقرار رکھنے کےلیے ہم نے فل کورٹ کی تجویز دی تھی۔ ان کا کہنا تھا آج ہمارے وکلا نے اس مؤقف کی بنیاد پر عدالت کے سامنے بھرپور طور پر آئین اور قانون کے مطابق بینچ کو مشورہ دیا لیکن بدقسمتی سے عدلیہ نے ایک غیرجانبدار کی حیثیت میں ٹھنڈے دل کے ساتھ ہمارے مطالبے پر غور کرنے اور قبول کرنے کے بجائے مسترد کردیا اور فیصلہ تین ججوں پر مشتمل بینچ ہی کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم یہ بھی بتانا چاہتے ہیں کہ ملک کے سیاسی نظام میں عدلیہ کے ایسے فیصلے نے حکومتی نظام میں اضطراب پیدا کیا ہے، پالیسیوں کے تسلسل کو توڑا ہے، جس کے نتیجے میں معاشی بحران پیدا ہوئے ہیں، یہ حکومت اب اس تسلسل کو ختم کرنا چاہتی ہے، حکومت چاہتی ہے کہ کوئی ادارہ مداخلت نہ کرے۔ ایسی کوئی مداخلت جو حکومتی عمل اور سرکار کے عمل کو متاثر کرے اس سے ہر ایک اجتناب کرے، ورنہ ہم حکومت، وزیراعظم اور پارلیمنٹ کو تجویز دیں گے کہ اس حوالے سے بھی اصلاحات کے حوالے سے ازسرنو قانون سازی کی جائے کہ جس میں قوم، عدلیہ اور ان کے فیصلوں پر اعتماد کرسکے، ان کے فیصلے ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام کا ذریعہ بنیں اور عوام کے اعتماد کا سبب بنیں۔ ان کا کہنا تھا ہماری توجہ اس جانب بھی مبذول ہے اور ہم آنے والے وقت میں ہم اصلاحات کی منزل بھی حاصل کریں گے، قوم کو آنے والے مستقبل میں نوید دیں گے، اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مطالبہ فل کورٹ بینچ کا ہے، یہ مطالبہ آئین، جمہوریت اور عدالت کی انٹیگرٹی کے لیے یہ مطالبہ کیا تھا کہ سپریم کورٹ کے جج بیٹھ کر یہ اہم کیس سنیں کیونکہ اس کا تعلق پارلیمان سے ہے، سپریم کورٹ پارلیمنٹ کے دائرہ کار کے حوالے سے بار بار فیصلے کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب آپ ایک ادارے کے بارے میں فیصلے دے رہے ہیں تو ہم سمجھتے ہیں کہ آپ کا بھی پورا ادارہ بیٹھنا چاہیے اور یہ فیصلہ سنانا چاہیے، اگر فل کورٹ سماعت کرتا تو پورا پاکستان آپ کے فیصلے کو مانتا، اس لیے فیصلہ کیا ہے کہ جب ہمارا مطالبہ نہیں مانا جاتا تو پی ڈی ایم اور حکمران اتحاد میں شامل تمام جماعتیں وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے مقدمے میں سپریم کورٹ کی سماعت کا بائیکاٹ کریں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہم سجھتے ہیں کہ اب امتحان سپریم کورٹ کا ہے، یہ انصاف اور قانون کا تقاضہ ہے کہ جب ایک جج یا بینچ پر انگلی اٹھا دی جائے تو یہ ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس فیصلے سے اپنے آپ کو ہٹا لیں، یہی قانون کی بالادستی کا طریقہ ہوتا ہے، دنیا میں جہاں بھی قانون اور آئین کی بالادستی ہو، وہاں پر عدالتیں یہی فیصلے کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں پر صرف یہ درخواست تھی کہ یہ پارلیمان کا معاملہ ہے، پورا سپریم کورٹ بیٹھے، مخصوص بینچ نہ بیٹھیں، جو فیصلہ فل بینچ کرے، اس کو پورا پاکستان تسلیم کرے گا، اب ذمہ داری چیف جسٹس اور بینچ کے دو دیگر اراکین کی ہے کہ وہ یہ فیصلہ کرلیں کیا ان کے طرز عمل کو تاریخ قبول کرے گی یا نہیں۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ وہ کیا بنیادی مسائل ہیں جن کی وجہ سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ہمیں فل کورٹ چاہیے، پنجاب کے وزارت اعلیٰ کے انتخاب میں سپریم کورٹ نے متنازع فیصلہ دیا، جس کی وجہ سے 20 اراکین اسمبلی کے ووٹوں کو شمار نہیں کیا گیا جبکہ پاکستان کے تمام آئینی ماہرین اور 5 رکنی بینچ کے دو جج حضرات کہہ رہے تھے کہ یہ 20 ووٹ شمار ہونے چاہیے تھے۔



ان کا کہنا تھا اس حوالے سے سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست زیر التوا ہے کہ کیا ان ووٹوں کا شمار کیا جانا چاہیے تھا یا نہیں، اس کا فیصلہ ہوئے بغیر سارے عمل کو بحران کی طرف دھکیل دیا گیا، اسی طرح عمران نیازی کی ہدایت پر ان کو ڈی سیٹ کر دیا گیا۔ خیال رہےووٹنگ کے نتیجے کے مطابق پی ٹی آئی کے امیدوار پرویز الہیٰ نے 186 ووٹ لیے جبکہ مسلم لیگ ن کے حمزہ شہباز نے 179 ووٹ لیے تھے ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ق لیگ کے کاسٹ کیے گئے تمام 10 ووٹ مسترد ہوتے ہیں اور میں اس بات کا اعلان کرتا ہوں کہ 10 ووٹ ختم ہونے کے بعد حمزہ شہباز وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوگئے تھے۔ ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے ایوان کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق 16 اپریل کو ہونے والے انتخاب میں حمزہ شہباز کو 197 ووٹ پڑے تھے جن میں سے 25 ووٹ نکالنے کے بعد ان کے ووٹوں کی تعداد 172 بنتی ہے جو کہ درکار 186 ووٹ سے کم ہے لہٰذا اب انہیں اکثریت حاصل نہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ چوہدری شجاعت نے خط میں لکھا تھا کہ کسی کو ووٹ نہیں دینا۔سپریم کورٹ نے پارٹی سربراہ کا منحرف رکن کےخلاف ایکشن لینے یا نہ لینےکا اختیارختم کیاتھا سپریم کورٹ نے قراردیاہے کہ پارٹی ہیڈ ڈکلئیریشن دےیا نہ دےمنحرف رکن کاووٹ شمارنہیں ہوگا۔ ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری نے ق لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت کے خط کو پڑھ کر سنایا جس میں انہوں نے ق لیگ کے ارکان کو حمزہ شہباز کو ڈالنے کی ہدایت کی تھی۔ ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ اس خط کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں جتنے بھی ووٹ ق لیگ کے کاسٹ ہوئے ہیں وہ مسترد ہوتے ہیں اور میں اس بات کا اعلان کرتا ہوں کہ 10 ووٹ ختم ہونے کے بعد حمزہ شہباز وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوگئے ہیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں مسلم لیگ (ق) کے رہنما پرویز الہٰی کی جانب سے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی . چیف جسٹس نے کہا ہے کہ ہم نے جمہوریت اور پارلیمنٹ کو مضبوط کرنا ہے، افراد کو نہیں۔ ہماری نظر میں اسپیکر صاحب نے آرٹیکل 95 کی خلاف ورزی کی ہے ، کیس طویل کرنے کی ضرورت نہیں ہے، ہمارے ملک میں اچھی طرز حکمرانی بہت اہم معاملہ ہے، ہم نے وفاقی حکومت کے کیس میں ازخود نوٹس لیا، ہماری نظر میں اسپیکر صاحب نے آرٹیکل 95 کی خلاف ورزی کی۔چیف جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ اس کیس میں پارٹی کے سربراہ کی ہدایت ہے، صرف ایک نکتہ دیکھنا ہے کیا پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کا فیصلہ اوور رول کر سکتا ہے یا نہیں۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے سماعت کی تھ سپریم کورٹ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد وقفہ لیا اور وقفے کے بعد مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ فل بینچ بنانے کی تمام درخواستیں مسترد کی جاتی ہیں مختصر فیصلے کے حوالے سے تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی۔عدالت نے مختصر فیصلے میں کہا کہ معاملے کی بنیاد قانونی سوال ہے کہ ارکان اسمبلی کو ہدایت پارٹی سربراہ دے سکتا ہے یا نہیں، وکلا نے فل کورٹ بنانے اور میرٹ پر دلائل دیے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پرویز الہٰی کے وکیل نے کہا رولنگ عدالتی فیصلے اور آئین کے خلاف ہے جبکہ ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا پارٹی سربراہ ارکان کو ہدایت دے سکتا ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ مزید وقت دینے کی استدعا منظور کی جاتی ہے اور مزید سماعت کل ہوگی اور فل کورٹ بنانے کی استدعا مسترد کردی جاتی ہے۔سپریم کورٹ کی جانب سے فل کورٹ کی تشکیل کے حوالے سے دلائل کے بعد فیصلے کے لیے وقفہ لیا گیا تھا اور وقفے کے بعد سماعت شروع ہوئی تو سپریم کورٹ نے پاکستان مسلم لیگ (ق) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی فریق بننے کی استدعا منظور کرلی تھی۔سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ کیس میرٹ پر سنیں گے، چیف جسٹس نے کہا کہ فل کورٹ بینچ تشکیل دینا ہے یا نہیں ابھی اس کے لیےمزید سماعت کی ضرورت ہے۔ وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ نظرثانی کیس پر ابھی دلائل نہیں ہوئے، 12 کروڑ کا صوبہ ہے اور سنجیدہ معاملہ ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ 5 ججوں نے وزیراعظم کو گھر بھیجا تھا، جس پر وزیر قانون نے کہا کہ معذرت چاہتا ہوں تاہم چیف جسٹس نے کہا کہ آپ معذرت نہ کریں، آپ نے تو مٹھائیاں بانٹی تھیں،ہم نے آئین کو دیکھنا ہے۔چیف جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ کیس میں نہیں پیش ہونا نہ ہوں، اگر موجودہ حکومت سپریم کورٹ کو تسلیم نہیں کر رہی تو یہ بہت سنگین ہے، آرٹیکل 63 اے کا طویل سفر ہے۔وزیرقانون نے کہا کہ میں نے استدعا کی ہے کہ فل کورٹ بینچ بنانے سے عدالتی تکریم میں اضافہ ہوگا۔ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کے وکیل عرفان قادر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کیس 10 ججوں نے سنا، وہ ایک جج کا معاملہ تھا اور یہ پورے صوبے کا معاملہ ہے۔انہوں نے کہا کہ علی ظفر صاحب کا کہنا تھا یہی بینچ اس کیس کو سنے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ایک جج صاحب تھے، جنھوں نے جوڈیشل کونسل کا فورم استعمال کیا۔عرفان قادر نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس 10 ججوں نے سنا جبکہ یہاں ایک صوبے کا معاملہ ہے۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ رہا غیرجانب داری پر سوال ہے بلکہ میں کہہ رہا ہوں اگر فل کورٹ بنایا جائے تو عدالت کی تکریم میں اضافہ ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر ہے کہ ایک ہی بینچ میں کیسز چلتے ہیں، ڈپٹی اسپیکر کی حاضری بارے میری رائے پر تھوڑی ناراضی نظر آئی، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ فل کورٹ بڑے معاملات میں بنایا جاتا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے دیکھنا ہے ہمارا فیصلہ فل کورٹ کے حوالے سے دیکھی ہیں، ملک میں گورننس بڑا مسئلہ ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کے معاملے پر ہم نے از خود نوٹس لیا، اس معاملے میں ہم نے از خود نوٹس نہیں لیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ کیس طویل کرنے کی ضرورت نہیں ہے، ہمارے ملک میں اچھی طرز حکمرانی بہت اہم معاملہ ہے، ہم نے وفاقی حکومت کے کیس میں ازخود نوٹس لیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہماری نظر میں اسپیکر صاحب نے آرٹیکل 95 کی خلاف ورزی کی، جس پر عرفان قادر نے کہا کہ نظرثانی کیس کو اس کیس سے الگ نہیں کر سکتے۔عرفان قادر نے کہا کہ وزیر قانون صاحب کو سپریم کورٹ میں استدعا کرنے کی ضرورت نہیں۔ڈپٹی اسپیکر کے وکیل نے دلائل دیے کہ اگر عدالت کہہ دے کہ منحرف اراکین کا ووٹ شمار ہوگا تو پھر معاملہ خراب ہو جائے گا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ کیس طویل کرنے کی ضرورت نہیں ہے، ہمارے ملک میں اچھی طرز حکمرانی بہت اہم معاملہ ہے، ہم نے وفاقی حکومت کے کیس میں ازخود نوٹس لیا، ہماری نظر میں اسپیکر صاحب نے آرٹیکل 95 کی خلاف ورزی کی۔عرفان قادر نے کہا کہ سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ عدلیہ کو بھی اپنے فیصلوں میں متحد ہونا چاہیے، میں سپریم کورٹ پر تنقید نہیں کر رہا، ہم ہیں چلے جائیں گے لیکن آئین کی بالادستی ہونی چاہیے۔ پارٹی سربراہ اور پارلیمانی پارٹی کے سربراہ میں بڑا فرق ہے، پرویز الہٰی کو وہ جماعت وزیراعلیٰ بنانا چاہتی ہے، جن کو وہ ڈاکو کہتی تھی۔اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چوہدری شجاعت حسین ملک کے بڑے سیاست دان ہیں۔ جنہوں نے آئین توڑا، ملک کو تباہی کے دہانے پر لے گئے، اب تاثر ہے کہ عدالت ان کو فائدہ دے رہی ہے۔
چیف جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ ہم نے زیرالتوا کیسز کا سپریم کورٹ پر بوجھ کم کیا، سپریم کورٹ کے سارے جج محنت اور لگن سے زیر التوا مقدمات کا بوبھ کم کررہے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ مختلف رجسٹریوں میں بیٹھ کر وہ کیسز کی سماعت کررہے ہیں، سوشل میڈیا حقائق نا صرف بیانیہ سنتا ہے، ہم نے اس کیس میں تمام فریقین کو بات کرنے کا موقع دیا، یہ عدالت زیر التوا مقدمات نمٹانے کے لیے دن رات کام کر رہی ہے۔
اس کیس میں پارٹی کے سربراہ کی ہدایت ہے، صرف ایک نکتہ دیکھنا ہے کیا پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کا فیصلہ اوور رول کر سکتا ہے یا نہیں۔پارلیمانی پارٹی عام عوام کی اسمبلی میں نمائندگی کرتی ہے، 18ویں ترمیم میں پارلیمانی پارٹی کو اختیارات دیے، بورس جانسن کو پارلیمانی پارٹی نے وزارت عظمیٰ سے ہٹایا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے جمہوریت اور پارلیمنٹ کو مضبوط کرنا ہے، افراد کو نہیں۔
اس کے ساتھ ہی ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری کے وکیل نے اپنے دلائل مکمل کیے۔پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل شروع کیے اور کہا کہ یہ دیکھنا ہے کہ پارلیمنٹ کا مسئلہ عدالت میں آسکتا ہے یا نہیں، پارلیمنٹ غیر آئینی کام کرے گی تو معاملات عدالت میں آئیں گے۔فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ الیکشن میں ووٹ مسترد کرنے کا کیس بھی سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے، پارلیمان کے مسئلے عدالتوں میں نہیں آنے چاہئیں، سپریم کورٹ کو دیکھنا چاہیے کہ وہ پارلیمنٹ کی اندرونی کارروائی میں مداخلت نہیں کر سکتا،۔چیف جسٹس نے کہا کہ جب پارلیمان میں آئین شکنی ہوگی یا غیر قانونی اقدام ہوگا تو معاملہ سپریم کورٹ میں آئے گا۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ حقائق کی بات کر رہے ہیں عدالت کے سامنے ایک قانونی سوال ہے، ماضی قریب آرٹیکل 69 کا کیس آیا تھا، آج آپ دوسری جانب کھڑے ہیں تو کہتے ہیں عدالت کا اختیار نہیں۔فاروق ایچ نائیک نے عدالت سے کہا کہ اب وقت اور حالات تبدیل ہو چکے ہیں، سماعت جمعرات تک ملتوی کردیں کیونکہ مزید دلائل دینا چاہتا ہوں۔
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ بات دو دن کی نہیں ہے، عدالت نے تعین کرنا ہے وزیراعلی کا انتخاب درست تھا یا نہیں، سوال بس اتنا ہے کہ اگر ڈپٹی اسپیکر نے ہمارے فیصلے کو غلط سمجھا ہے تو ہم اس کو درست کریں، کیسز کا پنڈورا باکس نہیں کھول سکتے۔اس کے ساتھ ہی فاروق ایچ نائیک کے دلائل مکمل ہوگئے۔پاکستان مسلم لیگ(ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین کے وکیل صلاح الدین نے دلائل کا آغاز کیا اور کہا کہ پارٹی سربراہ نے تمام اراکین کو خط لکھا، پارلیمانی پارٹی کو میرے خیال میں پارٹی سربراہ احکامات دیتا ہے۔بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ خط کب لکھے گئے کب ملے عدالت نے یہ سوال پوچھا تھا، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عدالت نے صرف سمجھنے کے لیے سوال پوچھا تھا، اسپیکر نے فیصلہ خط ملنے کے وقت پر نہیں بلکہ عدالتی حکم کی روشنی میں دیا۔
چوہدری شجاعت کے وکیل نے کہا کہ اس معاملے کو فل کورٹ میں طے کیا جانا چاہیے۔
سپریم کورٹ کے بینچ کے تیسرے رکن نےجسٹس منیب اختر نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی میں تمام ارکان کی اہمیت ہے، پارلیمانی پارٹی میں پارٹی سربراہ کی آمریت نہیں ہونی چاہیے، پارلیمانی پارٹی کی مشاورت سے فیصلے ہوتے ہیں۔ کئی جماعتیں کہتی ہیں کاغذوں میں نام کسی کا بھی ہو ہمارا قائد فلاں ہے، اصل فیصلہ پارٹی سربراہ کا ہی ہوتا ہے قائد کوئی بھی ہو۔
چوہدری شجاعت حسین کے وکیل نے کہا کہ کسی جماعت کا سینیٹر ہو تو وہ کس پارلیمانی پارٹی سے ہدایت لے گا۔ ہر سیاسی جماعت کا ایک منشور ہوتا ہے، تھرڈ ورلڈ ممالک میں پارٹی سربراہ کی اپنی شخصیت ہوتی ہے۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی میں تمام ارکان کی اہمیت ہے، پارلیمانی پارٹی میں پارٹی سربراہ کی آمریت نہیں ہونی چاہیے، پارلیمانی پارٹی کی مشاورت سے فیصلے ہوتے ہیں۔چوہدری شجاعت حسین کے وکیل نے کہا کہ رکن صوبائی اسمبلی اور ڈپٹی اسپیکر کو بھیجے خطوط کا ریکارڈ جمع کراؤں گا، کچھ ایسے حقیقت پر مبنی سوالات ہیں جو عدالت میں اٹھائے گئے ہیں اور ان کا جواب دینا ضروری ہے۔ اس میں پارلیمنٹری پارٹی کی ہدایت کا معاملہ ہے کہ کون کیسے یہ ہدایت دے سکتا ہے، ووٹ کا فیصلہ پارٹی سربراہ اور پارٹی کا ہوتا ہے، فل کورٹ کی بصیرت سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ بار بار فل کورٹ کا ذکر کیوں کر رہے ہیں،آپ 8 ججوں کے فیصلے کا حوالہ دے رہے ہیں تو 9 جج بھی سماعت کرسکتے ہیں۔
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ اکیسویں ترمیم کیس کا حوالہ دے رہے ہیں، یہ دیکھیں اکیسویں ترمیم میں فیصلہ کس تناسب سے آیا تھا، بینچ کے رکن جتنے بھی ہوں فیصلے کا تناسب بدلتا رہتا ہے۔جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ یہ دیکھیں اکیسویں ترمیم میں فیصلہ کس تناسب سے آیا تھا، بینچ کے رکن جتنے بھی ہوں فیصلے کا تناسب بدلتا رہتا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ توقع نہیں تھی کہ اسمبلی بحال ہونے کے بعد نئی اپوزیشن واک آؤٹ کر دے گی، عدالت نے نیک نیتی سے فیصلہ کیا تھا۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اپریل 2022 سے آج تک بحران بڑھتا ہی جا رہا ہے، آپ شاید چاہتے ہیں کہ یہ بحران مزید طویل ہو، فل کورٹ ستمبر میں ہی بن سکے گا تو کیا تب تک سب کام روک دیں، فی الحال صرف 2 مزید جج دستیاب ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ ریاست کے اہم ترین معاملات کو اس لیے لٹکا نہیں سکتے کہ آپ کی خواہش ہے، آئینی اور عوامی مفاد کے مقدمات کو لٹکانا نہیں چاہیے، معیشت کی صورت حال سے ہر شہری کی طرح ہم بھی پریشان ہیں۔چیف جسٹس عمر عطابندیال کا کہنا تھا کہ کیا معیشت کا یہ حال عدالت کی وجہ سے ہے یا عدم استحکام کی وجہ سے ہے، آج زیادہ ووٹ لینے والا باہر اور کم لینے والا وزیراعلی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ برقرار رکھنے کے لیے ٹھوس بنیاد درکار ہے، ریاست کے کام چلتے رہنے چاہئیں، جلدی مقدمہ نمٹانا چاہتے ہیں۔
بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ جج بھی ویڈیو لنک پر کیس سن سکتے ہیں، جس پر جسٹس نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے الیکشن سے پہلے بھی فریقین کو بلا کر متفق کیا تھا اور حمزہ شہباز کو ضمنی الیکشن تک بطور وزیراعلیٰ برقرار رکھا تھا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ حمزہ شہباز نے پرامن اور بہترین ضمنی الیکشن میں کردار ادا کیا، اب وزیراعلی کے الیکشن کا جو نتیجہ آیا اس کا احترام کرنا چاہیے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کے فیصلے پر انتخابات ہوئے اور پر امن طریقے سے ہوئے، ہمیں یہ ڈھونڈ کر دے دیں کہ کہاں لکھا ہے کہ پارٹی سربراہ غیر منتخب بھی ہو تو اس کی بات ماننا ہوتی ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آج جس شخص نے 186 کے مقابلے میں 179 ووٹ لیے وزیراعلی ہے، ایسے وزیراعلیٰ کو جاری رکھنے کے لیے ٹھوس قانونی وجوہات چاہیے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ہم یکم جولائی کو فیصلہ دیتے ہوئے بھی موجود وزیراعلیٰ کو کام سے نہیں روکا تھا، الیکشن کے نتائج کا احترام ہونا چاہیے، آپ کہہ رہے ہیں پارٹی سربراہ کا کنٹرول ہوتا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ خود سے سوال پوچھیں کہ آئین کے مطابق کس نے ہدایات دینی ہیں، جس پر وکیل چوہدری شجاعت نے کہا کہ ہم کیس کو بالکل طویل نہیں کرنا چاہتے۔
چیف جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ کوشش کر رہے ہیں جہاں عدالت انے والوں کو سہولیات دیں، بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ امریکا میں جج سیاسی جماعتیں اور حکومتی تعینات کرتی ہیں۔
چوہدری شجاعت کے وکیل نے کہا کہ شکر ہے پاکستان میں ایسا نظام نہیں ہے، فاضل بینچ رات کے 7 بجے بھی موجود ہے تو باقی جج بھی خوشی سے اپنی ذمہ داری نبھائیں گے۔فل کورٹ کے حوالے سے چیف جسٹس نے کہا کہ جج دستیاب نہیں ہیں، جس پر وکیل چوہدری شجاعت نے کہا کہ جو جج دستیاب ہیں وہ بھی بیٹھ کر فیصلہ کر سکتے ہیں تاہم چیف جسٹس نے کہا کہ ہم تین ججوں کے علاوہ صرف دو مزید جج شہر میں ہیں۔
وکیل صلاح الدین نے کہا کہ وڈیو لنک کے ذریعے بھی جج شریک ہو سکتے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ وڈیو لنک شکایت کنندگان کی سہولت کے لیے ہے۔
بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ عدالت نے اسپیکر کے ووٹ مسترد کرنے کے اختیار پر واضح فیصلہ دے رکھا ہے، جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اگر آپ کی بات مان لی جائے تو کیا اراکین اسمبلی ڈمی ہیں۔
مسلم لیگ (ق) کے سربراہ کے وکیل نے کہا کہ اگر جلسے میں اراکین بیٹھے ہیں اور کہا جاتا ہے فلاں کو سپورٹ کرنا ہے تو کیا یہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس تصور ہو گا۔
چوہدری شجاعت حسین کے وکیل نے کہا کہ عوام ماڈل ٹاؤن کے شریفوں کے معجزے اور گجرات کے چوہدری کا شان دار ماضی دیکھ چکے ہیں، اس لیے حمزہ وزیراعلی بنیں یا پرویز الہٰی آسمان نہیں گرے گا۔
بیرسٹر صلاح الدین نے اپنے دلائل میں کہا کہ عوام میں تاثر گیا کہ اہم سیاسی معاملات پر چند جج فیصلہ کرتے ہیں تو آسمان لازمی گرے گا۔
انہوں نے کہا کہ استدعا ہوگی عدالت 63 اے سے متعلق معاملات پر فل کورٹ بنا دیں۔
سپریم کورٹ میں ایک مرتبہ پھر 15 منٹ کے لیے وقفہ کیا گیا۔
قبل ازیں سماعت کے آغاز میں عدالت نے سابق صدر سپریم کورٹ بار لطیف آفریدی کو روسٹرم پر بلایا اور کہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ بار کے کافی صدور یہاں موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب: چوہدری شجاعت، جے یو آئی، پیپلز پارٹی کی کیس میں فریق بننے کی درخواست
لطیف آفریدی نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کی تشریح کی نظرثانی درخواستیں زیر التوا ہیں، موجودہ سیاسی صورتحال بہت گھمبیر ہے، سپریم کورٹ ایک آئینی عدالت ہے، ہمارے سابق صدور نے اجلاس کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ بار کی نظرثانی درخواست بھی زیرالتوا ہے، دستیاب ججز پر مشتمل فل کورٹ تشکیل دے کر تمام مقدمات کو یکجا کرکے سنا جائے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ذرا کیس کو سیٹ اپ تو کر لینے دیں۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اس کیس کا براہ راست تعلق ہمارے فیصلے سے ہے، ہم چاہیں گے فریقین ہماری رہنمائی کریں۔
تاہم پرویز الہٰی کے وکیل ایڈووکیٹ علی ظفر نے سابق صدور سپریم کورٹ بار کے مطالبے پراعتراض اٹھا دیا اور کہا کہ ہمارے کسی سوال کا جواب نہیں دیا گیا۔
اس دوران چیف جسٹس کا پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ ہوا، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ کے پاس کرسی تو ہے ناں۔
فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سر کرسی کی کوئی بات نہیں، کرسی کی پرواہ نہیں کرتا، ہم نے صبح درخواست جمع کروائی تھی اسے بھی سنا جائے۔چیف جسٹس نے کہا کہ جو اسٹیک ہولڈرز ہیں ان سب کو سنا جائے گا۔
لطیف آفریدی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیلیں بھی زیر التوا ہیں، آئینی بحران سے گریز کے لیے فل کورٹ تشکیل دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بحران گہرے ہوتے جارہے ہیں، پورا نظام داؤ پر لگا ہوا ہے، سسٹم کا حصہ عدلیہ اور پارلیمان بھی ہیں۔
ڈپٹی اسپیکر کے وکیل عرفان قادر نے بھی دلائل کا آغاز کرتے ہوئے عدالت سے فل بینچ بنانے کی استدعا کی تو عدالت نے استفسار کیا کہ کن نکات پر فل کورٹ سماعت کرے۔
عرفان قادر نے کہا کہ آئین کی دفعہ 63 اے کے حوالے سے آپ اپنے حکم نامے کا پیرا گراف نمبر 1 اور 2 پڑھ لیں جس سے سب باتیں کلیئر ہوجائیں گی۔ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ میں ہمارے فیصلے کے کس حصے کا حوالہ دیا، چیف جسٹس
عرفان قادر نے کہا کہ صدر مملکت نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کا ریفرنس بھیجا، آرٹیکل 63 اے کو الگ کر کے نہیں پڑھا جاسکتا، سیاسی جماعت کو ہدایات پارٹی سربراہ دیتا ہے، پارلیمانی جمہوریت میں سیاسی جماعتوں کا اہم کردار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی جماعتوں کی کمزوری سے جمہوری نظام خطرے میں آسکتا ہے، پارٹی پالیسی سے انحراف نظام کے لیے کینسر کے مترادف ہے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جو ارکان اسمبلی میں موجود ہوتے ہیں صرف وہ پارلیمانی پارٹی کا حصہ ہوتے ہیں، سیاسی جماعت اور پارلیمانی پارٹی میں فرق ہے، کیا ڈیکلریشن اور پارلیمانی پارٹی کو ہدایات ایک ہی شخص دے سکتا ہے؟
وکیل حمزہ شہباز نے کہا کہ میں نے اپنا جواب عدالت میں جمع کروا دیا ہے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہمیں بتائیں ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ میں ہمارے فیصلے کے کس حصے کا حوالہ دیا، ڈپٹی اسپیکر نے ہمارے جس پیراگراف پر انحصار کیا وہ کہاں ہے؟
جسٖٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ آئین ڈائریکشن اور ڈیکلریشن پر واضح ہے، پارٹی سربراہ اور پارلیمانی پارٹی کا کردار الگ الگ ہے۔
حمزہ شہباز کے وکیل نے غیر متعلقہ جواب دیا تو ججز نے انہیں پہلے بنیادی سوال کا جواب دینے کی ہدایت کی۔
جسٹس منیب اختر نے وکیل سے کہا کہ جو نقطہ آپ اٹھانا چاہ رہے ہیں وہ ہم سمجھ چکے ہیں، مناسب ہوگا اب کسی اور وکیل کو موقع دیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پارٹی ہدایت اور ڈیکلریشن دو الگ الگ چیزیں ہیں، ڈپٹی اسپیکر نے عدالتی فیصلے کے جس نقطے کا حوالہ دیا وہ بتائیں۔
حمزہ شہباز کے وکیل منصور اعوان نے کہا کہ پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ مسترد ہوجائے گا، یہی نقطہ ہے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کا سربراہ ہو سکتا ہے؟ فیصلے کے کون سے حصے پر ڈپٹی اسپیکر نےانحصار کیا اس کابتائیں۔
حمزہ شہباز کے وکیل نے بتایا کہ ڈپٹی اسپیکر نے فیصلے کے پیراگراف نمبر تین پر انحصار کیا۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ 14ویں ترمیم میں آرٹیکل 63 اے شامل کیا گیا، آپ کے سیاسی پارٹی کے سربراہ کے بارے میں کیا قانونی دلائل ہیں؟
منصور اعوان نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے، 14ویں ترمیم سےآئین میں شامل کیا گیا لیکن 18ویں ترمیم کے ذریعے آرٹیکل 63 اے کی مزید وضاحت کی گئی۔
دلائل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جسٹس شیخ عظمت سعید کے 8 رکنی فیصلے کے مطابق پارٹی سربراہ ہی سارے فیصلہ کرتا ہے۔
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پارٹی پالیسی میں ووٹ کاسٹ کرنے سے متعلق دو الگ اصول ہیں، 18ویں ترمیم سے قبل آرٹیکل 63 اے پارٹی سربراہ کی ہدایات کی بات کرتا تھا، 18ویں ترمیم کے بعد پارٹی لیڈر کو پارلیمانی پارٹی سے بدل دیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پہلے پارلیمانی پارٹی اور پارٹی سربراہ کے اختیارات میں ابہام تھا، ترمیم کے بعد آرٹیکل 63 اے میں پارلیمانی پارٹی کو ہدایت کا اختیار ہے، عدالتی فیصلہ خلاف آئین قرار دینے کے نقطے پر رولز موجود ہیں۔
وکیل حمزہ شہباز نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے پر فیصلہ ماضی کی عدالتی نظیروں کے خلاف ہے، سپریم کورٹ آرٹیکل 63 اے کے معاملے پر فل کورٹ تشکیل دے، اگر پانچ رکنی بینچ کو لگتا ہے ماضی کا عدالتی فیصلہ غلط تھا تو فل بینچ ہی فیصلہ کر سکتا ہے۔
صدارتی ریفرنس میں ارکان پارلیمنٹ کو پارٹی سربراہ کی ڈکٹیٹرشپ سے بچایا، جسٹس اعجاز الاحسن
چیف جسٹس نے کہا کہ اس عدالت میں سینئر پارلیمینٹرینز نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ پارٹی سربراہ آمر ہوسکتا ہے، اس کے کردار کو کم کرنے کے لیے پارلیمانی پارٹی کے لیڈر کو کردار بھی دیا گیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان میں موروثی پارٹیاں ہیں، ایک سربراہ باہر بیٹھ کر کیسے ہدایات دے سکتا ہے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پارلیمانی نمائندوں کو آئین میں اختیارات دیے گئے ہیں، اسمبلی میں کس کو ووٹ دینا ہے اس کا فیصلہ پارلیمانی پارٹی کرتی ہے، صدارتی ریفرنس میں ارکان پارلیمنٹ کو پارٹی سربراہ کی ڈکٹیٹرشپ سے بچایا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ پارٹی سربراہ کی ڈکٹیٹرشپ سے متعلق کئی ارکان نے شکایات کیں، پارٹی سربراہ کو بھی پارلیمانی پارٹی کی رائے سننی ہوگی۔
وکیل حمزہ شہباز نے کہا کہ 4 سیاسی جماعتوں کے سربراہ پارلیمانی پارٹی کا حصہ نہیں ہیں، جے یو آئی (ف) پارٹی سربراہ کے نام پر ہے لیکن مولانا فضل الرحمٰن پارلیمانی پارٹی کا حصہ نہیں ہیں، عوام میں جواب دہ پارٹی سربراہ ہوتا ہے پارلیمانی پارٹی نہیں۔
سیاسی جماعت اصل میں وہی ہوتی ہے جو پارلیمانی پارٹی ہو، جسٹس اعجاز الاحسن
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پارٹی سربراہ کا کردار بہت اہم ہے، منحرف رکن کے خلاف پارٹی سربراہ ہی ریفرنس بھیجنے کا فیصلہ کرتا ہے، ووٹ کس کو ڈالنا ہے ہدایت پارلیمانی پارٹی دے گی اور ریفرنس سربراہ بھیجے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی جماعت اصل میں وہی ہوتی ہے جو پارلیمانی پارٹی ہو، عوام جسے منتخب کر کے اسمبلی میں بھیجتے ہیں ان ارکان کے پاس ہی مینڈیٹ ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں تمام اختیارات پارلیمانی پارٹی کے پاس ہوتے ہیں، برطانیہ میں پارلیمان کے اندر پارٹی سربراہ کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے عدالتی فیصلہ درست مانتے ہوئے ہی رولنگ میں اس کا حوالہ دیا تھا۔
اس پر ڈپٹی اسپیکر کے وکیل نے کہا کہ ووٹ مسترد کرنے کی حد تک فیصلے کا حوالہ دیا گیا تھا۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یعنی ووٹ مسترد ہونے کی حد تک عدالتی فیصلہ تسلیم شدہ ہے، سوال صرف ڈپٹی اسپیکر کی تشریح کا ہے کہ درست کی یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے ہمارے فیصلے پر انحصار کر کے فیصلے سے آگے بڑھ کر رولنگ دی۔
ان کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ ڈپٹی اسپیکر نے ہمارے فیصلہ کہ درست تشریح کی، سوال یہ بھی ہے کہ کیا ڈپٹی اسپیکر نے ہمارے فیصلے کی غلط تشریح تو نہیں کی۔
ساعت کے دوران وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کارروائی میں ایک بات پھر مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ منصور اعوان نوجوان ہیں اور ان کے کندھوں پر بہت بوجھ ہے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ منصور اعوان بہت بہترین دلائل دے رہے ہیں، عدالت نے منصور اعوان کو وزیر قانون سے ہدایات لینے سے روک دیا۔
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ منصور اعوان وزیر اعلیٰ پنجاب کے وکیل ہیں، وہ وزیر قانون سے کیسے ہدایات لے سکتے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ سوالات سے پریشان نہ ہوں، دلائل جاری رکھیں۔
منصور اعوان نے کہا کہ عمران خان کی ہدایات کو الیکشن کمیشن نے تسلیم کیا، الیکشن کمیشن نے اس معاملے پر فیصلہ کیا، جس پر جسٹس اعجاز الااحسن نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن کا اس معاملے سے تعلق کیا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ بھی دیا ہے، آپ الیکشن کمیشن کا فیصلہ بھی پڑھ لیں۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ تمام پارٹی اراکین کو چوہدری شجاعت کا خط اجلاس شروع ہونے سے پہلے موصول ہو گیا تھا۔
منصور اعوان نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب کے پہلے انتخابات میں پی ٹی آئی کو ہدایات عمران خان نے دی تھیں، الیکشن کمیشن نے عمران خان کی ہدایات پر ارکان کو منحرف قرار دیا، منصور اعوان نے عمران خان کی ایم پی ایز کو ہدایت بھی عدالت میں پیش کر دی۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب انتخاب کے پہلے اور اب کے کیس میں فرق ہے، الیکشن کمیشن میں ارکان کا مؤقف تھا کہ انہیں پارٹی ہدایت نہیں ملی، موجودہ کیس میں ارکان کہتے ہیں پارلیمانی پارٹی نے پرویز الہٰی کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔
انہوں نے ریمارکس دیے کہ پارلیمانی پارٹی ہدایت کے نقطے پر کسی فریق نے اعتراض نہیں کیا، منحرف ارکان اور اس کیس کے حقائق مختلف ہیں، منحرف ارکان کا مؤقف تھا کہ ہمیں شوکاز اور ہدایات نہیں ملیں، یہاں پر ایشو مختلف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام 10 اراکین نے ووٹ کاسٹ کیا، کسی رکن نے دوسری طرف ووٹ نہیں دیا، تمام ارکان نے ایک طرف ووٹ ڈالا، دس ارکان میں میں کسی نے نہیں کہا کہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس نہیں ہوا۔
چیف جسٹس نے بیرسٹر علی ظفر سے مکالمے میں کہا کہ مقدمے کے میرٹ پر دلائل نہ دیں، فل کورٹ کی تشکیل پر دلائل دیں، دوسری سائیڈ نے فل کورٹ پر دلائل دیے ہیں، آپ بتائیں فل کورٹ کیوں نہ بنائی جائے، آپ دوسری سائیڈ کی فل کورٹ کی استدعا کو کیسے مسترد کریں گے؟
بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے بڑا کلیئر ہے، پارٹی سربراہ کو پارلیمنٹیرین پارٹی کی ہدایات کے مطابق ڈکلئیریشن دینی ہوتی ہے، آرٹیکل 63 اے پر عدالت پہلے ہی مفصل سماعتوں کے بعد رائے دے چکی ہے، پارلیمانی پارٹی کی ہدایت تسلیم کرنا ہی جمہوریت ہے۔
وکیل پرویز الہٰی نے کہا کہ پارٹی اجلاس میں مختلف رائے دینے والا بھی فیصلے کا پابند ہوتا ہے۔
بیرسٹر علی ظفر نے مؤقف اپنایا کہ سیاسی جماعت کے سربراہ کی آمریت کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں، آرٹیکل 63 اے اور اس کی عدالتی تشریح بالکل واضح اور غیر مبہم ہے۔
علی ظفر نے کہا کہ فل کورٹ بنانے کا اختیار چیف جسٹس کا ہے، 15 مقدمات میں چیف جسٹس نے فل کورٹ بنانے سے انکار کیا ہے، فل کورٹ سے عدالت کو دوسرا سارا کام روکنا پڑتا ہے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا 2015 کا عدالتی فیصلہ غیر آئینی ہے، جس پر علی ظفر نے کہا کہ عدالت پر مکمل اعتماد ہونا چاہیے، فل کورٹ تشکیل دینا چیف جسٹس کی صوابدید ہے، کیا تمام عدالتی کام روک کر فل کورٹ ایک ہی مقدمہ سنے؟ گزشتہ 25 سال میں فل کورٹ صرف 3 یا 4 کیسز میں بنا ہے، گزشتہ سالوں میں فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا 15 مقدمات میں مسترد ہوئیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ فل کورٹ نہ بنانے سے دیگر مقدمات پر عدالت کا فوکس رہا، مقدمات پر فوکس ہونے سے ہی زیر التوا کیسز کم ہو رہے ہیں۔
علی ظفر نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ حمزہ شہباز عبوری وزیر اعلیٰ زیادہ سے زیادہ دیر رہیں، عدالت نے تحریک عدم اعتماد کیس چار دن میں ختم کر دیا تھا، دیگر مقدمات اس کیس کے ساتھ نتھی کرنے سے صرف وقت ضائع ہوگا، سابق بار صدور کا آنا اور دلائل دینا سمجھ سے بالاتر تھا۔
انہوں نے مؤقف اپنایا کہ منحرف ارکان کی اپیلیں اور نظرثانی اس کیس سے منسلک کرنا زیادتی ہوگی، بحران ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ جلد فیصلہ کیا جائے، نظرثانی کی درخواستیں صرف 5 رکنی بینچ ہی سن سکتا ہے، عدالت کے سامنے بڑا سادہ مقدمہ ہے، عدالت پر ہمیں اور پوری قوم کو پورا یقین ہے۔
عدالت عظمیٰ نے فل کورٹ کی تشکیل سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے سماعت میں ڈیڑھ گھنٹے کا وقفہ کردیا، سماعت کا دوبارہ آغاز ساڑھے 5 بجے ہوگا۔
سیکیورٹی سخت
قبل ازیں آج کی سماعت میں سیاسی جماعتوں کے صرف متعلقہ رہنماؤں کو آنے کی اجازت دی گئی تھی۔
اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار نے کہا کہ صرف مدعا علیہ جماعتوں کے رہنماؤں کو سپریم کورٹ انتظامیہ کی اجازت سے عدالت کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: ‘3 شخص ملک کی قسمت کا فیصلہ نہیں کرسکتے’، حکمران اتحاد کا پرویز الٰہی کی درخواست پر فل کورٹ بنانے کا مطالبہ
اسلام آباد کیپٹل پولیس کے رابطہ افسر کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ میں داخلے کے لیے پارٹی رہنماؤں کی جانب سے لسٹیں مہیا کی گئی ہی، فریقین کے رہنماؤں کو سپریم کورٹ انتظامیہ کی اجازت سے کورٹ روم اور سپریم کورٹ میں داخلہ دیا جائے گا۔
پولیس نے کہا کہ ریڈ زون بشمول سپریم کورٹ کے اردگرد ہرگز کسی جلسے، جلوس اور اجتماع کی اجازت نہیں ہوگی، ٹریفک کی روانی کو بحال رکھنے کےلیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کے مثبت عالمی تشخص کے لیے ضروری ہے کہ تمام عمل کو پر امن اور منظم رکھا جائے۔
کیس کا پس منظر
یاد رہے کہ 22 جولائی کو وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے سلسلے میں ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے مسلم لیگ (ق) کے اراکین کی جانب سے چوہدری پرویز الہٰی کے حق میں ڈالے گئے 10 ووٹس مسترد کردیے تھے۔
انہوں نے رولنگ دی تھی کہ مذکورہ ووٹس پارٹی سربراہ چوہدری شجاعت حسین کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈالے گئے، جس کے نتیجے میں حمزہ شہباز ایک مرتبہ پھر وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہوگئے تھے۔
پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں غیر متوقع موڑ آنے کے بعد سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری آدھی رات کو مسلم لیگ (ق) کی درخواست وصول کرنے کے لیے چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی ہدایت پر کھول دیے گئے تھے۔
مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب: مسلم لیگ (ق) کا رات گئے سپریم کورٹ سے رجوع
جس کے بعد چوہدری پرویز الہٰی نے مسلم لیگ (ق) کے وکیل عامر سعید راں کے توسط سے ڈپٹی اسپیکر کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا تھا۔
مذکورہ درخواست پر 23 جولائی کو سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے سماعت کرتے ہوئے حمزہ شہباز کو پیر تک بطور ٹرسٹی وزیر اعلیٰ کام کرنے کی ہدایت کی تھی۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ بادی النظر میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہے، تاہم عدالت نے سماعت پیر تک ملتوی کردی۔
سپریم کورٹ نے سماعت کے بعد جاری حکم نامے میں کہا تھا کہ حمزہ شہباز آئین اور قانون کے مطابق کام کریں گے اور بطور وزیر اعلیٰ وہ اختیارات استعمال نہیں کریں گے، جس سے انہیں سیاسی فائدہ ہوگا۔پی ٹی آئی نے اپنے مقاصد کے لیے پرویز الہٰی کو استعمال کیا اس سے پرویز الہٰی واقف نہ تھے.وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کا ڈرامائی انداز میں رخ موڑنے والے سربراہ پاکستان مسلم لیگ (ق) چوہدری شجاعت حسین کاکہنا ھے کہ اداروں پر تنقید کرنے والوں کی حمایت کیسے کرسکتا ہوں۔ے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے سلسلہ وار ٹوئٹس میں واضح کیا کہ وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے ان کے امیدوار پرویز الٰہی ہی تھے، لیکن وہ انہیں پی ٹی آئی کا نامزد امیدوار بننے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ اپنی ٹوئٹس میں لکھا کہ ’اداروں کے ساتھ 30 برس سے ایک تعلق رہا ہے، میں اداروں پر تنقید کرنے والوں کی حمایت کیسے کر سکتا ہوں، ادارے ہیں تو پاکستان میں استحکام ہے‘۔انہوں نے لکھا کہ ’ملک اس وقت جس نہج پر پہنچ چکا ہے اس میں تمام لیڈران اپنے ذاتی مفادات اور ذاتی سوچ کو بالائے طاق رکھیں تاکہ ملک مزید بحرانوں کا شکار نہ ہو جائے ورنہ عوام اور ادارے اور ملک مزید نظریوں میں تقسیم ہوگا اور ملک مفاد پرستوں کے ہتھے چڑھ جائے گا‘۔ اپنی ٹوئٹس میں مزید لکھا کہ ’سیاسی مخالفت کو ذاتی مخالفت بنا کر غلط معنٰی نکالنے کی کوشش نہ کریں اور سب کچھ بھول کر صرف اور صرف ملکی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے محاذ آرائی والی سیاست کو ترک کردیں‘۔ انہوں نے لکھا کہ ’جس کو بھی اقتدار میں آنے کا موقع ملے وہ سیاسی مخالفین کے پاس جائے اور ملک کی سلامتی اور استحکام کے لیے لیے مل بیٹھ کر مشاورت سے آگے بڑھا جائے‘گجرات کی شہرت لوک کہانی کے مشہور رومانوی کردار ’سوہنی مہیوال‘ سے رہی ہے۔ مگر حالیہ برسوں میں گجرات چوہدری برادران یعنی چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہٰی کی سیاسی چوہدراہٹ سے شہرت رکھتا ہے۔
مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کو یہ ساری شہرت وراثت میں ملی۔ چوہدری شجاعت کے والد چوہدری ظہور الہٰی اور ان کے بھائی چوہدری منظور الہٰی قیامِ پاکستان سے ٹیکسٹائل کے کاروبار سے وابستہ تھے۔ عام طور پر چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہٰی کے بارے میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ دونوں سگے بھائی ہیں، مگر ایسا نہیں بلکہ یہ دونوں رشتے میں ایک دوسرے کے کزن ہیں۔
چوہدری شجاعت حسین کے والد چوہدری ظہور الہٰی اور چوہدری پرویز الہٰی کے والد چوہدری منظور الہٰی تھے۔ چوہدری ظہور الہٰی کے بارے میں ان کے مخالفین یہ افواہ اڑاتے تھے کہ وہ ایک کانسٹیبل تھے، اور پھر مقامی اور صوبائی حکومت میں تعلقات بڑھاتے ہوئے اتنے مالا مال ہوئے کہ ان کی سیاست کا محض گجرات میں نہیں بلکہ سارے پنجاب میں ڈنکا بجنے لگا۔، چوہدری شجاعت حسین نے اپنی سوانح ‘سچ تو یہ ہے‘ میں لکھا ہے کہ ‘میرے تایا جان چوہدری منظور الہٰی نے ٹیکسٹائل میں ڈپلومہ کے بعد امرتسر میں 4 کھڈیاں لگائیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ یہ کاروبار لے کر گجرات آگئے اور پھر دونوں بھائیوں نے مل کر چند پاور ملز لگائیں اور عالمی ٹیکسٹائل نمائشوں سے ان کا کاروبار تیزی سے بڑھا’چوہدری شجاعت حسین لکھتے ہیں کہ ‘ان کے مخالفین پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ ان کے والد کی عملی سیاست جنرل ایوب خان کی مرہون منت تھی حالانکہ وہ ایوبی مارشل لا سے پہلے ہی گجرات کی بلدیاتی سیاست میں اہم مقام حاصل کرچکے تھے۔ ایوب خان نے جب سارے مخالفین پر ایبڈو یعنی Elected Bodies Disqualification Order کے تحت کاروائی کی تو چوہدری ظہور الہٰی بھی ایبڈو زدہ ہوئے۔ چوہدری ظہور الہٰی نے ایبڈو کے خلاف مقدمہ خود لڑا اور بری ہوئے۔ 1962ء کے انتخابات میں پہلی بار آزاد حیثیت میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ اس زمانے میں ایوب خان کے گورنر نواب کالا باغ کی بڑی دہشت تھی جو چوہدریوں کے سخت مخالف تھے، مگر انہوں نے اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا‘۔
ایوب خان نے جب مسلم لیگ کنوینشن بنائی تو جہاں ذوالفقار علی بھٹو اس کے سیکرٹری جنرل تھے وہاں چوہدری ظہور الہٰی پارلیمانی سیکرٹری تھے۔ ایوب خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد جب پیپلز پارٹی برسرِ اقتدار آئی تو سارے پنجاب کے دولتانے، ٹوانے، گیلانی، قریشی 1970ء کے الیکشن میں شکست کے بعد بھٹو صاحب کی جائے پناہ میں آگئے۔ مگر ایک چوہدری ظہور الہٰی تھے جنہوں نے مسلم لیگ کنوینشن نہیں چھوڑی۔ بھٹو صاحب کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ سیاست میں دوستی اور دشمنی کی انتہاؤں پر رہے جس کی انہوں نے بعد میں سزا بھی بھگتی۔چوہدری ظہور الہٰی 70 کے انتخابات میں بھاری اکثریت سے رکن اسمبلی بنے یہی نہیں بلکہ لاہور میں ان کی وسیع و عریض کوٹھی اپوزیشن خاص طور پر صوبہ سرحد اور بلوچستان کے قائدین کی مستقل رہائش گاہ ہوتی۔ خان عبدالغفار خان جب بھی لاہور آتے تو ان کا قیام چوہدری ظہور الہٰی کی اسی کوٹھی میں ہوتا۔ اسی سبب بھٹو صاحب جب اقتدار میں آئے تو انہوں نے اپنی روایت کے مطابق پہلے تو ظہور الہٰی کو پیپلز پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی مگر انکار پر یہ سزا دی کہ بھٹو صاحب کے سارے دورِ اقتدار میں وہ جیلوں میں رہے۔ اسی دور میں ‘بھینس چوری’ پر چوہدری ظہور الہٰی کیس کو بڑی شہرت ملی۔
سیاستدانوں کو مزید تکلیف پہنچانے کے لیے دُور دراز کی جیلوں میں رکھا جاتا تھا۔ نواب اکبر بگٹی جب بلوچستان کے گورنر تھے تو ظہور الہٰی کو کوہلو جیل میں رکھا گیا۔
چوہدری شجاعت اپنی سوانح میں لکھتے ہیں کہ ‘بھٹو میرے والد کو کوہلو سے کوئٹہ جاتے ہوئے قتل کرانا چاہتا تھا مگر جب نواب اکبر بگٹی کو اطلاع ملی تو انہوں نے یہ سازش ناکام بنا دی‘بھٹو صاحب کی حکومت ختم ہوئی تو چوہدری ظہور نے بھٹو صاحب سے یہ انتقام لیا کہ جنرل ضیا الحق کے مشیر خاص ہوئے۔ یہی نہیں بلکہ 4 اپریل 1979ء کو جس قلم سے جنرل ضیا الحق نے بھٹو صاحب کی پھانسی کی تصدیق کی تھی وہ تحفے کے طور پر اپنے پاس رکھنے کے لیے ضیا الحق سے درخواست کی۔ یقین سے نہیں کہہ سکتا مگر میرا خیال ہے کہ چوہدریوں کی نوادرات میں یہ ضرور محفوظ ہوگا۔
چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہٰی کی گرفتاریوں کا سلسلہ بھی بھٹو دور سے شروع ہوگیا تھا۔ جب جوانی کی دہلیز سے ادھیڑ عمری کی طرف بڑھ رہے تھے تو اپنے والد کی روایت کو نبھاتے ہوئے چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہٰی ہمیشہ بھٹو مخالف کیمپ میں رہے۔ یہ مخالفت اس وقت انتقام کی حد میں جا پہنچی جب ستمبر 1981ء میں الذوالفقار کے جیالوں نے گلبرگ میں ان پر حملہ کیا جس میں جسٹس مولوی مشتاق حسن تو بچ گئے مگر چوہدری ظہور الہٰی کی زندگی کا چراغ گل ہوگیا۔چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہٰی کی سیاست کا ذکر کرتے ہوئے چوہدری ظہور الہٰی کا ذکر ذرا طویل ہوگیا مگر اس سے گریز بھی نہیں کیا جاسکتا کہ برسوں بعد چوہدریوں نے اپنے والد کی سیاسی روایت کو بھرپور طور سے نبھایا۔
چوہدری شجاعت اپنی کتاب سچ تو یہ ہے میں لکھتے ہیں: ’میاں نواز شریف سے ہماری پہلی ملاقات سن 1977ء میں ہوئی۔ ایک روز ہم اپنے دفتر میں بیٹھے تھے کہ ایک ملازم نے آکر بتایا کہ ایک نوجوان والد سے ملنے آیا ہے۔ والد صاحب مصروف تھے تو انہوں نے پرویز الہٰی سے کہا کہ وہ جاکر مل لیں۔ پرویز الہٰی باہر آئے تو ایک گورا چِٹا کشمیری نوجوان برآمدے میں بیٹھا تھا۔ اس نے کہا کہ میاں محمد شریف نے اسے بھیجا ہے اور کہا ہے کہ وہ انتخابی مہم کے لیے فنڈ دینا چاہتے ہیں۔ پرویز الہٰی نے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہم کسی سے فنڈ نہیں لیتے‘۔
میاں نواز شریف کس طرح گورنر غلام جیلانی تک پہنچے اور پھر سن 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات میں وزیرِاعلیٰ ہوتے ہوئے وزیرِاعظم کے عہدہ جلیلہ پر پہنچے، اس پر کبھی آئندہ لکھوں گا۔
نواز شریف وزیرِاعظم بنے تو چوہدری شجاعت ان کے وزیرِ داخلہ ہوئے۔ مگر پھر ایک ایسا وقت آیا کہ چوہدریوں کی شریفوں سے راہیں جدا ہوئیں۔
چورہدری شجاعت کا اپنی سوانح میں کہنا ہے کہ شریفوں نے ان سے عہد شکنی کی اور پھر اس عہد شکنی کا چوہدریوں نے بدلہ یہ لیا کہ جب اکتوبر 1999ء میں نواز شریف کی حکومت گرائی گئی اور اس کے بعد 2002ء میں انتخابات ہوئے تو انہوں نے مسلم لیگ (ن) کا تختہ الٹ کر (ق) لیگ بنائی اور پھر صدر پرویز مشرف کے وزیرِاعظم بھی بنے۔
چوہدریوں نے مشرف سے آخر تک دوستی نبھائی اور پھر کبھی پلٹ کر شریف خاندان کی طرف نہیں دیکھا۔ ہاں، یہ ضرور ہے کہ سابق صدر آصف زرداری نے اپنی سیاسی ذہانت اور فطانت سے چوہدریوں کو نہ صرف اپنا ہمنوا بنایا بلکہ آئین میں ترمیم کرتے ہوئے اپنے دورِ حکومت میں چوہدری پرویز الہٰی کو نائب وزیرِاعظم بھی بنایا۔2018ء کے انتخابات میں جب نئی سیاسی صف بندیاں ہوئیں تو چوہدری برادران شریفوں کے بدترین مخالف تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے ساتھ کھڑے تھے اور یہ تعلق وہ آج تک نبھا رہے ہیں۔چوہدری برادران شریفوں کے بدترین مخالف تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے ہوگئےملک میں اس وقت جاری سیاسی بحران میں چوہدریوں کی قومی اسمبلی میں 5 اور پنجاب میں 10 نشستیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ آنے والے دنوں میں گجرات کے چوہدریوں کا پلڑا کس جانب گرے گا، یہ ایک بڑا سوال ہے۔سپریم کورٹ نے پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما چوہدری پرویز الہٰی کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے حوالے سے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف دائر کی گئی درخواست پر حمزہ شہباز کو بطور ٹرسٹی وزیراعلیٰ کام کرنے کی ہدایت کی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ بادی النظر میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ آرٹیکل 63-اے کے فیصلے کے خلاف ہے۔ پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے انتخاب کے دوران ڈپٹی اسپکر دوست محمد مزاری نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت رولنگ دیتے ہوئے مسلم لیگ (ق) کے 10 ووٹس مسترد کر دیے تھے جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار اور رہنما مسلم لیگ (ق) چوہدری پرویز الہٰی نے رولنگ مسترد کرتے ہوئے اس کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی پاکستان مسلم لیگ (ن) کی صدر مریم نواز نے سپریم کورٹ کی سماعت کے بعد سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ ‘اگر انصاف کے ایوان بھی دھونس، دھمکی،بدتمیزی اور گالیوں کےدباؤ میں آ کر بار بار ایک ہی بینچ کے ذریعے مخصوص فیصلے کرتے ہیں،اپنے ہی دیے فیصلوں کی نفی کرتے ہیں،سارا وزن ترازو کے ایک ہی پلڑے میں ڈال دیتے ہیں تو ایسے یک طرفہ فیصلوں کے سامنے سر جھکانے کی توقع ہم سے نا رکھی جائے،بہت ہو گیا!’‘موجودہ سیاسی انتشار اور عدم استحکام کا سلسلہ اس عدالتی فیصلے سے شروع ہوتا ہے جس کے ذریعے آئین کی من مانی تشریح کرتے ہوئے اپنی مرضی سے ووٹ دینے والوں کے ووٹ نہ گننے کا حکم جاری ہوا’۔ ‘آج اس کی ایک نئی تشریح کی جا رہی ہے تاکہ اب بھی اسی لاڈلے کو فائدہ پہچنے جسے کل پہنچا تھا!نا منظور!’




