.. سمندرپار پاکستانیوں کوووٹ ڈالنے کا حق ملنا ایک تاریخی اقدام ھے، امیدوار ضمنی انتخاب حلقہ این اے60راولپنڈی اصغر علی مبارک
….اسلام آباد(خصوصی رپورٹ :اصغر علی مبارک سے ) پاکستان عوامی لیگ کے رہنما اور امیدوار ضمنی انتخاب حلقہ این اے60 راولپنڈی شہر اصغر علی مبارک نے کہا ھےکہ سمندرپار پاکستانیوں کوووٹ ڈالنے کا حق ملنا ایک تاریخی اقدام ھے جس پر سپریم کورٹ کے اعلی ججز خراج تحسین کے مستحق ھیں ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر راولپنڈی میں ضمنی انتخاب حلقہ این اے ساٹھ راولپنڈی کے سلسلے کاغذات نامزدگی کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ھوے انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے سمندرپار پاکستانیوں کوووٹ ڈالنے کا حق دے تاریخی کارنامہ سر انجام دیا ھے ۔ اصغر علی مبارک نے کہا ھےکہ سمندر پار پاکستانی ضمنی الیکشن کیلئے مشین ریڈایبل پاسپورٹ کے ذریعے ووٹ کاسٹ کرسکیں گے جس سے ہم سب کا مطالبہ پورا ھوگیا ھے آن لائن رجسٹریشن یکم سے 15ستمبر تک رات 12بجے ہوسکے گی۔اوورسیز پاکستانیز کوپاس کوڈ جاری کیا جائے گا۔ ،ووٹرز کی آن لائن رجسٹریشن یکم سے 15ستمبر تک ہوگی۔رجسٹرڈ پاکستانی مشین ریڈایبل پاسپورٹ کے ذریعے ووٹرزاپنے اپنے حلقوں میں ووٹ ڈال سکیں گےاوورسیز پاکستانی ویب سائٹ پراپنے حلقے بھی چیک کرسکتے ہیں۔سمندر پار پاکستانیوں کودوبارہ رجسٹرڈ نہیں کیا جا رھا ہے۔رجسٹریشن کے بعد انتخابی فہرست ریٹرننگ آفیسرز کودی جائے گی۔اس ضمن نادرا کی مدد سے ووٹنگ کے طریقہ کار کی ویڈیو بھی تیار کی گئی ہےواضح رھے کہ سمندر پار 7لاکھ 32ہزار پاکستانی مقیم ہیں۔ چھبیس اگست کوترجمان الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے تجربہ کرنے کے لیے اس منصوبے کو تیار کیا ہے اور یہ حقیقی نتائج پر اثر انداز نہیں ہوگا،،سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کو ہدایت جاری کی ہے کہ آئندہ الیکشن میں انٹرنیٹ ووٹنگ کے نظام کو متعارف کروایا جائے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے حوالے سے انٹرنیٹ ووٹنگ کی جانچ پڑتال کے لیے آئی ٹی ماہرین پر مشتمل ایک ٹاسک فورس بنائی گئی ہے جس نے اپنے مشاہدات میں بتایا کہ یہ نظام غیرملکی حکومتوں اور غیرملکی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے ہیک ہونے کا خدشہ ہے۔آئی ٹی ماہرین کی اس رپورٹ کو الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے منظر عام پر لایا گیا جس میں کہا گیا کہ عام ہیکرز کے مقابلے میں غیرملکی ایجنسیوں کی جانب سے مختلف قسم کے خطرات ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس نظام کی وجہ سے بیلٹ کو خفیہ رکھنا ممکن نہیں ہوگا جیسا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 94 اور پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 226 میں اس کو خفیہ رکھنے کا کہا گیا ہے۔نیشنل ڈیٹا بین اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی سپریم کورٹ کی ہدایت پر الیکشن کمیشن (ای سی پی) کو مکمل معاونت فراہم کر رہا ہے۔


