سدھو موسے والا کے قتل میں ملوث 2 ملزمان پولیس مقابلے میں پار……….۔(رپورٹ؛اصغرعلی مبارک سے۔۔۔۔۔۔۔۔)…………..بھارت سے تعلق رکھنے والے معروف پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کے قتل میں ملوث ملزمان میں سے 2 شوٹرز امرتسر کے قریب پولیس مقابلے کے دوران ہلاک ہوگئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزمان کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے کے دوران 3 پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ پولیس اور ملزمان کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ مسلسل 4 گھنٹے جاری رہا، مقابلے کے دوران گینگسٹر من پریت سنگھ عرف منو کسا اور جگروپ سنگھ عرف روپا ہلاک ہوئے۔فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک نیوز چینل کا کیمرہ مین بھی دائیں ٹانگ میں گولی لگنے سے زخمی ہوگیا۔امرتسر سے 20 کلومیٹر دور بھکنا گاؤں میں ہونے والے اس پولیس مقابلے کے اختتام تک اسٹیٹ پولیس چیف گورو یادو بھی جائے وقوع پر پہنچ گئے۔پولیس کی اینٹی گینگسٹر ٹاسک فورس کے سربراہ اے ڈی جی پی پرمود بان نے جائے وقوع پر میڈیا کو بتایا کہ ’ملزمان کے قبضے سے ایک اے کے 47 رائفل، ایک پستول اور بڑی تعداد میں گولیاں برآمد ہوئی ہیں‘۔یہ دونوں ملزمان کیس میں ملوث ان 3 شوٹرز میں شامل تھے جو تاحال فرار تھے تاہم ان دونوں کا سراغ لگا لیا گیا جبکہ تیسرا ملزم تاحال فرار ہے، ان کے علاوہ دیگر کم از کم 8 شوٹرز تھے جو گرفتار کیے جا چکے ہیں۔پولیس کی جانب سے جگروپ سنگھ (روپا) کو مردہ قرار دینے سے چند لمحے قبل ایمبولینس موقع پر پہنچ گئی تھی، علاقے کو گھیرے میں لے کر وہاں رہائش پذیر لوگوں کو اپنے اپنے گھروں کے اندر رہنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔بھارت میں پنجابی میوزک انڈسٹری کے معروف گلوکار اور مرکزی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما سدھو موسے والا کو 29 مئی کو بھارتی پنجاب میں ان کے گاؤں کے قریب قتل کردیا گیا تھا۔ملزمان نے موسیقار پر کم از کم 30 گولیاں فائر کیں، انہیں تشویشناک حالت میں مانسا کے سول ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا۔ ذرائع نے بتایا کہ منو کسا نے سدھو موسے والا پر پہلی گولی اے کے 47 رائفل سے چلائی تھی۔ان کے قتل کا واقعہ پنجاب پولیس کی جانب سے سدھو موسے والا سمیت 420 سے زائد افراد کی سیکیورٹی واپس لینے کے حکم کے ایک روز بعد سامنے آیا۔سدھو موسے والا کے قتل کی ذمہ داری کینیڈین نژاد بھارتی دہشت گرد گولڈی برار نے قبول کی تھی اور دعویٰ کیا تھا کہ ان کے گینگ نے ہی سدھو موسے والا کو قتل کیا۔’انڈیا ٹوڈے‘ کے مطابق گولڈی برار خطرناک دہشت گرد لارنس بشنوئی کے گینگ کا کارندہ ہے اور دونوں گینگ کے سربراہ ہیں۔لارنس بشنوئی اس وقت بھارت کی بدنام جیل ’تہاڑ‘ میں سخت سیکیورٹی میں قید ہے، تاہم ان کے بشنوئی گینگ نے سدھو موسے والا کو قتل کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔گینگ کے مطابق سدھو موسے والا نے ان کے کارندے کو ہلاک کروانے میں کردار ادا کیا تھا، جس وجہ سے انہوں نے بدلے کے طور پر گلوکار کو قتل کیا۔بعدازاں انٹرپول نے پنجاب کے فرید کوٹ میں درج دیگر 2 مقدمات کے سلسلے میں گولڈی برار کا سراغ لگانے کے لیے ریڈ کارنر نوٹس جاری کیا۔ خیال رہے 29 مئ 2022 کوبھارتی پنجاب میں گلوکار اور اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما سدھو موسے والا کو سیکیورٹی واپس لیے جانے کے ایک روز بعد ہی ضلع مانسا میں فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق فائرنگ سے موسے والا کے ساتھ شدید زخمی ہونے والے دو افراد میں سے ایک زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ملزمان نے کم از کم 30 گولیاں فائر کیں، سدھو موسے والا کو تشویشناک حالت میں مانسا کے سول ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا۔ہسپتال کے سول سرجن کا کہنا تھا کہ سدھو موسے والا مردہ حالت میں ہسپتال لائے گئے تھے، جبکہ دیگر دو افراد کو ابتدائی طبی امداد کے بعد دوسرے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔قتل کا واقعہ پنجاب پولیس کی جانب سے سدھو موسے والا سمیت 420 سے زائد افراد کی سیکیورٹی واپس لینے کے حکم کے ایک روز بعد سامنے آیا، ان افراد میں سابق قانون ساز، دو تختوں کے جیٹھادار، ڈیروں کے سربراہان اور پولیس افسران شامل ہیں۔تاہم ایس ایس پی مانسا گورو تورا نے کہا کہ سدھو موسے والا کی سیکیورٹی کے لیے 4 پولیس اہلکار تعینات تھے جن میں سے صرف دو کو عارضی طور پر واپس بلایا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ فائرنگ کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب دونوں پولیس اہلکاروں کو کانگریس رہنما اپنے ساتھ نہیں لے گئے تھے۔29 سالہ گلوکار نے گزشتہ سال دسمبر میں کانگریس میں شمولیت اختیار کی تھی اور مانسا سے کانگریس کے ٹکٹ پر ریاستی انتخابات میں حصہ لیا تھا، تاہم انہیں کامیابی نہیں ملی تھی۔کانگریس نے رہنما کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سدھو موسے والا کے قتل سے جماعت اور ملک کو گہرا صدمہ لگا ہے۔ ہم ان کے ورثا، مداحوں اور دوستوں سے اظہار تعزیت کرتے ہیں اور شدید دکھ کی اس گھری میں مضبوطی کے ساتھ کھڑے ہیں‘۔سابق وزیر اعلیٰ اور اکالی دل کے رہنما سُکھبیر سنگھ بادل نے سدھو موسے والا کے لواحقین سے تعزیت کی اور بھگونت مان اور ان کی حکومت کو گلوکار کی سیکیورٹی واپس لینے کے فیصلے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ سدھو موسے والا کا نام تنازعات سے بھی جڑا تھا۔16 جولائی 2020 کو ریلیز ہونے والے ’سنجو‘ کے عنوان والے گیت میں سدھو نے آرمز ایکٹ کے تحت اپنے خلاف درج مقدمے کا بالی وڈ اداکار سنجے دت کے خلاف مقدمے سے موازنہ کیا۔فائرنگ کرتے ہوئے ان کی دو ویڈیوز وائرل ہوئیں۔ ان میں سے ایک ویڈیو میں سدھو موسے والا مبینہ طور پر برنالہ کے فائرنگ رینج میں رائفل سے فائرنگ کر رہے ہیں۔ مئی 2020 میں سنگرور اور برنالہ میں سدھو موسے والا سمیت نو لوگوں کے خلاف اس واقعے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ایک دوسری ویڈیو میں سدھو موسے والا سنگرور کے لڈا کوٹھی رینج میں پستول سے فائرنگ کرتے نظر آ رہے ہیں۔ دونوں ویڈیوز لاک ڈاؤن کے وقت کی ہیں۔ پولیس نے پہلے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ کے تحت ان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا اور بعد ازاں دونوں مقدمات میں آرمز ایکٹ شامل کر دیا گیا۔ اس سے قبل فروری 2020 میں موسے والا کے خلاف مانسا پولیس نے اسلحہ کے کلچر کو فروغ دینے کا مقدمہ درج کیا تھا۔ اس کے بعد سدھو موسے والا اپنے گانے ’گبھرو تے کیس جڑا سنجے دت تے‘ سے تنازع میں گِھر گئے۔ اس گانے کی وجہ سے پنجاب کرائم برانچ نے ان کے خلاف بندوق کی ثقافت اور تشدد کو فروغ دینے کے لیے آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔تقریباً چار سال قبل پنجابی انٹرٹینمنٹ کی دنیا میں آنے والے شبھ دیپ سنگھ سدھو جلد ہی سدھو موسے والا کے نام سے مشہور ہو گئے۔ ایک بار ایک چینل کے میزبان ان کے کالج کے کیمپس میں طلبا سے بات کر رہے تھے کہ شبھ دیپ سنگھ عرف سدھو موسے والا ہجوم سے باہر نکلے اور میزبان سے فرمائش کی کہ انھیں گانے کا موقع دیا جائے۔ اینکر نے سدھو سے ان کا نام پوچھا، سدھو نے اپنا نام شبھ دیپ سنگھ سدھو بتایا، اینکر نے پھر پوچھا۔ انھوں نے پھر کہا: شبھ دیپ سنگھ سدھو۔ شبھ دیپ نے اس موقع پر کیمپس میں ایک گانا گایا اور سب طلبا نے اُن کی پزیرائی کرتے ہوئے تالیاں بجائیں۔ یہ وہ وقت تھا جب انھیں اپنے بارے میں بتانا پڑتا تھا لیکن ایک وقت ایسا آیا جب وہ سدھو موسے والا کے نام سے مشہور ہو گئے۔ ویسے سدھو موسے والا ضلع مانسا کے گاؤں موسا کے رہنے والا تھے۔ سدھو موسے والا کی مقبولیت میں سنہ 2018 میں اس وقت اضافہ ہوا جب گن کلچر سے متعلق ان کے کئی گانے سامنے آئے۔ سدھو موسے والا کی والدہ چرنجیت کور موسا گاؤں کی سرپنچ ہیں۔ سرپنچ کے انتخابات کے دوران سدھو موسے والا نے اپنی والدہ کی کامیابی کے لیے بھرپور مہم چلائی۔ سدھو موسے والا نے سردار چیتن سنگھ سروہتکاری ودیا مندر مانسا سے 12ویں جماعت تک نان میڈیکل کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد انھوں نے گریجویشن کیا اور بعد میں کینیڈا میں ایک سالہ ڈپلومہ بھی کیا۔ سدھو موسے والا کے کئی گانے سپر ہٹ ہوئے۔ یوٹیوب پر ان کے ’ہائی‘، ’دھکا‘، ’اولڈ سکول‘، ’سنجو‘ جیسے گانے لاکھوں بار دیکھے جا چکے ہیں۔ ان گیتوں کے ذریعے گن کلچر کو مبینہ طور پر فروغ دینے کے الزام میں موسے والا کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ان پر مقدمہ چلایا گیا۔ موسے والا نے ’یس آئی ایم سٹوڈنٹ‘، ’تیری میری جوڑی‘، ’گناہ‘، ’موسی جٹ ہے‘ اور ’جٹ دا منڈا گون لگا‘ جیسی فلموں میں کام کیا۔پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کے قتل کے تقریباً تین ہفتوں بعد ریلیز ہونے والا گانا ’ایس وائے ایل‘ انڈیا میں حکومت کی جانب سے کی گئی قانونی شکایت کے باعث لوگ نہیں دیکھ پا رہے۔ بلوندر سنگھ کا پس منظر پنجاب کے ضلع روپڑ کے چمکور صاحب سے تھا۔ چونکہ ان کے گاؤں کا نام جٹانہ تھا، اس لیے وہ خالصتانی تحریک کی عسکری مہمات میں بلوندر سنگھ جٹانہ کے نام سے مشہور ہوئے۔ سنہ 1990 میں انھوں نے اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ مل کر چندی گڑھ کے سیکٹر 26 میں ایس وائی ایل کے دفتر میں اس نہر کے تعمیراتی منصوبے میں شامل چیف انجینئر ایم ایس سیکری اور سپرنٹنڈنٹ اوتار سنگھ اولکھ پر گولی چلا دی۔ واقعے میں دونوں کی موت ہوگئی اور نہر کی تعمیر کا کام روک دیا گیا۔ تاہم پاکستان اور دنیا کے دیگر ممالک میں لوگ اس گانے کو یوٹیوب پر دیکھ سکتے ہیں۔ ایس وائے ایل میں بلوندر سنگھ کا بھی ذکر ہے جنھیں سکھ برداری آزادی کی تحریک میں ہیرو کا درجہ دیتی ہے اور انھیں ستلج یمنا لنک کینال کی مخالفت پر سراہا جاتا ہے۔سدھو موسے والا کے گانے کے ایک حصے کا ترجمہ کچھ ایسا بنتا ہے کہ ’پانی کا کیا ہے، پانی تو پلوں کے نیچے سے بہتا ہے۔ ہمیں لاکھ بار ساتھ ملاؤ، ہم جھکیں گے نہیں۔ دھمکی دے کر مانگتے ہو، ہم پھر نہیں دیتے، پانی چھوڑو، ہم قطرہ بھی نہیں دیں گے۔‘ یہ گانا سدھو موسے والا کے یوٹیوب اکاؤنٹ پر ریلیز کیا گیا تھا جسے صرف تین روز میں تین کروڑ سے زیادہ افراد دیکھ اور سُن چکے ہیں۔’ایس وائے ایل‘ نامی اس گانے میں انڈین ریپر کی کچھ پرانی تصاویر اور ویڈیوز کو استعمال کیا گیا ہے اور اس کے آخر میں یہ پیغام لکھا گیا ہے کہ ’پنجاب کو صحرا بننے سے روکنے کے لیے آپ میں سے ہر ایک شخص پنجاب کے دریاؤں کے پانی کو بچانے کی آخری امید ہے۔‘گانے کے آخر میں دو ہیش ٹیگ بھی دیے گئے ہیں: پنجاب کے پانی کو بچائیں ( #savepunjabwaters) اور سکھ قیدیوں کو رہا کریں ( #freesikhprisoners)۔ سوشل میڈیا پر انھی ہیش ٹیگز کی مدد سے لوگ اس نئے گانے کے بارے میں اپنا ردعمل دے رہے ہیںسدھو موسے والا کے نئے گانے کا نام ’ایس وائے ایل‘ ہے جس سے مراد ’ستلج یمنا لنک کینال‘ ہے۔ یہ زیر تعمیر 214 کلومیٹر طویل نہر ستلج اور یمنا دریاؤں کو آپس میں ملاتی ہے۔تاہم یہ منصوبہ پنجاب اور ہریانہ کی ریاستوں کے درمیان تنازع کا باعث بنا ہوا ہے۔ اس کے ذریعے پنجاب کے دریاؤں کا پانی دوسری ریاستیں بھی استعمال کر سکیں گی جس پر پنجاب کے کئی رہنماؤں کو اعتراض ہے۔اس گانے کے بول اور دھن بھی گلوکار سدھو موسے والا نے خود بنائی جس کے آغاز میں سُنا جا سکتا ہے کہ ’پنجاب کے اندر ہماری سرکار آ گئی ہے۔۔۔ 2025 میں ہریانہ کے ہر کھیت تک پانی پہنچے گا، یہ ہماری گارنٹی ہے۔‘گانے میں بھی اسی مسئلے کا ذکر کیا گیا ہے اور ایک جگہ لکھا گیا ہے کہ ’شمالی انڈیا میں پانی کی سطح خطرناک حد تک گِر رہی ہے۔‘پنجاب، ہریانہ سمیت ملک کی کئی ریاستوں کے کسانوں نے مرکزی حکومت کی طرف سے لائے گئے تین زرعی قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے دہلی کی سرحدوں پر دھرنا دیا تھااس دوران کچھ نوجوانوں نے دہلی کے لال قلعہ کے ایک خالی ستون پر نشان صاحب رکھ دیے تھے۔سدھو موسی والا نے اپنے آخری گانے میں بھی اس واقعے کا ذکر کیا ہے۔اہم بات یہ ہے کہ اس واقعے کے بعد پنجابی گلوکار ببو مان نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنے والدین کی موت کے بعد اتنا نہیں رویا جتنا اس واقعے کے بعد روئے۔ایک سال سے زیادہ کے احتجاج کے بعد بالآخر حکومت نے تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کا اعلان کر دیا تھا۔اس گانے میں سدھو موسے والا نے سنہ 1980 کی دہائی میں پنجاب میں شروع ہونے والی شورش کے دوران پرتشدد اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کے الزام میں جیلوں میں بند خالصتان کے حامی قیدیوں کے بارے میں بات بھی کی تھی۔نھیں پنجاب میں اسیر سکھ بھی کہا جاتا ہے۔ گانے میں سدھو موسے والا نے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ بہت سے اسیر سکھ 25 سے 30 سال سے زیادہ کی سزا کے تحت جیلوں میں ہیں۔گانے پر پابندی یا یوٹیوب پر اس پر اس تک رسائی محدود ہونے کے باعث اکثر افراد حکومت کے اس اقدام کی مذمت کر رہے ہیں۔ایک صارف نے لکھا کہ ’ہر کسی کو ایس وائے ایل کے مسئلے کا پتا چل چکا ہے چاہے حکومت اب اس پر پابندی لگا دے۔‘اسی طرح ایک اور صارف نے لکھا کہ ’مردہ شخص بول رہا ہے۔ حکومت نے ایک قتل کیے گیے موسیقار کے گانے کی میوزک ویڈیو پر پابندی لگا دی اور ہماری آزادی اظہارِ رائے سلب کرنے کی ایک اور کامیاب کوشش کی۔‘تاہم ایک صارف نے یہ بھی لکھا کہ بالآخر انڈین حکومت نے ایس وائے ایل پر پابندی لگا دی۔ اس میں اندرا گاندھی اور جنرل ویدیا کے قاتلوں کی تعریف کی گئی تھی۔‘اس سے قبل، سدھو موسے والا کے گانے کو ان کے فینز کی جانب سے سراہا جا رہا ہے۔ جیسے جپنیت سنگھ نے لکھا کہ ’سدھو بھائی کے گانوں نے ہمیشہ یہ ثابت کیا ہے کہ وہ سچ بولنے سے کبھی نہیں ڈرے۔ کچھ لوگ زندہ ہوتے ہوئے بھی اپنے لوگوں کے لیے سٹینڈ نہیں لیتے، کچھ لوگ اس دنیا میں نہ ہوتے ہوئے بھی سٹینڈ لینا نہیں چھوڑتے۔‘تاہم بعض صارفین کے مطابق یہ گانا خالصتان کی تحریک کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جیسے رنویر سنگھ نے لکھا کہ ’اگر آپ سدھو موسے والا کا نیا گانا پسند آیا تو خالصتان کے لیے مسلح جدوجہد کے بارے میں جانیں جس کے بارے میں ان کا میوزک ہے۔‘ویبھو جین پوچھتے ہیں کہ ’کیا سدھو موسے والا فساد برپا کرنے کی کوشش کر رہے تھے؟ بار بار خالصتان کا مسئلہ کیوں اجاگر کیا گیا؟‘کیلیفورنیا سکھ یوتھ الائنس نامی اکاؤنٹ نے لکھا کہ ’سدھو موسے والا کا نیا گانا ہمیں پنجاب کے استحصال اور ہماری آزادی کے راستے کے بارے میں سنجیدہ سوالات کرنے پر اکساتا ہے۔‘ہرمان ساندھو نے لکھا کہ ’اگر ہم واقعی سدھو کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں پنجاب کے مسائل کے لیے کھڑے ہونا چاہیے۔ ایس وائے ایل کے بارے میں پڑھیں اور پنجاب کے پانیوں کو بچائیں۔ ہمارے سکھ سیاسی قیدیوں کے لیے اپنی آواز بلند کریں۔‘انڈیا کے پنجابی زبان کے معروف گلوکار سے سیاستدان بننے والے سدھو موسے نے دسمبر 2021 میں سیاست میں قدم رکھا تھا اور سنہ 2022 میں ہونے والے پنجاب اسمبلی کے انتخابات میں انھوں نے مانسا حلقہ سے کانگریس کے امیدوار کے طور پر الیکشن لڑا۔ مگر اس الیکشن میں وہ عام آدمی پارٹی کے امیدوار وجے سنگلا سے ہار گئے تھے۔اُن کے گانے یوٹیوب پر لاکھوں کی تعداد میں دیکھے جا چکے ہیں۔ اُن کے چند معروف گیتوں میں شامل ہیں:’سڈا چلدا ہے دھکا، اسی تاں کر دے۔۔۔

‘گبھرو تے کیس جیہاڑا سنجے دت تے۔۔۔

‘ڈولراں وانگو نی نام سڈا چلداں، آسیں پت ڈاکواں دے۔۔۔’

اس قسم کے کئی ہٹ گیت گانے والے پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کی گیتوں کے ذریعے گن کلچر کو فروغ دینے والے کے طور پر پہچان تھی۔سدھو موسے والا کو تین دسمبر 2021 کو اس وقت کے پنجاب کانگریس کے صدر نوجوت سنگھ سدھو اور اس وقت کے پنجاب کے وزیر اعلیٰ چرنجیت سنگھ چنی کی موجودگی میں پارٹی میں شامل کیا گیا تھا۔کانگریس میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے سدھو موسے والا نے کہا تھا کہ ’میں نے آج سے تین، چار سال پہلے موسیقی شروع کی تھی۔ آج چار سال بعد، میں اپنی زندگی میں ایک نیا قدم اٹھانے جا رہا ہوں، ایک نیا پیشہ، ایک نئی دنیا، یہ میری شروعات ہے۔‘’میرا تعلق گاؤں سے تھا، ہم عام گھرانوں کے لوگ ہیں، میرے والد فوج میں رہ چکے ہیں، بھگوان نے بہت ترقی دی ہے اور ہم اب بھی اسی گاؤں میں رہ رہے ہیں۔ کانگریس میں شامل ہونے کی یہ ایک بڑی وجہ ہے۔ پہلی بات پنجاب کانگریس ہو یا کانگریس، اس میں ایسے لوگ ہیں جو عام گھروں سے آئے ہیں، وہ محنت کے ساتھ اپنی آواز بلند کر سکتے ہیں۔‘فروری 2020 میں ایک سٹیج شو کے دوران سدھو موسے والا نے کہا تھا: ’کیا آج تک میرے کسی گانے میں منشیات کا ذکر ہے؟ ویب سیریز میں ہونے والے تشدد کو دیکھیں۔ آپ بھی گانا بند کریں، لائسنس دینا بند کریں، ٹھیکہ دینا بند کریں۔‘موسے والا کورونا وائرس کی وبا کے دوران بھی سرخیوں میں آ گئے تھے۔ انھوں نے اس پہلو کو اپنے ایک گانے میں استعمال کیا تھا۔دراصل شہید بھگت سنگھ نگر ضلع میں بنگا کے قریب واقع گاؤں پاٹھلاوا مارچ 2020 میں اچانک سرخیوں میں آیا تھا۔گاؤں 18 مارچ کے بعد چرچا میں آیا جب ایک 70 سالہ شخص کی اچانک موت ہو گئی۔ موت کے بعد پتہ چلا کہ وہ کورونا وائرس کی زد میں تھے۔ اس کے بعد پورے گاؤں کو سیل کر دیا گیا۔اپنے گانے میں موسے والا نے گاؤں کو پنجاب میں کورونا وائرس کے مرکز کے طور پر پیش کیا۔ اس گانے کو پنجاب کے اس وقت کے ڈی جی پی دنکر گپتا نے بھی اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے شیئر کیا تھا۔لاک ڈاؤن کے دوران سدھو موسے والا بھی پنجاب پولیس کی ڈاکٹروں کو عزت دینے کی مہم کا حصہ تھے۔ویسے تو سدھو موسے والا کی مخالفت کے ساتھ ساتھ بہت تعریف بھی ہوئی لیکن جب نوجوت سدھو تین دسمبر کو دہلی میں سدھو موسے والا سے ملاقات کے بعد باہر آئے تو انھوں نے کہا تھا کہ ’بھائی (راہل گاندھی) نے سدھو موسے والا کی بہت تعریف کی ہے۔ سدھو موسے والا کے گانے لاکھوں میں دیکھے سنے جاتے ہیں۔ مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ ان میں کتنے زیرو ہیں۔ وہ ایک راک سٹار ہیں۔ بھائی اب سیاست دان بن گئے ہیں۔‘بہر حال موسے والا سیاست میں اپنے قدم جماتے اس سے پہلے ہی دن دیہاڑے انھیں قتل کر دیا گیا