. زخمی شیر ،قائد عوام پنجاب ہاؤس کے کچھارنما غار باہر، دشمن قوتوں کو للکار.عوامی طاقت کا زبردست مظاہرہ
.کالم ،،اندر کی بات …راولپنڈی ..اصغر علی مبارک ..
…. زخمی شیر ،قائد عوام اور عوامی وزیراعظم محمد نوازشریف پنجاب ہاؤس اسلام آباد کے کچھارنما غار باہر آ کر اب دشمن قوتوں کو للکار چکے ھیں تیس سالہ سیاسی کیرئر میں پہلی بار عوامی رنگ نظر آیا ھے جس سے ثابت هو چکا کہ عوامی مینڈ یٹ کا احترام نہ کرنے والی قوتوں کو انھیں جلدی میں گھر بھیج کر غلطی کی گئی ھے ، عوامی وزیراعظم محمد نوازشریف کی جی ٹی روڈ ریلی مسلم لیگ نون کے لیے حبس زدہ سیاسی ماحول میں تازہ ھوا کا جھونکا ثابت ہوگی،اور اپوزیشن کے لئے جی ٹی روڈ ریلی مسلم لیگ نون آئندہ انتخا بات سے قبل درد سر بن چکی ھے قائد عوام اور عوامی وزیراعظم محمد نوازشریف کاقافلہ انتہائی سست روی کے ساتھ لاہورکی جانب رواں دواں ہے،قافلے میں لوگوں کے جذبات قابل دید رھا کارکن فرط جذبات سے اس گاڑ ی کو چومتے رھے ،ایک محتاط اندازےکے مطابق دن11بجکر چالیس منٹ پر پنجاب ہاؤس سے ایک قافلے کی شکل میں لاہورکیلئے روانہ ہوھے تو گاڑیوں کی تعداد81100سے زائد جبکہ ریلی میں کارکنوں کی تعداد8 1 ہزارسے زائد تھی جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی جارہی ہے،پر جوش کارکنوں نے نوازشریف کی تصاویروالے بینرزاور جھنڈے اٹھارکھے ہیں،جن پرنوازشریف کے حق میں نعرے”جو دلوں میں بستا ھے ”حکومت اسکی ھے ”عوام کی آواز،،،میاں نواز ،، درج ہیں،نوازشریف نے اسلام آباد شکرپڑیاں کے قریب کنٹینرمیں سوارہوکرکارکنوں کے نعروں کاہاتھ ہلاکرجواب دیا۔ مسلم لیگ ن کے قائدعوام محمدنوازشریف نے پارٹی رہنماؤں او رکارکنان سے مشاورت کے بعدبراستہ جی ٹی روڈ لاہورروانگی کافیصلہ کیا۔تاہم شبساڑھے دس بجے تک بمشکل چاندنی چوک تک ہی پہنچ سکے نوازشریف نے پنجاب ہاؤس راولپنڈی میں ہی رات بسر کرنے کا فیصلہ کیا قائدعوام محمدنوازشریف کاقافلہ جوں جوں راولپنڈی کے قریب پہنچا موسم بھی یہتر ہوگیا جبکے دن بھر شدید حبس کے باوجود کارکنوں کا جذبہ دیدنی تھا ۔ شدید حبس میں نوازشریف کاا ستقبال اور اظہاریکجہتی کرنے کیلئے لیگی کارکنوں کی تعداد بڑھتی ہی گئی ۔ عوامی وزیراعظم نوازشریف کاقافلہ 1کلومیٹرفی گھنٹہ کی رفتارسے اپنی منزل کی جانب رواں دواں رھا ۔سکیورٹی کے پیش نظرقافلے کے روٹ میں قیمتی جیمرزلگائے گئے ہیں۔جن کی کوریج500سے 1000میٹرتک ہے۔نوازشریف بلٹ پروف گاڑی میں سواررھے ۔نوازشریف کنٹینر گاڑی سےسے کارکنوں کے نعروں کاہاتھ ہلاکرجواب دیتے رھے ۔لیگی قائد کارکنوں سے اظہارمحبت کرتے نظر آے ۔نوازشریف کے قافلے کی انتظامیہ کاکہناہے کہ سست روی کی وجہ سے قافلہ کو پنجاب ہاؤس راولپنڈی میں قیام کرناپڑا ۔ عوامی وزیراعظم نوازشریف کو سپریم کورٹ نے پاناما کیس میں اقامہ اور تنخواہ ظاہرکرنے کے جرم میں نااہل قراردے دیاتھا۔ جس پرنوازشریف نے لاہورواپسی کیلئے براستہ جی ٹی روڈروانگی کافیصلہ کیا۔نوازشریف کی ریلی پارٹی کارکنوں کااظہارمحبت ہے کہ وہ اپنے قائد نوازشریف کا اپنے اپنے شہروں میں استقبال کریں اور انہیں الوداع بھی کریں۔ محمد نواز شریف کی اسلام آباد سے لاہور تک نکالی جانے والی استقبالیہ ریلی کی روانگی سے قبل ارکان اسمبلی اور وزراء نے بکروں کا صدقہ دیا .وزیراعظم شاہد خان عباسی نے سابق وزیراعظم نواز شریف سے گلے کر انہیں رخصت کیا، اس موقع پروفاقی و صوبائی وزراءلیگی راہنماﺅ ں اور کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ ۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ نوازشریف کا اسلام آباد سے لاہور جانا احتجاج نہیں ،مخالفین 1998سے لیکر اب تک اپنا کوئی منصوبہ دکھائیں ،بھارت کیساتھ بہتر تعلقات پاکستان کے حق میں ہیں اور کشمیر کے معاملے کو آگے بڑھانے کیلئے بھی ضروری ہیں ، چین کیساتھ حالیہ تعلقات کی ماضی میں مثال نہیں ملتی ، روس کیساتھ بہت عرصے بعد تعلقات کے نئے دور کا آغاز ہوا ہے ،قطر کیساتھ ایل این جی معاہدہ سب سے کم قیمت پر ہوا،،2018کے انتخابات وقت پر ہوں گے اور مسلم لیگ (ن) بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگی، میں 45دن کیلئے آیا ہوں یا 10مہینے کیلئے فیصلہ پارٹی کرے گی ، مسلم لیگ (ن) سے ایک بھی رکن اسمبلی کہیں نہیں گیا ، پارٹیاں بدلنے والے سیاستدانوں کا اب کوئی مستقبل نہیں ، وزارت عظمیٰ کیلئے میرا نام نوازشریف نے تجویز کیا تھا جس کی سب نے تائید کی ، چوہدری نثار کی رائے بھی میرے حق میں تھی ،ریلی کے لیے خصوصی طور پر گاڑی تیار کی گئی ، جس پر اسپیکرز اور ساﺅنڈ سسٹم لگایا گیا جب کہ گاڑی پر سابق وزیراعظم نوازشریف اور مریم نواز کے پوسٹرز آویزاں ہیں۔ریلی پنجاب ہاﺅس سے مارگلہ روڈ، میریٹ ہوٹل سگنل سے ڈی چوک ، ڈی چوک اسلام آباد راولپنڈی پونچی ۔ادھر ہائیکورٹ نے مسلم لیگ ن کی ریلی رکوانے کے لیے دائر کی گئی دونوں درخواستوں کو مسترد کر دیا ۔ سابق نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست بھی دائر کروائی گئی تھی جس کو ہائیکورٹ نے ناقابل سماعت قرار دے دیا نون لیگ کی جانب سےروانگی کے دن کو نوازشریف سے اظہار یکجہتی کا دن قرار دیا ، قوی امکان ھے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی گے جی ٹی روڈ ریلی اسلام آباد سے لاہور 4 1 اگست کو ھی پنچے گی عوامی وزیر اعظم نواز شریف کا ریلی کے موقع پر نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں نے عوام کا شکریہ ادا کرنا ہے ۔ شہباز شریف پنجاب کی جان اور پورے پاکستان کی شان ہیں۔شہباز شریف نے پنجاب کو رول ماڈل بنایا۔ انہیں مزید بھی بہت کچھ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ سب کے لیے نیک خواہشات ہیں ۔ خواہش ہے کہ شاہد خاقان عباسی آئندہ مدت کے لیے بھی وزیر اعظم رہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اللہ ہمیں پاکستان کی ترقی اور عوام کی خدمت کی توفیق دے۔ سیکیورٹی اداروں کی جانب کلئیرنس نہ ملنے کے باوجود سابق وزیر اعظم نواز شریف لاہور کے لیے جی ٹی روڈ جانے پر بضد ہو ے اور کہا کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ھے ، دوسری طرف محکمہ داخلہ کے ذرائع کے مطابق سیکورٹی کلیئرنس کے بعد نواز شریف کو باہر نکلنے کی اجازت ہوگی، نوازشریف کو بلٹ پروف گاڑی میں لاہور لایا جائیگا، وہ لاہور آمد کے بعد داتا دربار پر حاضری دیں گے اور خطاب بھی کریں گے۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عوامی اعظم نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا معاملہ نااہلی تک نہیں جانا چاہیے تھا۔انہوں نے کہا کہ میری نااہلی کے فیصلے کا احترام تو ہے لیکن فیصلے سے اختلاف بھی ہے ،ْانہوں نے کہا کہ مشرف کو ملک سے باہر بھیجنے کا فیصلہ ان کی حکومت کا نہیں عدلیہ کا تھا۔انہوں نے کہاکہ گھر بھیجا گیا ہے، تو گھر جارہا ہوں، گھر جانا ’’پاور شو ‘‘نہیں ہے۔ عوامی اعظم نواز شریف نے کہا کہ ملک کی قیام سے اب تک 18وزرائے اعظم گزرے ہیں تاہم ایک کو بھی آئینی مدت پوری نہ کرنے دی گئی،آئین توڑا گیا، وزرائے اعظم کو پھانسیاں دی گئیں،ملک بدر کیا گیا، کیا عوام کے ووٹ کواسی طرح دھتکارا اور ذلیل کیا جائیگا ،ْ ان سوالوں کا جواب سول سوسائٹی، میڈیا اورہم سب پر فرض ہے ،ْ ملک میں جمہوریت اور پالیسیوں کا تسلسل نہ رہا تو پاکستان کبھی ترقی نہیں کرسکے گا۔نواز شریف نے کہا کہ مجھے پہلی مرتبہ صدر نے نکالا ،ْدوسری بار ڈکٹیٹر نے ہائی جیکر بنا دیا اور تیسری مرتبہ بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے پر عدلیہ نے مجھے نکال دیا اور اب نیب میں پہلی مرتبہ نجی کاروبار کا ریفرنس تیار کیا جارہا ہے ،ْمعاملہ آج کا نہیں، میرے اسکول کے دور کا ہے، 1973 میں میرے والد نے بیرون ملک جاکر سرمایہ کاری کی۔ عوامی اعظم نے کہاکہ پہلی مرتبہ نیب پر سپریم کورٹ کا جج بٹھایا گیا ہے اور فیصلے کے بعد اپیل بھی ا نہی کے پاس جائے گی ،ْ مجھے لوگوں نے مشورہ دیا کہ آپ جے آئی ٹی میں نہ جائیں، وزیراعظم کے دفتر کے وقار پر سمجھوتہ نہ کریں، میں نے کہا کہ اس موقع پر پیچھے ہٹا تو لوگ سمجھیں گے میرے دل میں چور ہے۔عوامی اعظم نے کہاکہ سیاستدانوں نے ہمیشہ مسائل کا حل تلاش کیا ہے،جمہوری حکومت کے ہوتے پاکستان نے کبھی جنگ میں حصہ نہیں لیا ،ْ1971 کی جنگ کے بعد بھی ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو سنبھالا۔ میں بھی خطے میں امن اور مسئلہ کشمیر کا حل چاہتا ہوں، مقبوضہ کشمیر میں ظلم کا بازار بند ہونا چاہیے ،ْمیں نے اقوام متحدہ میں کشمیریوں کی آواز اٹھائی، کشمیر کے مسئلے کا حل جنگ سے نہیں بلکہ میز پر بیٹھ کر نکالنا چاہیے۔



