ریکوڈک ہماری آئندہ نسلوں کا مستقبل ……..پاک فوج ترقی کی ضامن……….(اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک)………………… ملک میں امن اور خوشحالی پاکستان کی ترقی کی بنیاد ہے۔ پاک فوج ملک میں سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے پائیدار امن کے حصول کے لیے کوشاں ہے ملکی سلامتی ، یکجہتی، دفاع ، آزادی، سالمیت اور جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کیلئے پاک فوج کا کردار بڑا شاندار رہا ہے حالیہ مثال ریکوڈک کیس پاک فوج کے زمہ داران کی خصوصی کاوشوں سے پاکستان پر عائد 11 ارب ڈالر کا جرمانہ ختم ہوگیاہے سیاسی شخصیات کی غفلت ولاپروائی کی وجہ پاکستان کے بیرون ملک اربوں کے اثاثے نیلام ہونے کے قریب تھے یہ کہنا بے جا نہ ہوگاکہ معجزہ ہوگیا۔۔نہ صرف پاکستان عائد شدہ 11 ارب کے جرمانے سے بچ گیاہے بلکہ اب پاکستان کی معاشی ترقی میں انقلاب کی نوید سنادی گئی ہےجس کی تفصیلات نئے معاہدے میں موجودہیں.نئے معاہدے سے متعلق اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ نئے معاہدے کے مطابق ریکوڈک پراجیکٹ کو بیرک گولڈ کی پاکستانی اداروں کے ساتھ شراکت کے ساتھ بحال اور تیار کیا جائے گا پاک فوج کی ان مٹ قربانیوں کے بعد پاکستان میں امن لوٹ آیا ہے اور اس کامیابی میں پاک فوج کا کردار قابل تحسین ہےپاک چین اقتصادی راہداری، یعنی سی پیک ایک گیم چینجر کےطور پر سامنے آیا ہے۔ سی پیک کے باعث صوبے نے بین الاقوامی توجہ حاصل کر لی ہے اور دشمن قوتیں اسے نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔فوج نے میگا پروجیکٹ کو سیکیورٹی فراہم کرنے کی غرض سے گوادر بندرگاہ کے ارد گرد 24 مربع کلومیٹر کے پورے علاقے پر باڑ لگا دی ہے تاکہ یہ علاقہ دشمن کے مزموم مقاصد سے محفوظ رہ سکے۔اس وقت صوبے کو معاشی،صنعتی، تجارتی اورسیاحتی نقطہ نظر سےدیکھا جارہا ہے جو افواج پاکستان کی قربانیوں سےممکن ہوا ہے۔ریکوڈک سونے کی کان سمیت لاتعداد قدرتی معدنیات کے ذخائر سرزمین بلوچستان میں پائے جاتے ہیں۔، حکومت بلوچستان اور بیرک گولڈ کارپوریشن آف کینیڈا نے نئے معاہدے پراتوار 20 مارچ 2022 کودستخط کیےاگست 2019ء میں کان کنی کی جلد ترقی کے مقصد کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے ایک کمیٹی قائم کی تھی، اس کوشش میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو پاک فوج کے زمہ داروں اورمشیروں کی مدد حاصل تھی، ریکوڈک کیس میں پاکستان پر عائد 11 ارب ڈالر جرمانہ ختم ہوگیا ریکوڈک ہماری آئندہ نسلوں کا مستقبل ہے۔ اگر ہم نے کوئی کوتائی کی تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ حکومت اور بیرک گولڈ کارپوریشن نامی کمپنی کے درمیان ضلع چاغی میں سونے اور تانبے کے سب سے بڑے پراجیکٹ ریکوڈک منصوبے کو دوبارہ شروع کردیا گیا ہے ایران اور افغانستان سے متصل سرحدی ضلع چاغی میں ریکوڈک پراجیکٹ پر تنازع کے باعث گذشتہ کئی سال سے کام بند تھا۔اس تنازعے کے باعث غیر ملکی ٹھیتیان کاپر کمپنی نے ثالثی کے دو بین الاقوامی فورمز سے رجوع کیا تھا جن میں سے ایک نے ان کے حق میں فیصلہ دیا تھا اور پاکستان پر جرمانہ عائد کیا تھا۔اس کے علاوہحکومت کو مقدمہ بازی پر مجموعی طور پر سات ارب روپے سے زائد کے اخراجات اٹھانے پڑے۔حکومت نے ٹھیتیان کاپر کمپنی میں دونوں شیئر ہولڈرز سے مذاکرات کیے تھے جن میں سے کینیڈا کے ’بیرک گولڈ‘ نامی کمپنی نے منصوبے پر دوبارہ کام کرنے کے لیے رضامندی ظاہر کی اس منصوبے سے بلوچستان کو مجموعی طور پر 33 فیصد مالی فوائد حاصل ہوں گے۔دس سالہ قانونی جنگ اور مذاکرات کے بعد یہ کامیابی ملی ہے۔ تقریباً 11 ارب کے جرمانے کی تلافی ہوئی ہےبیرک گولڈ کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک برسٹو نے تمام فریقین کو اس معاہدے تک پہنچنے پر مبارکباد دی اور کہا کہ اگر کام منصوبے کے مطابق چلتا رہا، تو منصوبے سے پیداوار پانچ سے چھ سالوں میں آنا شروع ہو جائے گی۔بیرک گولڈ اس منصوبے میں آپریٹر کا کردار ادا کرے گا اور اسے اس حوالے سے کان کنی کے لیے لیز دی گئی ہے اوردیگر لائسنس اور حقوق بھی دیے گئے ہیں۔اس منصوبے میں بعد میں جتنے بھی معاہدے کیے جائیں گے ان کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی و صوبائی حکومت کے علاوہ سپریم کورٹ کو شامل کیا جائے گا۔معاہدے میں بلوچستان کے تمام ٹیکسوں، رائلٹی اور سی ایس آر کا تحفظ کیا گیا ہے معاہدے میں علاقے کی ترقی کا خصوصی پیکج بھی شامل کروایا گیا ہے جبکہ منصوبے سے روزگا کے آٹھ ہزار مواقع دستیاب ہوں گے۔پراجیکٹ کمپنی ریکوڈک منصوبے پر آٹھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی جو کہ ملکی تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہو گی۔بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع معدنیات کے ذخائر کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ دنیا میں وہ کاپر اور سونے کی سب سے بڑی کانوں میں سے ایک ہیں جن پر آج تک مکمل انداز میں کام شروع نہیں ہو سکا ہےپاکستان کی حکومت نے ان ذخائر کی تلاش کے لیے 28 برس قبل ریکوڈک منصوبے کا آغاز کیا لیکن اس سے ملک کو کسی فائدے کے بجائے ناصرف چھ ارب ڈالر کا جرمانہ ہوا بلکہ سرمایہ کاری سے متعلق تنازعات کو نمٹانے کے لیے ثالثی کے دو بین الاقوامی اداروں میں مقدمہ بازی پر خطیر اخراجات بھی ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی ثالثی ٹریبیونل نے پاکستان پر صوبہ بلوچستان میں سونے اور تانبے کے کروڑوں ڈالر مالیت کے ریکوڈک پراجیکٹ کے مقدمے میں تقریباً چھ ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا تھا۔ 2013 میں جب ریکوڈک پر کام کرنے والی کمپنی ٹھیتیان کاپر کمپنی کو مائننگ کا لائسنس نہیں دیا گیا تو کمپنی نے اس کے خلاف سرمایہ کاری سے متعلق تنازعات کو نمٹانے والے دو بین الاقوامی فورمز سے رجوع کیا۔ان میں سے ایک انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپویٹس (ایکسڈ) کا تھا۔ معلومات کے مطابق سات سال کے دوران ان فورمز پر مقدمہ بازی پر مجموعی طور پانچ ارب، 33 کروڑ 80 لاکھ آٹھ ہزار دو سو دو روپے کے اخراجات ہو ئے ہیں۔ان کیسوں میں برطانیہ کی سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی اہلیہ چیری بلیئر بھی پاکستان کی نمائندگی کرتی رہی ہیں۔حکومت بلوچستان نے یہاں کے معدنی وسائل سے استفادہ کرنے کے لیے ریکوڈک کے حوالے سے سنہ 1993 میں ایک امریکی کمپنی بروکن ہلز پراپرٹیز منرلز کے ساتھ معاہدہ کیا تھا۔ معاہدہ بلوچستان ڈیویلپمنٹ کے ذریعے امریکی کمپنی کے ساتھ جوائنٹ وینچر کے طور پر کیا گیا تھا۔چاغی ہلز ایکسپلوریشن کے نام سے اس معاہدے کے تحت 25 فیصد منافع حکومت بلوچستان کو ملنا تھا۔ اس معاہدے کی شقوں میں دستیاب رعایتوں کے تحت بی ایچ پی نے منکور کے نام سے اپنی ایک سسٹر کمپنی قائم کر کے اپنے شیئرز اس کے نام منتقل کیے تھے۔منکور نے بعد میں اپنے شیئرز ایک آسٹریلوی کمپنی ٹھیتیان کوپر کمپنی (ٹی سی سی) کو فروخت کیے۔نئی کمپنی نے علاقے میں ایکسپلوریشن کا کام جاری رکھا جس کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ریکوڈک کے ذخائر معاشی حوالے سے سود مند ہیں۔ بعد میں کینیڈا اور چِلی کی دو کمپنیوں کے کنسورشیم نے ٹی سی سی کے تمام شیئرز کو خرید لیا۔ریکوڈک کے حوالے سے بلوچستان کے بعض سیاسی حلقوں میں تحفظات پائے جاتے تھے۔ ان حلقوں کی جانب سے معاہدے کو پہلے بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا مگر ہائی کورٹ نے اس حوالے سے مقدمے کو مسترد کر دیا اور بعد میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا۔سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں ایک بینچ نے قواعد کی خلاف ورزی پر ٹی سی سی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو کالعدم قرار دے دیاتھا۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹی سی سی نے مائننگ کے لائسنس کے حصول کے لیے دوبارہ حکومت بلوچستان سے رجوع کیا۔بلوچستان حکومت نے لائسنس کی فراہمی کے لیے یہ شرط رکھی تھی کہ کمپنی یہاں سے حاصل ہونے والی معدنیات کو ریفائن کرنے کے لیے بیرون ملک نہیں لے جائے گی۔کمپنی کی جانب سے ان شرائط کو ماننے کے حوالے سے پیش رفت نہ ہونے اور محکمہ بلوچستان مائننگ رولز 2002 کے شرائط پوری نہ ہونے کے باعث معدنیات کی لائسنس دینے والی اتھارٹی نے نومبر 2011 میں ٹی سی سی کو مائننگ کا لائسنس دینے سے انکار کر دیا تھا۔ریکوڈک بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق ریکوڈک کا شمار پاکستان میں تانبے اور سونے کے سب سے بڑے جبکہ دنیا کے چند بڑے ذخائر میں ہوتا ہے۔ریکوڈک کے قریب ہی سیندک واقع ہے جہاں ایک چینی کمپنی ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے تانبے اور سونے کے ذخائر پر کام کر رہی ہے۔ تانبے اور سونے کے دیگر ذخائر کے ساتھ ساتھ چاغی میں بڑی تعداد میں دیگر معدنیات کی دریافت کے باعث ماہرین ارضیات چاغی کو معدنیات کا ’شو کیس‘ کہتے ہیں۔

کار کے کراڈینیز الیکٹرک یوٹرم
تنازعات کا تصفیہ ریاست پاکستان کی معاشی بہبود کے لیے پاک فوج کی کوششوں کی بہترین مثال ہے۔
14 اگست 2020 کو صدر پاکستان نے آئی ایس ائی کے تین افسران کو ستارہ امتیاز کے سول ایوارڈ سے نوازا جنہوں نے کارکے تنازع کے کامیاب حل میں اہم کردار ادا کیا تھا