…………………حالات نارمل نہیں پارٹی اور قیادت مشکل میں ہے،مزید تشریح نہیں کروں گا .سابق وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان کا پارٹی قیادت سے اختلافات رائے کےحوالے سے گریز
رپورٹ ؛اصغر علی مبارک ….

………..
اسلام آباد…سابق وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے کہاہے کہ پارٹی اجلاسوں میں میری تقریرکولیک کرنے والے بددیانتی کے مرتکب ہیں،چوہدری نثار
مشرف کومیری وزارت داخلہ نے روکالیکن عدالتوں نے جانے کاحکم دیا،ڈان لیکس کی انکوائری حکومت کی ہدایت پرہوئی،رپورٹ کوپبلک ہونی چاہیے، سیکشن آف میڈیاسے شکوہ ہے، میاں نوازشریف اور شاہدخاقان نے وزارت کیلئے بہت قائل کیا،مشکورہوں،حالات نارمل نہیں پارٹی اور قیادت مشکل میں ہے،مزید تشریح نہیں کروں گا۔سابق وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے کہاہے کہ پارٹی اجلاسوں میں میری تقریرکولیک کرنے والے بددیانتی کے مرتکب ہیں،مشرف کومیری وزارت داخلہ نے روکالیکن عدالتوں نے جانے کاحکم دیا،ڈان لیکس کی انکوائری حکومت کی ہدایت پرہوئی، رپورٹ کوپبلک ہونی چاہیے، آزادمیڈیا کے سیکشن آف میڈیاسے شکوہ ہے، میاں نوازشریف اور شاہدخاقان نے وزارت کیلئے بہت قائل کیا،مشکورہوں۔ سابق وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ سنٹرل ایگزیکٹوکمیٹی کی میٹنگ ہوئی۔اس کے بعد بیانات آئے۔میری تقریرکے حوالے سے کوئی بھی بات سنے تومجھ تصدیق کرلیاکریں۔بجائے وہ میرے منہ میں ڈال کرپیش کی جائے۔میں کوئی خبرلیک نہیں کی نہ ہی کوئی بیان دیا۔جوباتیں ہوئیں ان میں حقائق نہیں۔انہوں نے کہاکہ وزارت داخلہ کاسواچارسال ریکارڈرکھناچاہتاہوں۔بہت سے ذی شعورلوگوں کووزارت داخلہ کی اتھارٹی کاعلم نہیں۔وہ مجھ پرآئینی و قانونی اتھارٹی جانے بغیرتیرچلاتے رہے۔وزارت داخلہ کے پاس کوئی ایگزیکٹواتھارٹی نہیں،انہوں نے کہاکہ میں نے ایک 40صفحات پرمشتمل بریف تیارکیاہے۔جبکہ میں نے کبھی اپنی کارکردگی بارے بریف نہیں کیا۔یہاں ٹونٹی ٹوینٹی پرفوکس ہوتاہے ٹیسٹ میچ نہیں دیکھاجاتا۔انہوں نے دستاویزات میڈیا کے حوالے کردی کہ ان کوپڑھیں اور بحث کریں۔سابق وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے کسی کوجلسے کی اجازت دی، یاکوئی پولیس والاآیاکسی کوتنگ کیاتووہ ذمہ داری بھی مجھ پرڈالی گئی۔چوہدری نثارنے کہاکہ جب سانحہ لال شہبازقلندرہواکچھ لوگوں نے مجھ پرتنقید کی جس کاجواب بھی دیا۔تاہم میں نے کہاکہ ہم سب کوساتھ لیکرچلناہوگا۔انہوں نے کہاکہ 2013ء جون میں پانچ چھ دھماکے ہوتے تھے اس وقت خبردھماکوں کی نہیں بلکہ دھماکے نہ ہونے کی خبرہوتی تھی۔ سابق وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے کہا ”میں نے وزیراعظم سے اجازت لیکراسٹیک ہولڈرسے بات چیت کی ۔کوشش کی سب کوساتھ لیکرچلاجائے۔آل پارٹی کانفرنس بلائی اور 8مہینے ڈائیلاگ میں لگے۔دوسری جانب سے ڈبل گیم تھی۔کراچی میں دہشتگردحملے کے بعد ملٹری آپریشن کافیصلہ کیاگیا۔جے یوآئی ف اور تحریک انصاف مخالف تھی۔تاہم انہوں نے ساتھ دینے کابات کی۔چوہدری نثارنے کہاکہ نیشنل ایکشن پلان آرمی پبلک سکول حملے کے بعد شروع کیاگیا،وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے ساتھ دیا۔کراچی آپریشن جون میں فیصلہ کیااور جولائی میں ڈی جی رینجرزسے بریفنگ لی۔واپسی پروزیراعظم سے اجازت لی۔پھر27اگست کوآپریشن کااعلا ن کیا۔5ستمبرکوکراچی میں میٹنگ کیلئے پریس کانفرنس کی۔انہوں نے کہاکہ ہزاروں شناختی کارڈجو2004،2005میں بنائے گئے۔جس ملک میں ہزاروں لاکھوں شناختی کارڈجعلی ہوں ۔32ہزارپاسپورٹ منسوخ کیے۔2000ء سے زائد ڈپلومیٹ پاسپورٹ واپس کیے۔سابق وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے کہا کہ10ہزارلوگوں کے نام ای سی ایل سے نکالے۔جوکہ کافی عرصے سے شامل تھے۔ای سی ایل لسٹ ٹھیک کردی ہے۔انہوں نے کہاکہ حیران ہوں کہ وزیراعظم شاہد نے خودساختہ اسلحے کے لائسنس کی بات کی۔ہم نے 2لاکھ سے زائد لائسنس کینسل کیے گئے۔جبکہ9.8کروڑ زموبائل سمزکینسل کی گئیں۔انہوں نے کہاکہ طورخم سے 30ہزارلوگ بغیرکسی دستاویزات کے آتے اور جاتے تھے۔اس کی روک تھام کیلئے فیصلہ کیا۔سابق وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے کہا کہ
طورخم اور چمن میں کام مکمل ہوچکاہے۔پاک افغان بارڈرپرمہمندایجنسی اورایران کے بارڈرپربھی کام شروع کردیاگیاہے۔اسلام آبادمیں کوئی غیرقانونی رہائش پذیرنہیں اب پتاہے کون غیرملکی کہاں رہ رہاہے۔این جی اوزمیں قانون کے دائرے میں 70غیرملکی این جی اوزکوکام کرنے کی اجازت دی ۔جبکہ اسلام آبادمیں 400این جی اوزرجسٹریشن کیلئے تیارنہ تھیں۔سابق وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے کہا کہ ویزہ پالیسی بنائی۔اب کوئی شخص بغیرویزہ پاکستان نہیں آسکتا۔انہوں نے کہاکہ ہم نے دہشتگردی کی جنگ میں پولیس کی کارکردگی کوکبھی نہیں سراہا۔جب تمام صوبوں کی پولیس نے بہترین کام کیا۔انہوں نے کہاکہ آزادمیڈیاسے شکوہ نہیں مگرسیکشن آف میڈیاسےشکوہ ہے۔انہوں نے کہاکہ آج 24دن بعد میڈیاکے سامنے آیاہوں میں نے کوئی بیان نہیں دیا۔اگرکوئی بیان دیاتووہ اپنے ترجمان کے ذریعے دی ہے۔انہوں نے اپنی پہلی پریس کانفرنس بارے بھی میڈیاکوآگاہ کیاکہ میری بات کوغلط اندازمیں پیش کیاگیا۔جبکہ میں وزارت سے استعفیٰ کی بات کی تھی۔تومیں اس پرقائم رہااور وزارت نہیں لی۔پاناما کیس میں جیسابھی فیصلہ آیامیں اپنی پارٹی میں قائم دائم رہوں گا۔انہوں نے کہاکہ میں میاں نوازشریف اور وزیراعظم شاہدخاقان کامشکورہوں کہ انہوں نے مجھے آخری وقت تک قائل کرنے کی کوشش کی۔سابق وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے کہا کہ کابینہ اجلاس اور سی اوسی میٹنگ میں میں نے اگرکوئی بات کی تواس بات کواگرکسی نے لیک کیاتویہ اس شخص کی بددیانتی ہے۔تاہم نظریاتی اختلاف ہرکسی کاحق ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں کتنے لوگ ہیں جواصولوں پروزارت چھوڑتے ہیں؟انہوں نے جس شخص کی ساری زندگی پارٹی میں گزری ہو اور اس نے کبھی ایساسوچابھی نہ ہوتوایساتاثردیناتضحیک آمیزہے۔سابق وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے کہا کہ وزارت داخلہ گارنٹی کسی سے نہیں لیتاکورٹ لیتاہے۔انہوں نے یہ بات کورٹ میں ہوئی تھی۔انہوں نے کہاکہ خداکے واسطے اپنافائرسیاستدانوں پرفائرنہ کریں۔مشرف سے متعلق سندھ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کافیصلہ پڑھیں،پرویزمشرف اپنامئوقف وزارت داخلہ کونہیں کورٹ کودے کرگئے ہیں۔مشرف کوعدالت کے حکم پرجانے دیا۔ہم نے کہاتھا کہ وزارت داخلہ ریڈوارنٹ جاری کرے گا۔سابق وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے کہا کہ ڈان لیکس کی انکوائری حکومت کے حکم پرہوئی۔انکوائری رپورٹ کوپبلک ہوناچاہیے۔ریٹائرڈجج، ڈائریکٹرآئی بی،آئی ایس آئی سمیت ممبران میرے ماتحت نہیں تھے۔ایک جونیئرترین ایف آئی اے کاآدمی وزارت داخلہ کے انڈرتھا۔انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت سے الگ کرنے کی تشریح نہیں کرناچاہتاکیونکہ پارٹی اور لیڈرشپ مشکل میں ہے۔ حالات نارمل نہیں ہیں۔سابق وفاقی وزیر داخلہ نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت اور پارٹی کے حوالے سے اختلافات رائے کے بارے میں بات کرنے سے گریز کیا ،سیاسی حلقوں میں چوہدری نثار علی خان کی سیاسی معاملات پر دھواں دھار خطاب کی توقع کی جا رہی تھی ، اس حوالے سے چوہدری نثار علی خان نے پارٹی اور سیاسی معاملات پر بات کرنے سے گریز کیا ، اس حوالے سے ان سے متعدد سوالات بھی ہوئے اور یہ کہہ کر یہ معاملہ ٹال دیا کہ وہ سیاسی معاملات پر کھل کر بات نہیں کرسکتے ، کابینہ اور پارٹی کی سطح پر بات کر چکا ہوں اب اگر انہیں ظاہر کروں گا تو پارٹی اور قیادت دونوں کو اس مشکل وقت میں نقصان پہنچ سکتا ہے۔