”ایک زرداری سب پر بھاری”;حمزہ شہباز دوبارہ وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ….(اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک)……… ایک زرداری سب پر بھاری۔ پنجاب کی سیاست میں ایک اور ڈرامائی موڑ۔ حمزہ شہباز وزیر اعلئ پنجاب منتخب۔سوری بمقابلہ مزاری۔لیٹر بمقابلہ لیٹر۔پاکستان کی سیاست میں اور تاریخی دن بن گیا گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے کے مصداق پرویز الہی کو گجرات کے سیاست دان چوہدری شجاعت نے عین موقع پر ناک آوٹ ہوگئے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین و وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے حمزہ شہباز کے دوبارہ وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہونے پر ردعمل کا اظہار کیا ن لیگ کے امیدوار حمزہ شہباز دوبارہ وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوگئے جبکہ پرویز الہیٰ کو پھر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

ووٹنگ کے نتیجے کے مطابق پی ٹی آئی کے امیدوار پرویز الہیٰ نے 186 ووٹ لیے جبکہ مسلم لیگ ن کے حمزہ شہباز نے 179 ووٹ لیے۔ ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ق لیگ کے کاسٹ کیے گئے تمام 10 ووٹ مسترد ہوتے ہیں اور میں اس بات کا اعلان کرتا ہوں کہ 10 ووٹ ختم ہونے کے بعد حمزہ شہباز وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوگئے ہیں۔ حمزہ کی منتخب ہونے کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے ردعمل کا اظہار کیا اور اپنی ٹوئٹ میں صرف یہ لکھا کہ ’ایک زرداری سب پر بھاری‘۔ آئینی طور پر اب یہ دس ممبران ڈس کوالیفافی ہوجائیں گے ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے ایوان کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق 16 اپریل کو ہونے والے انتخاب میں حمزہ شہباز کو 197 ووٹ پڑے تھے جن میں سے 25 ووٹ نکالنے کے بعد ان کے ووٹوں کی تعداد 172 بنتی ہے جو کہ درکار 186 ووٹ سے کم ہے لہٰذا اب انہیں اکثریت حاصل نہیں۔ سابق وفاقی وزیر و مسلم لیگ (ق) کے رہنما مونس الٰہی نے تصدیق کی ہے کہ چوہدری شجاعت نے کہا کہ عمران خان کے امیدوار کی حمایت نہیں کروں گا۔ مونس الٰہی کا کہنا تھاکہ میں ماموں (چوہدری شجاعت) کے پاس گیا تھا اور انہوں نے ویڈیوپیغام ریکارڈ کرنے سے انکارکیا اور کہا کہ عمران خان کےامیدوارکی حمایت نہیں کروں گا۔ مونس الٰہی کا کہنا تھاکہ میں بھی ہار گیا ہوں، عمران بھی ہار گئے اور زرداری جیت گئے۔
ان کا کہنا تھاکہ چوہدری شجاعت نے خط میں لکھا تھا کہ کسی کو ووٹ نہیں دینا۔سپریم کورٹ نے پارٹی سربراہ کا منحرف رکن کےخلاف ایکشن لینے یا نہ لینےکا اختیارختم کیاتھا سپریم کورٹ نے قراردیاہے کہ پارٹی ہیڈ ڈکلئیریشن دےیا نہ دےمنحرف رکن کاووٹ شمارنہیں ہوگا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کیلئے پنجاب اسمبلی کا اجلاس تقریباً پونے تین گھنٹے کی تاخیر کے بعد شام 7 بجے شروع ہوا جس کے بعد ووٹنگ ہوئی جس کے مطابق پی ٹی آئی نے 186 ووٹ لیے جبکہ مسلم لیگ ن نے 179 ووٹ لیے ۔ تاہم ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری نے ق لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت کے خط کو پڑھ کر سنایا جس میں انہوں نے ق لیگ کے ارکان کو حمزہ شہباز کو ڈالنے کی ہدایت کی تھی۔ ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ اس خط کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں جتنے بھی ووٹ ق لیگ کے کاسٹ ہوئے ہیں وہ مسترد ہوتے ہیں اور میں اس بات کا اعلان کرتا ہوں کہ 10 ووٹ ختم ہونے کے بعد حمزہ شہباز وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوگئے ہیں۔ اس موقع پر ق لیگ اور تحریک انصاف کے ارکان نے احتجاج کیا لیکن ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ اگر وہ اس فیصلے سے اتفاق نہیں کرتے تو اسے عدالت میں چیلنج کر سکتے ہیں۔ اس موقع پر تحریک انصاف کے رکن راجہ بشارت نے کہا کہ ہم نتیجے کے خلاف عدالت جائیں گے ۔خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت کی جانب سے وزارت اعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار کی حمایت سے انکار کردیا ہے۔چوہدری شجاعت نے ق لیگ کے ارکان کو خط میں ہدایت دی ہے کہ کسی کو ووٹ نہیں دینا۔ اس صورتحال کے بعد پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے انتخاب میں مسلم لیگ ق کے ارکان شش و پنج کا شکار رہے اور کافی دیر تک اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔بعدازاں چوہدری پرویز الٰہی سمیت ق لیگ کے ارکان نے اپنے ووٹ کاسٹ کر دیے ہیں اور پارٹی سربراہ کی ہدایت کے برخلاف پی ٹی آئی امیدوار پرویز الٰہی کو ووٹ دیا۔ پنجاب میں وزیراعلیٰ کے انتخاب میں مسلم لیگ ق کے ووٹوں کی گنتی کا معاملہ اہمیت اختیار کرگیا۔سپریم کورٹ نے پارٹی ڈائریکشن سے منحرف ارکان کے ووٹ شمار نہ کرنےکی رائےدی ہے۔ سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کے مختصرحکم نامے میں یہ رائے دی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب، مسلم لیگ (ق) کے ووٹ مستردکردیا .آئین میں استعمال ہونے والا لفظ پارلیمانی پارٹی کے تناظر میں ہے نہ کہ پارٹی لیڈر جس سے مراد ’مجموعی طور پر پارٹی‘ ہے اور یہ معاملہ انتہائی اہم ہے جس کے عدالت میں جانے کا امکان ہے۔ارلیمانی لیڈر صرف اس صورت میں انحراف کا نوٹس لے سکتا ہے جب پارٹی سربراہ انہیں اس معاملے سے آگاہ کرے۔ اگر پارلیمانی پارٹی پہلے ہی ہدایت دے چکی ہے تو پھر وہی پارلیمانی لیڈر ہو گا جو ایوان میں ہدایات جاری کرے گا، جس سے انحراف کا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔.پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کا عمل مکمل ہوگیا اور ڈپٹی اسپیکر نے اعلان کیا کہ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے ووٹ مسترد کردیے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت نے خط لکھا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ پارٹی کے اراکین حمزہ شہباز کو ووٹ دیں گے۔قبل ازیں ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کی زیرصدارت پنجاب اسمبلی کا اجلاس تلاوت کلام پاک اور ترجمے سے شروع ہوا، جس کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے راولپنڈی سے منتخب ہونے والے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رکن اسمبلی راجا صغیر سے رکنیت کا حلف لیا۔اجلاس کے شروع میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن طاہر خلیل سندھو نے اعتراض کیا کہ حلف اور نوٹیفکیشن میں فرق ہوتا ہے، پی پی-167 سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے منتخب رکن صوبائی اسمبلی شبیراحمد کے بارے میں لکھا گیا ہے نوٹیفکیشن کمیشن کے حتمی فیصلے سے مشروط ہوگا، اگر اس کا حلف لیا گیا ہے تو وہ غیر قانونی ہے اور وہ ووٹ نہیں ڈال سکتے۔انہوں نے ایک اور اعتراض کیا کہ زین قریشی ملتان سے اس وقت رکن قومی اسمبلی ہیں اور صوبائی رکن بھی ہیں تاہم راجا بشارت نے پی ٹی آئی ارکان کے حوالے سے اعتراض دور کیا، جس کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ پہلا ووٹ زین قریشی ڈالیں۔ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ 16 اپریل کو وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے ووٹنگ ہوئی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حمزہ شہباز کامیاب ہوئے جبکہ پرویز الہیٰ کو کوئی ووٹ نہیں ملا۔انہوں نے کہا کہ ‘حمزہ شہباز کو 197 ووٹ ملے لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق 25 اراکین کا ووٹ شمار نہیں کیا گیا’۔ان کا کہنا تھا کہ حمزہ شہباز کے پاس اب 172 ووٹ ہیں اور کسی کے پاس 186 ووٹ نہیں ہیں تاہم آئین کے آرٹیکل 130 فور کے تحت دوبارہ ووٹنگ کے لیے اسمبلی کا اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ ووٹنگ کا عمل پہلے کی طرح ہوگا اور سیکریٹری اسمبلی ووٹنگ کا طریقہ کار بتائیں گے اور اس کے بعد سیکریٹری نے ووٹنگ کا طریقہ کار سمجھایا۔دوست مزاری نے کہا کہ پرویز الہیٰ اور حمزہ شہشباز کی حمایت کرنے والے اراکین مخالف سمت پر چلے جائیں۔اس سے قبل اسمبلی اجلاس میں کورم پورا کرنے کے لیے گھنٹیاں بج چکی تھیں لیکن اجلاس مقرر وقت 4 بجے شروع نہیں ہوسکا اور تاخیر کا شکار ہوا جہاں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی لابی میں موجود رہے لیکن وہ ایوان میں داخل نہیں ہو رہے تھے۔تاہم تقریباً 3 گھنٹے کی تاخیر کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دیگر اراکین اسمبلی میں پہنچ گئے اور ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کی صدارت میں اجلاس شروع ہوگیا۔مونس الہٰی کا حوالہ دیتےہوئے کہا کہ چوہدری شجاعت حسین نے پرویز الہٰی کے بطور پی ٹی آئی امیدوار حمایت کرنے سے انکار کیا۔مونس الہٰی نے ٹوئٹ میں کہا کہ پاکستان مسلم لیگ(ق) اور پی ٹی آئی کی مشترکہ پارلیمانی اجلاس میں متفقہ طور پر اتفاق کیا گیا تھا کہ پرویز الہٰی ان کے امیدوار ہوں گے۔تاہم پنجاب اسمبلی میں موجود چوہدری پرویز الہٰی سمیت پاکستان مسلم لیگ(ق) کے اراکین نے اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔ چوہدری شجاعت کی جانب سے خط کے تناظر میں اگر کوئی پارلیمانی پارٹی ووٹنگ میں گئی اور اگر ان کے پاس کوئی واضح ہدایات موجود نہیں تو پھر قانون سازوں کے پاس انتخاب کرنے کا حق ہوگا جس کے بعد پارلیمانی لیڈر کی ہدایات بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔یکم جولائی کو سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا دوبارہ انتخاب 22 جولائی کو ہوگا۔
دوران سماعت یہ بات سامنے آئی کہ تحریک انصاف کے وزیراعلیٰ کے متفقہ امیدوار پرویز الہٰی اور ن لیگ کے حمزہ شہباز نے 22 جولائی کو وزیراعلیٰ پنجاب کے دوبارہ انتخاب پر اتفاق کر لیا ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے زبانی حکم میں کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا الیکشن اب 22 جولائی کو ہوگا اور اس حوالے سے تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔گزشتہ روز آصف زرداری مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت سے ملاقات کرنے ان کی رہائش گاہ گئے اور شہباز شریف کی رہائش گاہ پر حکومت کی اتحادی جماعتوں کے اجلاس کے فیصلوں پر اعتماد میں لیا، ر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ آپ کے تعاون سے ہی حکومت آگے چل سکتی ہے، میں چوہدری پرویز الہیٰ کو حکومتی امیدوار بنانے کے لیے وزیر اعظم سے بات کرنے کو تیار ہوں ورنہ آپ حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنانے میں سپورٹ کریں اور پارٹی کے ارکان کو انہیں ووٹ دینے کی ہدایت کریں، چوہدری شجاعت حسین نے اس پر خاموشی اختیار کی۔ آصف علی زرداری سے ملاقات میں چوہدری شجاعت کے خاندان کے افراد بھی ملاقات میں شامل تھے، بند کمرے میں ہونے والی یہ ملاقات ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی، آصف زرداری ملاقات کے بعد مسکراتے اور فتح کا نشان بناتے ہوئے واپس روانہ ہوئے۔وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ تجربہ کار سیاستدان چوہدری شجاعت حسین کے فیصلے نے پاکستان کو عمرانی فتنے سے محفوظ کیا، اس ٹولے کے فساد سے محفوظ کیا اور آج ملک میں جمہوریت اور رواداری کو فروغ دیا ہے۔رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ لوگوں نے آج سارا دن گھٹیا گفتگو دیکھی، فرعونیت، تکبر اور غرور میں غرق لوگوں نے آج سیاسی مخالفین، افسران کا نام لے لے کر گالیاں اور دھمکیاں دیں۔
انہوں نے کہا کہ شاید یہی وہ لمحات تھے جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں سرخرو کرنے اور فسادیوں اور عمرانی فتنے کو سرنگوں کرنے کا فیصلہ کیا۔رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ تجربہ کار سیاستدان چوہدری شجاعت حسین کے فیصلے نے پاکستان کو عمرانی فتنے سے محفوظ کیا، اس ٹولے کے فساد سے محفوظ کیا اور آج ملک میں جمہوریت اور رواداری کو فروغ دیا ہے۔ اتحادی جماعتوں کی قیادت اور تمام کارکنان چوہدری شجاعت کے اس فیصلے کو سراہتے اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں، انہوں نے صحیح معنوں میں جو شخص ملک کو تقسیم کرنا چاہتا ہے، جو نواجوانوں کو گمراہ کرنا چاہتا ہے، جو شخص پاکستانی قوم کےلیے ناسور ہے، چوہدری شجاعت نے اس کی شناخت کرکے انہوں نے فیصلہ کیا، جس کی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کو کامیابی ملی۔رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ میاں حمزہ شہباز اکثریت حاصل کرکے وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے ہیں، ان کے انتخاب میں ان غریبوں کی دعاؤں کا بھی اثر ہوگا جن کے بجلی کے بل معاف کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، اس فسادی ٹولے نے شور کیا تھا جس کے باعث یہ فیصلہ مؤخر ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ چوہدری شجاعت حسین ان کی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق) کے ساتھ اس عمل میں جتنے بھی کردار شامل تھے ان سب کو اپنی اور اپنی جماعت کی جانب سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ 17 جولائی کے ضمنی انتخابات کا نتیجہ پی ایل ایل (ن) کے اپنے فیصلے کی وجہ سے ہمارے خلاف آیا تھا، ہم نے اپنے اس غلط فیصلے کو بھی تسلیم کیا، اور انتخابی نتائج کو بھی تسلیم کیا لیکن اس کے باوجود ہمیں اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کو گالیاں دیں۔