ایٹمی تجربات پاک فوج کی کاوشوں کا ثمر ہیں………. .(اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک)……………..28 مئی1998 کا دن پاکستان کی تاریخ میں نہایت اہم ہے جب پاکستان نے پانچ کامیاب ایٹمی دھماکے کئے اور دنیا کی تسلیم شدہ نیوکلیئر پاور بن گیا۔ان سب کامیابیوں کے پیچھے پاکستان آرمی تھی جس کی شبانہ روز محنت نے پاکستان کو اس مقام پر لا کھڑاکیا جہاں ہر پاکستانی کو فخر ہے پاک فوج ایک ایسا ادارہ ہے جو تشہیر سے زیادہ کام پر توجہ دیتا ہے کیونکہ ان کی بینادی وجہ قومی سلامتی کو ہر ممکن مضبوط و مستحکم بنانا ہوتاہے جب سے پاکستان کا ایٹمی پروگرام کا آغاز ہوا فوج کے ہر سربراہ نے اپنااپنا حصہ اس میں بخوبی ڈالا اور آج آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی سربراہی میں ملک کا ایٹمی اور دفاعی نظام مضبوط ہاتھوں میں ہے اور سیاسی شخصیات کے آنے جانے سے ہمارے ایٹمی پروگرام پر کوئی فرق نہیں پڑتاہے یہ بات یہاں بتانا ضروری ہے کہ ملکی ایٹمی نظام پاک فوج کی کاوشوں سے روز بروز ترقی کی منازل طے کررہاہے آج دنیامیں پاکستان کا جو مقام اور مرتبہ ہے اس کی بڑی وجہ اس کی ایٹمی صلاحیت ہے۔جذبہ ایمانی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے سرشار پاک فوج آج نیوکلیئر ہتھیاروں کے ساتھ مسلح ہے۔ 1970 کی دہائی میں پاکستان نے اپنا پُرامن ایٹمی پروگرام شروع کیا۔ اس وقت کی فوجی قیادت کی بصیرت تھی کہ انہوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسی شخصیت کی حوصلہ افزائی کی اور بعدازاں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی بنیاد رکھی۔ یہ ادارہ پاکستان کا بڑا اثاثہ ہے جس نے سخت محنت کرکے پاکستان کو نیوکلیئر پاوربنایا۔ پاکستان کے ایٹمی تجربات نے نہ صرف ہندوستان بلکہ مغربی دنیا پر بھی لرزہ طاری کردیا۔ ہمارا سر فخرسے بلند ہے کہ ہم ایک ایٹمی طاقت ہیں۔ ہماری افواج دنیا کی بہترین افواج ہیں جو ہر خطرے کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کی طرف میلی نگاہ سے نہیں دیکھ سکتی۔ پاک فوج اور ایٹمی توانائی کمیشن جیسے ادارے پاکستان اور اہلِ پاکستان کا سرمایہ ہیں۔ پاکستان اللہ تعالی کی خاص حکمت سے ایک خاص مقصد کے لئے قائم ہوا کسی بھی ملک کی ترقی، سلامتی، استحکام اور بقا ء میں اس ملک کی افواج کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے.دفاع وطن ,سا لمیت اوربقاءکے لئے افواج پاکستان کا کردارمثالی ہے۔ پاک فوج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروفِ عمل ہے۔ جس میں ہزاروں جانباز اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ یوم تکبیر پر پاکستانی قوم اپنے محافظوں کے گراں قدر کردار کو سراہتی اور شہیدوں کی عظمت کو سلام پیش کرتی ہےعزم و استقلال اور قوت ِ ایمانی سے سرشار اہلِ پاکستان مئی 2022 میں 24 واں یومِ تکبیر منارہے ہیں اہلِ پاکستان کا جذبہ آج یہ پیغام دیتا ہے کہ دُنیا میں وُہی قومیں اپنا پرچم سُربلند رکھ سکتی ہیں جو اپنے دفاع سے کبھی غافل نہ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ آج افواجِ پاکستان دنیا کے جدید ترین اعلیٰ ہتھیاروں کی حامل ہیں اور اعلیٰ پیشہ ورانہ استعداد رکھتی ہیں اور پاکستانی قوم ہر معرکے میں اپنی افواج کی پشت پر کھڑی ہوتی ہے۔ بلا شبہ مصمم ارادوں اور آہنی عزم و جذبوں کی حامل قوم ہمیشہ کامیابیاں سمیٹتی ہے اور دُنیا میں وقار کے ساتھ زندہ رہتی ہے۔ بانی ٔ پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کو اپنی اس قوم سے بہت اُمیدیں تھیں اور وہ وطنِ عزیز پاکستان کو ایک مضبوط ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے۔ اس کا اظہار انہوںنے پاک فوج کی ایک رجمنٹ سے اپریل1948 میں اپنے خطاب میں کیا” مجھے یقین ہے کہ جب پاکستان کے دفاع اور قوم کی سلامتی و حفاظت کے لئے آپ کو بلایا جائے گا تو آپ اپنے اسلاف کی روایات کے مطابق شاندار کارناموں کا مظاہرہ کریں گے، مجھے یقین ہے کہ آپ پاکستان کے ہلالی پرچم کو سربلند رکھیں گے۔ مجھے یقین ہے آپ اپنی عظیم قوم کی عزت ووقار کو برقراررکھیں گے۔” وقت شاہد ہے کہ بانی ٔ پاکستان کے ہر فرمان کو مسلح افواج اور قوم نے اپنے سینے سے لگائے رکھا ہے اور اس نے اب تک پاک سرزمین کی حفاظت کو ہر قیمت پر یقینی بنایاہے اور آئندہ بھی یہ قوم اپنی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے تیار اور مستعد ہے۔اگرچہ ملک کو بہت سے سماجی اور معاشی مسائل درپیش ہیں لیکن پھر بھی ہمارا سر فخرسے بلند ہے کہ ہم ایک ایٹمی طاقت ہیں۔ ہماری افواج دنیا کی بہترین افواج ہیں جو ہر خطرے کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں جو 75 سال سے بھارت کے جنگی جنون کا مقابلہ جرأت اوردانش مندی کے ساتھ کررہی ہیں۔عالمی اداروں نے بار ہا بھارتی حکومت کو توجہ دلائی کہ وہ اپنے دفاعی اخراجات کم کرکے سماجی ترقی کا بجٹ بڑھائے لیکن وہ ایسا نہیں کررہی ۔ بھارت کے اندر رہنے والی اقلیتیں بھی اس کے مظالم سے محفوظ نہیں اگر چہ بھارت1974 میں ایٹمی دھماکہ کرچکا تھا لیکن جنگی جنون میںمست ہو کر اور جنوبی ایشیا میں اپنا غلبہ جمانے کے لئے اس نے مئی 1998 میں پھر چھ دھماکے کردیئے۔پاکستان کا ایٹمی پروگرام ہمیشہ سے پُرامن مقاصد کے لئے تھا اور ہے۔پاکستان نے کوئی بھی دبائو قبول نہ کرنے کا فیصلہ کرکے یہ ثابت کردیا کہ دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی طاقت بھی پاکستان کے فیصلوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ پوری پاکستانی قوم سیسہ پلائی دیوار بن گئی اور پوری قوم کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ بھارت کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیاجائے یہاں یہ باور کرانا ضروری ہے کہ پا ک فوج نے مئی 1998 کو واضح پیغام سیاسی قیادت کو دے دیاتھا کہ ہم ہر قسم کی قربانی برداشت کرلیں گے مگر اپنا ایٹمی پروگرام رول بیک نہیں ہونے دیں گے اس وقت کی فوجی قیادت کی ثابت قدمی کے سامنے سب کو لبیک کہنا پڑا جس کے بعد سیاسی قیادت کو بھی بیانات داغنے کا موقع ملا پاکستان کی فوجی قیادت نے پاکستانی قوم کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اور عوام کے جذبات کی عکاسی کرتے ہوئے ایٹمی تجربات کرنے کا فیصلہ کیا اور بالآخر 28 مئی 1998 کو بلوچستان کے دور دراز ضلع چاغی کے پہاڑوں میں ایٹمی تجربات کرکے پاکستان ایٹمی طاقت بن گیا اور یوں دنیا کے ایٹمی ممالک کی فہرست میں شامل ہوگیا۔ پاکستان مسلم دنیا کا پہلا ملک ہے جس نے کامیابی سے ایٹمی دھماکے کرکے یہ اعزاز حاصل کیا۔ کامیاب ایٹمی تجربات کی خبر نشر ہوئی تو ملک بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ 1998میں غوری میزائل سے ایک نئے سفر کا آغازبھی کیا گیا۔ پاکستان میں غوری,غزنوی ، ابدالی ،شاہین ودیگر میزائلوں کی وسیع رینج موجود ہے ۔ اس کے ساتھ بہترین کمانڈ اینڈ کنٹرول میکنزم، قابل اعتماد فورس ، ہدف کو ٹھیک ٹھیک نشانے بنانے کے حامل میزائل سسٹم اور ایٹمی تنصیبات کی حفاظت کے عالمی معیار کے حوالے سے پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر جانا جاتا ہے۔پانچ ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان نے صہیونی طاقتوں کو پیغام دیا کہ ایک نئی طاقت معروض وجود میں آگئی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ بھار ت سمیت کو ئی دشمن پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ کہاجاتاھے کہ اسکا پس منظر یہ ہے کہ 18مئی 1974 کو بھارت نے راجستھان میں مسکراتا بوھدا نامی ایٹمی دھماکے کیے۔ تو جواب میں پاکستان نے بھی ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ پر پابندی والے معاہدے این پی ٹی پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ کیونکہ پاکستان کی سلامتی کے لیے ایٹم بم بنانا بہت اہم ہو گیا تھا۔ پاکستان کی ایٹمی ٹیکنالوجی میں اہم پیشرفت جولائی 1976 میں ڈاکٹر عبد القدیر خان کی وطن آمد کے بعد ہوئی۔1977 میں جنرل ضیاء الحق کی حکومت آنے کے بعد پاکستان نے جرمنی، فرانس اور کینیڈا سے جوہری ٹیکنالوجی خریدنے کے لیے اہم اقدام اٹھائے۔ حساس ترین آلات خریدنا اور ان کو پاکستان منتقل کرنا اہم ترین مسئلہ تھا۔ پاکستان نے اس مقصد کے لیے یورپ ، مشرق وسطیٰ، سنگاپور اور بھارت میں ISI کے خاص تربیت یافتہ ایجنٹوں کا ایک جال بچھا دیا گیا، جو حساس آلات مختلف ملکوں سے خریدتے اور انہیں پاکستان میں مختلف ممالک کے راستے منتقل کردیتے تھے۔ امریکا کو جب اس بات کا علم ہوا کہ پاکستان ایٹم بم بنانے کے راستے پر گامزن ہے۔ تو امریکا نے فرانس،جرمنی اور کینیڈا پر پابندیاں عائد کر دی کہ وہ پاکستان کو ایسی کوئی ٹیکنالوجی فراہم نہ کرے جو پاکستان ایٹمی پروگرام میں پیش رفت کا باعث بنے۔ لیکن جرمنی نے امریکی پابندی کے باوجود پاکستان کو ٹریشئم ٹیکنالوجی فراہم کی جو جدید جوہری بم میں استعمال ہوتی تھی۔ اس بات کا انکشاف پاکستان کے سابقہ سفارتکار جمشید مارکر لکھتے ہیں کہ پاکستان کو یورنیم افزودگی کا معیار پرکھنے والا آلہ سپکٹرو میٹر اور ٹریشئم ٹیکنالوجی سمت اور بہت سارے حساس آلات فروخت کرنے والا ملک جرمنی تھا۔ آئی ایس آئی کے ایجنٹ ان حساس آلات کو خریدنے کے بعد مختلف راستوں سے پاکستان منتقل کرتے تھے۔ اس مقصد کے لیے سنگاپور میں ایک فرم بھی بنا رکھی تھی۔ اصل میں یہ ایک الجھن والی جنگ تھی۔ پاکستان کو اپنا ایٹمی پروگرام دنیا کے سامنے لائے بغیر پایا تکمیل تک پہنچانا تھا۔ ایک چھوٹی سی بھی غلطی سارے پروگرام کو تباہ و برباد کر سکتی تھی۔ اس سارے پروسیس میں پاکستانی جنرل ضیاء الحق کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ایلومینیئم پرت کے پائپوں کو خرید کر پاکستان لانا تھا۔ کیونکہ امریکا نےایلومینیئم پرت کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کر رکھی تھی ۔ جبکہ دوسرا بڑا مسئلہ یہ تھا کہ ایلومینیئم پرت کے پائپ خریدنے کے بعد سنگاپور کے راستے پاکستان کیسے لائے جائیں۔ یاد رہے ایلومینیئم پرت یورینیم کو خالص کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ سنگاپور کے راستےایلومینیئم پرت کے پائپ پاکستان لانے کے لیے پاکستانی جہازوں کا بھارت میں فیول ڈالوانے کے لیے بھارت ٹھہرنا لازمی تھا۔ جبکہ پاکستانی حکام اس بات کا رسک نہیں لے سکتے تھے۔ کیونکہ حساس ترین آلات بھارت کے ہاتھ نہ لگ جائیں ، جس کے بعد بھارت ثبوتوں کیساتھ دنیا میں واویلا مچانا شروع کر دے یہ انتہائی سنگین ترین مسئلہ تھا۔ کیونکہ سنگاپور کے علاؤہ اور کوئی آپشن نہیں تھا۔ یہ بظاہر ایک ناممکن ترین مشن تھا۔ کہ آپ نے اپنی سب سے خفیہ اور حساس ترین چیز اپنے سب سے بڑے دشمن کی نظروں کے سامنے سے لیکر جانی تھیں۔ ذرہ سا شک بھی سارے پلان کو دفن کر سکتا تھا۔ مگر اس مشکل ترین مشن کا بیڑا بھی آئی ایس آئی کے سر پھرے مارخوروں نے اٹھایا ہوا تھا۔ آئی ایس آئی کے مارخوروں نے اس بات کا یقین دلایا کہ وہ حساس آلات پر بھارت کی نظر بھی نہیں پڑنے دیں گے۔ اس مقصد کے لیے آئی ایس آئی کے سپیشل کمانڈ کو پہلے بھارت اورسنگاپور کے ائیرپورٹوں پر تعینات کیا گیا۔ اور پھر بالکل کامیابی کے ساتھ نیوکلیئر سامان سے بھرے ہوئے جہاز بھارت کے ائیرپورٹ پر اترے، کئی گھنٹے انتظار کرنے کے بعد تیل ڈلوایا اور پاکستان آئے۔ بھارت جو پاکستان کا سب سے بڑا دشمن تھا اس سارے معاملے میں بے خبر رہا کہ پاکستان اس کےائیرپورٹ کو نیوکلیئر سامان کی منتقلی کے لیے استعمال کر چکا تھا۔ یہ دنیاکی نظر میں ناممکن ترین مشن تھا۔جسے آئی ایس آئی نے ممکن کر دیکھایا۔24 سال قبل 28 مئی 1998 کو پاکستان نے قابل اعتبار کم از کم نیوکلیئر ڈیٹرنس قائم کیا، جس سے خطے میں طاقت کا توازن بحال ہوا۔ مسلح افواج ان تمام لوگوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے جنہوں نے بے لوث کام کیا، تمام مشکلات کے خلاف ثابت قدم رہے اور اسے ممکن بنایا۔یوم تکبیرپاکستان کی بقاءو سلامتی کادن ہے ،28 مئی پاکستان کے دفاع اورسلامتی کے عزم کے ساتھ ملک بھرمیں” یوم تکبیر“ جوش وخروش سے منایاگیا،یوم تکبیر تجدید عہد کا دن ہے پاکستان نے مسلم دنیاکی پہلی اورباقی دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت بننے کااعزا زحاصل کیا۔ 28 مئی کا دن ملکی تاریخ کا ناقابل فراموش دن ہے، اس دن بلوچستان کے علاقے چاغی کے مقام پرکامیاب ایٹمی دھماکوں کے تجربات کرکے مملکت پاکستان دنیاکا پہلااسلامی ایٹمی پاور ملک بن گیا۔مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے بھارت کی جانب سے مسلسل رخنے ڈالے جاتے رہے ہیں، بھارت ایٹمی دھماکے کرکے بتانا چاہتا تھا کہ وہ ایٹمی طاقت ہے ۔تاہم پاکستان نے انہیں جواب دیتے ہوئے 28مئی 1998 ءکو دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت بنا اوراسی طرح وطن عزیز کا دفاع ناقابل تسخیر ہو گیا۔ دشمنوں کے ناپاک عزائم خاک میں مل گئے۔ یوم تکبیر کو پاکستان کی تاریخ میں اہم سنگ میل حاصل ہے کیونکہ ایٹمی پروگرام پاکستان کے مضبوط دفاع کی علامت ہے۔ دھماکوں کے بعد عالمی پابندیوں کے باوجود مضبوط دفاعی نظام کے حصول اور اس کے سفر میں پاکستان ہمیشہ آگے بڑھتا رہا ۔ہماری عسکری کا قیادت کا عزم ہے کہ ایٹمی پروگرام دفاع وطن کو ناقابل تسخیر بنانے کے لئے وجود میں آیا۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام جنوبی ایشیا میں امن کی ضمانت کے طور پر ہے۔ سیاسی قیادت کی یکسوئی، غیر متزلزل قومی عزم اور پاک فوج وسیکورٹی اداروں کی بے مثال قربانیوں کی بدولت دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے دنیا کا کوئی بھی ادارہ پاک فوج جیسی کارروائیاں نہیں کر سکتا۔پرامن اور خوشحال پاکستان کے حصول کے لئے جنگ جاری رہے گی۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے عالمی مسئلے سے نمٹنے کے لئے مسلح افواج پرعزم ہے۔ پاکستان کو نقصان پہنچانے والے مزموم عزائم کو ناکام بنا دیا جائے گا۔دہشت گردی کی جاری جنگ میں ہزاروں بہنوںکےسُہاگ اجڑ گئے ،ہزاروں ماں ، باپ جوان بیٹوں سے بچھڑ گئے ، ہزاروں بہن اپنے بھائیوں کے پیار سے محروم ہو گئے اور ہزاروں بچے اپنے باپ کے سایے سے محروم ہو گئے ہماری بہادر افواج قوم اور وطن عزیز پاکستان کیلئے یہ سب کچھ برداشت کر رہی ہے جب بھی ملک میں آفت اور قدرتی حادثات پیش آتے ہیں تو آئین کے آرٹیکل 245کا سہارا لے کر فوج کو امدادی کاروائیوں اور بحالی کے لئے بلانے میں دیر نہیں کی جاتی ہےمردم شماری ، ووٹوں کا اندراج، الیکشن ،سیلاب، زلزلے ، حادثات، وباء میں جہاں دوسرے ناکام ہوجاتے ہیں وہاں فوج کو بلایا جاتا ہے لیکن جب سارے معاملات ٹھیک ہوجاتے ہیں تو سیاسی پارٹیوں کے باولےسیاستدان اپنے سر فروشوںاور غازیوں پربھونکنا شرو ع کردیتے ہیں ۔عیاشی کی زندگی گزارنے والے یہ سیاست دان، نام نہاد عوامی نمائیندے کیاکیا تماشا نہیں لگاتے, ایسے الزام لگاتے ہیں اور ایسی ایسی باتیں فوج کے خلاف کرتے ہیں جیسے یہ فوج پاکستان کی نہیں دشمن کی فوج ہے نام نہاد سیاستدان یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ فوج کا کام سرحدیں سنبھالنا ہےوہ چوکیدار ہیں ملکی امورسے ان کا کوئی تعلق نہیں یہ تو ہمارا کام ہے کہ جس طرح ممکن ہوا ملک کو لوٹیں گے کھائیں اور آئی ایس آئی کو تو اپنا دشمن قرار دیتے ہیں اگر ہماری فوج اور ISIایک دن کے لیئے اپنا کام چھوڑ دیں تو یہ نام نہاد سیاست دان اور جمہوریت کے ٹھیکیدار باہر نہ نکلیں۔ قوم کو دھوکا دینے والےسیاستدانوں کو ان غازیوں اور سر فروشوں کی تھوڑی سی بھی قدر نہیں ۔ ان کے نزدیک شرم اور حیاء نام کی کوئی چیز نہیں ۔ اگر اس ملک میں کوئی ترقی اور خوشحالی ہوئی ہے تو فوجی حکومتوں کے ادوار میں ہوئی تمام ڈیم، بیراج اور ایٹمی بجلی گھر فوجی حکومتوں میں بنے۔ یوم تکبیر کا دن ملکی دفاع کے لئے پختہ عزم کا اعادہ کرتا ہے، اسی دن کی مناسبت سے ایٹمی پروگرام کوکامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے قومی یکجہتی کااظہارکیاگیا اورپوری قوم قومی سلامتی پریک جان یک قلب ہوئی۔یہ دن سلامتی اورقومی وقار کی علامت کے طورپر ملکی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔جذبہ ایمانی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے سرشار پاک فوج آج نیوکلیئر ہتھیاروں کے ساتھ مسلح ہے۔ دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کی طرف میلی نگاہ سے نہیں دیکھ سکتی۔