اقوام متحدہ کی قراردادیں کو بارود کے دھویں میں اڑاتے ھوے امریکا ،فرانس ، برطانیہ کا شام پر حملہ. تیسری عالمی جنگ کے بادل دنیا پر چھانے شروع ؟..

(کالم ؛اندر کی بات ..اصغر علی مبارک سے )تیسری عالمی جنگ تقریبآ شروع هو چکی ھے ؟امریکا ،فرانس اور برطانیہ نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بارود کے دھویں میں اڑاتے ہووے شام پر ایک ساتھ حملہ کیا اور شامی فوجی تنصیبات اور سویلین آبادیوں کو نشانہ بنایا ، دمشق میں بمباری کے بعد مسلسل دھماکے سنے جا رھےہیں اورہر طرف دھواں کے بادل اٹھتے نظر آ رھے ھیں ماضی میں اس طرح کی کاروائی امریکہ بہادر عراق پر اتحادیوں کے ذریعے کر کے پچھتا چکا ھے جس کی بابت برطانیہ کو معافی مانگنا پڑی تھی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور صدر حسن روحانی نے شام پر امریکی اتحادیوں کےحملے کو مجرمانہ اقدام قرار دیاہے۔ ایرانی سربراہان مملکت نے کہا کہ امریکی اتحادیوں کا حملہ خطے میں مزید تباہی لانے کا سبب بنے گا۔
آیت اللہ خامنہ ای نے شام پر امریکی اتحادیوں کے حملے کے لئے ڈونلڈٹرمپ،ٹریزامےاورایمینیول میکروں کو مجرم قرار دے دیا۔انہوں نے کہا کہ جس طرح امریکی اتحادکوعراق اورافغانستان میں بھی مجرمانہ کارروائی سے کچھ حاصل نہیں ہوا،اس طرح شام پرامریکی اور اتحادی حملوں سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ حسن روحانی نے کہا کہ امریکی اتحادیوں کے حملوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گاایسے حملے مشرق وسطیٰ میں مزید تباہی لائیں گےان کا یہ بھی کہناتھاکہ شام پر حالیہ حملوں سے امریکا خطے میں اپنی موجودگی کا جواز پیش کرنا چاہتا ہے ادھر روسی صدر ولادی میر پوتن نے روس کے حلیف ملک شام پر حملے کی ‘سخت ترین طریقے سے’ مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ روس اقوامِ متحدہ کا ہنگامی اجلاس بلائے گا۔برطانیہ میں قائم سیریئن آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ شام کے ایئر ڈیفنس نے امریکہ اور اس کے دو اتحادیوں کی طرف سے داغے گئے میزائلوں میں سے 65 کو تباہ کیا۔اس سے قبل روس نے کہا تھا کہ امریکی اور اس کے اتحادیوں نے 103 میزائل داغے جن میں سے 71 میزائلوں کو شامی ایئر ڈیفنس نظام نے تباہ کر دیا گیا۔روس نے مزید کہا تھا کہ شام میں روس کے زیر استعمال بندرگاہ اور اس سے متصل ایئر فیلڈز جہاں پر روس نے نیا فضائی ڈیفنس سسٹم نصب کیا ہے ان علاقوں میں کوئی مغربی میزائل داخل نہیں ہوا۔ صدر پوتن نے اس حملے کو ‘جارحیت’ قرار دیا۔ انھوں نے کہا دوما پر ہونے والا کیمیائی حملہ ڈراما تھا اور یہ حملے کا بہانہ تھا۔​ابھی چند روز قبل روس کی درخواست پر بلائے جانے والے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے آغاز پر سیکریٹری جنرل اینتونیو گیتریز نے شام میں جاری تنازع کے سیاسی حل کا مطالبہ کیا تھا جبکہ اجلاس میں موجود روسی سفیر نے کہا کہ ’اس حملے میں بین الاقوامی قوانین کو صریحاً نظر انداز کیا گیا ہے۔‘،امریکہ نے فرانس اور برطانیہ کے ساتھ مل کر شام کی جانب سے گذشتہ ہفتے دوما پر مبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں یہ حملہ کیا ،ترکی کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ صدر بشار الاسد کے خلاف حملے کا خیر مقدم کرتا ہے اور اسے مناسب کارروائی قرار دیا۔بیان میں کہا گیا کہ دوما کے حملے کے پس منظر میں برطانیہ، امریکہ اور فرانس کے حملے نے انسانی ضمیر کو آسودہ کیا ہے۔ترکی نے کہا کہ گذشتہ ہفتے دوما میں ہونے والا مشتبہ کیمیائی حملہ انسانیت کے خلاف جرم تھا اور اسے بغیر سزا کے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ پاکستانی دفتر خارجہ کا شام کی صورت حال کہنا ہے کہ پاکستان شام کی سنگین صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور تمام فریقین سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے منشور کے خلاف کسی بھی قسم کے اقدامات سے اجتناب کریں۔پاکستانی دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق پاکستان دنیا کے کسی بھی حصے میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی مذمت کرتا ہے، تاہم کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق حقائق کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کے لیے کام کرنے والے ادارے (او پی سی ڈبلیو) کے ذریعے تحقیقات سے سامنے لانا انتہائی ضروری ہیں۔پاکستان نے فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ ’او پی سی ڈبلیو‘ کے فریم ورک کے تحت معاہدے کی کوشش کریں اور ادارے سے ہر ممکن تعاون کریں۔ترجمان نے کہا کہ ’اس وقت ہم شام کے عوام کے لیے فکر مند ہیں اور ملک میں جاری خانہ جنگی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں امید ہے کہ تمام فریقین شامی عوام کی تکالیف کو دور کرنے کے لیے صورتحال کا ہنگامی حل نکالیں گے۔ان حملوں کا اعلان گزشتہ رات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیا گیا تھا۔اس حکم کے بعد رات گئے شام کے دارالحکومت دمشق میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنائی دی گئیں، امریکا کی جانب سے بحری بیڑے سے بڑے طیارے اور بحیرہ روم سے کروز میزائل داغے گئے۔تاہم شامی ٹیلی ویژن نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ شامی ایئر ڈیفنس پہلے سے ہی فعال تھا اور اس نے امریکا اور اس کے اتحادی افواج کے کئی حملوں کو ناکام بنادیا۔امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتحادی کے ساتھ مل کر شام میں کیے گئے حملے کو کامیاب کارروائی قرار دیاھے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ‘گزشتہ شب ایک مکمل کارروائی کی گئی، فرانس اور برطانیہ کو ان کی دانشمندی اور ان کی بہترین فوجی طاقت پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘انہوں نے کہا کہ ‘اس سے بہتر نتیجہ نہیں نکل سکتا تھا، مشن تکیمل کو پہنچا’!ادھر ایران نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے شام میں حملے کے ردِعمل میں علاقائی نتائج کی تنبیہ کی ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے اور تنظیم برائے انسدادِ کیمیائی ہتھیار کی تفتیش سے پہلے ہی انھوں نے یہ حملہ کر دیا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس غیر ذمہ دارانہ حملہ کے علاقائی نتائج مرتب ہوں گے اور اس کے ذمہ دار مغربی ممالک ہوں گے۔شام کے ریاستی نشریاتی ادارے کے مطابق حمص میں امریکی حملہ میں تین عام شہری زخمی ہوئے ہیں جبکہ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ا نہوں نے حمص میں کیمیائی ہتھیاروں کو رکھنے والے ایک ڈیپو کو نشانہ بنایا ۔ شام کا کہنا ہے کہ حملوں میں شمالی دمشق میں سائنٹفک سٹڈیز اینڈ ریسرچ سنٹر کو نشانہ بنایا گیا ہے‘رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک تعلیمی ادارے اور لبارٹری کو تباہ کیا گیا ہے۔شامی صدر بشار الاسد کی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ شام کی افواج نے کئی درجن میزائلوں کو تباہ کر دیا ہےشامی حکومت نے امریکہ ، برطانیہ اور فرانس کی جانب سے کیے جانے والے میزائل حملوں کو بیرونی جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان حملوں کے خلاف میزائل دفاعی نظام فعال کردیا گیا ہے۔شام کے صدربشار الاسد نے حملے کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے،شام کے سرکاری ٹی وی پر جاری کردہ بیان کے مطابق شامی فضائیہ نے دشمن کے ایک درجن سے زائد میزائلز کو تباہ کردیا ہے۔روس نے ردعمل میں کہا ہے کہ امریکا عالمی قوانین کی خلاف ورزی کررہا ہے، شام پر حملہ کھلی جارحیت ہے، ان اقدامات کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا ،روسی حکام نے ٹرمپ کو ہٹلر سے تشبیہ بھی دی ہے۔روس کے ایوانِ بالا میں عالمی امور کی کمیٹی کے چیئرمین کونستاتین کوسچیوو کا کہنا ہے کہ امریکہ، برطانیہ، اور فرانس کا شام پر حملہ ایک خودمختار حکومت پر بے بنیاد حملہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ ان حملوں کا مقصد کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کی عالمی تنظیم کے کام کو متاثر کرنا ہو۔ یاد رہے کہ تنظیم برائے انسدادِ کیمیائی ہتھیار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کی تحقیقاتی ٹیم شام کی جانب گامزن ہے اور 14 اپریل سے اپنا کام شروع کرے گی۔اس حملہ کا اعلان کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم یہ جوابی کارروائی اس وقت تک جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں جب تک شامی حکومت ممنوعہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال نہیں روکتی‘امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قوم سے خطاب میں شام پرحملے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ،برطانیہ اور فرانس کے ساتھ مل کر مشترکہ آپریشن کررہا ہے، ہم یہ کارروائی اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک شامی حکومت ممنوعہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال نہیں روکتی۔ڈونلڈ ٹرمپ نے شام کے صدر بشار الاسد کے کیمیائی حملوں کے بارے میں کہا کہ یہ کسی انسان کا کام نہیں ہے بلکہ شیطان کے جرائم ہیں۔حملے کے اعلان کے فوراً بعد صدر ٹرمپ کو ریپبلیکن اور ڈیموکریٹ دونوں پارٹیوں کے سیاستدانوں کی جانب سے امریکی کانگریس سے بغیر مشورے کے حملے کے لیے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ڈیموکریٹک سینیٹر ٹم کین نے اسے غیر ذمہ دارانہ اور غیر قانونی قرار دیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے مسٹر ٹرمپ کو ایران اور شمالی کوریا پر بمباری کے لیے حوصلہ افزائی ملے گی۔اس کے علاوہ صدر کی اپنی پارٹی میں بھی بے چینی پائی جاتی ہے۔ کانگریس کے ریپبلیکن رکن تھامس میسی نے اسے غیر آئینی قرار دیا۔امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے بتایا ہے کہ شام کی خانہ جنگی کے خاتمے کیلیے مہذب قوموں کے متحد ہونے کا وقت آگیا ہے، شام پر صرف ایک بار حملہ کیا گیا ہے اور مزید حملوں کا منصوبہ نہیں، اس اقدام کا مقصد شامی صدر بشارالاسد کو واضح پیغام دینا ہے۔برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے کہا ہے کہ طاقت کے استعمال کے سوا کوئی چارہ نہ رہا تھا تاہم ان حملوں کا مقصد شامی حکومت کا تختہ الٹنا نہیں۔امریکی وزیرِ دفاع جیمز میتھس نے کہا کہ یہ حملہ ایک ’ون ٹائم ہٹ‘ تھی،ادھر روس نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ امریکہ کو کسی نا کسی قسم کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ روس کے امریکہ میں سفیر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اس قسم کے اقدامات نتائج کے بغیر نہیں جانے دیں گےامریکا کے چیئرمین جوائنٹس چیفس آف اسٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ نے بتایا کہ شام میں 3 اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے جن میں دمشق میں واقع کیمیائی و حیاتیاتی ہتھیار بنانے والا سائنسی تحقیقی مرکز، حمص شہر کے جنوب میں واقع کیمیائی ہتھیاروں کا گودام اور حمص کے قریب ہی واقع ایک اور کیمیائی آلات کا گودام اور اہم کمانڈ مرکز شامل ہیں، حملوں سے متعلق روس کو کوئی پیشگی اطلاع نہیں کی گئی اور امریکا نے ایسے اہداف کو نشانہ بنایا جہاں روسی افواج موجود نہیں تھیں۔برطانوی وزارت دفاع کے مطابق 4 ٹورناڈو جیٹ طیاروں نے حمص کے قریب شام کی فوجی تنصیب پر میزائل داغے ہیں۔فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ انہوں نے شام کیخلاف امریکا و برطانیہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے، اس کارروائی کا مقصد شامی حکومت کے کیمیائی ہتھیاروں کی پیداوار کو نشانہ بنانا ہے، شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال برداشت نہیں کیا جائے گا، شامی حکومت نے گزشتہ ہفتے کیمیائی ہتھیاروں سے درجنوں مرد، خواتین اور بچوں کا قتل عام کرکے سرخ لکیر عبور کی تھی۔فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے دفتر سے ٹوئٹر پر ویڈیو جاری کی گئی ہے جس میں شام پر حملے کے لیے فرانسیسی جنگی طیاروں کو اڑان بھرتے دکھایا گیا ہے۔واضح رہے کہ امریکا نے اس سے پہلے بھی کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے جواب میں 7 اپریل 2017 کو شام پر حملہ کیا تھا اور امریکا کے بحری جہازوں سے شام کے فوجی اڈے پر 59 ٹاک ہاک کروز میزائل داغے گئے تھے۔مغربی شام میں فضائیہ کے اڈوں پر ٹام ہاک کروزمیزائل داغے گئے جس میں شام کے سائنسی تحقیقی ادارے، فوجی اڈے اور کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کوبھی نشانہ بنایا گیا۔ امریکی میرین کور کے جنرل ڈینفورڈ نے بتایا کہ حملوں میں جیٹ طیاروں نے حصہ لیا اور روس کو ان حملوں اور اہداف کے بارے میں پہلے سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔علاوہ ازیں اسرائیل نے شام پر فضائی حملوں کے بارے میں بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ‘گذشتہ سال صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال سرخ لکیر عبور کرنے کے مترادف ہے۔ آج امریکی قیادت میں فرانس اور برطانیہ نے اس پر عمل کیا ہے۔شام مسلسل قاتلانہ اقدامات میں ملوث ہے اور ان کے لیے دوسروں کو جگہ فراہم کر رہا ہے، بشمول ایران کے، جس سے اس کا علاقہ، فوج اور قیادت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نےبھی کچھ ایسا ہی موقف اپناتے ہووے کہا ہے کہ اب تک کی معلومات کے مطابق شام پر حملے کامیاب رہے، یہ حملے صحیح اور جائز تھے۔ان کارروائیوں کا مقصد شام کی حکومت کو واضح پیغام پہنچانا تھا۔شام پر امریکی حملے کے بعد برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ روس نے شام کی جانب سے کیمیائی حملے نہ کیے جانے کی یقین دہانی پوری نہیں کی، سارے حالات کے بعد شام میں کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔