اقوامِ متحدہ ,پاکستانی وزیراعظم کی بہترین ڈپلومیسی;
(اصغر علی مبارک)
اقوامِ متحدہ کے 81ویں جنرل اسمبلی اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف کی متحرک اور جاندار سفارت کاری کو عالمی سطح پر بھرپور پزیرائی مل رہی ہے، جہاں انہوں نے پاکستان کو ایک اہم علاقائی ثالث اور امن کے سفیر کے طور پر منوایا ہے۔ اپنے باقاعدہ خطاب میں وزیراعظم نے پاکستان کا مقدمہ انتہائی جاندار انداز میں لڑا۔عالمی میڈیا اور سفارتی حلقوں کے مطابق، اس بار پاکستانی قیادت کا اندازِ گفتگو روایتی نعروں سے ہٹ کر خالص تزویراتی، پراعتماد اور عالمی بحرانوں کے حل پر مرکوز نظر آیا ہے پاکستان نے ہمیشہ اپنی سرحدوں کا دفاع کیا ہے (جیسا کہ ماضی میں بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا گیا)، لیکن پاکستان خطے میں جنگ نہیں بلکہ دیرینہ تنازعِ کشمیر کا پرامن اور منصفانہ حل چاہتا ہے۔ عالمی اخراج میں 1٪ سے بھی کم حصہ ہونے کے باوجود پاکستان موسمیاتی تباہی کا شکار ہے، لہذا بڑے ممالک کو کلائمیٹ فنڈز کی فراہمی کے وعدے پورے کرنے ہوں.انہوں نے غزہ میں اسرائیلی مظالم کو کھلے عام “نسل کشی” قرار دیتے ہوئے 1967 کی حدود کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرایاآج نیویارک کے سفارتی ایوانوں میں یہ بات تسلیم کی جا رہی ہے کہ پاکستان نے اپنی جغرافیائی اہمیت اور متوازن خارجہ پالیسی کے ذریعے خود کو عالمی سیاست میں ایک ناگزیر قوت کے طور پر پیش کیا ہے
نیویارک میں جاری ہائی لیول ڈپلومیسی کے دوران سائیڈ لائنز پر پاکستانی قیادت کی سفارتی سرگرمیاں اور اہم ترین ملاقاتیں مرکزِ نگاہ بنی ہوئی ہیں۔اس وقت مشرقِ وسطیٰ کے انتہائی سنگین حالات اور آبنائے ہرمز کے بحران میں پاکستان نے ایک مخلص اور غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کر کے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی انتھک کوششوں کے نتیجے میں “اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت” (Islamabad MoU) پر دستخط ہونا، جس کی توثیق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی کی، پاکستان کی تاریخ کی ایک بہت بڑی سفارتی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے حکام نے بھی پاکستان کے اس مصالحتی کردار کو “امید کی کرن” قرار دیا ہےجنرل اسمبلی میں جہاں ایک طرف ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت گیر موقف کا اعادہ کیا، وہیں پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں امن اور ثالثی کے لیے بالواسطہ سفارتی چینلز برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کی اس منفرد جغرافیائی اور سیاسی پوزیشن پر اعتماد کرتی ہے، تو پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور خلیجی ممالک کے مابین توازن برقرار رکھنے کے لیے ایک اہم سفارتی پل بن کر ابھر سکتا ہےاقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کے مابین ہونے والے سفارتی رابطوں اور ملاقات کے امکانات نے عالمی و علاقائی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے جنرل اسمبلی کے اپنے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف کو خصوصی طور پر ایک “ٹیرِفک مین” یعنی بہترین انسان کہہ کر پکارنا، اور پاک بھارت کشیدگی کو روکنے میں اپنے کردار پر پاکستانی وزیراعظم کے تشکر کا تذکرہ کرنا، دونوں ممالک کے مابین تزویراتی قربت کا واضح اشارہ ہے۔صدر ٹرمپ اور وزیراعظم شہباز شریف کے مابین یہ تزویراتی ہم آہنگی واشنگٹن اور اسلام آباد کے مابین سیکیورٹی اور انٹیلیجنس شیئرنگ کے نظام کو ایک بار پھر فعال کر سکتی ہے۔ خاص طور پر افغانستان سے بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے خطرات اور سرحد پار حملوں کی روک تھام کے لیے پاکستان کو امریکی تکنیکی مدد، جدید آلات اور انسدادِ دہشت گردی کے شعبوں میں نئی لائف لائن ملنے کی توقع کی جا رہی ہےصدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ مئی 2025 میں پاک بھارت ممکنہ فوجی تصادم کو روکنے میں ان کے اور پاکستانی قیادت کے ذاتی روابط نے کلیدی کردار ادا کیا، جس سے کروڑوں زندگیاں محفوظ رہیں۔ اس تناظر میں، ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جنوبی ایشیا میں واشنگٹن کے روایتی جھکاؤ (جو کہ نئی دہلی کی طرف تھا) میں کسی حد تک توازن پیدا کرنے کی امید پیدا ہوئی ہے، جو خطے میں سیکیورٹی کے حوالے سے پاکستان کے پوزیشن کو مضبوط کرے گا۔پاکستان اس وقت مائیکرو اکنامک استحکام کے لیے کوشاں ہے اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ طویل مدتی پروگرامز پر عمل پیرا ہے۔ امریکہ چونکہ آئی ایم ایف (IMF) اور ورلڈ بینک میں سب سے بڑا شیئر ہولڈر ہے، اس لیے صدر ٹرمپ کے ساتھ پاکستان کے مضبوط اور دوستانہ تزویراتی مراسم مائیکرو اکنامک سپورٹ حاصل کرنے اور قرضوں کی ری سٹرکچرنگ کے عمل میں اسلام آباد کے لیے ایک بڑا سفارتی سہارا ثابت ہو سکتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نیویارک پہنچتے ہی عالمی رہنماؤں کے ساتھ انتہائی مصروف ترین وقت گزار رہے ہیں۔ پاکستانی وفد کی جانب سے بین الاقوامی برادری کے سامنے علاقائی سلامتی، کشمیر میں حقِ خودارادیت اور مشرقِ وسطیٰ کے بگڑتے ہوئے حالات پر پاکستان کا نکتہ نظر بھرپور انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے او آئی سی کے رابطہ گروپ برائے افغانستان اور جموں و کشمیر کے وزارتی اجلاسوں سے انتہائی جاندار خطاب کیا ہے، جس میں انہوں نے افغان سرزمیں کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے اور کشمیر کے دیرینہ تنازع کے پرامن حل کے لیے فوری اور ٹھوس عالمی اقدامات پر زور دیا۔امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی امید: پاکستانی قیادت اس سیشن کو ایک بڑے سفارتی موقع کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ پاکستان کی ایک بڑی کوشش امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنا اور ثالث کا کردار ادا کرنا ہے۔ پاکستانی وفد تہران اور واشنگٹن کے مابین بالواسطہ رابطوں کو برقرار رکھنے اور طویل مدتی امن کے لیے کوشاں ہے، جس کا اعتراف سائیڈ لائنز پر امریکی اور ایرانی حکام نے بھی کیا ہے سائیڈ لائنز پر وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اہم ملاقات شیڈول ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے جنرل اسمبلی کے ماحول میں شہباز شریف کو ایک “زبردست انسان” کہہ کر پکارنا پاکستانی سفارت کاری کے لیے ایک بڑی مثبت پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ پاکستان اس ملاقات کے ذریعے امریکہ کے ساتھ سیکیورٹی، معیشت اور انسدادِ دہشت گردی کے شعبوں میں تعاون کو نئی بلندیوں پر لے جانے کا امیدوار ہے۔ وفد آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ بات چیت کے تسلسل میں مائیکرو اکنامک استحکام کے لیے مزید عالمی تعاون کا خواہاں ہے۔ قراردادوں سے زمین پر موجود انسان تک کا سفرنیویارک کی اس سفارتی گہما گہمی، سائیڈ لائنز ملاقاتوں اور پاکستان کی مسلسل کوششوں کے درمیان آج کا سب سے بڑا سچ اور تقاضا یہی ہے کہ اقوامِ متحدہ جیسے بین الاقوامی ادارے اپنی افادیت کو صرف خوبصورت قراردادوں اور بند کمروں کے اجلاسوں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ ان کا عملی فائدہ زمین پر موجود عام انسان تک پہنچے۔ کسی بھی عالمی فورم، بین الاقوامی معاہدے یا ملکی حکومت کی پالیسی کی کامیابی کا حتمی فیصلہ بالآخر بڑی طاقتوں کے مفادات سے ہٹ کر صرف اس بات سے ہوگا کہ اس کا ریلیف کتنے مستحق شہریوں تک، کتنی آسانی اور شفافیت کے ساتھ پہنچتا ہے۔ پاکستان کی خارجہ اور داخلی پالیسی کا محور بھی آج یہی ہے کہ عالمی سطح پر ایک ایسا منصفانہ نظام تشکیل پائے جہاں معاشی اور موسمیاتی بحرانوں کا بوجھ ہمیشہ غریب ترین طبقے پر نہ ڈالا جائے۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس ایسے غیر معمولی اور نازک موڑ پر ہوا ہے جہاں عالمی سیاست اور معیشت دونوں ہی ایک بڑی اور ڈرامائی تبدیلی سے گزر رہے ہیں۔ دنیا اس وقت بیک وقت متعدد معاشی، سیاسی اور موسمیاتی بحرانوں کی لپیٹ میں ہے۔ رواں سیشن کے صدر، بنگلہ دیش کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمن نے اس سال کا مرکزی ایجنڈا “اعتماد کی بحالی اور عالمی تبدیلی کا انتظام” مقرر کیا ہے، تاکہ ایک ایسا اقوامِ متحدہ تشکیل دیا جا سکے جو صرف کاغذوں اور تقریروں تک محدود نہ رہے، بلکہ زمین پر موجود عام انسان کے لیے کام کرے۔اقوامِ متحدہ کے ان پروقار ہالز اور بند کمروں کے اجلاسوں میں اس وقت جہاں مشرقِ وسطیٰ کے سنگین بحران اور سپلائی چین کے مسائل پر گرما گرم بحث جاری ہے، وہیں دنیا کے معاشی نقشے پر ایک اور ڈرامائی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل گرتے ہوئے گزشتہ کئی ہفتوں کی کم ترین سطح پر آ گئی ہیں۔ تیل درآمد کرنے والے ترقی پذیر ممالک جیسے پاکستان کے لیے یہ خبر یقیناً ایک عارضی معاشی سکھ کا سانس ثابت ہو سکتی ہے، لیکن جنرل اسمبلی کے فورم پر پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ عالمی منڈی کے یہ عارضی اتار چڑھاؤ کسی پائیدار معاشی تحفظ کی ضمانت نہیں ہو سکتے، جب تک کہ عالمی معاشی نظام میں غریب اور متوسط طبقے کو مستقل ریلیف فراہم کرنے کے لیے بنیادی سٹرکچرل اصلاحات نہ کی جائیں۔ترقی کا حق، کلائمیٹ جسٹس اور عام آدمی کا بجٹاس سال اقوامِ متحدہ کا یہ فورم “ترقی کے حق” کی چالیسویں سالگرہ بھی منا رہا ہے، لیکن یہاں نیویارک میں موجود ترقی پذیر دنیا کے مندوبین کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا یہ حق صرف ایک خوشنما نعرہ ہے یا اس کا کوئی عملی فائدہ بھی ہے؟ جب تک عالمی سطح پر کاربن کا اخراج کرنے والے بڑے ممالک اپنی تاریخی ذمہ داری قبول نہیں کرتے اور شفاف امدادی فنڈز فراہم نہیں کرتے، تب تک موسمیاتی بحرانوں پر قابو پانا اور ترقی کا خواب پورا کرنا ممکن نہیں۔ پاکستان جیسا ملک، جو موسمیاتی تبدیلیوں کا سب سے بڑا شکار رہا ہے، یہاں موسمیاتی انصاف کا مقدمہ پوری قوت سے لڑ رہا ہے۔پاکستان کا ملکی تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ جب عالمی ادارے اور بڑی طاقتیں کمزور ممالک کو بحرانوں میں تنہا چھوڑ دیں، تو ریاستوں کو اپنے وسائل کے اندر رہ کر عام شہریوں کے گھریلو بجٹ کا تحفظ خود کرنا پڑتا ہے۔
پاکستان میں “وزیراعظم خصوصی فیول ریلیف اسکیم” جیسے اقدامات دراصل اسی فلسفے کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں عالمی بحرانوں اور مہنگائی کے اثرات سے اپنے محنت کشوں، رکشہ، چنگ چی اور موٹر سائیکل سواروں کو بچانے کے لیے ملکی سطح پر ہدف شدہ سبسڈیز دی جا رہی ہیں۔ مائیکرو اکنامک سیکیورٹی کا یہ ماڈل یہ ثابت کرتا ہے کہ پالیسی سازی کے مرکز میں ہمیشہ عام شہری کو ہونا چاہیے۔پاکستانی وفد کی ہائی لیول ڈپلومیسی اور اہم ترین ملاقاتیں نیویارک میں جاری اس ہائی لیول ڈپلومیسی کے دوران سائیڈ لائنز پر پاکستانی قیادت کی سفارتی سرگرمیاں اور اہم ترین ملاقاتیں مرکزِ نگاہ بنی ہوئی ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نیویارک پہنچتے ہی عالمی رہنماؤں کے ساتھ انتہائی مصروف ترین وقت گزار رہے ہیں۔ پاکستانی وفد کی جانب سے بین الاقوامی برادری کے سامنے علاقائی سلامتی، کشمیر میں حقِ خودارادیت اور مشرقِ وسطیٰ کے بگڑتے ہوئے حالات پر پاکستان کا نکتہ نظر بھرپور انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے او آئی سی (OIC) کے رابطہ گروپ برائے افغانستان اور جموں و کشمیر کے وزارتی اجلاسوں سے انتہائی جاندار خطاب کیا ہے، جس میں انہوں نے افغان سرزمیں کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے اور کشمیر کے دیرینہ تنازع کے پرامن حل کے لیے فوری اور ٹھوس عالمی اقدامات پر زور دیا۔امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی امید: پاکستانی قیادت اس سیشن کو ایک بڑے سفارتی موقع کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ پاکستان کی ایک بڑی کوشش امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنا اور ثالث کا کردار ادا کرنا ہے۔
پاکستانی وفد تہران اور واشنگٹن کے مابین بالواسطہ رابطوں کو برقرار رکھنے اور طویل مدتی امن کے لیے کوشاں ہے، جس کا اعتراف سائیڈ لائنز پر امریکی اور ایرانی حکام نے بھی کیا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اہم بیٹھک: سائیڈ لائنز پر وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اہم ملاقات شیڈول ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے جنرل اسمبلی کے ماحول میں شہباز شریف کو ایک “زبردست انسان” کہہ کر پکارنا پاکستانی سفارت کاری کے لیے ایک بڑی مثبت پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ پاکستان اس ملاقات کے ذریعے امریکہ کے ساتھ سیکیورٹی، معیشت اور انسدادِ دہشت گردی کے شعبوں میں تعاون کو نئی بلندیوں پر لے جانے کا امیدوار ہے۔عالمی مالیاتی اداروں اور برادر ممالک سے روابط: وفد آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ بات چیت کے تسلسل میں مائیکرو اکنامک استحکام کے لیے مزید عالمی تعاون کا خواہاں ہے۔ اس کے ساتھ ہی وفد نے کویت کے ولی عہد شیخ صباح خالد، کینیا کے صدر ولیم روٹو اور دیگر اہم عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کر کے دوطرفہ تعلقات کو وسعت دی ہے۔اصل امتحان: قراردادوں سے زمین پر موجود انسان تک کا سفرنیویارک کی اس سفارتی گہما گہمی، سائیڈ لائنز ملاقاتوں اور پاکستان کی مسلسل کوششوں کے درمیان آج کا سب سے بڑا سچ اور تقاضا یہی ہے کہ اقوامِ متحدہ جیسے بین الاقوامی ادارے اپنی افادیت کو صرف خوبصورت قراردادوں اور بند کمروں کے اجلاسوں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ ان کا عملی فائدہ زمین پر موجود عام انسان تک پہنچے۔