اصغر علی مبارک کی راولپنڈی کرکٹ میچوں کی میڈیا کوریج کا تاریخی سفر (1992ء تا 2026ء)
- پہلا دن (19 جنوری، 1992ء):
ہم (میڈیا) نے اسٹیڈیم کے بین الاقوامی سطح پر افتتاح کی خبر سب سے پہلے دنیا تک پہنچائی۔ یہ 5 میچوں کی ون ڈے (ODI) سیریز کا پہلا مقابلہ تھا، جس میں پاکستان نے سری لنکا کے 180 رنز کے ہدف کو باآسانی عبور کرتے ہوئے 8 وکٹوں سے فتح حاصل کی۔ - پہلا ٹیسٹ میچ (9 تا 14 دسمبر، 1993ء):
ہم نے اسی میدان سے ’ریڈ بال‘ (ٹیسٹ) کرکٹ کی پہلی رپورٹس تیار کیں۔ پاکستان نے زمبابوے کی میزبانی کی اور وقار یونس کی شاندار بولنگ کی بدولت 52 رنز سے کامیابی اپنے نام کی۔راولپنڈی میں 1996 کے ’ولز کرکٹ ورلڈ کپ‘ کے میچز، کرکٹ کی تاریخ کی ایک انتہائی مشہور اور عجیب و غریب پریس کانفرنس کے واقعے سے جڑے ہوئے ہیں، جس میں انگلینڈ کے کپتان مائیک ایتھرٹن اور پاکستانی صحافی اصغر علی مبارک شامل تھے۔
مائیک ایتھرٹن اور اصغر علی مبارک کا واقعہ
راولپنڈی میں ہونے والے اس ٹورنامنٹ کا سب سے یادگار واقعہ کرکٹ کے میدان (پچ) پر نہیں، بلکہ اسٹیڈیم کے پریس روم میں پیش آیا۔ یہ واقعہ 25 فروری 1996راولپنڈی میں 1996 کے ’ولز کرکٹ ورلڈ کپ‘ کے میچز، کرکٹ کی تاریخ کی ایک انتہائی مشہور اور عجیب و غریب پریس کانفرنس کے واقعے سے جڑے ہوئے ہیں، جس میں انگلینڈ کے کپتان مائیک ایتھرٹن اور پاکستانی صحافی اصغر علی مبارک شامل تھے۔
مائیک ایتھرٹن اور اصغر علی مبارک کا واقعہ
راولپنڈی میں ہونے والے اس ٹورنامنٹ کا سب سے یادگار واقعہ کرکٹ کے میدان (پچ) پر نہیں، بلکہ اسٹیڈیم کے پریس روم میں پیش آیا۔ یہ واقعہ 25 فروری 1996 کو جنوبی افریقہ کے ہاتھوں انگلینڈ کی 78 رنز سے عبرتناک شکست کے بعد رونما ہوا۔
- تلخ کلامی
انگلینڈ کے کپتان مائیک ایتھرٹن انتہائی برہم حالت میں میچ کے بعد ہونے والی پریس کانفرنس میں پہنچے۔ ہدف کے تعاقب کے دوران وہ محض 4 گیندوں کا سامنا کرنے کے بعد بغیر کوئی رن بنائے (صفر پر) آؤٹ ہو چکے تھے۔
میڈیا کے سوال و جواب کے دوران، مقامی پاکستانی اسپورٹس جرنلسٹ اصغر علی مبارک (جو ’پاکستان اسپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن‘ کے نائب صدر بھی تھے) نے انتہائی ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں ایتھرٹن سے سوال پوچھنے کی بار بار کوشش کی۔ زبان کی رکاوٹ اور بار بار پوچھے جانے والے سوالات سے تنگ آ کر، مائیک ایتھرٹن نے غصے میں آ کر میڈیا مینیجرز کی طرف رخ کیا اور بلند آواز میں کہا:
“کیا کوئی اس ’بفون‘ (buffoon – احمق/مسخرے) کو یہاں سے باہر نکال سکتا ہے؟”
- ایک مزاحیہ غلط فہمی
معاملہ اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب اصغر علی نے لفظ “buffoon” (بفون) کو غلطی سے “baboon” (بیبون – ایک قسم کا جنگلی بندر) سمجھ لیا۔ یہ سمجھتے ہوئے کہ انگلینڈ کے کپتان نے انہیں ایک جنگلی جانور کہہ کر نسلی توہین کی ہے، اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا اور ’پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس‘ کی جانب سے باضابطہ احتجاج بھی کیا گیا۔
- عجیب و غریب نتائج اور ہتکِ عزت کا مقدمہ
اگرچہ اس وقت انگلینڈ کی ٹیم انتظامیہ نے تحریری معافی مانگ لی تھی، لیکن مائیک ایتھرٹن نے ذاتی طور پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا۔ یہ واقعہ اکتوبر 2000 میں اس وقت ایک نیا موڑ اختیار کر گیا جب انگلینڈ کی ٹیم دوبارہ دورہ پاکستان پر آئی: • شادی کا دعویٰ: اصغر علی نے اسلام آباد کی ایک عدالت میں مائیک ایتھرٹن کے خلاف 12 ملین (ایک کروڑ بیس لاکھ) روپے ہرجانے کا ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کر دیا۔ اصغر علی کا دعویٰ تھا کہ اس توہین نے ان کی زندگی تباہ کر دی ہے؛ ان کی مالی اور پیشہ ورانہ ساکھ ختم ہو گئی، اور ان کی منگیتر نے بھی شادی سے انکار کر دیا کیونکہ وہ “کسی ’بفون‘ (احمق) سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھیں۔” • کتاب: اس آزمائش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، اصغر علی نے ایک کتاب لکھی جس میں ایتھرٹن کے مزاج کے حوالے سے دیگر بین الاقوامی کپتانوں کے ساتھ ہونے والی اپنی بات چیت کا احوال بیان کیا گیا ہے۔ اس کتاب کا مزاحیہ عنوان “بفون: میں یا تم؟” (Buffoon: Me or You?) رکھا گیا۔
یہ قانونی معاملہ بالآخر سن 2000 کے اواخر میں عدالت سے باہر ہی حل کر لیا گیا۔ اس سلسلے میں ٹیسٹ کرکٹ بورڈ (TCB)، آئی سی سی (ICC) اور برطانوی ہائی کمیشن کی جانب سے مشترکہ تحریری کوششیں کی گئیں، تاکہ دورہ کرنے والی انگلش ٹیم کے سفر میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔ کو جنوبی افریقہ کے ہاتھوں انگلینڈ کی 78 رنز سے عبرتناک شکست کے بعد رونما ہوا۔
- تلخ کلامی
انگلینڈ کے کپتان مائیک ایتھرٹن انتہائی برہم حالت میں میچ کے بعد ہونے والی پریس کانفرنس میں پہنچے۔ ہدف کے تعاقب کے دوران وہ محض 4 گیندوں کا سامنا کرنے کے بعد بغیر کوئی رن بنائے (صفر پر) آؤٹ ہو چکے تھے۔
میڈیا کے سوال و جواب کے دوران، مقامی پاکستانی اسپورٹس جرنلسٹ اصغر علی مبارک (جو ’پاکستان اسپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن‘ کے نائب صدر بھی تھے) نے انتہائی ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں ایتھرٹن سے سوال پوچھنے کی بار بار کوشش کی۔ زبان کی رکاوٹ اور بار بار پوچھے جانے والے سوالات سے تنگ آ کر، مائیک ایتھرٹن نے غصے میں آ کر میڈیا مینیجرز کی طرف رخ کیا اور بلند آواز میں کہا:
“کیا کوئی اس ’بفون‘ (buffoon – احمق ) کو یہاں سے باہر نکال سکتا ہے؟”
- ایک مزاحیہ غلط فہمی
معاملہ اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب اصغر علی نے لفظ “buffoon” (بفون) کو غلطی سے “baboon” (بیبون – ایک قسم کا جنگلی بندر) سمجھ لیا۔ یہ سمجھتے ہوئے کہ انگلینڈ کے کپتان نے انہیں ایک جنگلی جانور کہہ کر نسلی توہین کی ہے، اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا اور ’پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس‘ کی جانب سے باضابطہ احتجاج بھی کیا گیا۔
- عجیب و غریب نتائج اور ہتکِ عزت کا مقدمہ
اگرچہ اس وقت انگلینڈ کی ٹیم انتظامیہ نے تحریری معافی مانگ لی تھی، لیکن مائیک ایتھرٹن نے ذاتی طور پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا۔ یہ واقعہ اکتوبر 2000 میں اس وقت ایک نیا موڑ اختیار کر گیا جب انگلینڈ کی ٹیم دوبارہ دورہ پاکستان پر آئی:
- شادی کا دعویٰ: اصغر علی نے اسلام آباد کی ایک عدالت میں مائیک ایتھرٹن کے خلاف 12 ملین (ایک کروڑ بیس لاکھ) روپے ہرجانے کا ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کر دیا۔ اصغر علی کا دعویٰ تھا کہ اس توہین نے ان کی زندگی تباہ کر دی ہے؛ ان کی مالی اور پیشہ ورانہ ساکھ ختم ہو گئی، اور ان کی منگیتر نے بھی شادی سے انکار کر دیا کیونکہ وہ “کسی ’بفون‘ (احمق) سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھیں۔” • کتاب: اس آزمائش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، اصغر علی نے ایک کتاب لکھی جس میں ایتھرٹن کے مزاج کے حوالے سے دیگر بین الاقوامی کپتانوں کے ساتھ ہونے والی اپنی بات چیت کا احوال بیان کیا گیا ہے۔
اس کتاب کا مزاحیہ عنوان “بفون: میں یا تم؟” (Buffoon: Me or You?) رکھا گیا۔
یہ قانونی معاملہ بالآخر سن 2000 کے اواخر میں عدالت سے باہر ہی حل کر لیا گیا۔ اس سلسلے میں ٹیسٹ کرکٹ بورڈ (TCB)، آئی سی سی (ICC) اور برطانوی ہائی کمیشن کی جانب سے مشترکہ تحریری کوششیں کی گئیں، تاکہ دورہ کرنے والی انگلش ٹیم کے سفر میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل (T20I) کا دور (7 نومبر، 2020ء):
ہم نے عالمی وبا (پینڈیمک) کے دوران اس میدان کو جدید مختصر فارمیٹ کی کرکٹ (T20) کے لیے استعمال ہوتے ہوئے دیکھا، جب پاکستان نے زمبابوے کو 6 وکٹوں سے شکست دی۔ - 2026ء کے سیزن کا اختتامی مرحلہ
(9 نومبر، 2026ء): یہاں اپنی پہلی اسائنمنٹ کے ٹھیک 12,713 دن بعد، ہم پاکستان بمقابلہ سری لنکا پہلے ٹیسٹ میچ (2026ء) کی کوریج کر رہے ہیں۔
یہ ایک مکمل تاریخی دائرے کی تکمیل ہے، کیونکہ اس بار بھی ہمارا مقابلہ اسی ملک (سری لنکا) سے ہے جس نے اس میدان کا افتتاح کیا تھا۔
بابر اعظم سری لنکا کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں میں قومی ٹیم کی قیادت کریں گے۔ پہلا ٹیسٹ 9 سے 13 نومبر تک راولپنڈی، جبکہ دوسرا 17 سے 21 نومبر تک لاہور میں کھیلا جائے گا۔
دو ٹیسٹ میچوں کی یہ سیریز ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا حصہ ہے۔ پوائنٹس ٹیبل پر پاکستان نویں اور آخری، جبکہ سری لنکا ساتویں نمبر پر ہے - موجودہ آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ (2025–2027) کے پوائنٹس ٹیبل سائیکل پر پاکستان کی پوزیشن کافی تشویشناک ہے:
- موجودہ رینکنگ (Standing): پاکستان مجموعی طور پر نویں (9th) پوزیشن یعنی پوائنٹس ٹیبل پر سب سے آخری نمبر پر موجود ہے۔
- میچز کی صورتحال: اس ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں کھیلے گئے 9 ٹیسٹ میچوں میں سے پاکستان صرف 2 میچز جیت سکا ہے جبکہ 7 میچوں میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
- پوائنٹس فیصد (PCT): پاکستان کا پوائنٹس فیصد محض 4.63% ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ سلو اوور ریٹ (Slow Over-rate) کی پاداش میں آئی سی سی کی طرف سے لگائے جانے والے جرمانے اور پوائنٹس کی کٹوتی بھی ہے۔
اس وقت عالمی رینکنگ کی اس چیمپئن شپ میں آسٹریلیا (75.00 PCT) کے ساتھ پہلے اور نیوزی لینڈ دوسرے نمبر پر براجمان ہیں۔
آئندہ ماہ 9 نومبر 2026 سے سری لنکا کے خلاف شروع ہونے والا راولپنڈی ٹیسٹ پاکستان کی تاریخ کا 475 واں ٹیسٹ میچ ہے۔
آل ٹائم ٹیسٹ میچز کا ریکارڈ (1952–2026) - کل میچز (Total Played): 474
- فتح (Wins): 153
- شکست (Losses): 155
- ڈرا (Draws): 166
ٹیسٹ کرکٹ کی طویل تاریخ میں سب سے زیادہ میچز کھیلنے والی ٹیموں کی فہرست میں پاکستان آٹھویں (8th) پوزیشن پر کھڑا ہے، جبکہ انگلینڈ (1100 ٹیسٹ) اور آسٹریلیا (886 ٹیسٹ) اس فہرست میں سب سے آگے ہیں۔ حال ہی میں اگست 2026 میں لارڈز کے میدان پر انگلینڈ کے خلاف شکست کے بعد، ٹیسٹ تاریخ میں پاکستان کی مجموعی شکستوں کی تعداد پہلی بار اس کی حاصل کردہ فتوحات سے تجاوز کر گئی ہے
14 رکنی اسکواڈ میں تین ایسے بلے باز بھی شامل ہیں جو اب تک ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی نہیں کرسکے۔ ان میں محمد طحٰہ، سمیر منہاس اور محمد سلیمان شامل ہیں، جنہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔اسکواڈ: بابر اعظم (کپتان)، عبداللہ فضل، علی عثمان، عرفات منہاس، اذان اویس، محمد عباس، غازی غوری، محمد سلیمان، محمد طحٰہ، رضا اللہ، سعد بیگ، سلمان آغا، سمیر منہاس اور سعود شکیل۔پاکستان کے سابق کپتان سلمان آغا ہفتے کے روز سری لنکا کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے قومی اسکواڈ میں واپس آگئے ہیں، تاہم انگلینڈ کے ہاتھوں بدترین شکست کے بعد بھی محمد رضوان ٹیم میں جگہ بنانے میں ناکام رہے۔سلمان آغا اور محمد رضوان ان سات کھلاڑیوں میں شامل تھے جنہیں اگست میں انگلینڈ کے ٹیسٹ دورے سے واپس بھیج دیا گیا تھا۔ پاکستان کو اس سیریز میں 0-3 سے شکست ہوئی تھی۔اس دورے کے بعد قومی ٹیم کے پہلے اسکواڈ میں بھی پانچ کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا گیا ہے، جن میں وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان بھی شامل ہیں۔ وہ ملک کے سائبر کرائم ادارے کی جاری تحقیقات کی زد میں ہیں۔پاکستان کی ٹیسٹ تاریخ کا 475 واں میچ ;پریس باکس سے اعداد و شمار کا جامع جائزہ (1992–2026) - سری لنکا کے خلاف راولپنڈی ٹیسٹ پاکستان کا 475 واں ٹیسٹ میچ ہوگا۔ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان راولپنڈی کاپہلا ٹیسٹ میچ دونوں ٹیموں کے درمیان تاریخ کا 60 واں ٹیسٹ میچ بن جائے گا 2. دسمبر 2019 (میچ ڈرا): یہ ایک یادگار میچ تھا جس نے پاکستانی سرزمین پر ٹیسٹ کرکٹ کی جذباتی واپسی کا جشن منایا۔ اگرچہ یہ میچ شدید بارش سے متاثر رہا، لیکن عابد علی کی اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میچ میں سنچری کی بدولت یہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
- راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں اب تک 17 ٹیسٹ میچ کھیلے جا چکے ہیں، جن کا سلسلہ دسمبر 1993 میں کھیلے گئے پہلے میچ سے لے کر حالیہ میچوں تک محیط ہے۔ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کو سری لنکا پر تاریخی برتری حاصل ہے، اور دونوں ٹیموں کے درمیان کھیلے گئے 59 میچوں کے مجموعی ریکارڈ میں پاکستان آگے ہے۔ ان دونوں ٹیموں کا پہلی بار کھیل کے اس طویل ترین فارمیٹ میں آمنا سامنا مارچ 1982 میں ہوا تھا۔
- ان میچوں کے اعداد و شمار کچھ یوں ہیں:
- پاکستان کا ریکارڈ: 6 فتوحات، 7 شکستیں، 4 ڈرا۔
- راولپنڈی میں پاکستان بمقابلہ سری لنکا: کل 17 ٹیسٹ میچوں میں سے 2 میچ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان اس میدان پر کھیلے گئے ہیں۔ فروری 2000 میں سری لنکا نے ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد 2 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی، جبکہ دسمبر 2019 میں کھیلا گیا ٹیسٹ—جو کرکٹ کی واپسی کا موقع تھا—بارش سے متاثر ہونے کے بعد ڈرا پر ختم ہوا
- میچوں کی تعداد اور جیت/ہار کا ریکارڈ
- کھیلے گئے ٹیسٹ میچ: 17 ٹیسٹ۔
- پاکستان کا ریکارڈ: 6 جیت، 7 ہار، 4 ڈرا۔
- وکٹ اور باؤلنگ کے اہم سنگ میل
- سب سے کامیاب باؤلر: وقار یونس 23 ٹیسٹ وکٹوں کے ساتھ اس گراؤنڈ پر سب سے کامیاب باؤلر (کیرئیر لیڈر) ہیں۔
- بہترین باؤلنگ کارکردگی: 1996 میں نیوزی لینڈ کے خلاف محمد زاہد کا شاندار ڈیبیو؛ انہوں نے ایک اننگز میں 66 رنز کے عوض 7 وکٹیں اور پورے میچ میں 130 رنز کے عوض 11 وکٹیں حاصل کیں۔
- کم عمر ترین ہیٹ ٹرک: 9 فروری 2020 کو تاریخ رقم ہوئی، جب 16 سالہ نسیم شاہ نے بنگلہ دیش کے مڈل آرڈر کو تہس نہس کر دیا اور ٹیسٹ کرکٹ میں ہیٹ ٹرک لینے والے سب سے کم عمر کھلاڑی بن گئے۔
- بیٹنگ اور رنز کے اہم سنگ میل
- سب سے زیادہ رنز: سعید انور اس گراؤنڈ پر مجموعی طور پر سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی ہیں؛ انہوں نے 1990 کی دہائی میں یہاں 546 ٹیسٹ رنز بنائے۔
- سب سے زیادہ سنچریاں: بابر اعظم 3 ٹیسٹ سنچریوں کے ساتھ اس گراؤنڈ کے ریکارڈ بک میں سرفہرست ہیں۔
- انفرادی ٹیسٹ اسکور: اپریل 2004 میں پاکستان کے خلاف، راہول ڈریوڈ کی جانب سے بھارت کے لیے کھیلی گئی 270 رنز کی شاندار اور میچ جتوانے والی اننگز۔
- ٹیم ٹوٹلز: سب سے زیادہ اور سب سے کم اسکور
- ٹیم کی سب سے بڑی اننگز: دسمبر 2022 میں انگلینڈ کی انتہائی جارحانہ بیٹنگ، جس میں انہوں نے 657 رنز بنائے۔ یہ ‘ریڈ بال’ (ٹیسٹ) کرکٹ کی تاریخ میں 600 سے زائد رنز کی سب سے تیز ترین اننگز تھی (جس میں 6.5 رنز فی اوور کی اوسط سے اسکور کیا گیا)۔
- ٹیم کی سب سے کم اننگز: 24 اکتوبر 2024 کو انگلینڈ کی بیٹنگ لائن اچانک لڑکھڑا گئی اور پوری ٹیم صرف 112 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔ اس تباہی کا سبب پاکستان کے اسپن جوڑی دار، نعمان علی اور ساجد خان کی بہترین اسپن باؤلنگ تھی۔ 5. ڈیبیو (آغاز) پر قائم ہونے والے تاریخی سنگ میل
- 1997 کا ڈبل ڈیبیو: ایک ایسے عالمی ریکارڈ کی خبر دی جب علی نقوی (115) اور اظہر محمود (128)* دونوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف اپنی پہلی ٹیسٹ اننگز میں سنچریاں اسکور کیں۔
- دو فارمیٹس میں تاریخ رقم کرنے والا کھلاڑی (2019): عابد علی کی جانب سے سری لنکا کے خلاف ناقابلِ شکست 109 رنز بنانے کے کارنامے کو اجاگر کیا؛ اس طرح وہ بین الاقوامی کرکٹ کی تاریخ کے واحد مرد کھلاڑی بن گئے جنہوں نے اپنے پہلے ٹیسٹ اور پہلے ون ڈے (ODI) میچ، دونوں میں سنچریاں اسکور کیں۔
پاکستان کرکٹ ٹیم تاریخ میں اب تک مجموعی طور پر 474 ٹیسٹ میچز کھیل چکی ہے۔جب 9 نومبر 2026 کو راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں پاکستان اور سری لنکا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ کا ٹاس ہوگا، تو آفیشل طور پر پاکستان کی ٹیسٹ تاریخ کا 475 واں ٹیسٹ میچ ہوگا پاکستان نے ہوم کنڈیشنز میں 200 سے زائد ٹیسٹ میچز کھیلے ہیں۔• پاکستان نے پڑوسی ممالک بالخصوص سری لنکا میں بہترین اوے ریکارڈ قائم رکھا ہے، جہاں اب تک 35 میچوں میں سے 12 میچز میں فتح سمیٹی ہے۔
آسٹریلیا، انگلینڈ اور ساؤتھ افریقہ کے دوروں پر پاکستان کو ہمیشہ سیم اور باؤنس کے باعث سخت مشکلات کا سامنا رہا ہے، جس کی وجہ سے اوے میچز میں مجموعی شکستوں کا تناسب جیت سے تھوڑا زیادہ ہے: مجموعی ٹیسٹ ریکارڈز کا خلاصہ - کل کھیلے گئے میچز: 474
- پاکستان جیتا (Wins): 153 میچز
- پاکستان ہارا (Losses): 155 میچز
- ڈرا (Drawn): 166 میچز
- پہلا ٹیسٹ میچ: پاکستان نے اپنا سب سے پہلا ٹیسٹ میچ 16 اکتوبر 1952 کو بھارت کے خلاف دہلی میں کھیلا تھا۔
- پہلی تاریخی جیت: اپنے دوسرے ہی ٹیسٹ میچ میں (23 اکتوبر 1952 کو لکھنؤ میں) پاکستان نے بھارت کو شکست دے کر اپنی پہلی ٹیسٹ فتح حاصل کی تھی۔
- سب سے بڑا انفرادی سکور: پاکستان کی طرف سے ایک اننگز میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ لیجنڈری حنیف محمد کے پاس ہے، جنہوں نے 1958 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 337 رنز کی تاریخی اننگز کھیلی تھی۔
- سب سے زیادہ کیریئر رنز: یونس خان 10,099 رنز کے ساتھ پاکستان کی طرف سے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی ہیں۔
- سب سے زیادہ وکٹیں: فاسٹ بولر وسیم اکرم 414 وکٹوں کے ساتھ پاکستان کے سب سے کامیاب ٹیسٹ بولر ہیں۔اہم سنگِ میل والا میچ: راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں پہلا ٹیسٹ (9 تا 13 نومبر 2026) – دونوں ٹیموں کے درمیان 60 واں مقابلہ۔
- پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ 5 مارچ سے 10 مارچ 1982 تک کراچی میں کھیلا گیا تھا، جس میں پاکستان نے 204 رنز سے فتح حاصل کی۔
- پاکستان کی ٹیسٹ تاریخ کا 475 واں ٹیسٹ میچ۔
- مجموعی ’ہیڈ ٹو ہیڈ‘ (باہمی) ٹیسٹ ریکارڈ کا خلاصہ:
- کل کھیلے گئے میچ: 59 ٹیسٹ
- پاکستان کی جیت: 23 میچ
- سری لنکا کی جیت: 17 میچ
- ڈرا ہونے والے میچ: 19 میچ
راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں اب تک 17 ٹیسٹ میچ کھیلے جا چکے ہیں، جن کا سلسلہ دسمبر 1993 میں کھیلے گئے پہلے میچ سے لے کر حالیہ میچوں تک محیط ہے۔
ان 17 ٹیسٹ میچوں میں سے 2 میچ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان اسی میدان پر کھیلے گئے۔ فروری 2000 میں سری لنکا نے ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد 2 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی، جبکہ دسمبر 2019 میں کھیلا گیا وہ ٹیسٹ میچ، جو بارش سے متاثر رہا اور جس کے ذریعے اس میدان پر کرکٹ کی واپسی ہوئی تھی، ڈرا پر ختم ہوا۔













