آفت زدہ بلوچستان میں پاک فوج جنگی بنیاد پر امدادی کاموں میں مصروف …….(اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک)………….آفت زدہ بلوچستان میں پاک فوج جنگی بنیاد پر امدادی کاموں میں مصروف ھے مگرسیاستدانوں کی خاموشی لمحہ فکریہ ھے حکومت کو بھی بارش سے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی بنیاد پر کارروائی کی ضرورت ھے شوشل میڈیاپر بلوچستان میں سیلاب کی تباہ کاریاں دیکھ کر رونگھٹے کھڑے ہوجاتےہیں دوسری جانب سوائے فوج کے کوئی حکومتی مشینری تادم تحریر نظر نہیں آرہی پاکستان کے مختلف اضلاع کے سیلاب زدہ علاقوں میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ سیلاب زدہ علاقوں می پاک فوج کی امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور اوتھل میں 4 دیہات سے 2300 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سیلاب زدہ علاقوں می پاک فوج کی امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ اوتھل میں 4 دیہات سے 2300 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے جہاں متاثرین کو خیمے اور کھانے کی فراہمی کی گئی ہے۔ بلوچستان کے 29 اضلاع بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، جن میں لسبیلہ، کیچ، کوئٹہ، سبی، خضدار اور کوہلو سمیت دیگر متاثر ہوئے ہیں۔ بارش اور سیلاب سے 3953 مقامات کو نقصان پہنچا ہے۔ بلوچستان کے متاثرہ علاقوں میں 5 خصوصی میڈیکل کیمپ قائم کئے گئے ہیں۔ پاک فوج کی ڈی واٹرنگ ٹیموں نے گوادر سے پانی نکالنے کا کام مکمل کر لیا ہے اور کوسٹل ہائی وے کو آمدورفت کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کراچی کو کوئٹہ سے ملانے والی شاہراہ این 25 کو ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا ہے جب کہ پی ٹی اے کی مدد کے ساتھ لسبیلہ سمیت بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں مواصلات کا نظام بھی بحال کردیا گیا ہے ھل مگسی سے 200 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔ 4 آرمی ہیلی کاپٹر متاثرین میں خوراک اور ادویات پہنچانے کا کام کر رہے ہیں۔ جھل مگسی میں پانی کی سطح کم ہوچکی ہے اور شاہراہ کھول دی گئی متاثرہ افراد کو خوراک اور شیلٹر فراہم کیا جا رہا ہے، کوئٹہ کراچی شاہراہ این 25 ٹریفک کیلئےکھول دی گئی، شاہراہ پل ٹوٹنےکےباعث 4 مقامات پربندہوئی تھی، بلوچستان خصوصاً لسبیلہ میں ٹیلی مواصلاتی رابطہ بحال ہو گیا ، سیلاب سے لسبیلہ، کیچ، کوئٹہ، سبی، خضدار، کوہلو میں 3ہزار 953 گھر تباہ ہوئے ، حب،گڈانی،بیلہ اورمگسی میں 5 میڈیکل کیمپ لگائےگئے۔ کوئٹہ-زیارت روڈ کاوس تنگی اسٹیشن کے قریب سیلابی ریلے کے باعث بند ہونے والی سڑک کو کھول دیا گیا ہے۔
کوئٹہ, ہنہ اور نواں کلی میں سیلاب کی اطلاع ہے۔ ریسکیو اور ریلیف ٹیمیں جائے وقوعہ پر کام کر رہی ہیں۔ سندھ; صرف کراچی میں پانی نکالنے کے لیے 58 ڈی واٹرنگ ٹیمیں لگائی گئیں۔ٹھٹھہ میں گھارو گرڈ اسٹیشن جو پانی سے بھر گیا تھا آرمی ڈی واٹرنگ ٹیموں نے صاف کر دیا ہے۔ جامشورو میں 300 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ آرمی نے جامشورو میں ریلیف کیمپ قائم کر دیا لٹھ ڈیم کے اوور فلو کے باعث M-9 مختلف مقامات پر زیر آب آ گیا۔ سڑک کو صاف کرنے کے لیے بھاری مشینری کے ساتھ پانی نکالنے والی ٹیمیں کام میں لگ گئیں۔دادو اور خیرپور میں مقامی لوگوں کو راشن اور ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔ جی بی;کے کے ایچ اور جگلوٹ اسکردو روڈ کو ایف ڈبلیو او نے متعدد لینڈ سلائیڈنگ کے ذریعے کھلا رکھا ہے۔ سیلابی ریلے کی وجہ سے ضلع غذر کا رابطہ منقطع ہوگیا۔ مواصلاتی ڈھانچہ کھول دیا گیا۔ مقامی لوگوں کو خوراک اور ادویات فراہم کی گئیں۔ کے پی; بارش سے ضلع ٹانک، چترال اور صوابی بری طرح متاثر ہوئے۔ روڈ چترال مستوج اور روڈ ٹانک گومل زام ڈیم کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔ پاکستان آرمی، نیوی اور ایف سی/رینجرز کے دستے سیلاب سے متاثرہ تمام علاقوں میں سول انتظامیہ اور مقامی کمیونٹیز کی مسلسل مدد کر رہے ہیں۔ بلوچستان; اوتھل میں 4 دیہات کے 2300 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ متاثرہ آبادی کو پناہ گاہ اور پکا ہوا کھانا فراہم کیا گیا۔کوئٹہ اور کراچی کو ملانے والی این 25 کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے جو پل گرنے کے باعث 4 مختلف مقامات پر بلاک ہو گیا ۔ستم ظریفی یہ ھےکہ سیاستدانوں اپنی سیاست سے ہی فرصت نہیں۔انسانی خدمت کاڈھول پیٹنے والی کالے چشموں والی آنٹیاں بھی سپریم کورٹ کے فیصلے پرجشن منانے میں مصروف ہیں۔کسی سماجی تنظیم نے تاحال کوئی امدادی ٹیم ان متاثرہ علاقوں میں نہیں بھیجی شائد یہ انکی ترجیہات میں شامل نہیں ھے وزیر اعظم کو فوری بلوچستان کادورہ کرناچاہیے یہ درست ھے کہ محترم شہباز شریف صاحب کی کسی صوبے میں حکومت نہیں جسکی وجہ سے باہمی رابطوں کا فقدان ھے مگر یہ بھی درست کہ وہ صرف اسلام آباد کے وزیراعظم نہیں۔جناب وزیراعظم کو فوری طور سیلاب سے متاثرہ اضلاع کو آفت زدہ قرار دیکر عالمی اداروں سے امداد کی اپیل کرناچاہیے ان حالات اپوزیشن جماعتوں بالخصوص پاکستان تحریک ا نصاف کے سربراہ ماہ محرم الحرام کے تقدس اور سیلاب متاثریں کی خاطر محاذآرائی کی سیاست سے گریز کرکےمللک وقوم کی خاطر عملی سنجیدہ سیاست کامظاہرہ کرناہوگا ورنہ تاریخ معاف نہیں کرےگی تمام سیاسی جماعتوں کے پاس نوجوان کارکنوں کی فوج ظفرموج ھے جو ٹائیگرزفورس۔جیالوں۔متوالوں۔دیوانوں۔پروانوں۔شاہینوں۔خدائی خدمتگاروں۔الخدمت فورس۔جمعیت فورس وغیرہ وغیرہ کےنام سے جانی پہچانی جاتی ہیں میں انکی تفصیل میں نہیں جاناچاہتا مگر اتنی گزارش کرونگاکہ خداراہ اپنے اپنے تائیں جہاں جہاں موجودہیں فوج کے شانہ بشانہ امدادی کاموں میں اپنا حصہ ڈال دنیا اور آخرت میں اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کریں ماضی میں متعدد مرتبہ بلوچستان قدرتی آفات کا سامنا کرتا رہا ہے اور ہر بار مقامی افراد کو جانی و مال نقصان اٹھانے کے ساتھ حکومتی عدم توجہی کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ ایسی ہی صورتحال بلوچستان میں ہونے والی حالیہ تباہ کن مون سون بارشوں کے نتیجے میں بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔.ادھر: وزیراعظم شہباز شریف نے حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نقصان کے تعین کے لیے وفاقی وزرا پر مشتمل 4 رکنی کمیٹی بنادی ھے,وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت حالیہ بارشوں اورسیلاب سے متعلق اجلاس ہوا جس میں بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا گیا بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نقصان کے تعین کیلئے وفاقی وزرا کی کمیٹی آئندہ 4 دن کے اندر تمام متاثرہ علاقوں کا دورہ کرے گی۔4 اگست کو کمیٹی کی سفارشوں کی روشنی میں جامع پلان تشکیل دیا جائےگا۔وزیراعظم نے حکام کو ہدایت کی کہ متاثرین اور زخمیوں کی امداد کو 50 ہزار سے بڑھا کر2 لاکھ تک کیا جائے، کچے پکے مکانات کی کیٹیگری ختم کرکے تمام متاثرہ مکانات کے لیے ایک جیسی امداد فراہم کی جائے، جزوی متاثرہ مکانات کی امداد 25 ہزارسے بڑھا کر ڈھائی لاکھ کی جائے جب کہ مکمل طورپرمتاثرہ گھروں کے لیے امداد 50 ہزار سے بڑھا کر 5 لاکھ کی جائے۔حکومت اس قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومتوں کی بھرپورمعاونت کرے گی، پاکستان ہم سب کی ذمہ داری ہے، ہم باہمی معاونت سے متاثرہ لوگوں کی مدد کریں گے، ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹیاں ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ کی حکمتِ عملی پرعملدرآمد یقینی بنائیں، متعلقہ وزارتیں اور ادارے بین الاقوامی ڈونر ایجنسیوں سے مالی معاونت کےحصول کی کوششیں بھی تیزکریں۔اس سلسلے میں سپریم کورٹ میں موجود فنڈ کی فراہمی کے لیے وفاقی حکومت خط لکھے گی.خیال رہے کہ بھارت کی آبی دہشت گردی سے پاکستان بڑے پیمانےپر جانی و مالی نقصان کا خدشہ ھے , بھارت کی جانب سے ریلہ چھوڑنے پر سیالکوٹ کے قریب دریائے چناب میں سیلابی صورتِ حال ہے۔ بھارت کی جانب سے گزشتہ روز 2 لاکھ 25 ہزار 836 کیوسک کا ریلہ چھوڑا گیا تھا، جس کے باعث ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے، سیلابی صورتحال کے باعث دریا کے ملحقہ علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ہیڈ مرالہ پر پانی کی سطح 1 لاکھ 18 ہزار 754 کیوسک ریکارڈ کی گئی جبکہ پانی کا اخراج 1 لاکھ 3 ہزار 454 کیوسک ہے۔گزشتہ شام بھارت کی جانب سے 3 لاکھ کیوسک کا ایک اور ریلہ چھوڑاگیااس نئے ریلے کے پیشِ نظر دریائے چناب سے ملحقہ علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے پاک فوج کی ملک بھر میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاروائیاں جاری ہیں۔پاک فوج کے دستے ملک کے مختلف حصوں میں حالیہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں سول انتظامیہ کی مدد کر رہے ہیں جبکہ ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں متاثرہ علاقوں ڈے پانی نکالنے اور متاثرین کو غذائی ضروریات اور طبی امداد فراہم کرنے میں مسلسل مصروف ہیںپاک فوج کی ڈی واٹرنگ ٹیمیں جامشورو، گھارو گرڈ اسٹیشن اور جنوبی کراچی سمیت شاہراہ فیصل، نیپا چورنگی، لسبیلہ، تربت اور کوئٹہ میں امدادی کارروائیاں کر رہی ہیں۔پاک فوج کی جانب سے طبی سہولیات سمیت ریلیف کیمپ قائم اور مقامی رہائشیوں میں ضروری خوراک اور راشن تقسیم کیا گیا، کوئٹہ،تربت اورلسبیلہ میں2500سےزائد افراد کو طبی امداد فراہم کی گئی، پاک فوج کی رسپانس ٹیمیں سندھ اور بلوچستان کے مختلف مقامات پر تعینات ہیں۔ پاک فوج ہمیشہ اپنی عوام کی خدمت کےلیےفرنٹ لائن پر دن رات امدادی کاموں میں مصروف نظر آئی ھے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہدایت پر سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد و بحالی کیلئے متاثرہ اضلاع میں فوج کے دستے فرنٹ لائن پر دن رات امدادی کاموں میں مصروف ہیں . زلزلہ ہو، سیلاب ہو یا کوئی اور قدرتی آفت، پاک فوج نے ہمیشہ ہر مشکل وقت اور حالات میں اپنے عوام کی مدد کرنا اپنا اولین فرض سمجھا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پورا ملک ایک اکائی ہے۔ فوج کوئی الگ یونٹ نہیں، فوج ہمارے پیاروں کا مجموعہ ہے۔ جو ملک کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لیے دن رات مصروف عمل ہے۔ پاکستان کا دفاعی بجٹ 1970 کی دہائی میں ٹوٹل جی ڈی پی کا 6.50 ٪ تھا جو کہ 2021 تک گراوٹ کا شکار ہو کر محض 2.54 ٪ تک رہ گیا ہے۔ بجٹ 2021۔ 22 میں، ’دفاعی خدمات‘ کے لیے 1,370 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔ 8,487 ارب روپے، کل بجٹ کے وسائل کا محض 16 فیصد ہے۔ اس 16 فیصد مختص میں سے پاک فوج کو 594 ارب روپے ملتے ہیں۔ درحقیقت، پاکستانی فوج کو کل بجٹ کے وسائل کا 7 فیصد حصہ ملتا ہے۔ پاک فوج نے سال 2019 سے ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے بجٹ میں مختص کیے گئے 100 ارب روپے بھی ترک کر دیے ہیں۔ پاکستان کے دفاعی بجٹ کے حوالے سے ایک افسانہ ہے کہ پاکستان اپنے بجٹ کا 80 فیصد دفاع پر خرچ کرتا ہے، اس کے برعکس درحقیقت حکومت صرف 16 فیصد دفاع سے متعلق اور 84 فیصد دیگر غیر دفاعی اخراجات پر خرچ کرتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق فوج کو 7 فیصد جبکہ بحریہ اور فضائیہ کو کل بجٹ کا 9 فیصد ملتا ہے۔ جبکہ فوج کے اپنے متفرق اخراجات بھی اسی بجٹ میں سے ادا ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی فوج کی طرف سے امدادی کارروائیوں کا انتظام بھی اسی بجٹ سے ہوتا ہے۔ عام حالات میں جب بھی ہماری قوم کو کسی مشکل صورتحال کا سامنا ہوا تو پاک فوج نے اپنے ساتھی شہریوں کی مدد کو اپنا فرض سمجھ کر ادا کیا ہے پاکستان میں جہاں بھی کوئی قدرتی آفت آتی ہے وہاں پاک فوج ایک کلیدی اور بنیادی ادارے کے طور پر کردار ادا کرتی ہے جبکہ متعلقہ محکمے اس حوالے سے معاون ادارے بن جاتے ہیں , جس کی وجہ سے ساری ذمہ داری فوج کے کندھوں پر آ جاتی ہے۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ دنیا کی تمام افواج قدرتی آفات کی صورت میں اپنے ملک کے لیے ہر طرح کی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہیں، فرنٹ لائن پر دن رات امدادی کاموں میں مصروف یہ ہماری فوج کی طرف سے کی جانے والی بہت اہم خدمت ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی حکومتوں کو اس سلسلے میں از سر نو ضابطہ تشکیل کر کے کام کرنا چاہیے اور نئی اور موثر پالیسیاں متعارف کروائیں،، تاکہ ان اداروں کو خود مختار بنایا جا سکے اور وہ ہر قسم کے امدادی کاموں میں بنیادی کردار ادا کرنے کے قابل ہو سکیں۔ مضبوط فوج,مضبوط پاکستان کی ضمانت ھے مختلف اسٹینڈ بائی اور رسپانس ٹیمیں امدادی سرگرمیوں اور سیلاب کی وجہ سے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سندھ اور بلوچستان کے مختلف مقامات پر تعینات ہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج کو فوری امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے کی ہدایت کی ھے . چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہدایت پر سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد و بحالی کیلئے متاثرہ اضلاع میں خصوصی دستے تعینات ہیں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ پاک فوج کے دستے حالیہ بارشوں کے سبب سیلابی صورتحال سے متاثرہ ملک بھر کے مختلف علاقوں میں ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں میں سول انتظامیہ کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ پاک فوج کی ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں پانی کی نکاسی اور متاثرہ آبادی کو بنیادی غذائی ضروریات اور طبی دیکھ بھال فراہم کرنے میں مسلسل مصروف ہیں۔ پانی نکالنے والی ٹیمیں ضلع جامشورو، گھارو گرڈ اسٹیشن، کراچی جنوبی سمیت شاہراہ فیصل اور نیپا چورنگی، لسبیلا، تربت اور کوئٹہ میں فلڈ ریلیف آپریشن کر رہی ہیں۔ بلوچستان سمیت ملک بھر میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے اور پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا میں جہاں بارشوں نے معمولاتِ زندگی بُری طرح متاثر کیے ہیں وہیں بلوچستان میں بھی طوفانی بارشوں نے تباہی مچا دی ہے۔ماضی میں متعدد مرتبہ بلوچستان قدرتی آفات کا سامنا کرتا رہا ہے اور ہر بار مقامی افراد کو جانی و مال نقصان اٹھانے کے ساتھ حکومتی عدم توجہی کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ ایسی ہی صورتحال بلوچستان میں ہونے والی حالیہ تباہ کن مون سون بارشوں کے نتیجے میں بھی دیکھنے کو مل رہی ہےصوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق یکم جون سے اب تک ہونے والی بارشوں کے نتیجے میں مختلف حادثات میں 111 افراد اپنی جان کی بازی ہار گئے جن میں 45 مرد، 31 خواتین اور 35 بچے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سیلابی ریلوں میں بہہ جانے اور مکانات کی دیواریں اور چھتیں گر جانے سے 66 افراد زخمی ہوئے۔ طوفانی بارشوں سے 11 ہزار 775 مکانات کو نقصان پہنچا جن میں سے 8 ہزار 874 کو جزوی نقصان پہنچا جبکہ 2 ہزار 901 مکانات مکمل طور پر منہدم ہوگئے۔ اس کے علاوہ 565 کلومیٹر شاہراہیں اور 9 رابطہ پل سیلاب کی نذر ہوگئے جس کے نتیجے میں بلوچستان کا بیشتر حصہ دیگر صوبوں سے کٹ گیا۔بارشوں نے جہاں انسانی جانوں کا نقصان کیا اور مواصلاتی نظام کو درہم برہم کیا وہیں 23 ہزار 13 مویشی بھی ہلاک ہوئے اور ایک لاکھ 97 ہزار 930 ایکڑ کی زرعی اراضی کا بھی نقصان ہوا۔چیف سیکریٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی نے بارشوں سے ہونے والی تباہی سے متعلق میڈیا کو بتایا کہ ‘مون سون بارشوں سے 16 ڈیموں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ صوبے کے 10 اضلاع بارشوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ان اضلاع میں لسبیلہ، کیچ، کوہلو اور ہرنائی سمیت دیگر اضلاع شامل ہیں۔کوئٹہ کے نشیبی علاقے بھی بارشوں سے زیرِ آب آگئے جبکہ شہر کے نواحی علاقوں بشمول مشرقی بائی پاس، کیچی بیگ، ہزار گنجی اور سریاب روڈ میں کئی مکانات کی چھتیں گرنے سے جانی اور مالی نقصان ہوا۔بارشوں نے بلوچستان کے ساحلی علاقے لسبیلہ اور اوتھل میں سب سے زیادہ تباہی مچائی۔ طوفانی بارشوں کے سبب 5 گاؤں مکمل طور پر زیرِ آب آگئے جس کی وجہ سے ہزاروں افراد نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے۔ 25 جولائی کو بارشوں سے پیدا ہونے والے سیلاب سے لسبیلہ کی تحصیل گڈانی کے قریب کوئٹہ کراچی روڈ پر واقع باگڑ ندی پل سیلابی ریلے میں بہہ گیاجس کی وجہ سے سیکڑوں مسافر کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر پھنسے ہوئے ہیں۔قومی شاہراہ پر پھنسے مسافر کہتے ہیں کہ حکومتی دعوے صرف زبانی جمع خرچ ہیں، لوگ اپنی مدد آپ کے تحت قریبی ہوٹلوں اور قہوہ خانوں سے کھانا خرید رہے ہیں اور اس پر ستم یہ کہ ان ہوٹل مالکان نے بھی کھانے کی قیمت میں ہوش ربا اضافہ کردیا ہے’۔ ایسی صورتحال میں سیکڑوں مسافر پریشان اور حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔حکومتی اقدامات کے نام پر اب تو بس ایک ہی کام ہے کہ چند لاکھ کا اعلان کردیا جائے، اور ان بارشوں کے بعد بھی بلوچستان میں ایسا ہی ہوا کہ حادثات کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لیے حکومتِ بلوچستان نے 10، 10 لاکھ کا اعلان کیا۔علان کرنے والوں سے کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ جن کے لیے آپ یہ اعلان کررہے ہیں ان کی زندگیوں کو بچانے کے لیے آپ نے کیا کیا؟ جب یہ بارشیں ہورہی تھیں تو صوبائی حکومت کہاں تھی؟ کیا اقدامات اٹھائے گئے؟جب صوبے کے لوگ مدد کے لیے حکمرانوں کی جانب امید بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے تو صوبے کے وزیرِ اعلیٰ اپنے لوگوں کے درمیان ہونے کے بجائے اسلام آباد میں موجود تھے اور پنجاب کی صورتحال پر تبادلہ خیال ہورہا تھا۔ نہ انہوں نے یہ سوچا کہ اس مشکل حالات میں اپنے لوگوں کے پاس جایا جائے نہ وفاقی حکومت نے خود کچھ کرنے کی کوشش کی اور نہ وزیرِ اعلیٰ کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ پنجاب کے حالات ہم دیکھ لیں گے، آپ کے لوگوں کو آپ کی ضرورت ہے اس لیے آپ فوراً پہنچیں۔چیف سیکریٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی کہتے ہیں کہ حالیہ بارشوں نے گزشتہ 30 سال میں ہونے والی بارشوں کا ریکارڈ توڑ دیا ہے اور رواں برس 500 فیصد زیادہ بارشیں ہوئی ہیں جس کی وجہ سے حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہوا ۔چیف سیکرٹری نے روایتی انداز میں صوبے کو آفت زدہ قرار دے کر دفعہ 144 نافذ کردی پی ڈی ایم اے کا دعویٰ ہے کہ موجودہ صورتحال میں محکمے کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں یکم جون سے اب تک 11 ہزار 875 ٹینٹ، 8 ہزار 130 کمبل، 7 ہزار 600 پانی کے کولر، 5 ہزار 70 گیس سلینڈر اور 16 ہزار 287 کھانے پینے کی اشیا فراہم کی گئی ہیں۔مگر حقیقت تو یہ ہے کہ حکومتِ بلوچستان اور محکمہ پی ڈی ایم اے کی جاری کردہ تفصیلات اور کارکردگی صرف دستاویزات، رپورٹوں، اجلاسوں اور فوٹو سیشن کی حد تک ہی محدود ہیں اور زمینی حقائق اس سے کئی گنا زیادہ خوفناک ہیں۔ایک محتاط اندازے کے مطابق حالیہ مون سون بارشوں نے 50 لاکھ افراد کو متاثر کیا ہے، سیکڑوں کچی آبادیاں اور گاؤ‌ں سیلابی پانی میں ڈوب چکے ہیں، کئی اضلاع گزشتہ 7روز سے بجلی سے محروم ہیں جبکہ کسانوں کو اپنے باغات اور فصلوں کا نقصان بھی برداشت کرنا پڑا ہے۔ ایسے میں حکومتِ بلوچستان کے کیے گئے یہ تمام اقدامات ان کے دکھوں کا مداوا نہیں کرسکتے۔ اندر کی بات یہ ہے کہ پاک فوج کے علاوہ دن رات امدادی کاموں میں مصروف کوئی اور ادارہ نظر نہیں آیا بلوچستان کے لیے کوئی سوچنے والا اور اس کی فکر کرنے والا نہیں ہے۔مزید یہ کہ متاثرین کے نام پر سیاست کی جارہی ھے یہاں بار بار ایسی حکومتیں لائی جاتی ہیں جنہیں صرف اپنے مفادات اس کے وسائل سے مطلب ہے، اس کے مسائل حل کرنے سے انہیں کوئی سروکار نہیں اور جب تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا تب تک حالات میں بہتری کے کوئی امکانات نہٰیں۔اس واضع مثال یہ ھے کہ بلوچستان حکومت کی ترجمان اپنی کارکردگی بتانے کیلئے بلو سےبلوچستان ھاوس اسلام آباد میں سیاست کی باتیں کررہی تھیں جبکہ بلوچستان لوگ ڈوب رہے پیں۔ضرورت اس امر کی ھے کہ تمام حکومتی اور غیر سیاسی ادارے پاک فوج کے شانہ بشانہ سیلاب زدگان کی عملی خدمت میں حصہ لیں تاکہ بلوچستان کے لوگوں کو پتا چلے وہ بھی وطن عزیز کے باسی ہیں پاک فوج کی خدمات اتنا کہوں گا ویلڈن پاک فوج آپ ھمارا فخر ہیں۔۔پاک فوج زندہ باد۔۔پاکستان پائندہ باد۔