،،قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان مخالف الزامات سختی سے مسترد، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں ، 120 ارب ڈالر سے زیادہ نقصان ہوا،پاکستانی وزیر خارجہ خواجہ آصف
اسلام آباد ( اصغر علی مبارک سے )قومی سلامتی کمیٹی نے واضح کیاھے کہ پاکستانیوں کی جانیں اتنی ہی قیمتی ہیں جتنا کسی دوسرے ملک کے شہریوں کی ہیں، عالمی برادری مل کر افغانستان سے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کرائے اور باڈر مینجمنٹ، افغان مہاجرین کی واپسی اور افغان مسئلے کے سیاسی حل میں مدد کرے اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ امریکا، افغانستان میں آپریشن کے لیے 2001 سے اب تک پاکستان کی فضائی حدود استعمال کر رہا ہے، پاکستان کو اربوں ڈالر امداد کے دعوے عالمی برادری کو گمراہ کرنے کے مترادف ہیں، مذکورہ رقم پاکستان کی فضائی حدود اور دیگر سہولیات استعمال کرنے پر دی گئی، جبکہ مالی امداد کے بجائے عالمی برادری ہزاروں پاکستانیوں کی جانوں کی قربانیوں اور 120 ارب ڈالر کے نقصان کو تسلیم کرےقومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد سینیٹ میں پالیسی بیان دیتے ہوئےپاکستانی وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ھے کہ قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان پر الزامات کو سختی سے مسترد کردیا ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے پرامن افغانستان کے لیے تمام عالمی کوششوں کی حمایت کی ھے لیکن پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے سے افغانستان مستحکم نہیں ہوگا۔خواجہ آصف نے کہا کہ نے کہا کہ پاکستان افغانستان کو غیر مستحکم نہیں کر رہا، پاکستان نے پرامن افغانستان کے لیے تمام عالمی کوششوں کی حمایت کی ہے اور ہمیشہ دہشت گردوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی ہے۔وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان میں افغان تنازع سے مہاجرین، منشیات اور اسلحہ آیا اور پاکستان کے خلاف افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں بنیں، پاکستان افغانستان کو مستحکم کرنے کے لیے تمام عالمی کوششوں کا ساتھ دیتا رہے گا ۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمیں 120 ارب ڈالر سے زیادہ نقصان ہوا، آج بھی پاکستان کو مشرق اور مغربی سرحد سے غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، پاکستان اپنی سرزمین کسی ملک کے خلاف تشدد کے لیے استعمال نہیں ہونے دیتا لیکن دوسرے ممالک سے بھی ایسا ہی تعاون چاہتا ہے۔قبل ازیں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی اور الزامات کو یکسر مسترد کردیا تھا۔



